اعمال 20:35
متن
پولس اِفسس کے بزرگوں سے اپنی آخری بات کہہ رہا ہے، اور وہ بات کوئی بلند پرواز نصیحت نہیں بلکہ اپنے ہاتھوں کی طرف اشارہ ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اُس نے کسی کے سونے، چاندی یا کپڑوں کا لالچ نہیں کیا، بلکہ محنت مزدوری کر کے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ضروریات پوری کیں۔ آیت ۳۵ اِسی عملی گواہی کا نچوڑ ہے: ”اپنے ہر کام میں مَیں آپ کو دکھاتا رہا کہ لازم ہے کہ ہم اِس قسم کی محنت کر کے کمزوروں کی مدد کریں۔“ اور پھر وہ اپنی دلیل کی بنیاد اپنی مثال پر نہیں، خداوند کے ایک قول پر رکھتا ہے: ”دینا لینے سے مبارک ہے۔“ یعنی محنت صرف اپنی روزی کے لئے نہیں؛ محنت اِس لئے بھی ہے کہ کسی کمزور کو سہارا مل سکے۔
اصل مغز
یہاں ایک پورا معاشی تصور اُلٹ دیا جاتا ہے۔ دنیا میں برکت کا پیمانہ یہ ہے کہ آپ کے پاس کیا آیا؛ خداوند یسوع کے قول میں برکت کا پیمانہ یہ ہے کہ آپ کے ہاتھ سے کیا نکلا۔ یہ محض سخاوت کی تعریف نہیں، یہ خدا کی ذات کے بارے میں ایک بیان ہے: وہ خدا جو دیتا ہے، اور جس نے اپنی جماعت کو ”اپنے ہی فرزند کے خون سے حاصل کیا“ (آیت ۲۸)، خود اِسی مبارک حالت میں رہتا ہے۔ اِس لئے دینا خدا کی نقل ہے، احسان نہیں۔ اور غور کیجئے کہ پولس نے لفظ ”لازم“ استعمال کیا۔ کمزوروں کی مدد اُن مسیحیوں کا شوقیہ مشغلہ نہیں جن کے پاس فالتو وقت اور پیسہ ہو؛ یہ اُس محنت کا مقصد ہے جو ہم ہر روز کرتے ہیں۔ آپ کی تنخواہ کا ایک حصہ آپ کا نہیں ہے، اور یہ کوئی بدقسمتی نہیں بلکہ بادشاہی کا طریقہ ہے۔
سلسلۂ نجات
پولس اپنی دلیل کو اپنی مثال پر ختم نہیں کرتا بلکہ خداوند یسوع کے قول پر۔ یہ اتفاق نہیں۔ مسیح کی پوری زندگی اِسی اصول کا مجسم اظہار ہے: وہ جو سب کچھ رکھتا تھا، خالی ہاتھ آیا اور دینے میں ختم ہوا۔ آیت ۲۸ میں پولس نے ابھی کہا تھا کہ خدا نے اپنی جماعت کو ”اپنے ہی فرزند کے خون سے حاصل کیا“؛ یعنی کلیسیا کا وجود ہی ایک ایسے دینے کا نتیجہ ہے جس میں دینے والے کے پاس کچھ نہ بچا۔ اِسی لئے سخاوت مسیحی زندگی کا ایک اضافی زیور نہیں، بلکہ اُس انجیل کی منطق ہے جس پر ہم کھڑے ہیں۔ جو شخص یہ سمجھ چکا ہے کہ اُس کی نجات مفت ملی، وہ اپنی جیب کو مقفل نہیں رکھ سکتا۔ عہدِ عتیق میں بھی فصل کے کنارے غریبوں کے لئے چھوڑنے کا حکم اِسی نبض پر ہاتھ رکھتا تھا: زمین تمہاری ہے، مگر پوری نہیں۔
آئینہ
یہ آیت ہمارے اُس اطمینان کو چھیڑتی ہے جو ہم نے ”میں نے تو ایمانداری سے کمایا ہے“ کہہ کر بنا رکھا ہے۔ پولس ایمانداری سے آگے بڑھ کر پوچھتا ہے: آپ کی محنت کا رخ کس طرف ہے؟ ہم اوور ٹائم لگاتے ہیں تاکہ گاڑی بدلے، بچوں کا اسکول بہتر ہو، بڑھاپا محفوظ ہو۔ اِن میں سے کوئی چیز گناہ نہیں، مگر پولس کی فہرست میں ایک اور مقصد بھی ہے جو ہماری فہرست سے اکثر غائب رہتا ہے: کمزور۔ وہ رشتہ دار جس کا فون آپ دیکھ کر ٹال دیتے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ وہ کیا مانگے گا۔ وہ بیوہ جس کے بارے میں آپ نے سوچا تھا کہ ”کوئی اور دیکھ لے گا“۔ ہم لینے کو محفوظ سمجھتے ہیں اور دینے کو خطرہ، حالانکہ خداوند نے اِس کے برعکس کہا۔
آج ہی، دس منٹ کے اندر: اُس ایک شخص کا نام لکھیے جو اِس وقت مالی طور پر دبا ہوا ہے، اور اپنی اِس ہفتے کی کمائی میں سے ایک حقیقی رقم اُسے ابھی بھیج دیجئے، بغیر یہ بتائے کہ کس نے بھیجی۔
کلام کی گونج
اِفسیوں ۴ باب میں پولس اُسی شہر کے لوگوں کو لکھتا ہے کہ چوری کرنے والا اب محنت کرے تاکہ ضرورت مند کو دے سکے۔ غور کیجئے، محنت کا مقصد صرف چوری چھوڑنا نہیں بلکہ دینے کے قابل ہونا ہے؛ یہ بالکل وہی سوچ ہے جو میلیتس کی اِس تقریر میں ہے۔ دوسری گونج خود اِس سفر میں ہے: پولس اِسی وقت یونانی کلیسیاؤں کا وہ چندہ یروشلم لے جا رہا تھا جس کا ذکر وہ کرنتھیوں کو لکھتے ہوئے کرتا ہے۔ یعنی جو بات وہ اِفسس کے بزرگوں سے کہہ رہا ہے، وہ اُس کے سامان میں بھی رکھی ہوئی ہے۔ اُس کی تعلیم اور اُس کا بیگ ایک ہی گواہی دے رہے تھے۔
سیاق و سباق
یہ تقریر تقریباً ۵۷ء میں میلیتس کی بندرگاہ پر ہوئی، جہاں پولس نے جہاز روک کر اِفسس کے بزرگوں کو بلوایا کیونکہ وہ خود پنتِکُست سے پہلے یروشلم پہنچنے کی جلدی میں تھا۔ یہ ایک الوداعی خطاب ہے، اور دونوں فریق جانتے ہیں کہ ملاقات آخری ہے۔ اُس زمانے میں سیاح فلسفی اور مذہبی استاد اپنے شاگردوں سے پیسہ لینا اپنا حق سمجھتے تھے؛ ہاتھ سے کام کرنا شریف طبقے کی نظر میں کمتری تھی۔ پولس نے جان بوجھ کر یہ کمتری قبول کی، خیمے سیتا رہا، اور اپنے ہاتھ اِس لئے دکھائے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اُس نے انجیل کو کمائی کا ذریعہ بنایا۔ بزرگوں کے لئے یہ صرف جذباتی یاد نہیں تھی بلکہ ایک نمونہ تھا جس پر اب اُنہیں چلنا تھا۔
ایک باریک نکتہ
”دینا لینے سے مبارک ہے“ خداوند یسوع کا وہ واحد قول ہے جو نئے عہد نامے میں تو محفوظ ہے مگر چاروں انجیلوں میں کہیں نہیں ملتا۔ پولس اِسے یوں پیش کرتا ہے جیسے سب اِس سے واقف ہوں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کلیسیا میں خداوند کے الفاظ زبانی طور پر گردش کر رہے تھے، اور یہی الفاظ اُن کے روزمرہ فیصلوں کا پیمانہ تھے۔ پولس نے یہ نہیں کہا کہ ”میرا تجربہ یہ ہے“؛ اُس نے کہا کہ ہمارے سامنے خداوند کے یہ الفاظ ہونے چاہئیں۔ سخاوت کی بنیاد جذبہ نہیں، حکم ہے۔ اور اگر یہ جملہ انجیلوں میں لکھے جانے سے پہلے ہی ایمان داروں کے دلوں میں زندہ تھا، تو سوال یہ ہے کہ آج، جب یہ لکھا ہوا موجود ہے، ہمارے فیصلوں میں کتنا زندہ ہے۔
غور و فکر
آپ کی محنت کی کمائی میں سے کون سا حصہ اِس وقت کسی کمزور تک پہنچ رہا ہے، اور اگر کوئی نہیں، تو اِس کی اصل وجہ کیا ہے: کمی یا خوف؟
پولس نے اپنے ہاتھ دکھا کر تعلیم دی۔ جو لوگ آپ کو قریب سے دیکھتے ہیں، وہ آپ کے پیسے کے استعمال سے مسیح کے بارے میں کیا سیکھ رہے ہیں؟
Acts 20:35 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
اعمال 20:35 کا کیا مطلب ہے؟
اعمال 20:35 کس بارے میں ہے؟
اعمال 20:35 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اعمال 20:35 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اعمال 20:35 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Acts 20 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو نے پولس جیسے خادم دیے جنہوں نے "پوری خاکساری" اور آنسوؤں کے ساتھ تیری خدمت کی۔ شکر کہ آزمائشوں اور سازشوں کے بیچ بھی تُو نے اُسے سنبھالے رکھا، اور یوں ہمیں یقین دلایا کہ رونے والی خدمت بھی تیری نظر میں قیمتی ہے۔
خداوند، تیرا شکر کہ اسّس میں پولس اپنے ساتھیوں سے دوبارہ آ ملا اور اُنہوں نے اُسے جہاز پر بٹھا کر مِتُلینے کا سفر کیا۔ تُو آج بھی بچھڑے ہوئے راستوں کو ملا دیتا ہے اور ہمیں تنہا سفر کرنے نہیں دیتا۔ اس رفاقت کے لیے دل سے شکرگزار ہوں۔
پولوس نے جان بوجھ کر اسوس تک کا سفر پیدل طے کیا، جبکہ اُس کے ساتھی جہاز پر پہنچ گئے۔ ایک تھکا ہوا مبشر، جو موت کے قریب یروشلیم کی طرف جا رہا ہے، اُس نے تنہائی کے چند لمحے چُن لیے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ عظیم لوگوں کو بھی خدا کے ساتھ اکیلے چلنے کی ضرورت پڑتی ہے؟ خدمت کے شور میں بھی، خاموشی کا ایک راستہ رکھیے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں