بائبل کی تشریح

یرمیاہ 32

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن کا بیان

یروشلم کا محاصرہ ہو چکا ہے، بابل کے پُشتے فصیل تک پہنچ چکے ہیں، اور یرمیاہ نبی شاہی محل کے محافظوں کے صحن میں قید ہے، کیونکہ اُس نے بادشاہ کو وہ بات سنائی جو کوئی سننا نہیں چاہتا تھا: شہر گرے گا۔ اُسی گھڑی خدا اُسے ایک عجیب حکم دیتے ہیں۔ اُس کا چچا زاد بھائی حنم ایل آتا ہے اور عنتوت کا کھیت بیچنے کی پیشکش کرتا ہے، وہ کھیت جو دشمن کے قدموں تلے ہے۔ یرمیاہ چاندی کے سترہ سِکے تول کر دیتا ہے، انتقال نامہ لکھ کر مُہر لگاتا ہے، گواہ بُلاتا ہے اور دستاویز مٹی کے برتن میں محفوظ کرواتا ہے۔ پھر وہ حیرت سے دعا کرتا ہے، اور خدا اُسے جواب میں تباہی اور بحالی، دونوں کا وعدہ سناتے ہیں۔

اصل مرکز

یہ باب ایک سودے کی رسید ہے جو اُمید میں بدل جاتی ہے۔ خدا یہاں دو باتیں ایک ساتھ کہتے ہیں، اور ہم عموماً صرف ایک ہی سننا چاہتے ہیں۔ پہلی: ”مَیں اِس شہر کو بابل اور اُس کے بادشاہ نبوکدنضر کے حوالے کر دوں گا۔“ عدالت حقیقی ہے، ٹالی نہیں جائے گی۔ دوسری: ”ایک وقت آئے گا جب اِس ملک میں دوبارہ گھر، کھیت اور انگور کے باغ خریدے جائیں گے۔“ اور دونوں کے بیچ میں وہ سوال کھڑا ہے جو پورے باب کی ریڑھ کی ہڈی ہے: ”تو پھر کیا کوئی کام ہے جو مجھ سے نہیں ہو سکتا؟“ یرمیاہ کے سترہ سِکے اِسی سوال کا عملی جواب ہیں۔ فضل یہاں محض معافی نہیں، بلکہ نئی تخلیق ہے: ”مَیں اپنا خوف اُن کے دلوں میں ڈال دوں گا۔“ خدا قوم کو نہ صرف واپس لاتے ہیں، بلکہ اُس کا دل بھی بدل دیتے ہیں، تاکہ وہ دوبارہ نہ بھٹکے۔

مشترکہ دھاگہ

یرمیاہ کا یہ سودا محض جذباتی اشارہ نہیں تھا؛ یہ شریعت کا وہ حق تھا جسے عبرانی میں ”گُئیل“ یعنی چھڑانے والا رشتے دار کہتے ہیں۔ قریبی رشتے دار کا فرض تھا کہ وہ گرتے ہوئے خاندان کی زمین خرید کر اُسے خاندان میں واپس لائے۔ یرمیاہ ایک قیدی کی حیثیت سے، تباہی کے عین دہانے پر، چھڑانے والے کا کردار ادا کرتا ہے اور قیمت ادا کر دیتا ہے۔ یہی نمونہ آگے بڑھتا ہے: ایک اَور چھڑانے والا آئے گا جو اُس وقت قیمت ادا کرے گا جب سب کچھ ضائع ہو چکا دکھائی دے گا، اور وہ قیمت چاندی کے سکے نہیں بلکہ اپنی جان ہو گی۔ اور آیت 40 کا ”ابدی عہد“ وہی عہد ہے جس کی مہر مسیح نے اپنے لہو سے لگائی، جس میں خدا کی شریعت کاغذ پر نہیں بلکہ دل میں لکھی جاتی ہے۔

آئینہ

ہم سب کے پاس ایسی زمینیں ہیں جن پر دشمن کھڑا ہے: وہ رشتہ جو ٹوٹ چکا ہے، وہ کاروبار جو ڈوب رہا ہے، وہ بیٹا جو کلیسیا سے دُور جا چکا ہے، وہ جسم جس کی رپورٹ اچھی نہیں آئی۔ اور ہم حساب لگاتے ہیں: اب اِس میں پیسہ، وقت، دل لگانا بےوقوفی ہے۔ یرمیاہ نے بھی حساب لگایا تھا، اُس کی دعا میں وہ الجھن صاف نظر آتی ہے: ”کمال ہے کہ گو شہر کو بابل کی فوج کے حوالے کیا جائے گا توبھی تُو مجھ سے ہم کلام ہوا ہے کہ چاندی دے کر کھیت خرید لے۔“ اُس نے الجھن کے باوجود سکے تول دیے۔ ایمان اکثر سمجھ آنے سے پہلے دستخط کرنے کا نام ہے۔ آج ہی ایک کاغذ پر اُس ایک صورتحال کا نام لکھیں جسے آپ نے اندر ہی اندر ”ختم“ قرار دے دیا ہے، اور اُس کے نیچے لکھیں: ”کیا کوئی کام ہے جو تجھ سے نہیں ہو سکتا؟“ پھر وہ کاغذ اپنی بائبل میں رکھ دیں۔

سامعین کا چہرہ

پہلے سننے والے وہ لوگ تھے جن کے کان میں شہر پناہ سے ٹکراتے ہوئے پتھروں کی آواز آ رہی تھی اور جن کے بچے بھوک سے رو رہے تھے۔ اُن کے لیے زمین صرف جائیداد نہیں تھی؛ زمین عہد کی ضمانت تھی، اِس بات کا ثبوت کہ خدا نے اُنہیں قبول کیا ہوا ہے۔ زمین کا چھن جانا اُن کے نزدیک خدا کے مُنہ پھیر لینے کا اعلان تھا۔ اِسی لیے انتقال نامے کی تفصیل، مُہر، گواہ، نقل، مٹی کا برتن، اُن کے لیے خشک قانونی زبان نہیں بلکہ ایک گرجدار بشارت تھی۔ مٹی کا برتن کہہ رہا تھا: یہ کاغذ دہائیوں تک محفوظ رہے گا، کیونکہ کوئی ہو گا جو واپس آ کر اِسے پڑھے گا۔

ایک مشکل سوال

مگر ایک بات کانٹے کی طرح چبھتی ہے: خدا خود فرماتے ہیں، ”مَیں ہی نے یہ بڑی آفت اِس قوم پر نازل کی۔“ جلتے ہوئے گھر، بھوکے بچے، جلاوطنی کی لمبی قطاریں، یہ سب اتفاق نہیں تھے۔ اور آیت 18 میں وہ جملہ ہے جسے ہم نظرانداز کرنا چاہتے ہیں: ”بچوں کو اُن کے والدین کے گناہوں کی سزا دیتا ہے۔“ اِس کی کوئی صفائی پیش کرنا متن کے ساتھ بےایمانی ہو گی۔ متن یہ نہیں کہتا کہ یہ سب منصفانہ محسوس ہو گا؛ یہ صرف اتنا کہتا ہے کہ وہی ہاتھ جو توڑتا ہے، وہی لگاتا بھی ہے، اور لگاتے وقت ”وفاداری اور پورے دل و جان“ سے لگاتا ہے۔ ہمیں اِسی تنگ جگہ پر کھڑا رہنا سیکھنا ہے، بغیر کسی سستی تسلی کے۔

مرکزی کردار

اِس باب کا مرکزی کردار یرمیاہ نہیں، خدا ہیں؛ اور جو چیز سب سے زیادہ حیران کرتی ہے وہ اُن کا لہجہ ہے۔ آیت 30 سے 35 تک ایک طویل، تھکی ہوئی شکایت ہے، گویا کوئی باپ اپنی اولاد کی فہرست گِن رہا ہو: جوانی سے لے کر آج تک، بادشاہ سے لے کر نبی تک، اور پھر وادیٔ بن ہنوم کے بچے۔ ”مجھے اِس کا خیال تک نہیں آیا“ میں غصہ کم اور صدمہ زیادہ ہے۔ لیکن یہی آواز چند آیتوں بعد کہتی ہے: ”اُنہیں برکت دینا میرے لیے خوشی کا باعث ہو گا۔“ یہ وہ خدا ہیں جو رنجیدہ ہونے کے باوجود رحم کرنے کو اپنی خوشی کہتے ہیں۔ اُن کی شفقت کسی کمزوری سے نہیں، اپنے ہی عہد سے پھوٹتی ہے۔

غور و فکر

یرمیاہ نے سمجھ آنے سے پہلے ہی سکے تول دیے تھے؛ آپ کی زندگی میں وہ کون سا ”کھیت“ ہے جس پر دستخط کرنے سے آپ اِس لیے رُکے ہوئے ہیں کہ حساب پورا نہیں بیٹھتا؟

اگر برکت دینا خدا کے لیے ”خوشی کا باعث“ ہے، تو آپ کی دعا میں اُن کے بارے میں آپ کا اندازہ کس حد تک اِس سے مختلف ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Jeremiah 32 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یرمیاہ 32 کا کیا مطلب ہے؟
یروشلم کا محاصرہ ہو چکا ہے، بابل کے پُشتے فصیل تک پہنچ چکے ہیں، اور یرمیاہ نبی شاہی محل کے محافظوں کے صحن میں قید ہے، کیونکہ اُس نے بادشاہ کو وہ بات سنائی جو کوئی سننا نہیں چاہتا تھا: شہر گرے گا۔ اُسی گھڑی خدا اُسے ایک عجیب حکم دیتے ہیں۔ اُس کا چچا زاد بھائی حنم ایل آتا ہے اور عنتوت کا کھیت بیچنے کی پیشکش کرتا ہے، وہ کھیت جو دشمن کے قدموں تلے ہے۔ یرمیاہ چاندی کے سترہ سِکے تول کر دیتا ہے، انتقال نامہ لکھ کر مُہر لگاتا ہے، گواہ بُلاتا ہے اور دستاویز مٹی کے برتن میں محفوظ کرواتا ہے۔ پھر وہ حیرت سے دعا کرتا ہے، اور خدا اُسے جواب میں تباہی اور بحالی، دونوں کا وعدہ سناتے ہیں۔
یرمیاہ 32 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ کا یہ سودا محض جذباتی اشارہ نہیں تھا؛ یہ شریعت کا وہ حق تھا جسے عبرانی میں ”گُئیل“ یعنی چھڑانے والا رشتے دار کہتے ہیں۔ قریبی رشتے دار کا فرض تھا کہ وہ گرتے ہوئے خاندان کی زمین خرید کر اُسے خاندان میں واپس لائے۔ یرمیاہ ایک قیدی کی حیثیت سے، تباہی کے عین دہانے پر، چھڑانے والے کا کردار ادا کرتا ہے اور قیمت ادا کر دیتا ہے۔ یہی نمونہ آگے بڑھتا ہے: ایک اَور چھڑانے والا آئے گا جو اُس وقت قیمت ادا کرے گا جب سب کچھ ضائع ہو چکا دکھائی دے گا، اور وہ قیمت چاندی کے سکے نہیں بلکہ اپنی جان ہو گی۔ اور آیت 40 کا ”ابدی عہد“ وہی عہد ہے جس کی مہر مسیح نے اپنے لہو سے لگائی، جس میں خدا کی شریعت کاغذ پر نہیں بلکہ دل میں لکھی جاتی ہے۔
یرمیاہ 32 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پہلے سننے والے وہ لوگ تھے جن کے کان میں شہر پناہ سے ٹکراتے ہوئے پتھروں کی آواز آ رہی تھی اور جن کے بچے بھوک سے رو رہے تھے۔ اُن کے لیے زمین صرف جائیداد نہیں تھی؛ زمین عہد کی ضمانت تھی، اِس بات کا ثبوت کہ خدا نے اُنہیں قبول کیا ہوا ہے۔ زمین کا چھن جانا اُن کے نزدیک خدا کے مُنہ پھیر لینے کا اعلان تھا۔ اِسی لیے انتقال نامے کی تفصیل، مُہر، گواہ، نقل، مٹی کا برتن، اُن کے لیے خشک قانونی زبان نہیں بلکہ ایک گرجدار بشارت تھی۔ مٹی کا برتن کہہ رہا تھا: یہ کاغذ دہائیوں تک محفوظ رہے گا، کیونکہ کوئی ہو گا جو واپس آ کر اِسے پڑھے گا۔
یرمیاہ 32 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِس باب کا مرکزی کردار یرمیاہ نہیں، خدا ہیں؛ اور جو چیز سب سے زیادہ حیران کرتی ہے وہ اُن کا لہجہ ہے۔ آیت 30 سے 35 تک ایک طویل، تھکی ہوئی شکایت ہے، گویا کوئی باپ اپنی اولاد کی فہرست گِن رہا ہو: جوانی سے لے کر آج تک، بادشاہ سے لے کر نبی تک، اور پھر وادیٔ بن ہنوم کے بچے۔ ”مجھے اِس کا خیال تک نہیں آیا“ میں غصہ کم اور صدمہ زیادہ ہے۔ لیکن یہی آواز چند آیتوں بعد کہتی ہے: ”اُنہیں برکت دینا میرے لیے خوشی کا باعث ہو گا۔“ یہ وہ خدا ہیں جو رنجیدہ ہونے کے باوجود رحم کرنے کو اپنی خوشی کہتے ہیں۔ اُن کی شفقت کسی کمزوری سے نہیں، اپنے ہی عہد سے پھوٹتی ہے۔
یرمیاہ 32 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر برکت دینا خدا کے لیے ”خوشی کا باعث“ ہے، تو آپ کی دعا میں اُن کے بارے میں آپ کا اندازہ کس حد تک اِس سے مختلف ہے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Jeremiah 32 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 4

صِدقیاہ نے یرمیاہ کو قید میں ڈال دیا تاکہ یہ پیغام بند ہو جائے، لیکن خدا کا کلام سلاخوں کے پیچھے بھی زندہ رہا۔ غور کریں کہ پیشین گوئی کتنی باریک ہے: "اُسے بابل کے بادشاہ کے سامنے پیش کیا جائے گا جو اُس سے بات کرے گا اور اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔" جس سچائی سے ہم آنکھیں چُراتے ہیں، ایک دن وہ ہمارے آمنے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ آج کون سی بات ہے جسے آپ سننے سے انکار کر رہے ہیں؟

شکرگزاری ادارتی کو آیت 29

خداوند، شکر ہے کہ تُو خاموش نہیں رہتا۔ جن چھتوں پر بعل کے لئے بخور جلایا گیا، اُن کے بارے میں تُو نے صاف صاف بتا دیا۔ شکر کہ تُو ہمارے گھروں کے چھپے بُتوں کو بھی دیکھتا ہے اور وقت پر خبردار کرتا ہے، تاکہ ہمارے دل صرف تیری پرستش میں لگے رہیں۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں