۲-پطرس 3
متن
پہلی صدی کے کسی گھر میں یہ خط پڑھا جا رہا ہے، اور کمرے میں بیٹھے لوگ جانتے ہیں کہ باہر گلی میں اُن کا مذاق اُڑایا جاتا ہے: ”عیسیٰ نے آنے کا وعدہ تو کیا، لیکن وہ کہاں ہے؟ ہمارے باپ دادا تو مر چکے ہیں، اور دنیا کی تخلیق سے لے کر آج تک سب کچھ ویسے کا ویسا ہی ہے۔“ پطرس اِس طعنے کا جواب دیتا ہے: خدا کا وقت ہمارے وقت جیسا نہیں، اُس کی تاخیر دراصل صبر ہے تاکہ لوگ توبہ کریں۔ خداوند کا دن چور کی طرح آئے گا، یہ آسمان اور زمین آگ میں ختم ہوں گے، اور نئے آسمان اور نئی زمین آئیں گے جہاں راستی بسے گی۔ اِس لیے، وہ کہتا ہے، سوچو کہ تمہیں کس قسم کے لوگ ہونا چاہیے۔
بنیادی بات
سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ پطرس تاخیر کی معافی نہیں مانگتا۔ وہ الٰہی گھڑی کو دوبارہ نہیں لگاتا اور نہ کوئی نیا حساب پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تاخیر خود ایک الٰہی عمل ہے: ”وہ نہیں چاہتا کہ کوئی ہلاک ہو جائے بلکہ یہ کہ سب توبہ کی نوبت تک پہنچیں۔“ یعنی جس خاموشی کو دنیا خدا کی غیرموجودگی سمجھتی ہے، وہ اصل میں اُس کے رحم کا کھلا دروازہ ہے۔ عدالت ملتوی نہیں ہوئی، وہ روکی گئی ہے، اور جو ہاتھ اُسے روکے ہوئے ہے وہی ہاتھ صلیب پر کیلوں سے چھیدا گیا۔ خدا کا صبر کمزوری نہیں، وہ نجات کا وقت ہے۔
سلسلۂ کلام
پطرس دو تصویریں ساتھ رکھتا ہے: نوح کا سیلاب اور آنے والی آگ۔ دونوں میں دنیا ویسی کی ویسی نہیں رہی؛ دونوں میں خدا کے کلام نے مادّے کو حرکت دی۔ یہ اُس بڑی کہانی کی لکیر ہے جو تخلیق سے شروع ہو کر نئی تخلیق پر ختم ہوتی ہے۔ لیکن غور کریں: انجام تباہی نہیں بلکہ ”نئے آسمانوں اور نئی زمین“ کا وعدہ ہے، ”اور وہاں راستی سکونت کرے گی۔“ خدا کا مقصد زمین کو پھینک دینا نہیں بلکہ اُسے پاک کرنا ہے۔ اور اِس نئی دنیا کا دروازہ وہی ہے جسے پطرس دو بار ”ہمارے خداوند اور نجات دہندہ عیسیٰ مسیح“ کہتا ہے: جو مرا اور جی اُٹھا، وہی پہلا حصہ ہے اُس نئی سرزمین کا جہاں راستی گھر بنائے گی۔
آئینہ
آپ نے شاید کبھی کسی کے مذاق کا سامنا نہیں کیا، لیکن اندر ہی اندر وہی سوال اُٹھا ہو گا: کیا واقعی کچھ بدلے گا؟ دفتر میں بےایمانی کامیاب ہوتی ہے، بیمار جسم ٹھیک نہیں ہوتا، وہ رشتہ دار جس کے لیے آپ بیس سال سے دعا کر رہے ہیں ابھی تک بےنیاز ہے۔ ”سب کچھ ویسے کا ویسا ہی ہے“ صرف طعنہ نہیں، یہ ایک تھکن ہے جو ایمان داروں کے دل میں بھی بیٹھ جاتی ہے۔ پطرس اِس تھکن کا علاج معلومات سے نہیں بلکہ کردار سے کرتا ہے: ”آپ کس قسم کے لوگ ہونے چاہئیں؟“ اگر یہ سب واقعی عارضی ہے، تو آپ کے پیسے، آپ کے وقت، آپ کے غصے کے فیصلے کس بنیاد پر ہو رہے ہیں؟
مرکزی کردار
اِس باب کا مرکزی کردار وہ خدا ہے جو انتظار کرتا ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ صبر کمزوروں کی مجبوری ہے؛ یہاں یہ قادرِ مطلق کا انتخاب ہے۔ وہ ایک ہی حکم سے آسمان بنا سکتا ہے اور ایک ہی حکم سے اُنہیں پگھلا سکتا ہے، پھر بھی وہ رُکا ہوا ہے، اور اُس کے رُکنے کی وجہ کوئی کائناتی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک ایک شخص کی توبہ ہے۔ ”خداوند کے نزدیک ایک دن ہزار سال کے برابر ہے“ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لاتعلق ہے، بلکہ یہ کہ وہ ہماری بےصبری کے قیدی نہیں۔ یہ وہی خداوند ہے جس نے پطرس کو تین انکار کے بعد بھی وقت دیا۔
سوال
پھر بھی سوال باقی رہتا ہے: اگر خدا نہیں چاہتا کہ ”کوئی ہلاک ہو جائے“، تو پھر باب کے شروع میں ”بےدین لوگوں کی عدالت“ اور ہلاکت کی بات کیوں؟ کیا اُس کی مرضی ناکام ہو سکتی ہے؟ متن اِس کا آسان جواب نہیں دیتا اور ہمیں بھی نہیں دینا چاہیے۔ یہاں دو سچائیاں ساتھ ساتھ کھڑی ہیں: خدا کی دلی خواہش رحم ہے، اور انسان کا انکار حقیقی نتیجہ رکھتا ہے۔ پطرس اِن دونوں کو ملا کر ایک صاف نظام نہیں بناتا؛ وہ اِن کے درمیان کے تناؤ کو ہماری دعا اور گواہی کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ جو اِس تناؤ کو ختم کر دے، وہ یا تو خدا کی محبت چھوٹی کر دیتا ہے یا انسان کی ذمہ داری۔
سامعین کی تصویر
سوچیے ایشیائے کوچک کے اُن مسیحیوں کے بارے میں جو دوسری نسل تھے۔ اُن کے والدین، جو یسوع کی واپسی کے انتظار میں مرے، اب قبروں میں تھے۔ پڑوسی مندروں میں قربانیاں چڑھاتے تھے، سلطنتِ روم مضبوط تھی، اور ایک چھوٹی سی جماعت کہتی تھی کہ یہ سارا نظام ختم ہونے والا ہے۔ اُن کے لیے یہ الفاظ سائنسی پیش گوئی نہیں بلکہ ایک سیاسی اور روحانی اعلان تھے: قیصر کی دنیا آخری نہیں۔ اور پطرس کا یہ کہنا کہ پولس کے خطوط ”باقی صحیفوں“ کے ساتھ رکھے جاتے ہیں، اُنہیں بتاتا تھا کہ اُن کے پاس صرف افواہیں نہیں، ایک قابلِ اعتماد آواز ہے، بشرطیکہ وہ اُسے توڑ مروڑ کر نہ پڑھیں۔
غور و فکر
اگر آپ خدا کی خاموشی کو غیرموجودگی کے بجائے صبر سمجھیں، تو آپ کی کون سی دعا بدل جائے گی؟
”آپ کس قسم کے لوگ ہونے چاہئیں؟“ اِس ہفتے آپ کے کن ٹھوس فیصلوں میں نئی زمین کی راستی جھلکنی چاہیے؟
2 Peter 3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-پطرس 3 کا کیا مطلب ہے؟
۲-پطرس 3 کس بارے میں ہے؟
۲-پطرس 3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-پطرس 3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-پطرس 3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Peter 3 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، جب سب کچھ عارضی ہے تو میرا دل کیوں ان چیزوں سے چمٹا رہتا ہے جو ٹھہرنے والی نہیں۔ مجھے سکھا کہ میں آج کا دن اِس طرح جیوں کہ میری زندگی تیری پاکیزگی اور تیری محبت کی گواہی دے۔ میرے چھوٹے چھوٹے فیصلوں کو بھی اپنی مرضی کے مطابق ڈھال دے۔
پطرس نے خبردار کیا تھا کہ کہیں گمراہ لوگ تجھے بہا کر نہ لے جائیں۔ اور اِس خطرے کا علاج یہ نہیں کہ تُو ڈر کر ایک جگہ کھڑا رہے، بلکہ یہ کہ تُو "ہمارے خداوند اور نجات دہندہ عیسیٰ مسیح کے فضل اور عرفان میں بڑھتا جائے۔" پودا جو بڑھ رہا ہو، آندھی میں بھی جڑ پکڑتا ہے۔ آج تُو مسیح کے بارے میں کیا نئی بات سیکھ رہا ہے؟
اے خدا، تُو جانتا ہے کہ میں کتنی چیزوں کو مضبوطی سے پکڑے بیٹھا ہوں، حالانکہ سب کچھ ایک دن ختم ہو جائے گا۔ مجھے سکھا کہ میں اُس پر بھروسا رکھوں جو کبھی نہیں مٹتا۔ میرا دل تیار رکھ، تاکہ تیرا دن مجھے اچانک نہ آ پکڑے۔
پطرس صرف انتظار کی بات نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے کہ ہم اللہ کے دن کے "جلد آنے کے لئے کوشاں" رہتے ہیں۔ سوچیں، آپ کی چھوٹی سی دیانت داری، آپ کی معافی، آپ کی دعا اُس عظیم دن کو قریب لاتی ہے۔ آپ بس وقت گزار نہیں رہے، آپ اُس صبح کے منتظر ہیں جس کی خاطر جیتے ہیں۔ آج کا آپ کا ایک وفادار قدم بےمعنی نہیں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
