بائبل کی تشریح

اِستِثنا 25:12

بائبل

متن

باب کے آخری حصے میں ایک عجیب و غریب مقدمہ سامنے آتا ہے۔ دو مرد لڑ رہے ہیں، اور ایک کی بیوی اپنے شوہر کو بچانے کے لیے مخالف کے سب سے حساس حصے کو پکڑ لیتی ہے۔ شریعت کا فیصلہ سخت ہے: ”تو لازم ہے کہ تُو عورت کا ہاتھ کاٹ ڈالے۔ اُس پر رحم نہ کرنا۔“ پوری توریت میں یہی ایک جگہ ہے جہاں جسم کاٹنے کی سزا مقرر کی گئی ہے، اور اُس کے ساتھ رحم کی ممانعت بھی جوڑ دی گئی ہے۔

مرکزی بات

یہ آیت اُس آدمی کے حق میں نہیں بولتی جو لڑائی میں مضبوط تھا، بلکہ اُس نسل کے حق میں جو ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ پورے باب کا موضوع ہی یہی ہے: ”یوں اُس کا نام قائم رہے گا۔“ دیور جو اپنے مرحوم بھائی کی نسل قائم رکھنے سے انکار کرتا ہے، اُس کے منہ پر تھوکا جاتا ہے۔ اور جو عورت لڑائی کے جوش میں کسی کی نسل کو ہمیشہ کے لیے مٹا دینے کی طاقت رکھنے والا وار کرتی ہے، اُس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ خدا کے نزدیک انسان کا جسم صرف اُس کی ملکیت نہیں؛ اُس میں آنے والی پیڑھیاں چھپی ہوئی ہیں۔ لڑائی میں بھی کچھ حدیں ہیں جو مقدّس ہیں۔

سلسلۂ کلام

”نام قائم رہے“ محض خاندانی فکر نہیں تھی۔ ابرہام سے جو وعدہ ہوا، وہ نسل کے ذریعے آگے بڑھا: ایک لڑی جو ابرہام سے داؤد تک اور داؤد سے بیت لحم تک پہنچی۔ اسی لیے توریت نسل کے خلاف ہر حملے کو اِتنی سنجیدگی سے لیتی ہے؛ جو بیج پر ہاتھ ڈالتا ہے وہ نادانستہ وعدے پر ہاتھ ڈالتا ہے۔ اور یہیں ایک الٹ پھیر ہوتا ہے: جب وہ موعودہ نسل، خداوند یسوع مسیح، آخرکار آئی، تو اُسی کے جسم پر رحم نہ کیا گیا۔ کوڑے، کیل، بےعزتی سرِعام۔ ”اُس پر رحم نہ کرنا“ جو شریعت نے قاضی سے کہا تھا، صلیب پر خود مسیح نے اپنے اوپر لے لیا، تاکہ ہمارے قصوروار ہاتھ بچ جائیں۔

آئینہ

آپ اِس عورت کو فوراً سزا کے قابل سمجھ لیں گے، لیکن ذرا ٹھہریں۔ آپ نے کبھی کسی کو بچانے کی نیت سے وہ وار نہیں کیا جو ناجائز تھا؟ اپنے بیٹے کے دفاع میں سکول کے واٹس ایپ گروپ میں وہ بات لکھی جو دوسرے کی عزت ہمیشہ کے لیے خراب کر دے؟ بھائی کی طرف داری میں کسی کے نکاح یا اولاد کے بارے میں وہ فقرہ کہا جو بھلایا نہ جا سکے؟ عدالت میں یا خاندانی جھگڑے میں وہ کاغذ نکالا جس سے سامنے والے کا کاروبار جڑ سے اُکھڑ جائے؟ ہم اپنے سب سے تلخ حملے اپنی سب سے شریف نیتوں کے پیچھے چھپاتے ہیں۔ یہ آیت آپ کی نیت کی تعریف نہیں کرتی۔ وہ آپ کے ہاتھ کو دیکھتی ہے اور پوچھتی ہے: تُو نے کہاں مارا، اور کیوں وہیں؟

تفصیل

”اُس پر رحم نہ کرنا“ اِس باب میں دھماکے کی طرح گرتا ہے۔ کیونکہ نو آیتیں پہلے یہی شریعت مجرم کی عزت کی حفاظت کر رہی تھی: چالیس سے زیادہ کوڑے نہ لگاؤ، ”ورنہ تیرے اسرائیلی بھائی کی سرِعام بےعزتی ہو جائے گی۔“ سزا پانے والا مجرم بھی ”بھائی“ رہتا ہے۔ وہی قانون جو رحم کے سبب سزا کی حد باندھتا ہے، یہاں رحم سے منع کرتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اِس مقدمے میں قاضی کا رحم مفت نہیں تھا؛ اُس کی قیمت ایک ایسا شخص چکاتا جو کبھی پیدا نہ ہوتا۔ جو رحم کسی تیسرے کی پوری زندگی سے ادا کیا جاتا ہے، وہ رحم نہیں، بےپروائی ہے۔ یہ ایک سوال ہے جو ہماری نرمی کو بھی جانچتا ہے۔

مرکزی کردار

اِس عورت کے پاس نہ تلوار تھی، نہ عدالت میں آواز، نہ جسمانی طاقت۔ اُس کے شوہر کو مارا جا رہا تھا اور اُس کے ہاتھ میں صرف ایک ہی چیز تھی: مخالف کی سب سے بڑی کمزوری۔ ہم اُس کی گھبراہٹ اور محبت سمجھ سکتے ہیں۔ اور پھر بھی شریعت اُسے قصوروار ٹھہراتی ہے، اور اِس میں ایک عجیب سا احترام چھپا ہے: وہ اپنے شوہر کا ضمیمہ نہیں، ایک ذمہ دار انسان ہے جس کے عمل کا وزن ہے۔ بےبسی ہمیں معصوم نہیں بناتی۔ سب سے کمزور شخص بھی وہ چوٹ لگا سکتا ہے جو نسلوں تک جاتی ہے۔ خدا اُسے سنجیدگی سے لیتا ہے، اسی لیے اُسے جوابدہ ٹھہراتا ہے۔

بین المتون

اِسی باب کا اختتام عمالیقیوں پر ہوتا ہے، جنہوں نے ”پیچھے پیچھے چلنے والے تمام کمزوروں کو جان سے مارتے“ رہے، اور فیصلہ یہ ہے: ”وہ اللہ کا خوف نہیں مانتے تھے۔“ وہاں بھی وہی جرم ہے: جہاں کوئی سب سے زیادہ بےدفاع ہے، وہیں وار کرنا۔ اور نئے عہدنامے میں یسوع اِسی کاٹنے کی زبان کو اُٹھا کر ہمارے اندر کی طرف موڑ دیتے ہیں: اگر تیرا ہاتھ تجھے گناہ میں پھنسائے تو اُسے کاٹ ڈال۔ وہ حکم کسی قاضی کو نہیں، آپ کو دیا گیا ہے۔ سوال یہ نہیں رہا کہ اُس عورت کے ساتھ کیا ہونا چاہیے تھا، بلکہ یہ کہ آپ اپنے ہاتھ کے ساتھ کیا کریں گے۔

غور و فکر

کس تعلق میں آپ نے اپنی جائز محبت کو ناجائز ہتھیار اُٹھانے کا بہانہ بنایا ہے؟

آپ کسی دوسرے کی کون سی کمزوری جانتے ہیں اور جھگڑے میں وہاں ہاتھ نہ ڈالنے کا فیصلہ آج آپ کیسے کریں گے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Deuteronomy 25:12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

اِستِثنا 25:12 کا کیا مطلب ہے؟
باب کے آخری حصے میں ایک عجیب و غریب مقدمہ سامنے آتا ہے۔ دو مرد لڑ رہے ہیں، اور ایک کی بیوی اپنے شوہر کو بچانے کے لیے مخالف کے سب سے حساس حصے کو پکڑ لیتی ہے۔ شریعت کا فیصلہ سخت ہے: ”تو لازم ہے کہ تُو عورت کا ہاتھ کاٹ ڈالے۔ اُس پر رحم نہ کرنا۔“ پوری توریت میں یہی ایک جگہ ہے جہاں جسم کاٹنے کی سزا مقرر کی گئی ہے، اور اُس کے ساتھ رحم کی ممانعت بھی جوڑ دی گئی ہے۔
اِستِثنا 25:12 کس بارے میں ہے؟
یہ آیت اُس آدمی کے حق میں نہیں بولتی جو لڑائی میں مضبوط تھا، بلکہ اُس نسل کے حق میں جو ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ پورے باب کا موضوع ہی یہی ہے: ”یوں اُس کا نام قائم رہے گا۔“ دیور جو اپنے مرحوم بھائی کی نسل قائم رکھنے سے انکار کرتا ہے، اُس کے منہ پر تھوکا جاتا ہے۔ اور جو عورت لڑائی کے جوش میں کسی کی نسل کو ہمیشہ کے لیے مٹا دینے کی طاقت رکھنے والا وار کرتی ہے، اُس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ خدا کے نزدیک انسان کا جسم صرف اُس کی ملکیت نہیں؛ اُس میں آنے والی پیڑھیاں چھپی ہوئی ہیں۔ لڑائی میں بھی کچھ حدیں ہیں جو مقدّس ہیں۔
اِستِثنا 25:12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
”نام قائم رہے“ محض خاندانی فکر نہیں تھی۔ ابرہام سے جو وعدہ ہوا، وہ نسل کے ذریعے آگے بڑھا: ایک لڑی جو ابرہام سے داؤد تک اور داؤد سے بیت لحم تک پہنچی۔ اسی لیے توریت نسل کے خلاف ہر حملے کو اِتنی سنجیدگی سے لیتی ہے؛ جو بیج پر ہاتھ ڈالتا ہے وہ نادانستہ وعدے پر ہاتھ ڈالتا ہے۔ اور یہیں ایک الٹ پھیر ہوتا ہے: جب وہ موعودہ نسل، خداوند یسوع مسیح، آخرکار آئی، تو اُسی کے جسم پر رحم نہ کیا گیا۔ کوڑے، کیل، بےعزتی سرِعام۔ ”اُس پر رحم نہ کرنا“ جو شریعت نے قاضی سے کہا تھا، صلیب پر خود مسیح نے اپنے اوپر لے لیا، تاکہ ہمارے قصوروار ہاتھ بچ جائیں۔
اِستِثنا 25:12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
آپ اِس عورت کو فوراً سزا کے قابل سمجھ لیں گے، لیکن ذرا ٹھہریں۔ آپ نے کبھی کسی کو بچانے کی نیت سے وہ وار نہیں کیا جو ناجائز تھا؟ اپنے بیٹے کے دفاع میں سکول کے واٹس ایپ گروپ میں وہ بات لکھی جو دوسرے کی عزت ہمیشہ کے لیے خراب کر دے؟ بھائی کی طرف داری میں کسی کے نکاح یا اولاد کے بارے میں وہ فقرہ کہا جو بھلایا نہ جا سکے؟ عدالت میں یا خاندانی جھگڑے میں وہ کاغذ نکالا جس سے سامنے والے کا کاروبار جڑ سے اُکھڑ جائے؟ ہم اپنے سب سے تلخ حملے اپنی سب سے شریف نیتوں کے پیچھے چھپاتے ہیں۔ یہ آیت آپ کی نیت کی تعریف نہیں کرتی۔ وہ آپ کے ہاتھ کو دیکھتی ہے اور پوچھتی ہے: تُو نے کہاں مارا، اور کیوں وہیں؟
اِستِثنا 25:12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
”اُس پر رحم نہ کرنا“ اِس باب میں دھماکے کی طرح گرتا ہے۔ کیونکہ نو آیتیں پہلے یہی شریعت مجرم کی عزت کی حفاظت کر رہی تھی: چالیس سے زیادہ کوڑے نہ لگاؤ، ”ورنہ تیرے اسرائیلی بھائی کی سرِعام بےعزتی ہو جائے گی۔“ سزا پانے والا مجرم بھی ”بھائی“ رہتا ہے۔ وہی قانون جو رحم کے سبب سزا کی حد باندھتا ہے، یہاں رحم سے منع کرتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اِس مقدمے میں قاضی کا رحم مفت نہیں تھا؛ اُس کی قیمت ایک ایسا شخص چکاتا جو کبھی پیدا نہ ہوتا۔ جو رحم کسی تیسرے کی پوری زندگی سے ادا کیا جاتا ہے، وہ رحم نہیں، بےپروائی ہے۔ یہ ایک سوال ہے جو ہماری نرمی کو بھی جانچتا ہے۔
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Deuteronomy 25 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 4

اے خدا، تُو نے تو محنت کرنے والے جانور کا بھی خیال رکھا، پھر میں اپنے ارد گرد کے لوگوں کی محنت کو کیسے نظرانداز کروں۔ مجھے سکھا کہ جو میرے لیے کام کرتے ہیں اُن کا حق خوشی سے اور وقت پر ادا کروں، اور اُن کی تھکن کو دیکھوں۔ تیری فیاضی میرے دل میں بھی جگہ بنائے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں