یرمیاہ 28
متن
حننیاہ نامی نبی ہیکل کے صحن میں اماموں اور عوام کے سامنے کھڑا ہو کر اعلان کرتا ہے: ”رب الافواج جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے کہ مَیں شاہِ بابل کا جوا توڑ ڈالوں گا۔“ دو سال کے اندر اندر ہیکل کا لُوٹا ہوا سامان اور جلاوطن لوگ واپس آ جائیں گے۔ یرمیاہ پہلے ”آمین“ کہتا ہے، پھر یاد دلاتا ہے کہ سلامتی کی پیش گوئی کی تصدیق صرف اُس کے پورا ہونے سے ہوتی ہے۔ حننیاہ یرمیاہ کی گردن سے لکڑی کا جوا اُتار کر توڑ ڈالتا ہے، اور خدا جواب میں فرماتے ہیں کہ لکڑی کی جگہ اب لوہے کا جوا ہے۔ اُسی سال کے ساتویں مہینے میں حننیاہ مر جاتا ہے۔
مرکزی بات
یہ باب ایک تکلیف دہ اصول سامنے رکھتا ہے: خدا کے کلام کی پہچان یہ نہیں کہ وہ کتنا تسلی بخش لگتا ہے۔ حننیاہ کی زبان بالکل درست ہے، اُس کا حوالہ ”رب الافواج“ ہے، اُس کا مضمون نجات ہے، اور اُس کا وقت مختصر اور قابلِ برداشت ہے۔ پھر بھی وہ جھوٹا ہے۔ یرمیاہ کا الزام یہ نہیں کہ اُس نے کوئی غلط عقیدہ سکھایا، بلکہ یہ: ”تُو نے اِس قوم کو جھوٹ پر بھروسا رکھنے پر آمادہ کیا ہے۔“ بھروسے کا رُخ غلط کر دینا ہی سب سے بڑا نقصان ہے۔ اور خدا کی حاکمیت یہاں اُس جگہ ظاہر ہوتی ہے جہاں ہم اُسے دیکھنا نہیں چاہتے: بابل کا جوا اتفاق نہیں، خدا کا مقرر کردہ ہے۔ جو شخص اُس جوے کو وقت سے پہلے توڑتا ہے، وہ آزادی نہیں دیتا، صرف لوہا پہناتا ہے۔
کلامِ مقدّس کا تسلسل
جوا پوری بائبل میں چلتا ہوا ایک منظر ہے۔ یہاں ایک جھوٹا نبی جوا توڑ کر لوگوں کو آزادی کا دھوکا دیتا ہے؛ آگے چل کر خداوند یسوع مسیح لوگوں کو جوا توڑنے کی نہیں بلکہ ایک نیا جوا اُٹھانے کی دعوت دیتے ہیں: ”میرا جوا اپنے اوپر اُٹھا لو“ (متی ۱۱)۔ فرق یہ ہے کہ مسیح خود اُس جوے کے نیچے کھڑے ہوئے۔ گتسمنی میں اُنہوں نے پیالہ توڑا نہیں، پیا۔ یرمیاہ کا لکڑی کا جوا اُس صلیب کا ہلکا سا سایہ ہے جس پر لکڑی نے واقعی ایک قوم کا بوجھ اُٹھایا۔ نجات کا راستہ بائبل میں کبھی بھی بوجھ سے فرار نہیں رہا، بلکہ خدا کے مقرر کردہ بوجھ کے نیچے فرمانبرداری سے جھکنا رہا ہے۔ حننیاہ شارٹ کٹ بیچتا ہے؛ خدا راستہ دیتا ہے۔
آئینہ
ایمانداری سے سوچیے: آپ کس آواز کو سننا پسند کرتے ہیں؟ وہ ڈاکٹر جو کہتا ہے ”دو سال میں سب ٹھیک ہو جائے گا“، یا وہ جو تفصیل سے سچ بتاتا ہے؟ وہ واعظ جو آپ کے قرض، آپ کی بیمار شادی، آپ کے باغی بیٹے کے بارے میں فوری معجزے کا وعدہ کرتا ہے، یا وہ جو کہتا ہے کہ خدا شاید آپ کو ستّر سال کی وفاداری کے لیے بلا رہے ہیں؟ ہم سب میں ایک چھوٹا حننیاہ بستا ہے جو خدا کے نام پر اپنی خواہش بولتا ہے۔ اور ہم اُسے ”ایمان“ کہہ دیتے ہیں۔ مگر غور کیجیے: یرمیاہ نے امید کو جھٹلایا نہیں، اُس نے ”آمین“ کہا۔ سچائی بےرحمی نہیں ہوتی، مگر وہ خود کو وقت کے امتحان کے حوالے کر دیتی ہے۔
آج یہ کیجیے: ایک کاغذ پر وہ ایک صورتِ حال لکھیے جس کے بارے میں آپ خدا سے ”دو سال“ والا جواب مانگ رہے ہیں۔ پھر اُس کے نیچے یہ جملہ لکھ کر بلند آواز سے پڑھیے: ”خداوند، اگر آپ کا جواب ستّر سال ہے تو مجھے جھکنا سکھائیے۔“
ایک باریک نکتہ
یرمیاہ کا ”آمین! رب ایسا ہی کرے“ اِس باب کا سب سے غیرمتوقع لفظ ہے۔ وہ طنز نہیں ہے۔ یرمیاہ واقعی چاہتا ہے کہ حننیاہ سچا نکلے؛ وہ خود بھی ہیکل کے خالی خزانے اور بابل میں بیٹھے جلاوطنوں پر روتا ہے۔ یہی اُسے محض ایک منفی آواز سے الگ کرتا ہے۔ جھوٹے نبی کی مخالفت کرنے والا کوئی کڑوا آدمی نہیں، بلکہ وہ شخص ہے جس کا دل اُسی بحالی کے لیے ترستا ہے جس کا حننیاہ سستا وعدہ کر رہا ہے۔ فرق خواہش میں نہیں، اختیار میں ہے: یرمیاہ اپنی خواہش کو خدا کا فرمان کہنے سے انکار کرتا ہے۔ ہماری دعاؤں میں یہ فرق اکثر مٹ جاتا ہے، اور یہیں سے خودفریبی شروع ہوتی ہے۔
پہلے سننے والے
جو لوگ اُس دن ہیکل کے صحن میں کھڑے تھے، اُن کے کان میں حننیاہ کی بات بالکل ”صحیح العقیدہ“ لگی۔ وہ صیّون کی تعلیم پر پلے تھے: خدا اپنے گھر کو نہیں چھوڑیں گے۔ اُن کے رشتہ دار ۵۹۷ ق م میں یہویاکین کے ساتھ جلاوطن ہو چکے تھے، ہیکل کے برتن بابل کے مندر میں پڑے تھے، اور ہر ماں دو سال کی مدت سن کر حساب لگا رہی تھی کہ بیٹا کب لوٹے گا۔ اِس ہجوم کے لیے یرمیاہ محبِ وطن نہیں، غدار تھا: گردن میں جوا ڈالے ہوئے وہ آدمی جو کہتا تھا کہ دشمن کی خدمت کرو۔ اُنہیں یہ سننا پڑا کہ خدا کی وفاداری اور قوم کی خواہش ایک چیز نہیں۔
پس منظر
یہ واقعہ صِدقیاہ کی حکومت کے چوتھے سال، یعنی تقریباً ۵۹۴ ق م میں پیش آتا ہے۔ صِدقیاہ نبوکدنضر کا بٹھایا ہوا کمزور بادشاہ تھا، اور باب ۲۷ کے مطابق ادوم، موآب، عمون، صور اور صیدا کے سفیر یروشلم میں بغاوت کی سازش کر رہے تھے۔ اُسی ماحول میں یرمیاہ خدا کے حکم سے گردن میں لکڑی کا جوا باندھے پھر رہا تھا: ایک چلتا پھرتا سیاسی اور روحانی اعلان۔ حننیاہ جِبعون سے آیا تھا، ایک اماموں کا شہر، یعنی وہ کوئی گمنام آدمی نہ تھا۔ ہیکل کا صحن اُس زمانے کا عوامی منبر تھا؛ وہاں بولا ہوا لفظ رائے عامہ بناتا تھا۔ اِسی لیے جوے کا توڑا جانا محض علامت نہیں، سرِعام ایک چیلنج تھا، اور خدا کا جواب بھی اُتنا ہی سرِعام آیا۔
غور و فکر
کون سی بات ہے جس کے بارے میں مَیں اپنی خواہش کو خدا کا وعدہ بنا کر دوسروں کو سنا رہا ہوں؟
جب خدا کسی بوجھ کو فوراً ہٹانے کے بجائے اُس کے نیچے چلنا سکھاتے ہیں، تو میرا دل اُن کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟
Jeremiah 28 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یرمیاہ 28 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ 28 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ 28 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یرمیاہ 28 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یرمیاہ 28 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Jeremiah 28 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
