بائبل کی تشریح

زبور 23

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

داؤد ایک تصویر کھینچتا ہے: رب چرواہا ہے، اور وہ خود بھیڑ۔ یہ چرواہا اُسے سبز چراگاہوں اور پُرسکون پانی تک لے جاتا ہے، تاریک وادی میں ساتھ چلتا ہے، دشمنوں کے سامنے دسترخوان بچھاتا ہے، اور عمر بھر بھلائی و شفقت اُس کے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔ چھ آیتیں، ایک پوری زندگی کا نقشہ۔

مرکزی بات

اِس زبور کا اخلاقی مرکز وہاں ہے جہاں ہم اکثر رُک نہیں پاتے: "مجھے کمی نہ ہو گی۔" یہ محض تسلی کا جملہ نہیں، یہ ایک فیصلہ ہے۔ کیونکہ اگر رب واقعی چرواہا ہے، تو میں اُس بھگدڑ سے باہر نکل سکتا ہوں جس میں ہر کوئی زیادہ کمانے، زیادہ جمع کرنے، زیادہ محفوظ ہو جانے کے لیے دوڑ رہا ہے۔ یہ زبور ہمیں بھیڑ بننا سکھاتا ہے، اور بھیڑ ہونا کوئی رومانوی بات نہیں۔ اِس کا مطلب ہے: میں خود اپنا مالک نہیں ہوں، میں راستہ خود نہیں چنتا، اور میری قیمت اِس میں نہیں کہ میں کتنا طاقتور ہوں بلکہ اِس میں کہ چرواہا کون ہے۔

بڑا سلسلہ

داؤد، جو خود کبھی بھیڑیں چراتا تھا، اب خود کو بھیڑ کہہ رہا ہے۔ یہ اُلٹ صدیوں بعد پوری طرح کھلتا ہے جب یسوع فرماتے ہیں کہ وہ اچھا چرواہا ہیں جو بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتے ہیں۔ زبور 23 میں چرواہا بھیڑ کے ساتھ وادی میں چلتا ہے؛ انجیل میں چرواہا بھیڑ کی جگہ صلیب پر چلا جاتا ہے۔ "راستی کی راہوں پر" قیادت کرنے والا وہی ہے جو خود راہ، حق اور زندگی بنا۔ لہٰذا یہ زبور محض قدیم شاعری نہیں، یہ اُس شخص کا پیش منظر ہے جو گتسمنی کی تاریک وادی سے گزر کر ہمارے لیے دسترخوان تیار کرتا ہے۔

آئینہ

اب سختی کی طرف آئیں۔ "مجھے کمی نہ ہو گی" کہنا آسان ہے جب تنخواہ وقت پر آ رہی ہو۔ لیکن جب بچے کی فیس دینی ہو، جب رشتہ ٹوٹ رہا ہو، جب رپورٹ میں وہ لفظ لکھا ہو جس سے آپ ڈرتے تھے، تب یہ آیت ایک اخلاقی سوال بن جاتی ہے: کیا میں واقعی مانتا ہوں کہ رب کافی ہے؟ اگر ہاں، تو میں رشوت کیوں دیتا ہوں، جھوٹی گواہی کیوں بھرتا ہوں، اُس ساتھی کی پیٹھ پیچھے بات کیوں کرتا ہوں تاکہ ترقی مجھے ملے؟ ہر بار جب ہم "شارٹ کٹ" لیتے ہیں، ہم عملاً کہہ رہے ہوتے ہیں کہ چرواہا ناکافی ہے۔ اور "دشمنوں کے رُوبرُو" کا دسترخوان یاد رکھیں: خدا آپ کو دشمن سے نکال کر کہیں اور نہیں لے جاتا، وہ اُن کی موجودگی میں آپ کو کھلاتا ہے۔ یعنی اُس دفتر میں رہنا جہاں آپ کو نیچا دکھایا جاتا ہے، اُس خاندان میں رہنا جہاں آپ کو غلط سمجھا جاتا ہے، اور وہاں شکر گزار رہنا، یہی ایمان کا اصل امتحان ہے۔

سامعین کی جگہ

پہلے سننے والے کسان اور گلہ بان تھے۔ اُن کے لیے چرواہا کوئی خوبصورت استعارہ نہیں تھا، یہ ایک سخت، دھوپ میں جلا ہوا، بھیڑیوں سے لڑنے والا شخص تھا۔ اور "لاٹھی اور عصا" کوئی سجاوٹ نہیں تھی؛ لاٹھی بھیڑ کو گنتی اور راہ پر رکھنے کے لیے، عصا درندوں کو مارنے کے لیے۔ یعنی چرواہے کی محبت میں تادیب بھی شامل تھی۔ قدیم مشرق میں بادشاہ خود کو "قوم کا چرواہا" کہتے تھے، اکثر ظالم چرواہے۔ داؤد اِن سب کے مقابلے میں کہہ رہا ہے: اصل بادشاہ رب ہے۔ یہ سیاسی بیان بھی ہے: میں فرعونوں، شہنشاہوں اور مقامی طاقتوروں کا محتاج نہیں۔

بین المتون

یرمیاہ 23 میں خدا اُن جھوٹے چرواہوں پر واویلا کرتا ہے جو بھیڑوں کو تتّر بتّر کر دیتے ہیں، اور وعدہ فرماتا ہے کہ وہ خود سچا چرواہا کھڑا کرے گا۔ حزقی ایل 34 اِسی موضوع کو اور کھول دیتا ہے: جھوٹے چرواہے اپنا پیٹ بھرتے ہیں، بھیڑوں کو نہیں۔ اِن دونوں کے پس منظر میں زبور 23 پڑھیں، تو یہ محض ذاتی تسلی کی نظم نہیں رہتی، یہ لیڈرشپ کا ایک آئینہ بن جاتی ہے۔ جو کوئی بھی کسی کا "چرواہا" ہے، والدین، استاد، باس، پادری، اُس سے پوچھا جا رہا ہے: کیا تُو رب کی طرح چراتا ہے یا اپنا پیٹ بھرنے کے لیے؟

مشکل سوال

اور اب وہ سوال جو زبور 23 خود کھڑا کرتا ہے: اگر رب چرواہا ہے تو تاریک وادی کیوں؟ داؤد یہ نہیں کہتا کہ "میں وادی سے بچ جاؤں گا"، وہ کہتا ہے "گو مَیں تاریک ترین وادی میں سے گزروں۔" یعنی وادی سے گزرنا ایمان کی ناکامی نہیں، وہ راستے کا حصہ ہے۔ یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے، خاص کر جب "وادی" کینسر کی رپورٹ ہو یا

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Psalms 23 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

زبور 23 کا کیا مطلب ہے؟
داؤد ایک تصویر کھینچتا ہے: رب چرواہا ہے، اور وہ خود بھیڑ۔ یہ چرواہا اُسے سبز چراگاہوں اور پُرسکون پانی تک لے جاتا ہے، تاریک وادی میں ساتھ چلتا ہے، دشمنوں کے سامنے دسترخوان بچھاتا ہے، اور عمر بھر بھلائی و شفقت اُس کے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔ چھ آیتیں، ایک پوری زندگی کا نقشہ۔
زبور 23 کس بارے میں ہے؟
اِس زبور کا اخلاقی مرکز وہاں ہے جہاں ہم اکثر رُک نہیں پاتے: "مجھے کمی نہ ہو گی۔" یہ محض تسلی کا جملہ نہیں، یہ ایک فیصلہ ہے۔ کیونکہ اگر رب واقعی چرواہا ہے، تو میں اُس بھگدڑ سے باہر نکل سکتا ہوں جس میں ہر کوئی زیادہ کمانے، زیادہ جمع کرنے، زیادہ محفوظ ہو جانے کے لیے دوڑ رہا ہے۔ یہ زبور ہمیں بھیڑ بننا سکھاتا ہے، اور بھیڑ ہونا کوئی رومانوی بات نہیں۔ اِس کا مطلب ہے: میں خود اپنا مالک نہیں ہوں، میں راستہ خود نہیں چنتا، اور میری قیمت اِس میں نہیں کہ میں کتنا طاقتور ہوں بلکہ اِس میں کہ چرواہا کون ہے۔
زبور 23 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
داؤد، جو خود کبھی بھیڑیں چراتا تھا، اب خود کو بھیڑ کہہ رہا ہے۔ یہ اُلٹ صدیوں بعد پوری طرح کھلتا ہے جب یسوع فرماتے ہیں کہ وہ اچھا چرواہا ہیں جو بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتے ہیں۔ زبور 23 میں چرواہا بھیڑ کے ساتھ وادی میں چلتا ہے؛ انجیل میں چرواہا بھیڑ کی جگہ صلیب پر چلا جاتا ہے۔ "راستی کی راہوں پر" قیادت کرنے والا وہی ہے جو خود راہ، حق اور زندگی بنا۔ لہٰذا یہ زبور محض قدیم شاعری نہیں، یہ اُس شخص کا پیش منظر ہے جو گتسمنی کی تاریک وادی سے گزر کر ہمارے لیے دسترخوان تیار کرتا ہے۔
زبور 23 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اب سختی کی طرف آئیں۔ "مجھے کمی نہ ہو گی" کہنا آسان ہے جب تنخواہ وقت پر آ رہی ہو۔ لیکن جب بچے کی فیس دینی ہو، جب رشتہ ٹوٹ رہا ہو، جب رپورٹ میں وہ لفظ لکھا ہو جس سے آپ ڈرتے تھے، تب یہ آیت ایک اخلاقی سوال بن جاتی ہے: کیا میں واقعی مانتا ہوں کہ رب کافی ہے؟ اگر ہاں، تو میں رشوت کیوں دیتا ہوں، جھوٹی گواہی کیوں بھرتا ہوں، اُس ساتھی کی پیٹھ پیچھے بات کیوں کرتا ہوں تاکہ ترقی مجھے ملے؟ ہر بار جب ہم "شارٹ کٹ" لیتے ہیں، ہم عملاً کہہ رہے ہوتے ہیں کہ چرواہا ناکافی ہے۔ اور "دشمنوں کے رُوبرُو" کا دسترخوان یاد رکھیں: خدا آپ کو دشمن سے نکال کر کہیں اور نہیں لے جاتا، وہ اُن کی موجودگی میں آپ کو کھلاتا ہے۔ یعنی اُس دفتر میں رہنا جہاں آپ کو نیچا دکھایا جاتا ہے، اُس خاندان میں رہنا جہاں آپ کو غلط سمجھا جاتا ہے، اور وہاں شکر گزار رہنا، یہی ایمان کا اصل امتحان ہے۔
زبور 23 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
پہلے سننے والے کسان اور گلہ بان تھے۔ اُن کے لیے چرواہا کوئی خوبصورت استعارہ نہیں تھا، یہ ایک سخت، دھوپ میں جلا ہوا، بھیڑیوں سے لڑنے والا شخص تھا۔ اور "لاٹھی اور عصا" کوئی سجاوٹ نہیں تھی؛ لاٹھی بھیڑ کو گنتی اور راہ پر رکھنے کے لیے، عصا درندوں کو مارنے کے لیے۔ یعنی چرواہے کی محبت میں تادیب بھی شامل تھی۔ قدیم مشرق میں بادشاہ خود کو "قوم کا چرواہا" کہتے تھے، اکثر ظالم چرواہے۔ داؤد اِن سب کے مقابلے میں کہہ رہا ہے: اصل بادشاہ رب ہے۔ یہ سیاسی بیان بھی ہے: میں فرعونوں، شہنشاہوں اور مقامی طاقتوروں کا محتاج نہیں۔
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Psalms 23 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی

When I read Psalm 23 with the loss of my father still fresh in my memory, verse 4 struck me most of all: even though I walk through the valley of the shadow of death, I will fear no evil, for You are with me. It was not a band-aid but a hand on my shoulder.

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟