خروج 18
متن
یترو، مِدیان کا امام اور موسیٰ کا سُسر، اُن سب خبروں کو سن کر جو اللہ نے مصر میں کیں، اپنی بیٹی صفورہ اور موسیٰ کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر سینا کے دامن میں موسیٰ کے پاس آتا ہے۔ موسیٰ اُسے تفصیل سے نجات کی داستان سناتا ہے، اور یہ غیریہودی امام رب کی تمجید کرتا، قربانیاں پیش کرتا اور اسرائیل کے بزرگوں کے ساتھ "اللہ کے حضور" کھانا کھاتا ہے۔ اگلے دن وہ دیکھتا ہے کہ موسیٰ صبح سے شام تک اکیلا انصاف کر رہا ہے، اور وہ اُسے مشورہ دیتا ہے کہ بوجھ بانٹ دے۔ موسیٰ مان لیتا ہے، اور یترو اپنے وطن لوٹ جاتا ہے۔
مرکزی بات
یہ باب دو منظروں سے بنا ہے، اور دونوں ایک ہی سچائی کے دو رُخ ہیں: نجات دینے والا خدا اپنی نجات کو محفوظ رکھنے کے لئے انسانی ڈھانچے بھی بناتا ہے۔ پہلے حصے میں ایک اجنبی کے ہونٹوں پر ایمان کا اقرار آتا ہے، "اب مَیں نے جان لیا ہے کہ رب تمام معبودوں سے عظیم ہے"۔ دوسرے حصے میں وہی خدا انصاف کے نظام کے ذریعے اپنی قوم کی حفاظت کرتا ہے۔ نجات صرف سمندر میں سے گزرنا نہیں؛ نجات کا مطلب یہ بھی ہے کہ عام آدمی کو اپنے جھگڑے کا فیصلہ ملے اور وہ "سلامتی کے ساتھ اپنے اپنے گھر" جا سکے۔ غلامی سے آزادی اور روزمرہ کا انصاف ایک ہی رب کے دو تحفے ہیں۔
سنہری تار
دو دھاگے مسیح تک جاتے ہیں۔ پہلا: ایک غیرقوم امام قربانی پیش کرتا ہے اور ہارون اور بزرگ اُس کے ساتھ اللہ کے حضور کھانا کھاتے ہیں۔ سینا پر شریعت ملنے سے پہلے ہی دسترخوان پر ایک مِدیانی بیٹھا ہے۔ یہ اُس میز کا پہلا سایہ ہے جس پر مسیح یہودی اور غیریہودی کو ایک ساتھ بٹھاتے ہیں۔ دوسرا دھاگا زیادہ چبھتا ہے: موسیٰ ثالث ہے، مگر ناکافی ثالث۔ یترو کا فیصلہ صاف ہے، "کام اِتنا وسیع ہے کہ آپ اُسے اکیلے نہیں سنبھال سکتے"۔ موسیٰ کو ستّر مددگار، قاضی، امام اور بالآخر ایک بہتر ثالث درکار ہے۔ خداوند یسوع مسیح وہی ہیں جو پوری قوم کا بوجھ اکیلے اُٹھا سکے اور تھکے نہ، کیونکہ اُن کی ثالثی خون سے قائم ہے، نہ کہ برداشت سے۔
آئینہ
اگر آپ کلیسیا میں، گھر میں یا کام کی جگہ پر ذمہ داری اُٹھاتے ہیں، تو یہ باب آپ کی ایک چھپی ہوئی خوشی پر ہاتھ رکھتا ہے: ناگزیر ہونے کی خوشی۔ صبح سے شام تک لوگوں سے گھرے رہنا تھکا دیتا ہے، مگر یہ ثابت بھی کرتا ہے کہ آپ کے بغیر کام نہیں چلتا۔ یترو اِسے روحانی نہیں بلکہ نقصان دہ کہتا ہے، اور نوٹ کریں کہ نقصان دونوں طرف ہے، "آپ اور وہ لوگ جو آپ کے پاس آتے ہیں بُری طرح تھک جاتے ہیں"۔ آپ کی حد سے زیادہ محنت دوسروں کو انتظار کی قطار میں کھڑا کر دیتی ہے۔ اور ایک اور سوال: موسیٰ کے بیٹے برسوں ماں کے پاس رہے۔ خدا کی خدمت کے نام پر گھر کو مؤخر کرنا آسان ہے۔
سوال
پھر سوال یہ ہے: کیا خدا کا کام واقعی ایک غیرایمان دار سُسر کے مشورے کا محتاج تھا؟ موسیٰ رب سے آمنے سامنے بات کرتا تھا، مگر ایک مِدیانی امام کو اُسے سکھانا پڑا کہ انتظام کیسے چلتا ہے۔ متن اِسے نہ چھپاتا ہے، نہ اِس کی معافی مانگتا ہے۔ یترو خود بھی اپنے مشورے کو مطلق نہیں بناتا، "اگر میرا یہ مشورہ اللہ کی مرضی کے مطابق ہو"۔ ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ خدا اپنی حکمت اُن ہونٹوں سے بھی بولتے ہیں جن پر ہم نے ابھی ایمان کی مہر نہیں لگائی۔ یہ بات ہمارے روحانی درجہ بندی کے شوق کو توڑتی ہے، اور اُس تکلیف کو دور کرنے کی کوئی سستی ترکیب متن میں موجود نہیں۔
پہلے سننے والے
جس نسل نے یہ کہانی پہلی بار سنی، وہ بیابان یا کنعان میں قاضیوں کے فیصلوں کے تحت جی رہی تھی۔ اُن کے لئے یہ باب اُن عدالتوں کا پیدائشی سرٹیفکیٹ تھا: تمہارے مقامی قاضی کوئی سیاسی بندوبست نہیں، وہ موسیٰ کے دفتر کی توسیع ہیں۔ اِسی لئے قاضی کی خوبیاں اہلیت سے پہلے کردار ہیں، ایسے لوگ "جو اللہ کا خوف مانتے ہوں، راست دل ہوں اور رشوت سے نفرت کرتے ہوں"۔ جس کان نے مصر میں کوڑے سہے تھے، وہ جانتا تھا کہ رشوت خور جج کیا کر سکتا ہے۔ اور یترو کی موجودگی اُنہیں یاد دلاتی تھی کہ رب کی شہرت سرحدوں سے باہر نکل چکی ہے۔
پس منظر
یہ واقعہ سینا پہنچنے کے فوراً بعد کا ہے، شریعت ملنے سے پہلے یا اُس کے آس پاس؛ خیمہ "اللہ کے پہاڑ یعنی سینا کے قریب" لگا ہوا ہے۔ مِدیان مصر کا حریف نہیں، ایک خانہ بدوش تجارتی قوم تھی، اور یترو اُن کا امام، یعنی ایک بااثر بزرگ۔ قدیم مشرق میں سُسر کا مرتبہ اونچا تھا، اِسی لئے موسیٰ باہر نکل کر "اُس کے سامنے جھکا اور اُسے بوسہ دیا"۔ اِس معاشرے میں انصاف بادشاہ کے دروازے پر ہوتا تھا اور طاقتور جیتتا تھا۔ اسرائیل کے پاس بادشاہ نہیں تھا، صرف ایک آدمی اور اُس کا خدا۔ یہ باب دکھاتا ہے کہ ایک آزاد قوم کو ڈھانچہ چاہئے، ورنہ آزادی افراتفری میں بدل جاتی ہے۔
غور و فکر
کون سا بوجھ آپ اِس لئے اُٹھائے ہوئے ہیں کہ اُسے چھوڑنے سے آپ کی اہمیت کم ہو جائے گی؟
یترو کا اقرار سن کر آپ کو کس شخص کا خیال آتا ہے جو آپ کی صف سے باہر ہے، مگر جس کے ذریعے خدا آپ سے بول رہے ہیں؟
Exodus 18 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
خروج 18 کا کیا مطلب ہے؟
خروج 18 کس بارے میں ہے؟
خروج 18 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
خروج 18 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
خروج 18 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Exodus 18 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
یترو مِدیانی تھا، اسرائیل کا نہیں، پھر بھی وہی قربانی پیش کرتا ہے اور ہارون اور سب بزرگ اُس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، وہ بھی "اللہ کے حضور"۔ سوچیں، خدا کی میز پر پہلی جگہ ایک اجنبی کو ملی۔ آپ کے دسترخوان پر کون بیٹھ سکتا ہے؟ جسے آپ باہر کا سمجھتے ہیں، شاید خدا اُسی کے ہاتھ سے آپ کو برکت دینا چاہتا ہے۔
یترو نے موسیٰ کو دیکھا کہ وہ صبح سے شام تک اکیلا لوگوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے، اور بغیر جھجک کے کہا، "جو کام تُو کرتا ہے اچھا نہیں۔"
کبھی کبھی خدا کسی سسر، کسی دوست، کسی مخلص شخص کو بھیجتا ہے جو ہمیں روک کر کہے کہ تیرا طریقہ غلط ہے۔ سوچ، کیا تُو سب کچھ اکیلے اٹھانے کی کوشش میں خود کو اور اپنوں کو تھکا نہیں رہا؟ خدمت کا مطلب یہ نہیں کہ سب بوجھ تیرے ہی کندھوں پر ہو۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
