۲-توارِیخ 16
متن
آسا کی حکومت کے چھتیسویں سال میں شمال کا بادشاہ بعشا رامہ کی قلعہ بندی کرتا ہے، یروشلم سے صرف چند کلومیٹر شمال، تاکہ ”نہ کوئی یہوداہ کے ملک میں داخل ہو سکے، نہ کوئی وہاں سے نکل سکے۔“ آسا جواب میں رب کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں کی سونا چاندی نکال کر دمشق بھیجتا ہے اور اَرام کے بادشاہ بن ہدد سے فوجی اتحاد خرید لیتا ہے۔ حکمتِ عملی کامیاب رہتی ہے، بعشا اپنی مہم چھوڑ دیتا ہے۔ مگر حنانی غیب بین آ کر یہ کامیابی ”احمقانہ حرکت“ قرار دیتا ہے، اور آسا اُس کے پاؤں کاٹھ میں ٹھونک دیتا ہے۔ تین سال بعد خود اُس کے پاؤں بیمار پڑ جاتے ہیں، اور وہ رب کو تلاش نہیں کرتا۔
مرکزی بات
غور کریں کہ آسا بن ہدد کو کیا لکھتا ہے: ”میرا آپ کے ساتھ عہد ہے۔“ عہد، وہی لفظ جس پر یہوداہ کا سارا وجود ٹکا ہوا تھا۔ آسا عہد کی زبان بولتا ہے، مگر غلط شخص کے ساتھ۔ یہی اِس باب کا الٰہیاتی مرکز ہے: ایمان کا بحران کبھی خدا کے صاف انکار کی صورت میں نہیں آتا، وہ وفاداری کے رخ بدلنے کی صورت میں آتا ہے۔ اور خدا کا جواب سزا کی گرج نہیں بلکہ ایک حیران کن انکشاف ہے: ”رب تو اپنی نظر پوری رُوئے زمین پر دوڑاتا رہتا ہے تاکہ اُن کی تقویت کرے جو پوری وفاداری سے اُس سے لپٹے رہتے ہیں۔“ خدا ڈھونڈنے والا ہے، وہ مدد کے مواقع تلاش کرتا پھرتا ہے۔ آسا کا گناہ یہ نہیں کہ اُس نے مدد چاہی، بلکہ یہ کہ اُس نے پیش کی گئی مدد کے بجائے خریدی گئی مدد کو ترجیح دی۔
بڑی کہانی کا تار
ہیکل کا خزانہ ایک غیرقوم بادشاہ کے پاس جا رہا ہے: یہ منظر تاریخِ نجات میں ایک بھیانک پیش خیمہ ہے۔ آگے چل کر بابل وہی خزانے زبردستی لے جائے گا، اور جلاوطنی کی نسل جب یہ باب پڑھے گی تو پہچان لے گی کہ زوال کہاں سے شروع ہوا تھا: جب خدا کے گھر کی چاندی سلامتی کی قیمت بن گئی۔ یسعیاہ نبی نے بعد میں یہی الزام لگایا، کہ لوگ مصر کے گھوڑوں پر بھروسا کرتے ہیں اور اسرائیل کے قدوس کی طرف نہیں دیکھتے۔ اور یہیں مسیح کی صورت اُبھرتی ہے۔ بیابان میں اُسے بھی سلطنتوں کی پیشکش ہوئی، ایک آسان راستہ، بغیر صلیب کے تخت۔ اُس نے انکار کیا۔ وہ وہ بادشاہ ہے جس نے باپ سے لپٹے رہنے کے سوا کوئی معاہدہ نہ کیا، اور اسی لیے وہ آسا کی ناکامی کو اپنے جسم میں سنبھال سکا۔
آئینہ
یہ باب اُس لمحے پر ہاتھ رکھتا ہے جب ہم اپنی حفاظت کا انتظام خود کر لیتے ہیں اور اُسے دانشمندی کہتے ہیں۔ آپ کی نوکری خطرے میں ہے، تو آپ اُس بااثر رشتہ دار کو فون کرتے ہیں جس سے آپ کو دراصل شرم آتی ہے۔ بچے کی شادی کا معاملہ ہے، تو خاندانی دباؤ خدا کی مرضی سے زیادہ وزنی لگتا ہے۔ رقم جمع کرنے میں کوئی گناہ نہیں، مگر دل سے پوچھیے: میری راتوں کی نیند کس چیز پر ٹکی ہے؟ اور پھر آسا کا دوسرا گناہ آتا ہے، جو زیادہ خوفناک ہے۔ جب سچ بولنے والا آیا، تو آسا ”غصے سے لال پیلا“ ہو گیا۔ جو رہنما تنقید سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، وہ جماعت پر ظلم کرنے سے صرف ایک قدم دور ہے۔
سوال
سب سے کھٹکنے والی بات یہ ہے کہ آسا کا منصوبہ کام کر گیا۔ بعشا پیچھے ہٹ گیا، سرحد بچ گئی، پتھر اور شہتیر بھی مفت مل گئے۔ تو کیا خدا کامیاب سیاست کو گناہ کہتا ہے؟ حنانی کا جواب سیدھا نہیں، وہ ایک گنوائے ہوئے موقعے کی بات کرتا ہے: ”رب شام کے بادشاہ کی فوج کو آپ کے حوالے کرنے کے لئے تیار تھا، لیکن اب یہ موقع جاتا رہا ہے۔“ یعنی نقصان اُس چیز کا ہوا جو ہوئی ہی نہیں۔ ایسے نقصان کا حساب کوئی نہیں کر سکتا، اور یہی اُس کی تکلیف ہے۔ ہم کبھی نہیں جان پائیں گے کہ خدا کیا کرنے کو تیار تھا اگر ہم انتظار کر لیتے۔ یہ بات آسانی سے حل نہیں ہوتی؛ اسے کھلا چھوڑنا ہی ایمانداری ہے۔
ایک باریک نکتہ
پاؤں پر دھیان دیں۔ آسا نبی کے ”پاؤں کاٹھ میں“ ٹھونکتا ہے، اور تین سال بعد ”اُس کے پاؤں کو بیماری لگ گئی۔“ تاریخ نویس کہتا کچھ نہیں، صرف دو جملے آمنے سامنے رکھ دیتا ہے۔ جس عضو سے اُس نے سچ کو جکڑا، وہی عضو اُسے جکڑ لیتا ہے۔ اور اِس کے ساتھ آیت ۹ کا وہ لفظ رکھیے جو عبرانی میں ”شالیم“ ہے، یعنی سالم، غیر منقسم، پورا۔ خدا ایسے دل ڈھونڈتا ہے جو ٹکڑوں میں بٹا نہ ہو۔ آسا کے آخری سال بٹے ہوئے دل کی تصویر ہیں: علاج تو کرایا، مگر ”اُس نے رب کو تلاش نہ کیا۔“ ڈاکٹر مسئلہ نہیں تھے؛ مسئلہ وہ خالی جگہ تھی جہاں دعا ہونی چاہیے تھی۔
پس منظر
آسا نے اکتالیس سال حکومت کی، اور تواریخ کی کتاب اُس کے ابتدائی پینتیس سال اصلاح، امن اور ایک زبردست فتح کے طور پر بیان کرتی ہے۔ رامہ یروشلم کے شمال میں اُس مرکزی سڑک پر تھا جس سے تجارت اور فوج دونوں گزرتی تھیں؛ اُس پر قبضہ گلا دبانے کے برابر تھا۔ اَرام (دمشق) شمال کی بڑی طاقت تھی، اور دو چھوٹی ریاستوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھلانا اُس کا معمول تھا۔ ہیکل اُس زمانے میں قومی خزانہ بھی تھا، اِس لیے وہاں سے سونا نکالنا سیاسی طور پر معمول کی بات تھی، مگر مذہبی طور پر ایک اعلان: ہماری امید کہاں ہے۔ یہ باب اُن لوگوں کے لیے لکھا گیا جو جلاوطنی سے لوٹے تھے، کمزور تھے، بڑی طاقتوں کے درمیان گھرے ہوئے، اور جنہیں فیصلہ کرنا تھا کہ وہ کس سے لپٹے رہیں گے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سا ”بن ہدد“ ہے جس کے ساتھ آپ نے خاموشی سے معاہدہ کر لیا ہے، اور اُس کی قیمت آپ نے کس خزانے سے ادا کی؟
پچھلی بار جب کسی نے آپ کو آپ کے منہ پر سچ کہا تھا، آپ کا پہلا ردِعمل کیا تھا: سننا، یا اُس آواز کو کاٹھ میں ڈالنا؟
2 Chronicles 16 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-توارِیخ 16 کا کیا مطلب ہے؟
۲-توارِیخ 16 کس بارے میں ہے؟
۲-توارِیخ 16 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-توارِیخ 16 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-توارِیخ 16 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Chronicles 16 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
رامہ کے پتھر اور لکڑی سے آسا نے جِبع اور مِصفاہ کی قلعہ بندی کی۔ باہر سے دیکھیں تو یہ کامیابی تھی، دشمن رُک گیا، دیواریں بلند ہو گئیں۔ لیکن یہ فتح رب پر بھروسا کرنے سے نہیں، شام کے بادشاہ کو رشوت دینے سے ملی تھی، اور قیمت رب کے گھر کی چاندی تھی۔
سوچ کہ تیری کون سی دیوار ایسے پتھروں سے بنی ہے؟ کبھی ہمارا سب سے مضبوط قلعہ ہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں ہم نے خدا کی مدد کے بغیر کام چلا لیا۔
جب بعشا کو یہ خبر ملی تو اُس نے رامہ کی قلعہ بندی روک کر اپنا کام بند کر دیا۔“ آسا کی ترکیب کام کر گئی۔ لیکن قیمت کیا تھی؟ رب کے گھر کی چاندی اور سونا ایک بُت پرست بادشاہ کے ہاتھ میں۔ کبھی کبھی جو چال کامیاب ہوتی ہے وہی ہمیں خدا سے دُور لے جاتی ہے۔ سوچ، تیری زندگی میں کون سا حل کارگر ثابت ہوا مگر دعا کی جگہ خالی رہ گئی؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں