کُلسِیوں 3
متن
پولس کُلسّے کے ایمانداروں سے کہتا ہے کہ چونکہ اُنہیں مسیح کے ساتھ زندہ کر دیا گیا ہے، اِس لئے وہ اپنی پرانی فطرت کو خستہ حال کپڑے کی طرح اُتار پھینکیں اور نئی فطرت پہن لیں۔ اِس کے بعد وہ گھر کے رشتوں پر آتا ہے: بیوی اور شوہر، بچے اور والدین، غلام اور مالک۔ سب کچھ خداوند یسوع کے نام سے کیا جائے۔
دلی بات
پہلی صدی کے کُلسّے میں کسی ایمان دار نے یہ خط پہلی بار سنا تو اُس کے ذہن میں کپڑوں کا استعارہ محض شاعری نہ تھا۔ اُس زمانے میں کپڑا شناخت تھا: غلام کا چوغہ، رومی شہری کا ٹوگا، کاہن کا لباس، شادی شدہ عورت کا سر کا کپڑا۔ آپ کو دیکھ کر لوگ فوراً جان لیتے تھے کہ آپ کون ہیں، کس کے ہیں، کس درجے کے ہیں۔ پولس اِسی دنیا میں کہتا ہے: "خستہ حال کپڑے کی طرح اُتار کر پھینک دیں۔" یعنی وہ پرانی شناخت جو آپ کو معاشرے میں جگہ دیتی تھی، اُسے پھاڑ کر گلی میں پھینک دو۔ اور نئی فطرت پہن لو، جو خالق اپنی صورت پر بناتا جا رہا ہے۔ یہ محض اخلاقی ترقی نہیں، یہ ایک نئی مخلوق کا لباس ہے۔
مشترک دھاگا
یہاں پیدائش کی کتاب کی گونج صاف سنائی دیتی ہے۔ آدم اللہ کی صورت پر بنایا گیا تھا، پھر گناہ کے بعد اُس نے اور حوّا نے انجیر کے پتوں سے اپنی شرم ڈھانپی، اور اللہ نے اُنہیں کھال کے لباس پہنائے۔ لباس اُس دن سے انسان کی ٹوٹی ہوئی شناخت کی علامت رہا ہے۔ اب مسیح میں وہی خالق اپنی صورت کی تجدید فرما رہا ہے۔ آیت 11 اِس تجدید کی حد بتاتی ہے: "خواہ کوئی غیریہودی ہو یا یہودی، مختون ہو یا نامختون، غیریونانی ہو یا سکوتی، غلام ہو یا آزاد۔" یہ فہرست پہلی صدی کی سب سے گہری دیواروں کو گراتی ہے۔ سکوتی وہ لوگ تھے جنہیں یونانی وحشیوں میں بھی وحشی سمجھتے تھے۔ مسیح میں یہ سب زمرے ٹوٹ جاتے ہیں۔
آئینہ
اب سوچئے: کُلسّے کے ایک گھر میں یہ خط پڑھا جا رہا ہے۔ کمرے میں مالک بیٹھا ہے، اُس کی بیوی، بچے، اور فرش پر غلام۔ سب ایک ساتھ سن رہے ہیں کہ "مسیح ہی سب کچھ اور سب میں ہے۔" یہ بات غلام کے کانوں میں کیسی گونجی ہوگی؟ اور پھر پولس مالک سے کہتا ہے کہ اپنے غلام کے ساتھ انصاف کرے، اور غلام سے کہتا ہے کہ وہ حقیقت میں مسیح کی خدمت کر رہا ہے۔ آج ہمارے گھروں میں غلام نہیں، لیکن درجے ہیں: کون کماتا ہے، کون گھر چلاتی ہے، کس کی رائے وزنی ہے۔ کیا آپ کی زبان، خاص طور پر گھر میں، اُس نئی فطرت کی گواہی دیتی ہے؟ آیت 8 کی فہرست، غصہ، طیش، بدسلوکی، بہتان، گندی زبان، اکثر باہر نہیں، گھر کے اندر پھٹتی ہے۔
سوال
آیت 18 سے 22 آج کے قاری کو کھٹکتی ہیں۔ بیویاں شوہروں کے تابع، غلام مالکوں کے تابع۔ کیا پولس ظلم کے ڈھانچوں کو مقدّس بنا رہا ہے؟ اِسے صاف کہنا چاہیے: پولس اُس معاشرتی ڈھانچے کو ختم نہیں کر رہا جو اُس کے ہاتھ میں نہیں تھا، لیکن وہ اُس ڈھانچے کے اندر ایک ایسا انقلاب رکھ رہا ہے جو بالآخر اُسے ہلا دے گا۔ شوہر کو کہا جاتا ہے کہ محبت رکھے اور تلخ مزاجی سے پیش نہ آئے، ایک ایسی بات جو رومی قانون میں کہیں نہ تھی۔ مالک کو کہا جاتا ہے کہ اُس کا بھی ایک مالک آسمان پر ہے۔ پھر بھی سوال باقی رہتا ہے، اور اِسے دبانا بےایمانی ہوگی: ایسی آیات صدیوں تک ظلم کے جواز کے لئے استعمال کی گئیں۔ ہمیں متن کو اُس کے اپنے زمانے میں سننا ہوگا، اور یہ بھی ماننا ہوگا کہ آیت 11 آیت 22 کی بنیاد کو کھوکھلا کرتی ہے۔
مرکزی کردار
اِس باب میں مرکزی شخصیت مسیح ہے، لیکن ایک خاص انداز میں۔ آیت 3 کہتی ہے: "آپ کی زندگی مسیح کے ساتھ اللہ میں پوشیدہ ہے۔" یہ پوشیدگی عجیب ہے۔ ایمان دار کی اصل زندگی نظر نہیں آتی، وہ ابھی اللہ کے پاس محفوظ ہے۔ مسیح خود بھی ابھی پوشیدہ ہے، آسمان پر اللہ کے دہنے ہاتھ۔ لیکن آیت 4 وعدہ کرتی ہے: "جب وہ ظاہر ہو جائے گا تو آپ بھی اُس کے ساتھ ظاہر ہو کر اُس کے جلال میں شریک ہو جائیں گے۔" یعنی ایمان دار کی زندگی ابھی ایک بند صندوق کی طرح ہے جسے کھولا نہیں گیا۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کی اصل قدر لوگوں کی نظروں پر منحصر نہیں۔ جو دیکھا جاتا ہے، وہ ابھی مکمل نہیں۔
بین المتن
آیت 5 میں "لالچ تو ایک قسم کی بُت پرستی ہے" کا جملہ خروج کے دس احکام کی گونج ہے۔ پولس لالچ کو محض
Colossians 3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
کُلسِیوں 3 کا کیا مطلب ہے؟
کُلسِیوں 3 کس بارے میں ہے؟
کُلسِیوں 3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
کُلسِیوں 3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
کُلسِیوں 3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Colossians 3 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے باپ، ہمارے گھروں کو اپنی محبت سے بھر دے۔ جہاں رشتوں میں ضد اور انا آ جاتی ہے، وہاں ہمیں نرمی، عزت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا سکھا۔ ہمیں ایسی فرمانبرداری دے جو خوف سے نہیں بلکہ تجھ پر بھروسے سے پیدا ہو۔
لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ آپ یہ سب کچھ یعنی غصہ، طیش، بدنیتی، بہتان اور گندی گالیاں اپنے آپ سے دُور کر دیں۔" غور کریں کہ پولس کیسی فہرست بناتا ہے: زیادہ تر باتیں زبان سے نکلتی ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ ایمان دل کا معاملہ ہے، مگر مسیح آپ کے منہ سے نکلنے والے لفظوں کو بھی بدلنا چاہتا ہے۔ آج جو بات آپ کے ہونٹوں تک آئی اور آپ نے روک لی، وہ بھی عبادت تھی۔
خداوند، شکر ہے کہ تیرا کلام ہمارے اندر مہمان نہیں بلکہ بسنے آیا ہے، اپنی پوری دولت کے ساتھ۔ شکریہ اُن بھائی بہنوں کا جو ہمیں حکمت سے سمجھاتے ہیں، اور اُن زبوروں اور روحانی گیتوں کا جو مشکل دنوں میں بھی ہمارے دلوں سے تیری تمجید نکال لاتے ہیں۔
مسیح کی سلامتی آپ کے دلوں پر حکومت کرے۔“ غور کریں، پولس یہ نہیں کہتا کہ سلامتی آپ کے دل میں مہمان بن کر رہے، بلکہ حکومت کرے۔ یعنی جب غصہ اور شکایت آپ کے اندر شور مچائیں، تو فیصلہ سلامتی کرے۔ اور یاد رکھیں، یہ بلاوا اکیلے کے لئے نہیں، ”ایک ہی بدن“ کے لئے ہے۔ آج آپ کے دل میں کس کی حکومت ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
