۲-کُرِنتِھیوں 5
متن
پولس رسول اپنے جسم کو ایک جھونپڑی کہتا ہے جو ایک دن گرا دی جائے گی، اور اُس کے مقابل اُس آسمانی گھر کو رکھتا ہے "جسے انسانی ہاتھوں نے نہیں بنایا ہو گا۔" اِسی اُمید میں وہ کراہتا ہے، ایمان پر چلتا ہے، اور جانتا ہے کہ ہر ایک کو مسیح کے تختِ عدالت کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ پھر باب کا رُخ مُڑتا ہے: مسیح کی محبت اُسے مجبور کرتی ہے، اور جو مسیح میں ہے وہ نیا مخلوق ہے۔ آخر میں وہ اپنی اصل شناخت بتاتا ہے، مسیح کا ایلچی، جو ایک ہی پیغام لے کر پھرتا ہے: خدا کے ساتھ صلح کر لو۔
مرکزی بات
یہ باب دو چیزیں ایک ساتھ تھامتا ہے جنہیں ہم عموماً الگ کر دیتے ہیں: عدالت اور محبت۔ آیت 10 میں تختِ عدالت ہے، جہاں "ہر ایک کو اُس کام کا اجر ملے گا جو اُس نے اپنے بدن میں رہتے ہوئے کیا ہے"، اور آیت 21 میں وہ ناقابلِ یقین تبادلہ ہے جس میں بےگناہ کو گناہ ٹھہرایا گیا تاکہ گنہگار راست باز قرار پائیں۔ پولس خوف سے نجات کا سودا نہیں کرتا؛ وہ کہتا ہے کہ خدا کا خوف جاننے کے بعد ہی مسیح کی محبت واقعی مجبور کرنے والی طاقت بنتی ہے۔ نجات یہاں محض معافی نہیں، نئی مخلوق ہے: پرانی زندگی کا دروازہ بند اور نئی کا کھلا۔ یہ خدا کی طرف سے ہے، ہماری کوشش سے نہیں۔
سلسلۂ نجات
"جھونپڑی" کا لفظ اتفاقی نہیں۔ اسرائیل نے بیابان میں خیموں میں چالیس سال گزارے، اور خدا بھی اُن کے درمیان ایک خیمے میں رہا، جب تک ملکِ موعود کا مستقل گھر نہ ملا۔ پولس اُسی تصویر کو اُٹھا کر ہر ایماندار کے بدن پر چسپاں کرتا ہے: ہم ابھی راستے میں ہیں، اور روح القدس "آنے والے جلال کا بیعانہ" ہے، یعنی وہ پیشگی رقم جو پورے سودے کی ضمانت دیتی ہے۔ اور آیت 21 ہمیں کفارہ کے دن کی طرف لے جاتی ہے، جب گناہ کسی بےقصور پر ڈالا جاتا تھا۔ فرق یہ ہے کہ اب قربانی خاموش جانور نہیں بلکہ خود بیٹا ہے، جو رضامندی سے ہماری جگہ کھڑا ہوا۔ شریعت کا سایہ یہاں جسم اختیار کرتا ہے۔
آئینہ
آپ بھی کراہتے ہیں، اگرچہ شاید اِس کا نام نہیں لیتے۔ وہ کمر جو اب پہلے جیسی نہیں، وہ رپورٹ جس کا نتیجہ ہفتے بھر آپ کو سونے نہیں دیتا، وہ تھکن جو چھٹی سے بھی نہیں جاتی۔ پولس کراہنے کو روحانی کمزوری نہیں کہتا؛ وہ اِسے اُمید کی آواز کہتا ہے۔ مگر یہی باب ایک اور چیز بھی بےنقاب کرتا ہے: ہماری ظاہری باتوں پر شیخی۔ آیت 12 اُن لوگوں کا ذکر کرتی ہے جو "ظاہری باتوں پر شیخی مارتے اور دلی باتیں نظرانداز کرتے ہیں۔" یہ صرف کرنتھس کے مخالف نہیں، یہ وہ آواز ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ عزت، ڈگری، گاڑی اور منبر پر کامیابی ہی اصل پیمانہ ہیں۔ آیت 16 اِس سب کو کاٹ دیتی ہے: "ہم اب سے کسی کو بھی دنیاوی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔" نہ اپنے آپ کو، نہ اُس رشتہ دار کو جسے آپ نے بہت پہلے ناکام قرار دے دیا تھا۔
آج ہی ایک کاغذ پر اُس ایک شخص کا نام لکھیں جسے آپ نے چپکے سے "ناکارہ" قرار دے دیا ہے، اور اُس نام کو دیکھتے ہوئے بلند آواز سے کہیں: "مسیح اِس کے لئے بھی مُوا؛ آج سے مَیں اِسے دنیاوی نگاہ سے نہیں دیکھوں گا۔"
پہلے سامعین
کرنتھس کی کلیسیا میں پولس کی ساکھ مجروح تھی۔ کچھ زوردار مقرر آئے تھے جن کے پاس سفارشی خط، رعب دار موجودگی اور بہترین تقریر تھی، جبکہ پولس کا بدن مار پیٹ سے گھِسا ہوا اور اُس کی بات معمولی سمجھی جاتی تھی۔ ایسے سامعین کے کان میں "دنیاوی جھونپڑی" محض فلسفہ نہیں تھا: وہ پولس کے زخموں کی تشریح تھی۔ وہ کہہ رہا ہے کہ میرا ٹوٹا ہوا جسم میرے پیغام کی تردید نہیں، اُس کا ثبوت ہے۔ اور جب وہ خود کو "مسیح کے ایلچی" کہتا ہے تو رومی سلطنت کے شہری فوراً سمجھ گئے: ایلچی اپنی شخصیت سے نہیں، بھیجنے والے بادشاہ کے اختیار سے بولتا ہے۔ کمزور قاصد، مگر پیغام شاہی۔
ایک باریک نکتہ
آیت 20 کے ایک لفظ پر رُکیے: "ہم مسیح کے واسطے آپ سے منت کرتے ہیں۔" منت۔ یعنی گڑگڑانا، التجا کرنا۔ ایک ایلچی کے پاس بادشاہ کا پورا اختیار ہوتا ہے؛ وہ حکم دے سکتا ہے، دھمکی دے سکتا ہے۔ مگر یہ ایلچی ہاتھ جوڑتا ہے۔ اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ وہ یہ منت کلیسیا کے لوگوں سے کر رہا ہے، اُن سے جو پہلے ہی بپتسمہ لے چکے ہیں۔ گویا صلح کوئی ایسی چیز نہیں جسے ایک بار دستخط کر کے فائل میں رکھ دیا جائے۔ خدا ہماری طرف جھکتا ہے، حکم سے نہیں، التجا سے۔ یہی اُس کا طریقہ ہے: جس کے پاس تختِ عدالت ہے، وہی ہماری دہلیز پر کھڑا ہو کر درخواست کرتا ہے۔
پس منظر
یہ خط غالباً پچاس کی دہائی کے وسط میں لکھا گیا، ایک تلخ تنازع کے بعد جب پولس اور کرنتھس کے درمیان خطوں اور ایک دردناک دورے کا سلسلہ چل چکا تھا۔ کرنتھس ایک بندرگاہی شہر تھا، دولت، مقابلہ بازی اور سماجی سیڑھی چڑھنے کی دوڑ سے بھرا ہوا۔ وہاں عزت سب کچھ تھی اور رسوائی موت کے برابر۔ اِسی ماحول میں ایک کاریگر رسول، جو خیمے سیتا تھا اور جیل دیکھ چکا تھا، لکھتا ہے کہ اصل گھر آسمان پر ہے اور اصل گواہی ضمیر کے سامنے ہے۔ یہ خط دفاع بھی ہے اور دعوت بھی: اپنی پیمائش کا پیمانہ بدلو، کیونکہ تخت کے سامنے ظاہری چمک نہیں، بدن میں کیا گیا کام تولا جائے گا۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی "ظاہری بات" ہے جس پر آپ خاموشی سے فخر کرتے ہیں، اور اگر وہ کل چھن جائے تو آپ کے پاس کیا باقی رہے گا؟
اگر آپ واقعی مسیح کے ایلچی ہیں، تو اِس ہفتے کس کے سامنے آپ کو حکم نہیں بلکہ منت کرنی چاہئے؟
2 Corinthians 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-کُرِنتِھیوں 5 کا کیا مطلب ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 5 کس بارے میں ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Corinthians 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
شکر ہے آپ کا کہ آپ نے ہمیں بتا دیا: جب ہمارا خیمہ یعنی ہمارا زمینی جسم گر جائے گا تو آپ ہمیں آسمان پر ایک مکان دیں گے، ایک ابدی گھر جو انسانی ہاتھوں نے نہیں بنایا۔ اِس یقین کے لیے شکریہ کہ کمزور ہوتے جسم اور قبر کے خوف کے باوجود ہمارا ٹھکانا پہلے سے تیار ہے۔
اے خدا، اِس جسم میں رہتے ہوئے کبھی کبھی تُو بہت دُور لگتا ہے، پھر بھی میرا دل بےحوصلہ نہیں۔ مجھے ہر دن یہ یقین دے کہ جو کچھ آنکھوں سے نظر نہیں آتا، وہی سب سے سچا ہے، اور ایک دن مَیں تیرے سامنے ہوں گا۔ تب تک مجھے ہمت کے ساتھ چلنا سکھا۔
اے باپ، مجھے سب کچھ صاف صاف دیکھنے کی خواہش ہے، لیکن راستہ دھندلا سا لگتا ہے۔ سکھا کہ میں اپنی آنکھوں پر نہیں بلکہ تجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے قدم بڑھاؤں۔ جہاں مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا، وہاں بھی تھام لے اور میرے دل کو قائم رکھ۔
پولس کی ساری جد و جہد کا نچوڑ ایک ہی جملے میں سمٹ آتا ہے: "خدا کو پسند آئیں۔" نہ لوگوں کی تعریف، نہ اپنی کامیابی، اور یہ خواہش موت سے بھی نہیں رُکتی، کیونکہ وہ کہتا ہے چاہے ہم اِس بدن میں ہوں یا اُس سے دُور۔
ذرا سوچ، آج تُو نے جو کام کیا، وہ کس کی نظر کے لیے کیا؟ جس کی نظر تیرے دل تک پہنچتی ہے، اُسی کو خوش کرنا سب سے ہلکا بوجھ ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
