۲-کُرِنتِھیوں 13
متن
پولس رسول تیسری بار کُرِنتھس آنے کو تیار ہے، اور وہ پہلے ہی خبردار کر دیتا ہے: اِس بار وہ گناہ کو نظرانداز نہیں کرے گا، کیونکہ ہر الزام کی تصدیق "دو یا تین گواہوں" سے ہو گی۔ جو لوگ ثبوت مانگتے ہیں کہ مسیح واقعی اُس کے ذریعے بولتا ہے، اُنہیں وہ اپنی طرف نہیں بلکہ مصلوب اور زندہ مسیح کی طرف موڑتا ہے، اور پھر کسوٹی اُن ہی پر لوٹا دیتا ہے: "اپنے آپ کو جانچ کر معلوم کریں۔" خط کا اختتام سختی سے نہیں بلکہ سلام، بوسے اور تین گنا برکت سے ہوتا ہے۔
مرکزی بات
اِس باب کا دل آیت 4 ہے: "اگرچہ اُسے کمزور حالت میں مصلوب کیا گیا، لیکن اب وہ اللہ کی قدرت سے زندہ ہے۔" پولس یہاں محض ایک عقیدہ نہیں دہرا رہا؛ وہ اپنی پوری خدمت کی شکل بیان کر رہا ہے۔ کُرِنتھس کے لوگ ایک طاقتور، متاثر کن رسول چاہتے تھے۔ پولس کہتا ہے: مسیح کی طاقت کمزوری کے راستے سے آتی ہے، اور اگر مَیں کمزور دکھتا ہوں تو یہ میری ناکامی نہیں بلکہ میری صداقت کا نشان ہے۔ خدا کی قدرت صلیب کو خالی جگہ نہیں سمجھتی جسے بھرنا ہے؛ وہ صلیب میں سے ہو کر گزرتی ہے۔ جو انجیل اِس نمونے سے انکار کرے، وہ کوئی اَور انجیل ہے۔
سلسلۂ کلام
پولس مسیح کو مثال کے طور پر پیش نہیں کرتا بلکہ زندگی کے سرچشمے کے طور پر: "اللہ کی قدرت سے ہم آپ کی خدمت کرتے وقت اُس کے ساتھ زندہ ہیں۔" یہ نجات کی پوری کہانی کا خاکہ ہے۔ خدا نے ہمیشہ کمزور اور نظرانداز شدہ کے ذریعے کام کیا: بانجھ سارہ، سب سے چھوٹا داؤد، شکستہ قوم۔ اور یسعیاہ کا وہ خادم جو "زخمی" ہوا مگر جس کے ذریعے خدا کا مقصد پورا ہوا (یسعیاہ 53) اِس نمونے کی چوٹی ہے۔ پولس اُسی لکیر پر چلتا ہے، اور کلیسیا بھی۔ اِسی لیے آیت 5 کا سوال "کیا آپ نہیں جانتے کہ عیسیٰ مسیح آپ میں ہے؟" حیرت انگیز ہے: مصلوب اور جی اُٹھا خداوند اب اپنے لوگوں کے اندر بستا ہے۔ نجات کی کہانی ہمارے اندر جاری ہے۔
آئینہ
غور کریں کہ پولس کسوٹی کہاں رکھتا ہے۔ کُرِنتھس والے اُسے پرکھ رہے تھے، جیسے ہم اپنے پادری، اپنی کلیسیا، اپنے ہم ایمان بھائیوں کو پرکھتے ہیں: کیا اُس کی تقریر متاثر کن تھی؟ کیا اُس کی زندگی کامیاب لگتی ہے؟ پولس کہتا ہے: پہلے خود کو جانچیں۔ یہ خودتفتیشی کی بیمار عادت نہیں ہے جو ہر رات آپ کو بےیقین کر دے۔ سوال ایک ہی ہے: کیا مسیح میرے اندر ہے؟ نہ یہ کہ مَیں کتنا مضبوط ہوں، کتنا مقبول، کتنا بےخطا۔ جو شخص دفتر میں اپنی صفائی پیش کرتے تھکتا نہیں، جو خاندان میں ہر بحث جیتنا چاہتا ہے، جو خدمت میں اپنے نام کی حفاظت کرتا ہے، اُس کے لیے آیت 7 چبھتی ہے: پولس کو اِس کی پروا نہیں کہ لوگ اُسے ناکام قرار دیں، بشرطیکہ کُرِنتھس والے صحیح کام کریں۔
آج ہی ایک ایسے شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جس کے سامنے آپ کو اپنی صفائی پیش کرنے کی خواہش ہے، اور اُس نام کے لیے بلند آواز میں دعا کریں کہ خدا اُسے مضبوط کرے، چاہے آپ کے بارے میں اُس کی رائے کبھی نہ بدلے۔
سامعین کا نقشہ
کُرِنتھس ایک بندرگاہی شہر تھا جہاں شہرت، مقابلہ اور فصاحت کی قدر تھی۔ سفری مقرر پیسے لے کر بولتے تھے اور اپنی خوبیوں کی فہرست پیش کرتے تھے۔ اُس ماحول میں پولس کمزور لگتا تھا: وہ ہاتھ سے کام کرتا، پیسہ نہ لیتا، خط زوردار مگر موجودگی سادہ۔ جب وہ لکھتا ہے "جو بھی ثبوت آپ مانگ رہے ہیں کہ مسیح میرے ذریعے بولتا ہے"، تو وہ اُس دور کی زبان استعمال کر رہا ہے: دکھاؤ، ثابت کرو، مقابلہ کرو۔ اور اُن کے کان میں آیت 10 عجیب گونجی ہو گی: اختیار "ڈھا دینے کے لئے نہیں بلکہ آپ کو تعمیر کرنے کے لئے"۔ اُن کے شہر میں اختیار کا مطلب دبانا تھا۔ یہاں اختیار کا مطلب بنانا ہے۔
پس منظر
یہ خط پولس کی تیسری کُرِنتھسی سفر سے پہلے، غالباً مکدُنیہ سے، تقریباً 55 یا 56 عیسوی میں لکھا گیا۔ درمیان میں ایک تکلیف دہ ملاقات ہو چکی تھی اور کچھ لوگ کلیسیا میں پولس کے اختیار کو کھلے عام چیلنج کر رہے تھے۔ اِسی لیے وہ استثنا کی شرعی زبان اُٹھاتا ہے، "دو یا تین گواہوں" والی، تاکہ صاف ہو جائے کہ وہ ذاتی بدلہ نہیں لے رہا بلکہ ایک منظم، منصفانہ کارروائی کا اعلان کر رہا ہے۔ وہ دُور رہ کر لکھتا ہے تاکہ آنے پر سختی کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ ایک باپ کا انتباہ ہے، نہ کہ ایک حاکم کی دھمکی: وقت دیا جا رہا ہے تاکہ توبہ ہو سکے۔
مرکزی کردار
پولس یہاں سب سے زیادہ کھلا نظر آتا ہے۔ ایک طرف وہ آنے والی سختی کا انکار نہیں کرتا؛ دوسری طرف وہ لکھتا ہے: "ہم خوش ہیں جب آپ طاقت ور ہیں گو ہم خود کمزور ہیں۔" یہ جملہ کسی حکمت کی کتاب سے نہیں، ایک زخمی دل سے آیا ہے۔ اُس کے اندر بےبسی اور یقین ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ اور خط کا آخری لفظ اُس کے بارے میں نہیں: "خداوند عیسیٰ مسیح کا فضل، اللہ کی محبت اور روح القدس کی رفاقت آپ سب کے ساتھ ہوتی رہے۔" وہ اپنی برتری ثابت کر کے نہیں بلکہ تینوں اقنوم والے خدا کے حوالے کر کے قلم رکھتا ہے۔ سچا اختیار وہی ہے جو اپنی جگہ خدا کے فضل کو دے دے۔
غور و فکر
کیا مَیں اپنے ایمان کی جانچ اِس سوال سے کرتا ہوں کہ "مسیح میرے اندر ہے؟" یا اُس سے کہ "مَیں کتنا کامیاب دکھتا ہوں؟"
جو اختیار خدا نے مجھے دیا ہے (گھر میں، کام پر، کلیسیا میں)، وہ آخری بار کب "تعمیر" کے لیے استعمال ہوا اور کب "ڈھا دینے" کے لیے؟
2 Corinthians 13 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-کُرِنتِھیوں 13 کا کیا مطلب ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 13 کس بارے میں ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 13 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 13 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 13 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Corinthians 13 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس دھمکی نہیں دے رہا، وہ وقت دے رہا ہے۔ وہ پہلے سے خبردار کرتا ہے، "جب مَیں دوبارہ آؤں گا تو کسی پر رحم نہیں کروں گا،" تاکہ اُس کے آنے سے پہلے لوگ توبہ کر لیں۔ یہی محبت ہے جو خاموش نہیں رہتی۔ سوچ، کیا تیرے دل میں بھی کوئی ایسی بات ہے جس کے بارے میں خدا تجھے بار بار نرمی سے جگا رہا ہے؟ یہ مہلت اُس کے غصے کی نہیں، اُس کے صبر کی نشانی ہے۔
کُرنتھس کے لوگ پولس کو جانچ رہے تھے، ثبوت مانگ رہے تھے کہ مسیح واقعی اُس میں سے بولتا ہے۔ پولس آئینہ گھما دیتا ہے: "خود اپنے آپ کو جانچیں۔ یا کیا آپ نہیں جانتے کہ عیسیٰ مسیح آپ میں ہے؟" دوسروں کے ایمان کا حساب لینا آسان ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ٹھہر کر اپنے دل سے پوچھیں، کیا مسیح واقعی یہاں رہتا ہے؟ آج کس کو پرکھنے میں آپ کا وقت گزر رہا ہے؟
پولس غصے میں پھٹ نہیں پڑتا۔ وہ لکھتا ہے، ”ہر بات کی تصدیق دو یا تین گواہوں کی گواہی سے ہونی چاہئے۔“ یعنی محبت بھی انصاف کے اصولوں کی پابند ہے۔ سوچیں، کتنی بار ہم نے کسی کے بارے میں ایک ہی سنی سنائی بات پر فیصلہ کر لیا؟ جو دل مسیح کا ہے وہ الزام لگانے میں جلدی نہیں کرتا، بلکہ سچائی کی تہہ تک جاتا ہے۔
کرنتھس کی جماعت نے پولس کو خوب دُکھ دیا تھا، اور پھر بھی خط کے آخر میں وہ لکھتا ہے: "صلح سلامتی کے ساتھ زندگی گزاریں۔ پھر محبت اور سلامتی کا خدا آپ کے ساتھ ہوگا۔" غور کریں، پہلے صلح، پھر خدا کی حضوری۔ جس رشتے کو آپ ٹھیک کرنے سے کتراتے ہیں، شاید خدا وہیں آپ سے ملنا چاہتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
