حزقی ایل 26
متن
یہویاکین کی جلاوطنی کے گیارہویں سال میں، جب یروشلم کے کھنڈر ابھی ٹھنڈے بھی نہ ہوئے تھے، خداوند حزقی ایل سے صور کے بارے میں کلام کرتا ہے۔ صور نے یروشلم کی تباہی پر خوشی منائی اور حساب لگایا: ”لو، اقوام کا دروازہ ٹوٹ گیا ہے! … اب جب یروشلم ویران ہے تو مَیں ہی فروغ پاؤں گی۔“ اِس کے جواب میں خدا فرماتا ہے کہ وہ متعدد قوموں کو سمندر کی موجوں کی طرح صور پر بھیجے گا، نبوکدنضر شمال سے اُس پر چڑھ آئے گا، اُس کی فصیل، بُرج، ستون اور شاندار عمارتیں ملبے کی صورت میں سمندر میں پھینکی جائیں گی، اُس کے گیت خاموش ہو جائیں گے، اور وہ ننگی چٹان بن کر مچھیروں کے جال سُکھانے کی جگہ رہ جائے گی۔
مرکزی بات
صور نے یروشلم پر ایک تیر بھی نہیں چلایا تھا۔ اُس کا گناہ ہاتھ کا نہیں، دل کے حساب کتاب کا تھا: پڑوسی کے جنازے کو اپنی تجارت کا موقع سمجھنا۔ خدا اِس کو ذاتی طور پر لیتا ہے۔ غور کیجیے کہ اِس باب میں خدا کتنی بار ”مَیں“ کہتا ہے: مَیں بھیجوں گا، مَیں جھاڑ دوں گا، مَیں تیرے گیتوں کا شور بند کروں گا۔ وہ تاریخ کے پیچھے چھپتا نہیں، بلکہ عدالت کی ذمہ داری اپنے سر لیتا ہے۔ اور اُس کا مقصد محض تباہی نہیں: ”تب وہ جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔“ خدا نے یروشلم کو خود سزا دی تھی، مگر جو اُس سزا سے منافع کمانا چاہے، اُس سے وہ خود نپٹے گا۔ رحم اور عدل ایک ہی ہاتھ میں ہیں۔
سلسلۂ نجات
صور نے سمجھا کہ ”اقوام کا دروازہ“ ٹوٹ گیا ہے اور اب وہ خود بندرگاہ بن کر قوموں کو اپنی طرف کھینچے گی۔ لیکن قوموں کا اصل دروازہ کبھی کوئی بندرگاہ نہ تھا؛ وہ اُسی اُجڑے ہوئے شہر سے نکلنے والا ایک مصلوب یہودی ہوگا۔ یہاں ایک نمونہ صاف نظر آتا ہے: جو شہر دوسرے کے گرنے پر اُونچا ہونا چاہتا ہے، وہ پاتال میں اُترتا ہے اور ”کبھی زندگی کے ملک میں واپس نہیں آئے گا“۔ اور جو خود دوسروں کی جگہ موت کے ملک میں اُترتا ہے، وہ تیسرے دن لوٹ آتا ہے اور اپنے ساتھ بےشمار لوگوں کو زندگی کے ملک میں لے آتا ہے۔ صور کی شان اُس کی اپنی تھی، اِسی لیے مٹ گئی۔ مسیح کی شان قربانی سے آئی، اِسی لیے قائم ہے۔ اور وہ ننگی چٹان جس پر مچھیرے اپنے جال بچھاتے ہیں، عجیب طور پر اُس خبر کا اشارہ بن جاتی ہے جو مچھیروں کے ہاتھوں دنیا تک پہنچی۔
آئینہ
یہ متن اُس خاموش خوشی کو بےنقاب کرتا ہے جو ہم کسی سے کہتے نہیں۔ دفتر میں وہ ساتھی جس کا منصوبہ ناکام ہوا، اور آپ کے اندر ایک ہلکی سی راحت دوڑ گئی، کیونکہ اب ترقی کا راستہ کھلا ہے۔ وراثت کا جھگڑا، جس میں بھائی کی مشکل آپ کے حصے کو بڑھا دیتی ہے۔ ساتھ والی کلیسیا میں پھوٹ پڑی اور آپ نے افسوس کے لہجے میں خبر سنائی مگر دل میں گنتی کی کہ اب کتنے لوگ ہماری طرف آئیں گے۔ صور نے تلوار نہیں اُٹھائی تھی، صرف حساب لگایا تھا، اور خدا نے اُسی حساب کو گناہ کہا۔ آج ہی ایک نام کاغذ پر لکھیے: وہ شخص جس کے نقصان سے آپ کو خفیہ فائدہ ہوا، اور اُس کے لیے بلند آواز میں ایک مخصوص برکت مانگیے، ایسی برکت جو آپ کو مہنگی پڑے۔
کلام کی گونج
مسیح نے خود صور کا نام لیا: کورزین اور بیت صیدا سے کہا کہ اگر یہ معجزے صور اور صیدا میں ہوتے تو وہ ٹاٹ اوڑھ کر بہت پہلے توبہ کر لیتے۔ حزقی ایل میں ساحلی حکمران ”ماتمی کپڑے پہن کر زمین پر بیٹھ“ جاتے ہیں، مگر تب جب سب ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ مسیح فرماتے ہیں: وہی ٹاٹ وقت پر پہنا جا سکتا تھا۔ اور اعمال کی کتاب میں پولس صور پہنچتا ہے، وہاں شاگرد موجود ہیں، اور وہ سب بیوی بچوں سمیت ساحل پر گھٹنے ٹیک کر دعا کرتے ہیں۔ جس ساحل پر جال سُکھائے جاتے تھے، وہاں ایک کلیسیا دعا کر رہی ہے۔ صور پر خدا کا آخری لفظ کھنڈر نہیں رہا۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار ”رب قادرِ مطلق“ ہے، اور یہ لقب بار بار دہرایا جاتا ہے، گویا ہر فقرے پر مہر لگ رہی ہو۔ یہ وہ خدا ہے جو اپنے لوگوں کو خود سزا دیتا ہے اور پھر اُن کی بےعزتی پر ہنسنے والوں کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اُس کے لہجے میں غصہ ہے، مگر یہ بےقابو غصہ نہیں؛ یہ اُس باپ کا غصہ ہے جس نے اپنے بیٹے کو تنبیہ کی اور پھر دیکھا کہ محلے والے تماشا بنا رہے ہیں۔ عدالت کی یہ تفصیل دہشت ناک ہے اور متن اُسے نرم نہیں کرتا: ”لوگ تیرا کھوج لگائیں گے لیکن تجھے کبھی نہیں پائیں گے۔“ یہاں کھرچ کر رکھ دینے والی سنجیدگی ہے، مگر اِس کے پیچھے وہی مقصد ہے جو پوری بائبل میں ہے: کہ لوگ جان لیں کہ رب کون ہے۔
پہلے سامعین
بابل میں بیٹھے جلاوطنوں کا ایمان ٹوٹ چکا تھا۔ اُن کا شہر راکھ تھا، ہیکل جل چکی تھی، اور اُن کے کانوں میں یہ سوال گونجتا تھا کہ کیا بابل کے دیوتا جیت گئے؟ اِس حال میں صور کی خبریں آتی تھیں: وہ چمکتا ہوا جزیرہ نما شہر، سمندر کے بیچ محفوظ، تجارت سے مالا مال، اور یروشلم کے گرنے پر خوش۔ اُن کے لیے یہ پیغام دوہری تسلی تھا۔ پہلی، کہ نبوکدنضر خدا کا مالک نہیں بلکہ اُس کے ہاتھ کا اوزار ہے، جو آج یہوداہ پر اور کل صور پر بھیجا جائے گا۔ دوسری، کہ خدا نے اُن کی تذلیل کو نظرانداز نہیں کیا۔ بےگھر پناہ گزینوں کے لیے یہ خونخواری کی خواہش نہیں تھی بلکہ پہلا اشارہ کہ دنیا کا اخلاقی نظام ٹوٹا نہیں، اور اُن کی رسوائی خدا کے حافظے سے نہیں مٹی۔
غور و فکر
کس شخص یا کس گروہ کی ناکامی پر آپ کے دل نے چپکے سے حساب لگایا کہ ”اب مَیں ہی فروغ پاؤں گا“؟
اگر صور کی چٹان پر آخرکار مسیح کے شاگرد گھٹنے ٹیک سکتے ہیں، تو آپ کی زندگی کا کون سا اُجڑا ہوا حصہ ابھی دعا کی جگہ بن سکتا ہے؟
Ezekiel 26 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
حزقی ایل 26 کا کیا مطلب ہے؟
حزقی ایل 26 کس بارے میں ہے؟
حزقی ایل 26 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
حزقی ایل 26 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
حزقی ایل 26 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ezekiel 26 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
صور شہر دولت اور تجارت کا تاج تھا۔ جب وہ گرا تو ساحلی علاقے لرز اُٹھے، کیونکہ جن کی اُمید اُس پر تھی وہ اُس کے ساتھ ہی ہل گئے۔ "اب تیرے زوال کے دن جزیرے کانپ اُٹھے ہیں۔" ذرا سوچ، تیرا دل آج کس چیز پر ٹیکا ہوا ہے؟ نوکری، رشتہ، بینک کا حساب؟ جو گر سکتا ہے، وہ تجھے سنبھال نہیں سکتا۔ صرف خداوند ہی وہ چٹان ہے جو کبھی نہیں ہلتی۔
خداوند، تیرا شکر ہے کہ صور جیسی مغرور اور ظالم طاقتیں ہمیشہ قائم نہیں رہتیں۔ تُو نے فرمایا ”لوگ تجھے ڈھونڈیں گے لیکن تُو کبھی نہیں ملے گا“، اور تیرا کلام پورا ہوا۔ شکر کہ ہمارا بھروسا اُن پر نہیں بلکہ تجھ پر ہے، جو ہمیشہ تک قائم ہے۔
صور یروشلم کے کھنڈرات میں اپنا نفع گن رہا تھا: ”یروشلم برباد ہوا تو مَیں مالا مال ہو جاؤں گا۔“ کسی کے گرنے کی خبر سن کر دل میں چپکے سے اُٹھنے والی خوشی بہت خطرناک چیز ہے۔ خدا نے صور کے کاروبار کو نہیں، اُس کے دل کے حساب کتاب کو دیکھا۔ آج جب کسی کا نقصان ہو، تیرے دل میں سب سے پہلا خیال کون سا آتا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
