پَیدایش 9:7
متن
سیلاب کے بعد کی خالی، کیچڑ بھری دنیا میں، جہاں لاشوں کی بو ابھی ہوا میں ہو گی، اللہ نوح اور اُس کے بیٹوں سے آخری بات یہ کہتے ہیں: ”اب پھلو پھولو اور تعداد میں بڑھتے جاؤ۔ دنیا میں پھیل جاؤ۔“ یہ وہی حکم ہے جو آیت 1 میں دیا گیا تھا، لیکن اب اُسے دہرایا جا رہا ہے، اور دہرایا جا رہا ہے خون کے بارے میں اُس سخت ہدایت کے فوراً بعد کہ جو کسی کا خون بہائے اُس کا خون بھی بہایا جائے گا۔ پہلے جان کی حفاظت کی سرحد کھینچی جاتی ہے، پھر اُسی سانس میں زندگی کو پھیلنے کا حکم ملتا ہے۔ خاتمے کے بعد آغاز۔
بنیادی بات
غور کیجیے کہ یہ دعوت نہیں، حکم ہے۔ اللہ نوح سے یہ نہیں کہتے کہ ”اگر تم چاہو تو دوبارہ شروع کر سکتے ہو“، بلکہ وہ زندگی کو فرض کے طور پر اُس کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں۔ اور یہ حکم اُس آیت کے پیچھے پیچھے آتا ہے جو انسان کو خدا کی صورت پر بنا ہوا قرار دیتی ہے۔ یہی ایک بنیاد دو کام کرتی ہے: وہ قتل کو ناقابلِ برداشت بناتی ہے اور نسل کے بڑھنے کو مقدّس۔ کیونکہ ہر نیا انسان خدا کی صورت کا ایک اور عکس ہے، اِس لیے اُسے مٹانا خدا پر ہاتھ اُٹھانا ہے اور اُسے دنیا میں لانا خدا کی صورت کو زمین پر پھیلانا ہے۔ اللہ کا جواب تباہی کے بعد سکڑنا نہیں، بلکہ زیادہ زندگی ہے۔
بڑی کہانی میں اِس کی جگہ
یہ الفاظ نئے نہیں ہیں۔ یہی حکم باغ میں پہلے انسان کو دیا گیا تھا: پھلو پھولو، زمین کو بھر دو۔ نوح ایک طرح سے دوسرا آدم ہے، ایک صاف زمین پر ایک نئی شروعات۔ اور جیسے آپ اِسی باب کو آگے پڑھیں گے، یہ شروعات بھی انگور کے باغ، نشے اور شرمندگی پر ختم ہوتی ہے۔ نئی زمین ملی، نیا دل نہیں۔ اِسی لیے یہ حکم ادھورا رہ جاتا ہے اور آگے بڑھتا رہتا ہے: ابراہام کی اولاد کے وعدے تک، اور آخرکار اُس ایک شخص تک جو سچ مچ خدا کی صورت ہے۔ خداوند یسوع مسیح کے بعد یہ حکم دوبارہ گونجتا ہے، مگر اب بچوں کی گنتی نہیں بلکہ شاگردوں کی: ”تمام قوموں کو شاگرد بناؤ۔“ زمین کو خدا کی صورت سے بھرنے کا کام اب انجیل کے ذریعے چلتا ہے۔
آئینہ
یہ آیت اُس آدمی کو دی گئی جس نے ایک پوری دنیا کو ڈوبتے دیکھا تھا۔ اور آپ؟ آپ کے پاس بھی ایک فہرست ہے: وہ رشتہ جو ٹوٹا، وہ نوکری جو چھن گئی، وہ دعا جس کا جواب نہ آیا، وہ بچہ جو پیدا ہونے سے پہلے چلا گیا۔ اور نقصان کے بعد ہم سب ایک ہی کام کرتے ہیں: ہم سکڑ جاتے ہیں۔ کم لوگوں کو گھر بلاتے ہیں، کم اُمید رکھتے ہیں، کم مانگتے ہیں، دل کے دروازے کی زنجیر ایک سوراخ اور چڑھا دیتے ہیں، اور اِس احتیاط کو ہم دانائی کہتے ہیں۔ لیکن اللہ نوح سے یہ نہیں کہتے کہ ”اب سنبھل کر رہو“۔ وہ کہتے ہیں: پھیل جاؤ۔ حفاظت آپ کی سب سے اونچی قدر نہیں ہے؛ زندگی ہے۔
آج ہی اپنے فون سے ایک پیغام بھیجیے اور کسی ایک شخص کو اپنے دسترخوان پر بلائیے، خاص طور پر اُسے جس سے آپ نے کسی تلخ تجربے کے بعد فاصلہ رکھنا شروع کر دیا تھا۔
مرکزی کردار
یہاں اصل کردار نوح نہیں، اللہ ہیں۔ اور اُن کے بارے میں یہ آیت ایک حیران کن بات کھولتی ہے۔ جس خدا نے ابھی ابھی زمین کو صاف کیا ہے، وہ پیچھے نہیں ہٹتے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ انسان سے تجربہ ناکام رہا، بس اب اِسے ختم کرو۔ وہ اُسی خراب مواد کو دوبارہ اُٹھاتے ہیں اور اُس پر برکت رکھ دیتے ہیں۔ عدالت کے بعد اُن کا پہلا قدم زندگی کا حکم ہے۔ یہ محبت کا وہ رُخ ہے جو ہمیں الجھا دیتا ہے: وہی ہاتھ جو سیلاب بھیج سکتا ہے، وہی ہاتھ برکت دیتا ہے۔ اور آگے آیت 11 میں وہ خود کو باندھ لیتے ہیں، ایک ایسا وعدہ جس میں شرط انسان کی نیکی نہیں۔ یہ فضل ہے، سیلاب کے کیچڑ میں بویا ہوا۔
پہلے سننے والے
پہلے سننے والے وہ اسرائیلی تھے جو ایک ایسی دنیا میں رہتے تھے جہاں آدھے بچے پانچ سال کی عمر سے پہلے مر جاتے تھے، جہاں بانجھ پن شرمندگی سمجھا جاتا تھا، اور جہاں پڑوسی قومیں اپنے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے بچوں کو قربان کرتی تھیں۔ اُن کے کانوں میں ”پھلو پھولو“ کوئی رومانوی جملہ نہیں تھا بلکہ ایک محاذ تھا: خاندان کا بڑھنا خدا کے ساتھ وفاداری کا میدان ہے، اور خون بہانا خدا کے خلاف بغاوت۔ کنعان کی سرزمین میں داخل ہوتے وقت، دیوقامت لوگوں اور بند شہروں کے سامنے، اُنہیں یاد دلایا جا رہا تھا کہ زمین کو بھرنے کا حکم اُن کی ہمت پر نہیں، خدا کے کلام پر کھڑا ہے۔
ایک باریک بات
آیت 1 میں کہا گیا: ”دنیا تم سے بھر جائے۔“ آیت 7 میں لفظ بدل جاتا ہے: ”دنیا میں پھیل جاؤ۔“ بھرنا اور پھیلنا ایک نہیں۔ پھیلنے کا مطلب ہے بکھر جانا، اپنے محفوظ گروہ سے نکل کر انجان علاقوں میں چلے جانا۔ اور یہی وہ حکم ہے جس سے انسان دو باب بعد صاف انکار کرتا ہے، جب وہ بابل میں اکٹھے ہو کر ایک بُرج بناتے ہیں تاکہ بکھر نہ جائیں۔ ہمارا خوف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے: ہم اپنے جیسوں کے ساتھ، اپنی دیوار کے اندر رہنا چاہتے ہیں۔ خدا کی برکت ہمیں باہر بھیجتی ہے، اور جو باہر جانے سے انکار کرتا ہے وہ برکت کو تحفظ میں بدل دیتا ہے۔
غور کے سوالات
کس نقصان کے بعد آپ نے چپکے سے سکڑنا شروع کیا، اور آپ اُس سکڑنے کو کون سا شریفانہ نام دیتے ہیں؟
اگر ہر انسان خدا کی صورت کا عکس ہے، تو اِس ہفتے آپ کی زبان یا رویّہ کس ایک شخص کے ساتھ اِس سچائی کی نفی کر رہا ہے؟
Genesis 9:7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
پَیدایش 9:7 کا کیا مطلب ہے؟
پَیدایش 9:7 کس بارے میں ہے؟
پَیدایش 9:7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پَیدایش 9:7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پَیدایش 9:7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Genesis 9 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
نوح کے سیلاب کے بعد خدا فرماتا ہے کہ زمین کے تمام جانور انسان سے ڈریں گے اور کانپیں گے۔ یہ آدم کو دی گئی اصلی حکمرانی جیسی نہیں ہے۔ باغِ عدن میں تو محبت اور ہم آہنگی تھی، اب خوف ہے۔
گناہ نے صرف انسان اور خدا کے رشتے کو نہیں توڑا، بلکہ ہر مخلوق کے ساتھ ہمارا تعلق بھی زخمی کر دیا۔ سوچو، جس چیز پر تمہارا اختیار خوف سے چلتا ہو، وہ کبھی محبت کا گھر نہیں بن سکتا۔ کیا تمہارے رشتوں میں بھی کہیں یہی خوف کی حکمرانی چل رہی ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں