حزقی ایل 34
متن
بابل کی جلاوطنی میں بیٹھے ایک نبی کو حکم ملتا ہے: بھیڑوں کو نہیں، چرواہوں کو للکار۔ خدا اسرائیل کے رہنماؤں پر الزام لگاتا ہے کہ اُنہوں نے دودھ پیا، اُون پہنی، بہترین گوشت کھایا، مگر کمزور، بیمار، زخمی اور گم شدہ بھیڑ کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا؛ نتیجہ یہ کہ ریوڑ منتشر ہو کر درندوں کا شکار بنا۔ پھر لہجہ بدلتا ہے: خدا خود چرواہا بنے گا، بکھری ہوئی بھیڑوں کو ڈھونڈ کر واپس لائے گا، موٹے اور دُبلے کے درمیان انصاف کرے گا، اور اپنے خادم داؤد کو ایک ہی گلہ بان مقرر کرے گا۔ اختتام سلامتی کے عہد، وقت پر بارش، اور اُس جملے پر ہوتا ہے جو ساری کتاب کا دل ہے: ”تم میرے لوگ، اور مَیں تمہارا خدا ہوں“۔
دل کی بات
اِس باب کا سب سے خوفناک لفظ ”افسوس“ نہیں، بلکہ ”مَیں خود“ ہے۔ خدا رہنماؤں کو ملازمت سے فارغ کرتا ہے اور خالی جگہ خود سنبھال لیتا ہے۔ یہ محض انتظامی تبدیلی نہیں؛ یہ اعلان ہے کہ خدا کی حکمرانی دیکھ بھال کی شکل میں آتی ہے۔ اُس کی قدرت زخمیوں کی مرہم پٹی میں ظاہر ہوتی ہے، اُس کا انصاف موٹی بھیڑوں کو روکنے میں۔ اور یہ بات کھٹکتی ہے: چرواہوں کا گناہ کوئی مذہبی بدعت نہیں تھا، صرف بےپروائی، صرف ”اپنا ہی خیال“۔ خدا کی نظر میں غفلت بھی خون آلود جرم ہے۔ نجات یہاں پہلے قوم کی توبہ سے شروع نہیں ہوتی بلکہ خدا کے فیصلے سے: ”مَیں اپنی بھیڑبکریوں کو اُن کے منہ سے نکال کر بچاؤں گا“۔ فضل کا آغاز ہمیشہ اُس کی طرف سے ہوتا ہے۔
مرکزی دھاگا
آیت 23 ایک دروازہ کھولتی ہے: ”مَیں اُن پر ایک ہی گلہ بان یعنی اپنے خادم داؤد کو مقرر کروں گا“۔ داؤد صدیوں پہلے مر چکا تھا؛ حزقی ایل کسی نئے داؤد کی بات کر رہا ہے، ایک ایسے حکمران کی جو خدا کی چرواہی کو جسم پہنائے۔ اِسی وجہ سے جب یسوع کہتے ہیں ”مَیں اچھا چرواہا ہوں“، تو وہ کوئی نرم دیہاتی تصویر نہیں بنا رہے بلکہ حزقی ایل 34 کا دعویٰ اپنے اوپر لے رہے ہیں: میں وہ ہوں جسے خدا نے وعدہ کیا۔ اور جہاں یہاں کے چرواہے بھیڑوں کا گوشت کھاتے ہیں، وہاں وہ چرواہا اپنی جان بھیڑوں کے لیے دے دیتا ہے۔ عہدِ عتیق کا الزام اور عہدِ جدید کی صلیب ایک ہی لکیر پر ہیں۔
آئینہ
یہ باب اُن سب سے سوال کرتا ہے جن کے ہاتھ میں کسی کی بھلائی سونپی گئی ہے: باپ، ماں، استاد، بزرگ، مالک، گروپ لیڈر۔ سوال یہ نہیں کہ آپ نے کوئی بڑا گناہ کیا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کون آپ کے دائرے میں زخمی پڑا ہے اور آپ نے مصروفیت کے نام پر اُس کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا۔ وہ نوجوان جو کلیسیا سے غائب ہو گیا اور کسی نے فون نہ کیا۔ وہ بہن جس کی شادی ٹوٹ رہی ہے اور ہم نے فیصلہ کر لیا کہ یہ ہمارا معاملہ نہیں۔ اور دوسرا آئینہ اُن کے لیے ہے جو موٹی بھیڑیں ہیں: جن کے پاس صحت، پیسہ، آواز، اثر ہے۔ آپ کھا سکتے ہیں، مگر باقی چراگاہ کو روندنے کا حق کسی کو نہیں۔
ایک تفصیل
آیت 18 پر ٹھہریں: ”تم باقی چراگاہ کو کیوں روندتے اور باقی پانی کو پاؤں سے گدلا کرتے ہو؟“ یہ تصویر حیرت انگیز حد تک باریک ہے۔ موٹی بھیڑ نے کسی کا کھانا نہیں چھینا؛ اُس نے پیٹ بھر کر کھایا اور پھر لاپروائی سے گھاس پر چل دی، پانی میں کھڑی رہی، اور جو بچا وہ کمزور کے لیے ناقابلِ استعمال ہو گیا۔ ظلم کی سب سے عام شکل بدنیتی نہیں، بےدھیانی ہے۔ ہم اپنی خوش حالی کے قدموں کے نشان دیکھتے ہی نہیں۔ خدا دیکھتا ہے، اور آیت 20 میں وہ خود جج کی کرسی پر بیٹھتا ہے، بھیڑوں کے درمیان، ایک ہی ریوڑ کے اندر۔ عدالت باہر سے نہیں، اندر سے شروع ہوتی ہے۔
بین المتون
زبور 23 اِس باب کی گونج ہے، مگر الٹی ترتیب میں: وہاں ایک فرد اعتماد سے کہتا ہے ”رب میرا چرواہا ہے“، یہاں خدا اُس اعتماد کو ایک ٹوٹی ہوئی قوم کے سامنے دوبارہ قائم کرتا ہے، جس کا تجربہ یہ رہا کہ چرواہے موجود تھے مگر چرواہی غائب تھی۔ اور یرمیاہ 23 میں وہی الزام، وہی وعدہ، ایک ہی وقت میں دو نبیوں کی زبان پر، گویا خدا دو گواہوں سے بات کروا رہا ہے۔ جب یسوع بھیڑ کے پیچھے جانے والے چرواہے کی مثال دیتے ہیں، تو وہ آیت 16 کی بازگشت ہے: ”مَیں گم شدہ بھیڑبکریوں کا کھوج لگاؤں گا“۔ وعدہ کبھی ہوا میں نہیں رہا؛ اُس نے آخرکار چلنا سیکھا اور گلیل کی سڑکوں پر آ گیا۔
مرکزی کردار
اِس باب کا مرکزی کردار خدا ہے، اور اُس کا جذباتی نقشہ چونکا دینے والا ہے۔ وہ غصے میں ہے، مگر غصہ اپنی توہین پر نہیں بلکہ اپنی بھیڑوں کے زخموں پر ہے۔ ”میری بھیڑبکریاں“، وہ بار بار کہتا ہے، جیسے مالک اپنی چیز کا نام لے کر روتا ہے۔ وہ قَسم کھاتا ہے: ”میری حیات کی قَسم“۔ وہ حساب مانگتا ہے، پھر آستین چڑھا لیتا ہے۔ اور جو کام وہ اپنے ہاتھ میں لیتا ہے وہ شاہی نہیں، بہت معمولی سا ہے: ڈھونڈنا، واپس لانا، پٹی باندھنا، بٹھانا، وقت پر بارش دینا تاکہ لوگ رات کو بےخوف سو سکیں۔ باب کا آخری جملہ کوئی عدالت نہیں، ایک رشتہ ہے: ”تم میرے لوگ، اور مَیں تمہارا خدا ہوں“۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کے دائرے میں وہ کون ہے جو ”آوارہ پھر رہا“ ہے، اور آپ نے کس بہانے سے اُسے ڈھونڈنا چھوڑ دیا ہے؟
آپ کی زندگی میں کہاں آپ ایک موٹی بھیڑ ہیں، یعنی کہاں آپ کی فراوانی بےدھیانی سے دوسروں کا پانی گدلا کر رہی ہے؟
Ezekiel 34 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
حزقی ایل 34 کا کیا مطلب ہے؟
حزقی ایل 34 کس بارے میں ہے؟
حزقی ایل 34 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
حزقی ایل 34 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
حزقی ایل 34 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ezekiel 34 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، تُو نے وعدہ کیا تھا کہ اپنے گلّے کے لیے ایک چرواہا مقرر کرے گا، اور تُو نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ میں اکثر بھٹک جاتا ہوں، تھک جاتا ہوں، راستہ بھول جاتا ہوں۔ مجھے اپنی آواز پہچاننا سکھا اور اپنے پیچھے چلا، کیونکہ تیری نگہبانی میں ہی میری جان کو آرام ملتا ہے۔
چونکہ اُن کا کوئی گلہ بان نہیں تھا اِس لئے وہ منتشر ہو گئیں۔" غور کریں کہ خدا یہاں بھیڑوں کو نہیں، چرواہوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ شاید آپ کا بکھر جانا سراسر آپ کی بغاوت نہ ہو، بلکہ اُس زخم کا نتیجہ ہو جو کسی نے آپ کو دیا۔ خدا وہ زخم دیکھتا ہے۔ اور اگلی آیتوں میں وہ خود کہتا ہے کہ میں اپنی بھیڑوں کو ڈھونڈنے نکلوں گا۔
اے مہربان باپ، تُو نے وعدہ کیا ہے کہ اپنے لوگوں پر برکت کی بارش برسائے گا۔ میرا دل خشک اور تھکا ہوا ہے، مجھ پر بھی اپنی رحمت کی پھوار برسا۔ میری زندگی کو تازگی دے، اور مجھے اپنی موجودگی میں پھلنے پھولنے کی طاقت عطا فرما۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
