بائبل کی تشریح

۲-تیمُتھیُس 3

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

پولس رسول تیمُتھیُس کو خبردار کرتے ہیں کہ آخری دنوں میں لوگ خودپسند، لالچی، ناشکرے اور محبت سے خالی ہوں گے، اور سب سے خطرناک بات یہ کہ وہ "بظاہر خدا ترس زندگی گزاریں گے، لیکن حقیقی خدا ترس زندگی کی قوت کا انکار کریں گے۔" ایسے لوگ گھروں میں گھس کر کمزوروں کو پھنساتے ہیں اور سچائی کی مخالفت کرتے ہیں، جیسے ینیس اور یمبریس نے موسیٰ کی مخالفت کی تھی۔ اِس کے مقابلے میں پولس تیمُتھیُس کو اُس راستے پر قائم رہنے کو کہتے ہیں جو اُس نے سیکھا: دُکھ اُٹھانے کی تیاری اور بچپن سے سیکھے ہوئے مقدّس صحیفے، جو "اللہ کے روح سے وجود میں آئے" ہیں۔

مرکزی نکتہ

پولس اِن انیس عیبوں کی فہرست بُت پرست شہر کے بارے میں نہیں لکھ رہے، بلکہ کلیسیا کے اندر کے لوگوں کے بارے میں۔ اِس کا ثبوت آیت ۵ ہے: یہ لوگ عبادت میں حاضر ہیں، دعا کے الفاظ جانتے ہیں، تعلیم دیتے ہیں۔ جو چیز غائب ہے وہ "قوت" ہے۔ یہاں مسئلہ عقیدے کی غلطی سے پہلے زندگی کی بےاثری ہے: ایک ایسی دینداری جو صلیب اور جی اُٹھنے کی طاقت کے بغیر چلتی ہے، جو کسی کو بدلتی نہیں، صرف سجاتی ہے۔ اور خدا کا جواب کوئی نئی روحانی تکنیک نہیں، بلکہ وہی پرانا کلام ہے جو تعلیم دیتا، ملامت کرتا اور تربیت دیتا ہے۔ نجات کی حکمت نئی دریافت نہیں، پرانی امانت ہے۔

وہ ایک ڈور

ینیس اور یمبریس کے نام پرانے عہدنامے میں کہیں نہیں ہیں۔ خروج ۷ اور ۸ میں فرعون کے جادوگر بےنام ہیں؛ یہ نام یہودی روایت سے آئے ہیں۔ لیکن پولس جو نمونہ اُٹھاتے ہیں وہ بالکل خروج کا ہے: جادوگر موسیٰ کے نشان کی نقل کرتے ہیں، لاٹھی سانپ بنتی ہے، پانی خون ہوتا ہے، اور پھر ایک مقام آتا ہے جہاں نقل ٹوٹ جاتی ہے اور وہ خود کہتے ہیں کہ یہ خدا کی اُنگلی ہے۔ سچائی کی مخالفت اکثر انکار کی شکل میں نہیں، مشابہت کی شکل میں آتی ہے۔ اِسی لیے پولس پُریقین ہیں: "یہ زیادہ ترقی نہیں کریں گے کیونکہ اِن کی حماقت سب پر ظاہر ہو جائے گی۔" اور دوسری ڈور آیت ۱۵ میں ہے: تیمُتھیُس نے بچپن میں جو صحیفے پڑھے وہ پرانا عہدنامہ تھا، اور پولس کہتے ہیں کہ وہی صحیفے مسیح عیسیٰ پر ایمان کے ذریعے نجات تک پہنچاتے ہیں۔ پرانا عہدنامہ مسیح کی طرف اشارہ کرنے والی اُنگلی ہے۔

آئینہ

آیات ۲ سے ۴ کی فہرست اِس لیے بےچین کرتی ہے کہ اُس میں شیطانی جرائم نہیں، بلکہ ہماری روزمرہ کی خامیاں گنی گئی ہیں: ناشکرا پن، صلح کے لیے تیار نہ ہونا، غیرمحتاط ہونا، عیش و عشرت کو خدا کی محبت پر ترجیح دینا۔ کوئی بھی شخص صبح اُٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ آج میں خودپسند بنوں گا؛ یہ آہستہ آہستہ ہوتا ہے، تنخواہ بڑھنے کے ساتھ، رشتوں میں معافی ٹالتے ہوئے، اُس بھائی سے مہینوں بات نہ کرتے ہوئے جس سے جھگڑا ہوا تھا۔ اور اگر آپ بائبل اسٹڈی چلاتے ہیں یا کلیسیا میں خدمت کرتے ہیں، تو آیت ۵ آپ ہی کے لیے ہے: ظاہری دینداری قائم رکھنا سب سے آسان کام ہے۔ آج ہی آیات ۲ سے ۴ کو بلند آواز میں آہستہ پڑھیں، اُس ایک لفظ پر رُکیں جو آپ کو چُبھتا ہے، اُسے کاغذ پر لکھیں اور خدا کے سامنے نام لے کر اعتراف کریں۔

مرکزی کردار

پولس تین شہروں کے نام لیتے ہیں: انطاکیہ، اکنیُم اور لسترہ۔ یہ اتفاق نہیں۔ لسترہ تیمُتھیُس کا شہر تھا، اور وہیں پولس کو سنگسار کر کے شہر سے باہر پھینک دیا گیا تھا (اعمال ۱۴)۔ یعنی وہ اپنے شاگرد کو ایسی کہانی یاد نہیں دلا رہے جو اُس نے سنی تھی، بلکہ ایسی جو اُس نے دیکھی تھی، ممکن ہے خون آلود پولس کو اپنی گلی میں دیکھا ہو۔ اور یہی آدمی لکھتا ہے: "خداوند نے مجھے اِن سب سے رِہائی دی۔" وہ یہ جیل سے لکھ رہے ہیں، موت کے قریب۔ اُن کی رِہائی خطرے سے بچنے کا نام نہیں، خطرے کے اندر تھامے جانے کا نام ہے۔ یہ ایک بوڑھے آدمی کی سنجیدہ خوشی ہے، نہ فتح کے نعرے، نہ شکایت۔

ایک باریک نکتہ

"ہر پاک نوشتہ اللہ کے روح سے وجود میں آیا ہے۔" یونانی میں یہاں ایک ہی لفظ ہے، تھیوپنیوسٹوس، یعنی "خدا کی پھونک سے نکلا ہوا"۔ وہی سانس جو مٹی کے پُتلے میں پھونکی گئی تھی، صحیفوں میں ہے۔ اِسی لیے یہ کلام آرائش نہیں بلکہ "مفید" ہے، اور پولس چار کام گنتے ہیں: تعلیم دینا، ملامت کرنا، اصلاح کرنا، تربیت دینا۔ غور کریں کہ ملامت اور اصلاح درمیان میں ہیں۔ ایسا کلام جو ہمیں کبھی ٹوکتا نہیں، وہ کلام نہیں بلکہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنی پسند کی صورت دیکھتے ہیں۔ اور مقصد؟ معلومات نہیں، بلکہ ایک تیار بندہ: "ہر نیک کام کے لئے تیار۔"

سامعین کا خاکہ

تیمُتھیُس اِفسس میں ہے، ایک بڑے شہر میں جہاں کلیسیائیں گھروں میں جمع ہوتی تھیں۔ اُس دنیا میں سفر کرنے والے اُستاد عام تھے، جو کسی مالدار گھرانے کی سرپرستی حاصل کرتے، کھانا اور عزت پاتے اور بدلے میں "خفیہ حکمت" بیچتے۔ آیت ۶ کا "گھروں میں گھس کر" فوراً سمجھ میں آتا: یہ لوگ کلیسیا کے سب سے کھلے دروازے سے اندر آتے تھے۔ نیز اُن کے لیے "آخری دن" کوئی دور کا زمانہ نہ تھا؛ وہ سمجھتے تھے کہ مسیح کے آنے کے بعد آخری دن شروع ہو چکے ہیں، یعنی یہ فہرست اُن کے پڑوس کی تھی۔ اور "مقدّس صحیفے" اُن کے پاس ذاتی کتاب نہیں تھی بلکہ عبادت میں بلند آواز سے پڑھے جانے والے طومار، سنے اور یاد کیے گئے، بچپن سے ماں اور نانی کی زبان سے۔

غور و فکر

آیت ۵ کے لحاظ سے، آپ کی زندگی کے کس حصے میں ظاہری دینداری قائم ہے مگر قوت غائب ہے؟

پچھلے مہینے میں کلام نے آپ کو کب ملامت کی، اور آپ نے اُس ملامت کے ساتھ کیا کیا؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

2 Timothy 3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

۲-تیمُتھیُس 3 کا کیا مطلب ہے؟
پولس رسول تیمُتھیُس کو خبردار کرتے ہیں کہ آخری دنوں میں لوگ خودپسند، لالچی، ناشکرے اور محبت سے خالی ہوں گے، اور سب سے خطرناک بات یہ کہ وہ "بظاہر خدا ترس زندگی گزاریں گے، لیکن حقیقی خدا ترس زندگی کی قوت کا انکار کریں گے۔" ایسے لوگ گھروں میں گھس کر کمزوروں کو پھنساتے ہیں اور سچائی کی مخالفت کرتے ہیں، جیسے ینیس اور یمبریس نے موسیٰ کی مخالفت کی تھی۔ اِس کے مقابلے میں پولس تیمُتھیُس کو اُس راستے پر قائم رہنے کو کہتے ہیں جو اُس نے سیکھا: دُکھ اُٹھانے کی تیاری اور بچپن سے سیکھے ہوئے مقدّس صحیفے، جو "اللہ کے روح سے وجود میں آئے" ہیں۔
۲-تیمُتھیُس 3 کس بارے میں ہے؟
ینیس اور یمبریس کے نام پرانے عہدنامے میں کہیں نہیں ہیں۔ خروج ۷ اور ۸ میں فرعون کے جادوگر بےنام ہیں؛ یہ نام یہودی روایت سے آئے ہیں۔ لیکن پولس جو نمونہ اُٹھاتے ہیں وہ بالکل خروج کا ہے: جادوگر موسیٰ کے نشان کی نقل کرتے ہیں، لاٹھی سانپ بنتی ہے، پانی خون ہوتا ہے، اور پھر ایک مقام آتا ہے جہاں نقل ٹوٹ جاتی ہے اور وہ خود کہتے ہیں کہ یہ خدا کی اُنگلی ہے۔ سچائی کی مخالفت اکثر انکار کی شکل میں نہیں، مشابہت کی شکل میں آتی ہے۔ اِسی لیے پولس پُریقین ہیں: "یہ زیادہ ترقی نہیں کریں گے کیونکہ اِن کی حماقت سب پر ظاہر ہو جائے گی۔" اور دوسری ڈور آیت ۱۵ میں ہے: تیمُتھیُس نے بچپن میں جو صحیفے پڑھے وہ پرانا عہدنامہ تھا، اور پولس کہتے ہیں کہ وہی صحیفے مسیح عیسیٰ پر ایمان کے ذریعے نجات تک پہنچاتے ہیں۔ پرانا عہدنامہ مسیح کی طرف اشارہ کرنے والی اُنگلی ہے۔
۲-تیمُتھیُس 3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پولس تین شہروں کے نام لیتے ہیں: انطاکیہ، اکنیُم اور لسترہ۔ یہ اتفاق نہیں۔ لسترہ تیمُتھیُس کا شہر تھا، اور وہیں پولس کو سنگسار کر کے شہر سے باہر پھینک دیا گیا تھا (اعمال ۱۴)۔ یعنی وہ اپنے شاگرد کو ایسی کہانی یاد نہیں دلا رہے جو اُس نے سنی تھی، بلکہ ایسی جو اُس نے دیکھی تھی، ممکن ہے خون آلود پولس کو اپنی گلی میں دیکھا ہو۔ اور یہی آدمی لکھتا ہے: "خداوند نے مجھے اِن سب سے رِہائی دی۔" وہ یہ جیل سے لکھ رہے ہیں، موت کے قریب۔ اُن کی رِہائی خطرے سے بچنے کا نام نہیں، خطرے کے اندر تھامے جانے کا نام ہے۔ یہ ایک بوڑھے آدمی کی سنجیدہ خوشی ہے، نہ فتح کے نعرے، نہ شکایت۔
۲-تیمُتھیُس 3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
تیمُتھیُس اِفسس میں ہے، ایک بڑے شہر میں جہاں کلیسیائیں گھروں میں جمع ہوتی تھیں۔ اُس دنیا میں سفر کرنے والے اُستاد عام تھے، جو کسی مالدار گھرانے کی سرپرستی حاصل کرتے، کھانا اور عزت پاتے اور بدلے میں "خفیہ حکمت" بیچتے۔ آیت ۶ کا "گھروں میں گھس کر" فوراً سمجھ میں آتا: یہ لوگ کلیسیا کے سب سے کھلے دروازے سے اندر آتے تھے۔ نیز اُن کے لیے "آخری دن" کوئی دور کا زمانہ نہ تھا؛ وہ سمجھتے تھے کہ مسیح کے آنے کے بعد آخری دن شروع ہو چکے ہیں، یعنی یہ فہرست اُن کے پڑوس کی تھی۔ اور "مقدّس صحیفے" اُن کے پاس ذاتی کتاب نہیں تھی بلکہ عبادت میں بلند آواز سے پڑھے جانے والے طومار، سنے اور یاد کیے گئے، بچپن سے ماں اور نانی کی زبان سے۔
۲-تیمُتھیُس 3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
پچھلے مہینے میں کلام نے آپ کو کب ملامت کی، اور آپ نے اُس ملامت کے ساتھ کیا کیا؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی 2 Timothy 3 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 13

اے خدا، جب چاروں طرف جھوٹ اور فریب بڑھتا جا رہا ہے تو میرا دل بے چین ہو جاتا ہے۔ مجھے سنبھال کہ میں نہ کسی کو دھوکا دوں اور نہ خود دھوکا کھاؤں۔ اپنی سچائی سے میری سوچ کو صاف رکھ اور اس راہ پر قائم رکھ جو تیری طرف لے جاتی ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 6

پولس بتاتا ہے کہ یہ لوگ منبر سے حملہ نہیں کرتے، بلکہ ”گھروں میں گھس کر“ ایسے دلوں کو پکڑتے ہیں جو گناہوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ غور کریں: جھوٹی تعلیم کا دروازہ وہ گناہ ہے جسے ہم نے مسیح کے سامنے نہیں رکھا۔ جو راز آپ چھپا رہے ہیں، وہی کسی اَور کے ہاتھ میں زنجیر بن سکتا ہے۔ آج ہی اُسے معافی کے نور میں لے آئیں۔

دعا ادارتی کو آیت 14

اے خدا، جو کچھ میں نے تجھ سے سیکھا ہے اور جس پر میرا دل قائل ہوا ہے، مجھے اُسی میں ٹھہرے رہنے کی طاقت دے۔ جب شک اور نئے نئے خیالات مجھے کھینچتے ہیں، مجھے یاد دلا کہ یہ سچائی کن بھروسے مند ہاتھوں سے مجھ تک پہنچی ہے۔ میرے قدم مضبوط رکھ۔

بصیرت ادارتی کو آیت 4

وہ اللہ کو پیار کرنے کے بجائے لذتوں کو پیار کریں گے۔" پولس یہ بےدین دنیا کے بارے میں نہیں، بلکہ اُن لوگوں کے بارے میں لکھ رہا ہے جن کی "دین داری کی صورت تو ہو گی۔" مسئلہ محبت کی کمی نہیں، محبت کا رُخ ہے۔ دل ہمیشہ کسی نہ کسی سے لپٹا رہتا ہے۔ آج ذرا ٹھہر کر پوچھ: جس چیز کے بغیر میرا دن ادھورا لگتا ہے، کیا وہ خدا ہے یا کچھ اور؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟