خروج 4
متن
موسیٰ جلتی جھاڑی کے سامنے سے ابھی ہٹا نہیں، اور اعتراضات جاری ہیں: ”لیکن اسرائیلی نہ میری بات کا یقین کریں گے، نہ میری سنیں گے۔“ خدا اُس کے ہاتھ کی لاٹھی کو سانپ بنا دیتا ہے، اُس کے ہاتھ کو کوڑھ سے سفید اور پھر صحت مند کرتا ہے، اور نیل کے پانی کو خون میں بدلنے کا وعدہ کرتا ہے۔ موسیٰ پھر بھی ہچکچاتا ہے، اپنی زبان کی کمزوری کا حوالہ دیتا ہے، اور آخرکار صاف کہہ دیتا ہے، ”مہربانی کر کے کسی اَور کو بھیج دے۔“ رب خفا ہوتا ہے مگر ہارون کو ساتھ دے دیتا ہے۔ موسیٰ اپنے خاندان کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوتا ہے، راستے میں ایک سرائے میں خوفناک رات گزرتی ہے جہاں صفورہ ختنے سے اُس کی جان بچاتی ہے، اور آخر میں اسرائیل کے بزرگ سن کر ایمان لاتے اور سجدہ کرتے ہیں۔
مرکزی بات
اِس باب کا اصل موڑ وہ سوال ہے جو خدا موسیٰ کی معذوری پر پوچھتا ہے: ”کس نے انسان کا منہ بنایا؟“ یہ تسلی نہیں، دعویٰ ہے۔ خالق ہونے کا دعویٰ۔ موسیٰ اپنی نااہلی کو ڈھال بنا رہا ہے، اور خدا اُس ڈھال کو اپنی خالقیت سے توڑ دیتا ہے: جو منہ بناتا ہے وہ منہ کو بولنا بھی سکھا سکتا ہے۔ یہی منطق بعد میں یرمیاہ کی بلاہٹ میں دہرائی جائے گی، جہاں نبی اپنی جوانی کا عذر پیش کرتا ہے اور خدا اُس کے منہ کو چھو کر الفاظ رکھ دیتا ہے، اور پولس رسول کے اُس اعتراف میں گونجے گی کہ خدا کی قدرت کمزوری میں کامل ہوتی ہے۔ بلاہٹ قابلیت کی بنیاد پر نہیں، بھیجنے والے کی موجودگی پر کھڑی ہے: ”مَیں خود تیرے ساتھ ہوں گا۔“ اور یہ فضل بےدانت نہیں: رب موسیٰ پر ”سخت خفا“ بھی ہوتا ہے۔ نرمی اور ناراضی ایک ہی سانس میں۔
مشترکہ دھاگا
اِس باب میں پہلی بار وہ جملہ آتا ہے جو پوری خروج کی کتاب کا دل ہے: ”اسرائیل میرا پہلوٹھا ہے۔“ خدا مصر سے غلام نہیں چھڑا رہا، بیٹا واپس مانگ رہا ہے۔ اور اِسی سانس میں وہ دھمکی بھی آتی ہے جو باب بارہ میں پوری ہو گی: پہلوٹھے کے بدلے پہلوٹھا۔ فسح کی رات یہی حساب چکایا جائے گا، اور اسرائیل صرف اِس لیے بچے گا کہ دروازے پر خون ہو گا۔ متی اپنی انجیل میں اِسی سے کھیلتا ہے: یسوع کو مصر بھیجا جاتا ہے اور واپس بلایا جاتا ہے، اور جس فرشتے نے یوسف سے کہا کہ ”جو بچے کی جان کے خواہاں تھے وہ مر گئے“، اُس نے تقریباً موسیٰ والے الفاظ دہرائے۔ فرق یہ ہے کہ حقیقی پہلوٹھا آخرکار بچایا نہیں جاتا؛ وہ خود قربانی بنتا ہے۔
آئینہ
موسیٰ کے اعتراضات ہمیں اِس لیے مانوس لگتے ہیں کہ ہم اُنہیں روز بولتے ہیں۔ ”مجھ سے یہ نہیں ہوگا“ اکثر عاجزی کے لباس میں چھپی بےاعتمادی ہوتی ہے، اور اِس کا اصل نشانہ خود ہم نہیں بلکہ بھیجنے والا ہوتا ہے۔ آپ کلاس میں، دفتر میں، یا اپنے گھر میں وہ ایک بات کہنے سے کترا رہے ہیں جو کہنی چاہیے، اور جواز آپ کی ”فطرت“ ہے: مَیں بولنے والا آدمی نہیں۔ خدا اِس جواز کو تسلیم نہیں کرتا، وہ اُسے اپنی خالقیت کے نیچے رکھ دیتا ہے۔ اور غور کریں کہ وہ موسیٰ کو کوئی نیا اوزار نہیں دیتا؛ وہ پوچھتا ہے، ”تُو نے ہاتھ میں کیا پکڑا ہوا ہے؟“ چرواہے کی معمولی لاٹھی ہی نشان بن جاتی ہے۔ آج ہی وہ ایک چیز لکھ لیں جو اِس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے (آپ کا پیشہ، آپ کی گاڑی کی چابی، آپ کی کاپیاں)، اُسے چند لمحوں کے لیے زمین پر رکھ دیں اور بلند آواز میں کہیں: ”یہ تیرا ہے، اِسی سے کام لے۔“
سیاق و سباق
موسیٰ چالیس سال سے مِدیان میں ہے، ایک اجنبی داماد، بھیڑوں کا چرواہا، مصر میں مطلوب قاتل۔ اُس کے پاس نہ فوج ہے نہ خاندانی رتبہ؛ صرف سُسر کا گھر اور ایک لاٹھی۔ جو تین نشان اُسے دیے جاتے ہیں وہ اتفاقی نہیں: سانپ وہی کوبرا ہے جو فرعون کے تاج پر بیٹھا اُس کی حکمرانی کا نشان تھا، اور خدا موسیٰ سے کہتا ہے کہ اُس کی دُم پکڑ لے۔ نیل مصر کی زندگی اور دیوتا دونوں تھا، اور اُس کا پانی خون بن جاتا ہے۔ یعنی نشانات محض کرشمے نہیں، مصر کی طاقت کے مرکزوں پر ہاتھ ڈالنا ہیں۔ اسرائیل کے ”بزرگ“ غلامی میں بھی قوم کا ڈھانچہ تھے؛ اُن کا ایمان لانا سیاسی طور پر بھی فیصلہ کن تھا۔
پہلے سننے والے
جو لوگ یہ بیان پہلی بار سنتے تھے وہ خود ریگستان میں تھے، مصر سے نکلے ہوئے مگر شکایت کرنے والے۔ اُن کے لیے آیت اکتیس کا سجدہ ایک تلخ آئینہ تھا: ہم نے بھی شروع میں ایمان لا کر سجدہ کیا تھا، اور پھر پانی کی پہلی کمی پر بڑبڑانے لگے۔ اُنہیں یہ سن کر بھی تسلی ملتی ہو گی کہ اُن کا عظیم رہنما فرشتہ نہیں تھا؛ وہ ہکلاتا تھا، ٹالتا تھا، اور خدا اُس سے ناراض ہوا تھا۔ اور جب اُنہوں نے سنا کہ ”رب کو تمہارا خیال ہے“، تو یہ کوئی نرم جذباتی فقرہ نہیں تھا بلکہ اُس وعدے کی گونج تھی جو ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے کیا گیا تھا: خدا بھولا نہیں۔
مشکل سوال
پھر وہ سرائے والی رات ہے۔ ”رب نے اُس پر حملہ کر کے اُسے مار دینے کی کوشش کی۔“ جس آدمی کو ابھی بھیجا گیا ہے، اُسی پر بھیجنے والا ٹوٹ پڑتا ہے۔ متن وضاحت نہیں دیتا، اور ہمیں بھی وضاحت گھڑنے کا حق نہیں۔ سب سے قرین قیاس اشارہ یہی ہے کہ عہد کا نشان، ختنہ، موسیٰ کے اپنے گھر میں نظرانداز تھا: جو خدا کے پہلوٹھے بیٹے کا مطالبہ لے کر جا رہا ہے، اُس کا اپنا بیٹا عہد سے باہر ہے۔ صفورہ کا تیز پتھر، بہا ہوا خون، اور پھر رہائی: یہ آنے والی فسح کی رات کا مختصر پیش خیمہ ہے۔ مگر خوف باقی رہتا ہے، اور رہنا چاہیے۔ جس خدا کو ہم نے مہربان کہہ کر پالتو بنا لیا ہے، وہ اندھیرے میں اپنے ہی نبی کا راستہ روک سکتا ہے۔ نجات سستی نہیں، اور نجات دینے والا بےخطر نہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی ”نااہلی“ ہے جسے آپ عاجزی کہہ کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ وہ دراصل ”کسی اَور کو بھیج دے“ کی درخواست ہے؟
اگر خدا آپ سے پوچھے، ”تُو نے ہاتھ میں کیا پکڑا ہوا ہے؟“، تو آپ کا ایمانداری سے جواب کیا ہوگا، اور کیا آپ اُسے زمین پر ڈالنے کو تیار ہیں؟
Exodus 4 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
خروج 4 کا کیا مطلب ہے؟
خروج 4 کس بارے میں ہے؟
خروج 4 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
خروج 4 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
خروج 4 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Exodus 4 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں