پَیدایش 25
متن
باب کا آغاز موت کی تیاری سے ہوتا ہے: ابراہیم دوسری شادی کرتا ہے، اُس کے اَور بیٹے پیدا ہوتے ہیں، مگر وہ اپنی ساری ملکیت اسحاق کو دے کر باقی بیٹوں کو تحفے تھما کر مشرق کی طرف روانہ کر دیتا ہے، اور 175 سال کی عمر میں "زندگی سے آسودہ ہو کر" مر جاتا ہے۔ اسحاق اور اسمٰعیل مل کر اُسے مکفیلہ کے غار میں دفن کرتے ہیں۔ پھر کہانی اگلی نسل کی طرف مڑتی ہے: رِبقہ بانجھ ہے، اسحاق دعا کرتا ہے، جُڑواں بیٹے پیدا ہوتے ہیں، اور ایک دن تھکا ہارا عیسَو دال کے ایک پیالے کے بدلے اپنی پہلوٹھی بیچ ڈالتا ہے۔
مرکزی بات
اِس باب میں خدا کے چناؤ کا طریقہ بےنقاب ہو جاتا ہے، اور وہ ہمارے حساب سے میل نہیں کھاتا۔ برکت بڑے بیٹے کی طرف نہیں بہتی، صلاحیت کی طرف نہیں، حتیٰ کہ اخلاق کی طرف بھی نہیں۔ پیدائش سے پہلے، جب دونوں بچے ابھی رِبقہ کے پیٹ میں ہیں، رب فرماتے ہیں: "بڑا چھوٹے کی خدمت کرے گا۔" یعقوب نے ابھی کچھ کمایا نہیں، اور کچھ بگاڑا بھی نہیں۔ یہ فضل ہے، اور فضل ہمیشہ کچھ نہ کچھ ناانصاف سا محسوس ہوتا ہے۔ ساتھ ہی متن یہ بھی نہیں چھپاتا کہ منتخب آدمی چالاک ہے اور مسترد آدمی محض بھوکا۔ خدا کا انتخاب انسان کے کردار کی توثیق نہیں، بلکہ اُس کے وعدے کی وفاداری ہے۔
بڑا سلسلہ
پیدائش کی پوری کتاب ایک ہی سوال پر گھومتی ہے: وعدہ کس کے ذریعے آگے بڑھے گا؟ اور بار بار جواب یہی آتا ہے: اُس کے ذریعے جسے دنیا نظرانداز کرتی ہے۔ اسمٰعیل کے بارہ بیٹے ہیں اور بڑے قبیلے، مگر عہد اسحاق کے پاس رہتا ہے۔ عیسَو مضبوط، بالوں والا، جنگل کا آدمی ہے، مگر برکت ڈیرے میں بیٹھنے والے کے پاس جاتی ہے۔ یہی لکیر آگے چل کر داؤد تک، اور آخرکار ناصرت کے اُس بیٹے تک پہنچتی ہے جس میں "کوئی حُسن نہ تھا کہ ہم اُسے پسند کرتے"۔ مسیح میں یہ نمونہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے: پہلوٹھا ہونے کا حق خریدا نہیں جاتا، دیا جاتا ہے، اور دینے والا اپنی جان کی قیمت پر دیتا ہے۔
آئینہ
عیسَو مر نہیں رہا تھا۔ وہ صرف تھکا ہوا تھا۔ اور یہی بات آپ کو اور مجھے چُبھتی ہے، کیونکہ ہم بھی اپنے سب سے سستے سودے قحط کے دنوں میں نہیں کرتے، بلکہ تھکن کی شام کو کرتے ہیں۔ دن بھر کی محنت کے بعد جب آپ گھر پہنچتے ہیں اور آپ کے اندر ایک آواز کہتی ہے "ابھی، فوراً، کچھ بھی"، تب آپ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھنے کا وقت، اپنی نیت کی صفائی، اپنی زبان کا قابو، اپنے جسم کی پاکیزگی، سب کچھ کسی بہت معمولی چیز کے بدلے دے دیتے ہیں۔ اسکرین، طعنہ، وہ پیغام جو آپ کو نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔ اور بعد میں آپ حیران ہوتے ہیں کہ اتنی بڑی چیز اتنی سستی کیسے بکی۔ متن اِس پر کوئی لمبی وضاحت نہیں دیتا، بس ایک جملہ: "یوں اُس نے پہلوٹھے کے حق کو حقیر جانا۔" حقارت کے لیے نفرت کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف جلدی کی ہوتی ہے۔
آج ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیں جس کی طرف آپ تھک کر گھر پہنچتے ہی سب سے پہلے ہاتھ بڑھاتے ہیں، اور اُس کے نیچے یہ الفاظ لکھ کر وہ کاغذ اُسی جگہ رکھ دیں: "یہ میری پہلوٹھی کے حق سے سستی ہے۔"
ایک تفصیل
آیت 28 میں ایک لفظ ہے جو پورے خاندان کی تباہی کی جڑ ہے: "کیونکہ"۔ "اسحاق عیسَو کو پیار کرتا تھا، کیونکہ وہ شکار کا گوشت پسند کرتا تھا۔" رِبقہ کی محبت کے ساتھ کوئی وجہ نہیں لکھی، مگر اسحاق کی محبت کی وجہ اُس کی اپنی زبان کا ذائقہ ہے۔ ذرا ٹھہریں: باپ اپنے بیٹے سے اِس لیے پیار کرتا ہے کہ وہ بیٹا اُس کی بھوک پوری کرتا ہے۔ یہی وہ بھوک ہے جو چند آیتوں بعد عیسَو کو لے ڈوبتی ہے، اور یہی وہ اندھا پن ہے جو باب 27 میں اسحاق کو دھوکا کھلائے گا۔ پیٹ کے ذریعے چلائی جانے والی محبت ہمیشہ ٹیڑھی اولاد پیدا کرتی ہے۔ اپنے گھر میں پوچھیے: میں کس بچے، کس ساتھی، کس دوست سے "کیونکہ" کے ساتھ محبت کرتا ہوں؟
بین المتون
عبرانیوں 12 عیسَو کو "حرام کار اور بےدین" کہہ کر یاد کرتا ہے، اور خاص طور پر یہ کہ اُس نے ایک وقت کے کھانے کے بدلے اپنا حق بیچ دیا، اور بعد میں آنسوؤں سے بھی اُسے واپس نہ پا سکا۔ نئے عہد نامے کی نظر میں یہ کوئی معصوم بھول نہیں تھی بلکہ ایک انتخاب تھا جس کی جڑیں دل میں تھیں۔ دوسری طرف رومیوں 9 اِسی واقعے کو الٹے سرے سے دیکھتا ہے: بچے پیدا بھی نہ ہوئے تھے کہ خدا نے فیصلہ سنا دیا، تاکہ چناؤ اعمال پر نہیں بلکہ بلانے والے پر منحصر رہے۔ دونوں سچ ہیں، اور بائبل اُنہیں ایک دوسرے میں گھلانے کی کوشش نہیں کرتی۔ عیسَو نے واقعی بیچا، اور خدا نے واقعی پہلے ہی چُن لیا تھا۔
سوال
تو کیا عیسَو کا کوئی موقع تھا؟ اگر رحم میں ہی فیصلہ ہو چکا تھا، تو دال کے پیالے کا کیا قصور؟ ایمانداری سے کہوں تو یہ گرہ متن خود نہیں کھولتا۔ مگر ایک بات نظرانداز نہ کریں: اللہ نے عیسَو سے پہلوٹھی نہیں چھینی، عیسَو نے خود کہا، "پہلوٹھے کا حق میرے کس کام کا؟" جو چیز آسمان پر پہلے سے طے تھی، وہ زمین پر ایک آزاد، تھکے ہوئے، بےپروا آدمی کے اپنے فیصلے سے پوری ہوئی۔ ہم اِن دونوں سچائیوں کو ایک منطقی نظام میں نہیں جوڑ سکتے، اور جو لوگ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں وہ عموماً ایک کو قربان کر دیتے ہیں۔ بہتر ہے ہم دونوں کے سامنے جھکے رہیں: خدا کا انتخاب ہمیں بچاتا ہے، اور ہمارے فیصلے حقیقی ہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی "شام کی تھکن" ہے جس میں آپ سب سے آسانی سے بڑی چیزیں سستے داموں بیچ دیتے ہیں؟
اگر آپ اپنی محبتوں کے آگے لکھا ہوا "کیونکہ" مٹا دیں، تو کن رشتوں میں سب سے پہلے تبدیلی آئے گی؟
Genesis 25 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
پَیدایش 25 کا کیا مطلب ہے؟
پَیدایش 25 کس بارے میں ہے؟
پَیدایش 25 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پَیدایش 25 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پَیدایش 25 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Genesis 25 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، جب میں تھکا ہارا لوٹتا ہوں اور بھوک مجھے بےصبر کر دیتی ہے، مجھے سنبھال لے۔ ایسا نہ ہو کہ وقتی طلب مجھے وہ کچھ بیچنے پر مجبور کرے جو تُو نے میرے لیے رکھا ہے۔ میری تھکن میں تُو ہی میری تسلی بن جا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
