۲-تیمُتھیُس 4
متن
پولس رسول تیمُتھیُس کو اللہ اور مسیح کی عدالت کے سامنے تاکید کرتے ہیں: وقت بےوقت کلام کی منادی کرو، صبر سے سکھاؤ، ملامت کرو، حوصلہ دو، کیونکہ ایسا وقت آ رہا ہے جب لوگ صحت بخش تعلیم برداشت نہیں کریں گے بلکہ اپنی خواہشات کے مطابق اُستاد چُن لیں گے۔ پھر لہجہ بدل جاتا ہے: پولس اپنی زندگی کے اختتام کو دیکھتے ہیں، "میرے کوچ کا وقت آ گیا ہے،" اور بتاتے ہیں کہ کون ساتھ چھوڑ گیا، کون رہ گیا، کون بیمار ہے، اور کہ کوٹ اور کتابیں ساتھ لے آنا۔ آخر میں سلام، اور ایک دعا۔
دل کی بات
یہ باب دو چیزوں کو ایک ساتھ رکھتا ہے جنہیں ہم عام طور پر الگ رکھتے ہیں: عدالت کی سنجیدگی اور ایک قیدی کی سردی۔ آیت 1 میں کائنات کا منصف کھڑا ہے؛ آیت 13 میں ایک بوڑھا آدمی اپنا کوٹ مانگ رہا ہے۔ خدا کی بادشاہی اِن دونوں کو جھوٹا نہیں کہتی۔ یہاں نجات کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں تنہائی، بیماری اور موت سے چھوٹ مل گئی، بلکہ یہ کہ خداوند اُن کے اندر ساتھ ہے: "لیکن خداوند میرے ساتھ تھا۔ اُسی نے مجھے تقویت دی۔" غور کریں، پولس یہ نہیں کہتے کہ خدا نے مقدمہ جیتوا دیا، بلکہ یہ کہ خدا نے اُنہیں کھڑا رہنے کی طاقت دی تاکہ پیغام سنایا جائے۔ فضل ہمیں حالات سے نہیں، حالات کے اندر سے سنبھالتا ہے۔
بڑا سلسلہ
"مجھے مَے کی نذر کی طرح قربان گاہ پر اُنڈیلا جائے" ایک پرانی تصویر ہے۔ ہیکل میں جانوروں کی قربانی کے ساتھ مَے بھی اُنڈیلی جاتی تھی، ایک چھوٹی سی چیز جو بڑی قربانی کے ساتھ بہا دی جاتی۔ پولس اپنی موت کو مسیح کی قربانی کا بدل نہیں کہتے، بلکہ اُس کے ساتھ اُنڈیلی جانے والی مَے کہتے ہیں۔ یہی سلسلہ ہے: مسیح ایک بار قربان ہوئے، اور اُس کے بعد اُن کے لوگوں کی زندگیاں اُسی مذبح پر بہتی چلی جاتی ہیں۔ اور اختتام عدالت پر نہیں، تاج پر ہے: "راست بازی کا وہ تاج جو خداوند ہمارا راست منصف مجھے اپنی آمد کے دن دے گا۔" جو منصف ہے وہی انعام دینے والا ہے۔
آئینہ
آیت 3 میں سب سے تکلیف دہ لفظ "برداشت" ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ سچائی جانتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ آپ اُسے سہہ سکتے ہیں یا نہیں جب وہ آپ کے خلاف بولتی ہے۔ سچ پوچھیں: پچھلی بار آپ نے کوئی وعظ، کوئی مضمون، کوئی دوست کیوں چھوڑا تھا؟ اِس لیے کہ وہ غلط تھا، یا اِس لیے کہ اُس نے آپ کے پیسے خرچ کرنے کے طریقے، آپ کے موبائل پر گزارے وقت، آپ کے شادی میں رویّے پر انگلی رکھی؟ ہم اُستاد "ڈھیر" کر لیتے ہیں: وہ پوڈکاسٹ، وہ چینل، وہ آواز جو ہمیں ہمیشہ حق پر بتاتی ہے۔ اور دیماس کو دیکھیں۔ اُس نے مسیح سے انکار نہیں کیا، اُس نے صرف دنیا کو پیار کیا اور چلا گیا۔ ایمان اکثر انکار سے نہیں، خاموش روانگی سے ٹوٹتا ہے۔
سوال
آیت 16 اور 17 ایک ساتھ کھٹکتی ہیں: "سب نے مجھے ترک کر دیا… لیکن خداوند میرے ساتھ تھا۔" اگر خداوند ساتھ تھا تو کلیسیا کیوں نہیں؟ اور اگر پولس کو "شیرببر کے منہ سے" بچا لیا گیا، تو پھر آیت 6 میں کیوں کہتے ہیں کہ اُنڈیلے جانے کا وقت آ گیا؟ یہ باب دونوں کو کاٹتا نہیں۔ نجات کا وعدہ آیت 18 میں ہے، مگر غور کریں کہاں تک: "اپنی آسمانی بادشاہی میں لا کر نجات دے گا۔" یعنی وہ حفاظت جس کا پولس کو یقین ہے، اُس کی سرحد قتل سے پہلے نہیں بلکہ قتل کے پار ہے۔ یہ آسان تسلی نہیں۔ یہ ایک ایسا یقین ہے جو تلوار کے نیچے بھی قائم رہتا ہے، مگر تلوار کو ہٹاتا نہیں۔
پہلے سننے والے
تیمُتھیُس کوئی مضبوط، بےخوف رہنما نہیں تھا۔ وہ جوان تھا، اِفسس کی ایک مشکل کلیسیا میں تھا جہاں غلط تعلیم دینے والے بااثر تھے، اور اُس کا روحانی باپ اب روم کی قید میں موت کے قریب تھا۔ اُس نے یہ خط سنا تو سب سے پہلے یہ نہیں سنا کہ "منادی کرو"، بلکہ یہ کہ "میرے پاس آنے میں جلدی کریں"۔ اُس کے لیے یہ باب ایک وصیت تھی: وہ آدمی جس نے اُسے سکھایا تھا، اب اُس کے ہاتھ میں سب کچھ دے کر جا رہا تھا۔ اور ساتھ ہی ایک خوفناک فہرست: دیماس چلا گیا، سکندر مخالف ہوا، سب نے ترک کر دیا۔ تیمُتھیُس کو صاف بتایا جا رہا تھا کہ خدمت کا انجام تالیاں نہیں ہوتیں۔
ایک تفصیل
"آتے وقت میرا وہ کوٹ اپنے ساتھ لے آئیں… میری کتابیں بھی لے آئیں، خاص کر چرمی کاغذ والی۔" یہ آیت اکثر جلدی میں پڑھی جاتی ہے، مگر یہی سب سے انسانی آیت ہے۔ پولس کو معلوم ہے کہ سردی آ رہی ہے اور پتھر کی قید ٹھنڈی ہوتی ہے۔ اور جو آدمی مرنے کو تیار ہے، وہ اپنی کتابیں مانگ رہا ہے۔ چرمی کاغذ کا مطلب غالباً مقدّس صحیفے تھے۔ سوچیں: آخری ہفتوں میں بھی پڑھنا، سیکھنا، کلام کے ساتھ بیٹھنا۔ وہ روحانی آدمی نہیں جو جسم کی ضرورتوں سے اوپر اُٹھ گیا ہو؛ وہ ایک ایماندار ہے جسے گرمی اور کلام دونوں چاہیے۔ یہ آیت آپ کو اجازت دیتی ہے کہ ایماندار ہونے کے باوجود آپ کو کوٹ کی ضرورت ہو۔
غور کے لیے سوال
آپ کن آوازوں سے تعلیم لیتے ہیں، اور کیا اُن میں کوئی ایسی ہے جو آپ کو حقیقتاً ملامت کرنے کی اجازت رکھتی ہے؟
اگر آپ آج پولس کی طرح لکھتے، تو "دوڑ" میں کہاں کھڑے ہیں، اور کون سی چیز آپ کو خاموشی سے دیماس کی راہ پر لے جا رہی ہے؟
2 Timothy 4 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-تیمُتھیُس 4 کا کیا مطلب ہے؟
۲-تیمُتھیُس 4 کس بارے میں ہے؟
۲-تیمُتھیُس 4 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-تیمُتھیُس 4 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-تیمُتھیُس 4 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Timothy 4 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس یہ نہیں کہتا کہ لوگ تعلیم سے بھاگ جائیں گے۔ وہ کہتا ہے: "اپنی ذاتی خواہشات کے مطابق اپنے ارد گرد ایسے اُستاد جمع کریں گے جو اُن کے کان کو اچھا لگنے والی باتیں سنائیں گے۔" یعنی کلیسیا میں بیٹھے رہیں گے، بس وہی سنیں گے جو پہلے سے دل میں ٹھہرا چکے ہیں۔ ذرا سوچ، تُو کلام کو اپنی زندگی کی پیمائش بننے دیتا ہے، یا کلام میں سے صرف وہ چنتا ہے جو تجھے تسلی دے؟
تُخِکُس کو مَیں نے اِفسُس بھیج دیا ہے۔“ بس اتنا سا جملہ، اور وہ بھی اُس وقت جب پولُس قید میں تقریباً تنہا رہ گیا تھا۔ تُخِکُس کا نہ کوئی خطبہ لکھا گیا، نہ کوئی معجزہ۔ صرف اتنا کہ جہاں بھیجا گیا، وہاں چلا گیا۔ شاید خُدا تجھ سے بھی یہی مانگ رہا ہے، شہرت نہیں، بس خاموش وفاداری۔ کیا تُو جانے کو تیار ہے؟
پولس زندگی کے آخری دنوں میں عدالت کے سامنے کھڑا ہے اور لکھتا ہے، ”جب مجھے پہلی بار عدالت میں اپنا دفاع کرنا پڑا تو کوئی میرے ساتھ نہ تھا بلکہ سب نے مجھے ترک کر دیا۔“ پھر بھی اگلی سانس میں وہ دعا کرتا ہے کہ اُنہیں اِس کی سزا نہ ملے۔ جن لوگوں نے تجھے تنہا چھوڑا، کیا تُو اُن کے لیے ایسی دعا کر سکتا ہے؟ معافی اکثر وہیں پیدا ہوتی ہے جہاں زخم سب سے گہرا ہو۔
پولس قید میں ہے، موت سامنے ہے، اور وہ لکھتا ہے، "جہاں تک میرا تعلق ہے، مجھے قربانی کے طور پر انڈیلا جا رہا ہے۔ میرے کوچ کا وقت آ گیا ہے۔" انڈیلنا ایک ہی لمحے کا کام نہیں تھا۔ وہ تو برسوں سے قطرہ قطرہ گرتا رہا تھا، ہر سفر، ہر مار، ہر رات کی فکر میں۔ آج تیری زندگی کس چیز پر انڈیلی جا رہی ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
