بائبل کی تشریح

عزرا 3

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

ساتویں مہینے میں لوٹے ہوئے جلاوطن یروشلم میں جمع ہوتے ہیں، پہلے دیواریں نہیں بلکہ قربان گاہ بناتے ہیں، اور ملبے کے بیچ صبح شام قربانیاں چڑھانے لگتے ہیں۔ دوسرے سال ہیکل کی بنیاد رکھی جاتی ہے؛ کاہن تُرم بجاتے ہیں، لاوی جھانجھ، اور قوم نعرے لگاتی ہے۔ مگر وہ بوڑھے جنہوں نے پہلا گھر دیکھا تھا، بلند آواز سے رو پڑتے ہیں، اور شور ایسا ہے کہ ”خوشی کے نعروں اور رونے کی آوازوں میں امتیاز نہ کیا جا سکا“۔

اصل بات

غور کیجیے کہ اُنہوں نے سب سے پہلے کیا بنایا۔ نہ فصیل، نہ گھر، نہ گودام، بلکہ قربان گاہ، اور وہ بھی ”اُس کی پرانی بنیاد پر“۔ عبارت صاف کہتی ہے کہ ”رب کے گھر کی بنیاد ابھی ڈالی نہیں گئی تھی توبھی“ وہ قربانیاں پیش کرنے لگے۔ یعنی عبادت عمارت کے مکمل ہونے کا انتظار نہیں کرتی۔ خدا کے ساتھ رشتہ اُس مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں آدمی اپنے ہاتھ خالی کرکے کچھ دیتا ہے، نہ کہ جہاں سب کچھ ترتیب میں آ جاتا ہے۔ اور یہ سب ”سہمے ہوئے“ لوگوں نے کیا۔ خوف ختم نہیں ہوا تھا؛ اطاعت خوف کے باوجود ہوئی۔ ایمان بہادری کا دوسرا نام نہیں، حکم ماننے کا نام ہے جب ٹانگیں کانپ رہی ہوں۔

سنہری دھاگا

یہ باب ایک ادھوری چیز کا جشن ہے۔ بنیاد رکھی گئی، عمارت نہیں کھڑی ہوئی؛ قربان گاہ بحال ہوئی، جلال کا بادل واپس نہ آیا۔ پوری اسیری کے بعد کی کہانی اسی کشمکش میں چلتی ہے: بحالی حقیقی ہے، مگر وعدے سے چھوٹی۔ یہی ادھورا پن ہمیں آگے دھکیلتا ہے، کیونکہ اسرائیل کو ایک ایسے گھر کی ضرورت تھی جسے کوئی بابل گرا نہ سکے۔ خداوند یسوع مسیح نے اپنے بدن کو ہیکل کہا، اور اُسی بدن میں قربان گاہ، قربانی اور کاہن ایک ہو گئے۔ زرُبابل کی رکھی ہوئی بنیاد پر جو گھر بنا وہ بھی ڈھا دیا گیا؛ مگر مسیح میں جو بنیاد رکھی گئی، اُس پر ہم ”زندہ پتھروں“ کی طرح جوڑے جاتے ہیں۔ اس باب کے آنسو اُس دن ختم ہوتے ہیں۔

آئینہ

آپ بھی کسی ایسی چیز کے سامنے کھڑے ہیں جو پہلے سے چھوٹی ہے۔ وہ شادی جو پندرہ سال پہلے والی نہیں رہی۔ وہ جماعت جہاں کبھی صفیں بھری ہوتی تھیں۔ وہ جسم جو اب ویسا ساتھ نہیں دیتا۔ وہ ایمان جو کبھی جوانی میں گرم تھا اور اب محض عادت لگتا ہے۔ اور آپ کے اندر بھی وہی دو آوازیں ہیں: ایک جو شکر کرنا چاہتی ہے، دوسری جو ماضی کو یاد کرکے رو پڑتی ہے۔ یہ باب آپ کو ان میں سے ایک چننے پر مجبور نہیں کرتا۔ وہ دونوں آوازیں ایک ہی شور میں ہیں اور خدا نے دونوں سنیں۔ مگر باب یہ ضرور کہتا ہے: بنیاد رکھنا شروع کیجیے، حالانکہ آپ ڈرے ہوئے ہیں اور حالانکہ یہ پہلے جیسا نہیں ہوگا۔

آج ہی، اگلے دس منٹ میں، اپنی زندگی کی وہ ایک جگہ جو ملبہ بن چکی ہے، اُس کا نام کاغذ پر لکھیے اور اُس کے نیچے یہ جملہ لکھ کر بلند آواز سے پڑھیے: ”وہ بھلا ہے، اور اسرائیل پر اُس کی شفقت ابدی ہے!“

کتابِ مقدّس کی گونج

حجی نبی نے چند سال بعد اسی رونے والے گروہ سے سیدھا سوال کیا: کیا تم میں کوئی باقی ہے جس نے اس گھر کی پہلی شان دیکھی ہو؟ اور خدا کا جواب یہ تھا کہ اِس پچھلے گھر کا جلال پہلے سے بڑا ہوگا۔ یعنی خدا نے ان آنسوؤں کو جھٹلایا نہیں، بلکہ اُن پر ایک وعدہ رکھ دیا۔ دوسری گونج زیادہ قدیم ہے: سلیمان کی ہیکل کے وقف پر بھی یہی گیت گایا گیا تھا کہ وہ بھلا ہے اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔ وہی الفاظ اب کھنڈر میں گائے جا رہے ہیں۔ حالات بدل گئے، گیت نہیں بدلا، کیونکہ گیت حالات کے بارے میں نہیں تھا بلکہ خدا کے کردار کے بارے میں۔

مرکزی کردار

اس باب کا اصل کردار وہ قوم ہے جو ”جمع ہوئی“، مگر اُس کے پیچھے خدا کا ایک مخصوص طریقہ نظر آتا ہے۔ وہ اپنے لوگوں کو خالی ہاتھ، ڈرے ہوئے اور اقلیت میں ہوتے ہوئے بھی کام پر لگا دیتا ہے۔ وہ خورس جیسے غیر قوم بادشاہ کے فرمان سے دروازہ کھولتا ہے اور صور و صیدا کے تاجروں سے لکڑی منگواتا ہے؛ یعنی اُس کی بحالی کے اوزار ہمیشہ مقدّس ہاتھوں سے نہیں آتے۔ اور وہ قربانی قبول کرتا ہے قبل اِس کے کہ عمارت تیار ہو۔ یہ وہی خدا ہے جو موجودہ حالت میں آ کر ملتا ہے، نہ کہ اُس مثالی حالت میں جس کا ہم انتظار کرتے رہتے ہیں۔

سوال

پھر بوڑھے کیوں روئے؟ کیا وہ ناشکرے تھے؟ متن اُن کی مذمت نہیں کرتا، اور نہ اُن کے آنسو پونچھتا ہے۔ وہ اُنہیں محض ریکارڈ کرتا ہے: ”بلند آواز سے رونے لگے“۔ سچائی یہ ہے کہ جو کچھ گنوایا گیا وہ واقعی گنوایا گیا؛ گناہ کے نتائج بحالی کے بعد بھی نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ بائبل یہاں ہمیں یہ کہہ کر تسلی نہیں دیتی کہ سب ٹھیک ہے۔ وہ صرف اتنا کہتی ہے کہ رونے اور نعروں کا شور ”دُور دُور تک سنائی دیا“۔ خدا نے اُس ملے جلے شور کو قبول کیا۔ شاید سچی عبادت اکثر یہی ہوتی ہے: ایسا شور جس میں غم اور شکر الگ نہیں کیے جا سکتے۔

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ کون سی ”قربان گاہ“ ہے جسے آپ عمارت مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر آج دوبارہ کھڑا کر سکتے ہیں؟

آپ کے اندر جو رونے کی آواز ہے، کیا آپ نے اُسے خدا کے سامنے بلند آواز سے کہا ہے، یا اُسے شکر کے نعروں کے نیچے دبا رکھا ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Ezra 3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

عزرا 3 کا کیا مطلب ہے؟
ساتویں مہینے میں لوٹے ہوئے جلاوطن یروشلم میں جمع ہوتے ہیں، پہلے دیواریں نہیں بلکہ قربان گاہ بناتے ہیں، اور ملبے کے بیچ صبح شام قربانیاں چڑھانے لگتے ہیں۔ دوسرے سال ہیکل کی بنیاد رکھی جاتی ہے؛ کاہن تُرم بجاتے ہیں، لاوی جھانجھ، اور قوم نعرے لگاتی ہے۔ مگر وہ بوڑھے جنہوں نے پہلا گھر دیکھا تھا، بلند آواز سے رو پڑتے ہیں، اور شور ایسا ہے کہ ”خوشی کے نعروں اور رونے کی آوازوں میں امتیاز نہ کیا جا سکا“۔
عزرا 3 کس بارے میں ہے؟
یہ باب ایک ادھوری چیز کا جشن ہے۔ بنیاد رکھی گئی، عمارت نہیں کھڑی ہوئی؛ قربان گاہ بحال ہوئی، جلال کا بادل واپس نہ آیا۔ پوری اسیری کے بعد کی کہانی اسی کشمکش میں چلتی ہے: بحالی حقیقی ہے، مگر وعدے سے چھوٹی۔ یہی ادھورا پن ہمیں آگے دھکیلتا ہے، کیونکہ اسرائیل کو ایک ایسے گھر کی ضرورت تھی جسے کوئی بابل گرا نہ سکے۔ خداوند یسوع مسیح نے اپنے بدن کو ہیکل کہا، اور اُسی بدن میں قربان گاہ، قربانی اور کاہن ایک ہو گئے۔ زرُبابل کی رکھی ہوئی بنیاد پر جو گھر بنا وہ بھی ڈھا دیا گیا؛ مگر مسیح میں جو بنیاد رکھی گئی، اُس پر ہم ”زندہ پتھروں“ کی طرح جوڑے جاتے ہیں۔ اس باب کے آنسو اُس دن ختم ہوتے ہیں۔
عزرا 3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آج ہی، اگلے دس منٹ میں، اپنی زندگی کی وہ ایک جگہ جو ملبہ بن چکی ہے، اُس کا نام کاغذ پر لکھیے اور اُس کے نیچے یہ جملہ لکھ کر بلند آواز سے پڑھیے: ”وہ بھلا ہے، اور اسرائیل پر اُس کی شفقت ابدی ہے!“
عزرا 3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اس باب کا اصل کردار وہ قوم ہے جو ”جمع ہوئی“، مگر اُس کے پیچھے خدا کا ایک مخصوص طریقہ نظر آتا ہے۔ وہ اپنے لوگوں کو خالی ہاتھ، ڈرے ہوئے اور اقلیت میں ہوتے ہوئے بھی کام پر لگا دیتا ہے۔ وہ خورس جیسے غیر قوم بادشاہ کے فرمان سے دروازہ کھولتا ہے اور صور و صیدا کے تاجروں سے لکڑی منگواتا ہے؛ یعنی اُس کی بحالی کے اوزار ہمیشہ مقدّس ہاتھوں سے نہیں آتے۔ اور وہ قربانی قبول کرتا ہے قبل اِس کے کہ عمارت تیار ہو۔ یہ وہی خدا ہے جو موجودہ حالت میں آ کر ملتا ہے، نہ کہ اُس مثالی حالت میں جس کا ہم انتظار کرتے رہتے ہیں۔
عزرا 3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آپ کی زندگی میں وہ کون سی ”قربان گاہ“ ہے جسے آپ عمارت مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر آج دوبارہ کھڑا کر سکتے ہیں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Ezra 3 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 4

ہیکل ابھی کھنڈر تھی، صرف قربان گاہ کھڑی تھی۔ پھر بھی اُنہوں نے جھونپڑیوں کی عید منائی اور "ہر دن کی ضرورت کے مطابق" قربانیاں پیش کیں۔ ہر دن کا اپنا حصہ، نہ کم نہ زیادہ۔ تُو بھی شاید انتظار میں ہے کہ سب کچھ بحال ہو جائے تو عبادت شروع کروں گا۔ لیکن خدا آج کی فرمانبرداری مانگتا ہے، ملبے کے بیچ میں بھی۔

دعا ادارتی کو آیت 6

اے خدا، میری زندگی میں ابھی بہت کچھ ادھورا ہے، بنیاد تک نہیں رکھی گئی۔ پھر بھی میں آج تیرے حضور آتا ہوں اور جو میرے پاس ہے وہ تجھے دیتا ہوں۔ مجھے سکھا کہ عبادت کے لیے سب کچھ مکمل ہونے کا انتظار نہ کروں، بلکہ ابھی سے تیرا شکر کروں۔

دعا ادارتی کو آیت 11

اے خدا، تُو بھلا ہے اور تیری شفقت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ آج میری زندگی میں بہت کچھ ادھورا ہے، بس بنیاد ہی رکھی گئی ہے، پھر بھی مَیں تیری تعریف کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے وہ خوشی دے جو کام کے پورا ہونے سے پہلے ہی تجھ پر بھروسا کر کے گاتی ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 3

خوف ختم نہیں ہوا تھا، پھر بھی قربان گاہ کھڑی ہو گئی۔ "گو وہ ارد گرد کی قوموں سے ڈرتے تھے، لیکن اُنہوں نے قربان گاہ کو اُس کی پرانی بنیاد پر دوبارہ تعمیر کیا۔" اُنہوں نے حالات کے ٹھیک ہونے کا انتظار نہ کیا بلکہ کانپتے ہاتھوں سے عبادت شروع کر دی۔ تُو بھی خوف کے مٹنے تک رُکا نہ رہ۔ آج ہی، اُسی ڈر کے ساتھ، خدا کے سامنے گھٹنے ٹیک دے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں