یرمیاہ 31
متن
راماہ سے چیخیں اُٹھ رہی ہیں۔ راخل اپنے بچوں پر رو رہی ہے اور کسی کی تسلی قبول نہیں کرتی، کیونکہ بچے وہاں نہیں ہیں۔ اِسی ماحول میں یرمیاہ کے کان میں خداوند کی آواز آتی ہے، اور وہ آواز ملبے کے اوپر ایک شہر، ایک قوم، ایک شادی کا شور دوبارہ کھڑا کر دیتی ہے: تلوار سے بچے ہوئے لوگوں کو ریگستان میں فضل ملا، کنواری اسرائیل دوبارہ دفوں کے ساتھ ناچے گی، سامریہ کی پہاڑیوں پر انگور کے باغ لگیں گے۔ اندھے، لنگڑے، حاملہ عورتیں، سب شمالی ملک سے واپس آئیں گے، روتے ہوئے مگر ہموار راستوں پر۔ افرائیم اپنا سینہ پیٹ کر واپس مُڑتا ہے، اور خدا کا دل اُس کے لئے تڑپ اُٹھتا ہے۔ آخر میں سب سے بڑا وعدہ آتا ہے: ایک نیا عہد، شریعت پتھر پر نہیں بلکہ دلوں پر کندہ، اور لاشوں سے ناپاک ہوئی وادی بھی مقدّس ہو جائے گی۔
اصل مرکز
یہ باب بحالی کی خبر ہے، لیکن غور کریں کہ بحالی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ نہ توبہ سے، نہ اصلاح شدہ رویّے سے، بلکہ ایک ایسے فیصلے سے جو انسان کے وجود سے پہلے کا ہے: ”مَیں نے تجھے ہمیشہ ہی پیار کیا ہے، اِس لئے مَیں تجھے بڑی شفقت سے اپنے پاس کھینچ لایا ہوں۔“ پہلے محبت، پھر کھینچنا، پھر واپسی۔ افرائیم کی توبہ آیت ۱۸ میں ہی خود اِس بات کو مان لیتی ہے: ”اے رب، مجھے واپس لا تاکہ مَیں واپس آؤں۔“ یعنی لوٹنے کی طاقت بھی خدا ہی دیتا ہے۔ اور نیا عہد پرانے سے اِس لئے مختلف نہیں کہ اُس کے مطالبے ہلکے ہیں، بلکہ اِس لئے کہ خدا شریعت کی جگہ بدل دیتا ہے: بیرونی حکم اندرونی خواہش بن جاتا ہے، اور اِس سب کی بنیاد یہ ہے کہ قصور معاف ہو چکا ہے۔ معافی اجر نہیں، نیو ہے۔
مرکزی دھاگا
اِس باب کا سب سے بڑا وعدہ چھ سو سال تک کھلا پڑا رہا۔ ایک نیا عہد، جس کی بنیاد سزا نہیں بلکہ یہ ہو گی: ”مَیں اُن کا قصور معاف کروں گا اور آئندہ اُن کے گناہوں کو یاد نہیں کروں گا۔“ اور پھر ایک اُوپری کمرے میں، صلیب سے چند گھنٹے پہلے، خداوند یسوع پیالہ اُٹھا کر کہتے ہیں کہ یہ نیا عہد اُن کے خون میں ہے۔ وہ یرمیاہ کے الفاظ بےسبب نہیں دہراتے۔ وہ اُس فدیے کا نام لے رہے ہیں جس کا ذکر آیت ۱۱ میں پہلے ہی ہو چکا ہے: ”رب نے فدیہ دے کر یعقوب کو بچایا ہے۔“ یرمیاہ نہیں جانتا تھا کہ وہ قیمت کس شکل میں ادا ہو گی۔ ہم جانتے ہیں۔ دل پر شریعت لکھنے والی اُنگلی صلیب سے گزر کر آتی ہے۔
آئینہ
آیت ۲۹ کی کہاوت آج بھی زبانوں پر ہے، صرف الفاظ بدلے ہیں: ”میرا باپ ایسا ہی تھا۔“ ”ہمارے خاندان میں ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے۔“ آپ اپنے غصے، اپنی خاموشی، اپنے پیسے سے ڈرنے کی عادت کو وراثت کہہ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ خدا اِس کہاوت کو ختم کرتا ہے، مگر آزاد کرنے کے لئے، الزام بڑھانے کے لئے نہیں: اب سے کھٹے انگور کھانے والے کے اپنے ہی دانت کھٹے ہوں گے۔ یعنی آپ کی کہانی ماضی کی قید میں نہیں ہے۔ اور دوسری طرف راخل ہے، جو تسلی قبول نہیں کرتی، کیونکہ کچھ نقصان ایسے ہوتے ہیں جن پر تسلی توہین لگتی ہے۔ خدا اُسے شرمندہ نہیں کرتا؛ وہ اُسے وعدہ دیتا ہے۔
آج ہی، اونچی آواز میں، افرائیم کے یہ الفاظ اپنے لئے دہرائیں: ”اے رب، مجھے واپس لا تاکہ مَیں واپس آؤں۔“ ایک بار، دل سے، جہاں کوئی نہ سن رہا ہو۔
کلام کی گونج
راخل کا رونا یرمیاہ کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔ متی اپنی انجیل کے شروع میں، جب ہیرودیس بیت لحم کے بچوں کو قتل کرتا ہے، بالکل یہی آیت اُٹھاتا ہے: راماہ میں شور، اور تسلی سے انکار۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ ماؤں کو چپ ہو جانا چاہئے۔ وہ اِس ماتم کو مسیح کی آمد کے عین بیچ میں رکھ دیتا ہے، کیونکہ نجات دہندہ خون اور آنسو کے درمیان سے آتا ہے، اُن سے بچ کر نہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ متی آیت ۱۵ کا حوالہ دیتا ہے مگر آیت ۱۷ اُس کے پیچھے کھڑی رہتی ہے: ”تیرا مستقبل پُراُمید ہو گا۔“ جو ماتم کا حوالہ پڑھتا ہے، اُسے وعدہ بھی وراثت میں ملتا ہے۔
ایک مشکل سوال
اگر نیا عہد یہ کہتا ہے کہ ”چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب مجھے جانیں گے“، تو ہم آج تک ایک دوسرے کو کیوں سکھا رہے ہیں؟ کلیسیا میں تعلیم، بائبل مطالعہ، منبر، یہ سب کیوں؟ اور ذاتی طور پر: مَیں خدا کو ویسا کیوں نہیں جانتا جیسا یہ آیت کہتی ہے؟ ایمانداری سے کہوں تو اِس کا کوئی صاف جواب نہیں جو تجربے سے میل کھائے۔ عہد باندھا جا چکا ہے، مگر اُس کی پوری فصل ابھی نہیں کٹی۔ ہم اُس درمیانی وقت میں جیتے ہیں جہاں معافی مکمل ہے مگر پہچان ادھوری۔ اِس تناؤ کو گھٹانے کی کوشش دو غلطیوں کی طرف لے جاتی ہے: یا وعدے کو کم کر دینا، یا اپنی محتاجی کا انکار کرنا۔ بہتر ہے کہ ہم اِسے کھلا رکھیں اور تڑپتے رہیں۔
ایک باریک تفصیل
آیت ۲۶ اچانک نبی کی اپنی آواز ہے: ”تب مَیں جاگ اُٹھا اور چاروں طرف دیکھا۔ میری نیند کتنی میٹھی رہی تھی!“ یہ وہی آدمی ہے جو اپنی کتاب میں روتا، شکایت کرتا، اپنی پیدائش کے دن پر ماتم کرتا ہے۔ اُسے قید، طعنے اور ایک ڈوبتے شہر کا منظر ملا۔ اور یہاں، ایک لمحے کے لئے، وہ ایسے جاگتا ہے جیسے کوئی بچہ سیر ہو کر سویا ہو۔ وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا، یروشلم ابھی گرنے والا ہے، مگر خدا کے کلام نے اُس کے اندر کچھ ٹھنڈا کر دیا۔ یہی آیت ۲۵ کا عمل ہے: تھکے ماندوں کو نئی طاقت، غش کھانے والوں کو تازگی۔ کبھی کبھی خدا کے وعدے کی پہلی قسط صرف اچھی نیند ہوتی ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سی بات ہے جس کے بارے میں آپ کہتے ہیں ”یہ میرے خاندان کا مزاج ہے“، اور آیت ۳۰ اُس پر کیا فرق ڈالتی ہے؟
راخل کی طرح آپ کس نقصان پر تسلی قبول نہیں کر پا رہے، اور کیا آپ آیت ۱۷ کو اُس نقصان کے سامنے بولنے کی جرأت رکھتے ہیں؟
Jeremiah 31 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یرمیاہ 31 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ 31 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ 31 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یرمیاہ 31 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یرمیاہ 31 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Jeremiah 31 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو نے میرے دل کو نرم کیا۔ واپس آنے کے بعد مَیں پچھتایا اور سمجھ آنے پر مَیں نے اپنے سینے کو پیٹا۔ شکر کہ یہ شرمندگی میری سزا نہیں بلکہ تیری رحمت کا کام ہے، جو مجھے تیری طرف واپس لے آتی ہے۔ تُو نے میری جوانی کی غلطیوں کے باوجود مجھے قبول کیا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں