۲-کُرِنتِھیوں 7
متن
پولس رسول پہلے ایک پکار دیتے ہیں: جو وعدے ہمیں ملے ہیں اُن کی روشنی میں اپنے آپ کو جسم اور روح کی ہر آلودگی سے پاک کریں۔ پھر وہ اپنی صفائی پیش کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کرنتھس کی کلیسیا کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی۔ اِس کے بعد وہ ایک ذاتی کہانی سناتے ہیں: مکدُنیہ میں بےچینی، طِطُس کا آنا، اور وہ سخت خط جس نے کرنتھیوں کو دُکھ پہنچایا مگر آخرکار توبہ تک لے گیا۔ باب ختم ہوتا ہے اعتماد پر: "مَیں خوش ہوں کہ مَیں ہر لحاظ سے آپ پر اعتماد کر سکتا ہوں۔"
اصل بات
یہاں دو قسم کے دُکھ کی تمیز کی گئی ہے، اور یہ تمیز زندگی اور موت کا فرق ہے۔ "جو دُکھ اللہ اپنی مرضی پوری کرانے کے لئے استعمال کرتا ہے اُس سے توبہ پیدا ہوتی ہے اور اُس کا انجام نجات ہے۔ اِس میں پچھتانے کی گنجائش ہی نہیں۔ اِس کے برعکس دنیاوی دُکھ کا انجام موت ہے۔" دنیاوی دُکھ اپنے گرد گھومتا ہے: میری بےعزتی، میری ناکامی، میں کتنا بُرا ہوں۔ وہ شرمندگی پیدا کرتا ہے مگر حرکت نہیں۔ خدا کا دیا ہوا دُکھ آدمی کو اپنے آپ سے نکال کر خدا کی طرف اور اُس شخص کی طرف موڑ دیتا ہے جسے نقصان پہنچا۔ وہ تکلیف دیتا ہے، مگر زخم کی طرح نہیں، سرجری کی طرح۔
سلسلہ
خدا کی پہچان یہاں ایک ہی جملے میں کھل جاتی ہے: "اللہ نے جو دبے ہوؤں کو تسلی بخشتا ہے طِطُس کے آنے سے ہماری حوصلہ افزائی کی۔" یہ وہی خدا ہے جو یسعیاہ میں اپنی قوم کو جلاوطنی میں تسلی دیتا ہے، اور وہی خدا جو مسیح میں دبے ہوؤں کے پاس خود آ کر بیٹھ گیا۔ صلیب اِسی اصول کا مرکز ہے: وہاں دُکھ تباہی نہیں بلکہ نئی زندگی کا دروازہ بنا۔ اور غور کریں کہ تسلی کیسے آئی: آسمان سے نہیں، بلکہ ایک تھکے ہوئے مسافر کی صورت میں جو دروازے پر دستک دیتا ہے۔ خدا اپنی تسلی اکثر گوشت پوست کے لوگوں کے ہاتھ میں دے کر بھیجتا ہے۔
آئینہ
آپ جانتے ہیں وہ لمحہ جب کوئی آپ کی غلطی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سینے میں ایک گرم لہر اُٹھتی ہے۔ اور پھر انتخاب شروع ہوتا ہے: کیا میں وضاحت دوں گا، کیا میں موضوع بدلوں گا، یا کیا میں چپ چاپ اپنے آپ کو کوسنا شروع کروں گا؟ تینوں راستے دنیاوی دُکھ کے ہیں، کیونکہ تینوں میں مَیں ہی مرکز میں رہتا ہوں۔ دفتر میں وہ حساب جو آپ نے تھوڑا سا گھما دیا۔ گھر میں وہ لہجہ جس سے آپ کا بیٹا سہم جاتا ہے۔ وہ رقم جو آپ نے ادھار لے کر بھول جانے کا فیصلہ کر لیا۔ پولس توبہ کے پھل گنواتے ہیں: "کتنی سنجیدگی… کتنی سرگرمی۔" یعنی توبہ ہمیشہ کچھ کرتی ہے۔
آج یہ کیجئے: اُس ایک شخص کو، جس کا نام ابھی آپ کے ذہن میں آیا، ایک مختصر پیغام لکھ کر بھیجئے جس میں آپ بالکل ٹھیک ٹھیک نام لے کر بتائیں کہ آپ نے کیا غلط کیا، اور اُس میں "لیکن" یا "اگر" کا ایک بھی لفظ نہ ہو۔
پس منظر
پولس مکدُنیہ میں ہیں، غالباً فِلپی یا تھسلُنیکے میں، اور اُن کی حالت اچھی نہیں: "مصیبتوں نے ہمیں ہر طرف سے گھیر لیا۔ دوسروں کی طرف سے جھگڑوں سے اور دل میں طرح طرح کے ڈر سے نپٹنا پڑا۔" اِس سے پہلے کرنتھس میں ایک تلخ واقعہ ہوا تھا؛ کسی نے پولس کی سرِعام توہین کی اور کلیسیا خاموش رہی۔ پولس نے ایک سخت خط لکھا اور طِطُس کے ہاتھ بھیج دیا، پھر مہینوں انتظار کیا کہ جواب کیا آئے گا۔ یونانی شہری ثقافت میں عزت اور بےعزتی سب کچھ تھی؛ ایک استاد جس کی کلیسیا اُس کا دفاع نہ کرے، عوامی طور پر ناکام سمجھا جاتا تھا۔ پولس کی بےچینی محض جذباتی نہیں، سماجی اور روحانی بھی تھی۔
ایک باریکی
آیت ۸ میں ایک عجیب جملہ ہے: "پہلے تو مَیں خط لکھنے سے پچھتایا، لیکن اب مَیں دیکھتا ہوں…" رسول تسلیم کرتے ہیں کہ اُنہیں خط بھیجنے پر افسوس ہوا تھا۔ یہ اعتراف قیمتی ہے۔ سچائی بولنا کوئی ٹھنڈا، پُراعتماد فن نہیں؛ اُس کے بعد اکثر بےچینی کی راتیں آتی ہیں، یہ سوچتے ہوئے کہ کہیں میں نے رشتہ توڑ تو نہیں دیا۔ پولس یہ نہیں کہتے کہ محبت میں کی گئی سختی ہمیشہ آسان محسوس ہوتی ہے۔ وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ نتیجہ دیکھنے کے بعد پچھتاوا ختم ہو گیا۔ اگر آپ کو کسی سے کھری بات کہنی ہے، تو یہ توقع نہ رکھیں کہ دل مطمئن رہے گا۔ اطمینان بعد میں آتا ہے، کبھی کبھی مہینوں بعد۔
پہلے سننے والے
کرنتھس کے مسیحی یہ خط سن رہے تھے اور جانتے تھے کہ اُن کا رویہ کتنا شرمناک رہا تھا۔ اُن کے کانوں میں آیت ۱۱ کی فہرست ایک الزام نہیں بلکہ ایک بریت کا اعلان تھی: "آپ نے ہر لحاظ سے ثابت کیا ہے کہ آپ اِس معاملے میں بےقصور ہیں۔" یہ ایک ایسی کلیسیا کے لئے تھا جو دھڑوں میں بٹی تھی، جہاں لوگ ایک دوسرے کو عدالت میں گھسیٹتے تھے۔ اور آخری جملہ اُن کے لئے حیران کن رہا ہو گا: رسول اُن پر دوبارہ اعتماد کر رہے ہیں۔ توبہ کے بعد شرمندگی کا داغ نہیں، بلکہ بحال شدہ رشتہ۔ یہی انجیل کا لہجہ ہے۔
غور و فکر کے سوالات
جب پچھلی بار کسی نے آپ کی غلطی کی طرف اشارہ کیا، تو آپ کے اندر جو اُٹھا وہ خدا کا دُکھ تھا یا صرف بےعزتی کا خوف؟ فرق آپ نے اپنے اگلے قدم سے کیسے پہچانا؟
خدا نے پولس کو طِطُس کے ذریعے تسلی دی۔ اِس ہفتے آپ کس دبے ہوئے شخص کے لئے "طِطُس" بن سکتے ہیں، اور کون سی چیز آپ کو روک رہی ہے؟
2 Corinthians 7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-کُرِنتِھیوں 7 کا کیا مطلب ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 7 کس بارے میں ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Corinthians 7 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، شکر ہے کہ تُو نے ہمیں ایسے لوگ دیے ہیں جن پر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔ مجھے بھی ایسا بنا کہ دوسرے مجھ پر اعتماد کر سکیں اور میرا دل اُن کی خوشی میں خوش ہو۔ جہاں بھروسا ٹوٹا ہے، وہاں تُو پھر سے مضبوط رشتے بنا دے۔
اے خدا، جب دل ٹوٹتا ہے تو مجھے ڈر لگتا ہے، لیکن تُو جانتا ہے کہ کون سا غم مجھے تیری طرف لوٹا دیتا ہے۔ میری اُداسی کو بےکار نہ جانے دے بلکہ اُسے توبہ اور نئی زندگی کا راستہ بنا۔ مجھے سنبھال، اور اپنی طرف کھینچ لے۔
اے خدا، کبھی کبھی سچائی سننا تکلیف دیتی ہے۔ مجھے وہ باتیں قبول کرنے کی توفیق دے جو مجھے دکھ تو دیتی ہیں مگر میری اصلاح کے لیے ہیں۔ میرا دل سخت نہ ہو، بلکہ اُس عارضی درد میں سے تیری طرف لوٹنے کی خوشی نکل آئے۔
پولس رسول بھی بےخوف سُپرمین نہیں تھا۔ وہ لکھتا ہے، ”جب ہم مکدُنیہ پہنچے تو ہمارے جسم کو آرام نہ ملا بلکہ ہم ہر طرف سے مصیبت میں پھنسے رہے۔ باہر جھگڑے تھے، اندر اندیشے۔“ باہر کی لڑائی اور اندر کا ڈر، دونوں ایک ساتھ۔ اگلی آیت میں تسلی آتی ہے، مگر پہلے وہ اپنی کمزوری چھپاتا نہیں۔ تُو بھی نہ چھپا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
