یرمیاہ 36
متن کیا کہتا ہے
یہویقیم کی حکومت کے چوتھے سال میں خداوند یرمیاہ سے فرماتے ہیں: بیس برس کی نبوتیں ایک طومار میں لکھ لے۔ باروک اُنہیں قلم بند کرتا ہے اور روزے کے دن ہیکل میں بلند آواز سے پڑھتا ہے؛ خبر افسروں تک، اور افسروں سے بادشاہ تک پہنچتی ہے۔ سردیوں کے کمرے میں، انگیٹھی کے سامنے بیٹھا یہویقیم تین چار کالم سنتا ہے، چھری سے کاٹتا ہے، آگ میں پھینکتا ہے، یہاں تک کہ پورا طومار راکھ ہو جاتا ہے۔ پھر خداوند فرماتے ہیں: دوسرا طومار لکھ، اور یہویقیم کے تخت اور لاش کے بارے میں یہ فیصلہ بھی اُس میں شامل کر۔
اصل مضمون
اِس باب میں دو چیزیں آگ کے مقابل رکھی گئی ہیں: بادشاہ کی انگیٹھی اور خدا کا کلام۔ انگیٹھی جیتتی نظر آتی ہے، چمڑا مڑتا ہے، سیاہی بھک سے اُڑ جاتی ہے۔ مگر باب کا آخری جملہ ساری بازی پلٹ دیتا ہے: طومار دوبارہ لکھا جاتا ہے، اور ”اُن کے علاوہ مزید بہت سے پیغامات کا اضافہ ہوا۔“ کلام کو مٹانے کی کوشش نے کلام کو بڑھا دیا۔ یہاں خدا کی قدرت کسی معجزے سے نہیں، بلکہ اُس ضد سے ظاہر ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ بولتے رہتے ہیں۔ اور غور کریں: طومار لکھوانے کا مقصد سزا سنانا نہیں تھا بلکہ ”شاید یہوداہ کے گھرانے میں ہر ایک اپنی بُری راہ سے باز آ کر واپس آئے۔“ خدا کا فیصلہ ہمیشہ ایک کھلے دروازے کے ساتھ آتا ہے؛ دروازہ بند کرنے والا انسان ہوتا ہے۔
نجات کی کہانی کا تسلسل
یہویقیم کے والد یوسیاہ نے بھی ایک کتاب پڑھی سنی تھی اور اپنے کپڑے پھاڑ کر خدا کے سامنے جھک گئے تھے (۲-سلاطین ۲۲)۔ بیٹا وہی آواز سنتا ہے اور چھری اُٹھا لیتا ہے۔ یہی فرق داؤد کے تخت کا مقدر طے کرتا ہے: ”آئندہ اُس کے خاندان کا کوئی بھی فرد داؤد کے تخت پر نہیں بیٹھے گا۔“ ایک بادشاہ نے کلام کو کاٹا، اِس لئے اُس کی نسل تخت سے کٹ گئی۔ مگر داؤد کا وعدہ مرا نہیں؛ وہ اُس بادشاہ میں پورا ہوا جو طومار کو کاٹنے کے بجائے کھول کر پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ آج پورا ہوا۔ مسیح وہ ہیں جن میں کلام جلایا نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ خود مجسم کلام ہیں، اور جن کا بدن جلایا نہیں بلکہ جی اُٹھایا گیا۔
آئینہ
ہم یہویقیم کی چھری کو بہت شریف طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔ وہ آیت جو ہمارے کاروباری فیصلے پر انگلی رکھتی ہے، ہم اُس پر ”سیاق و سباق“ کا لیبل لگا کر سرکا دیتے ہیں۔ وہ باب جو ہماری زبان، ہمارے غصے، ہمارے بٹوے یا اُس رشتے کے بارے میں بولتا ہے جسے ہم برسوں سے ٹھنڈا رکھے ہوئے ہیں، ہم اُسے پڑھتے ہی نہیں۔ ہم بائبل جلاتے نہیں؛ ہم اُس کے تین چار کالم چپکے سے کاٹ دیتے ہیں اور باقی کتاب کے ساتھ اپنے آپ کو دیندار محسوس کرتے رہتے ہیں۔ یہویقیم کا اصل گناہ بےایمانی نہیں، بےحسی تھا: ”نہ وہ گھبرائے، نہ اُنہوں نے پریشان ہو کر اپنے کپڑے پھاڑے۔“ آج ہی وہ ایک اقتباس کھول کر پڑھیں جس سے آپ مہینوں سے بچ رہے ہیں، اور اُسے بلند آواز میں پڑھیں، جیسے باروک نے پڑھا تھا۔
مرکزی کردار
کہانی کا مرکز بادشاہ لگتا ہے، مگر اصل کردار خدا ہیں، اور وہ اِس باب میں عجیب طور پر صابر ہیں۔ دو بار وہ لفظ بولتے ہیں جو عبرانی میں ”اُولَے“ ہے، یعنی ”شاید“۔ ”شاید وہ التجا کریں کہ رب اُن پر رحم کرے۔“ ایک قادرِ مطلق خدا کے منہ میں یہ لفظ حیران کن ہے؛ یہ لفظ اُس باپ کا ہے جو دروازے پر کھڑا ہے اور جانتا ہے کہ بیٹا شاید نہ آئے، پھر بھی دروازہ کھلا رکھتا ہے۔ اور جب دروازہ آگ میں پھینک دیا جاتا ہے، تب بھی خدا ہار نہیں مانتے: وہ نئے طومار کا حکم دیتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے نبی کو چھپا لیتے ہیں، ”لیکن رب نے اُنہیں چھپائے رکھا تھا۔“ فیصلہ کرنے والا ہاتھ وہی ہاتھ ہے جو پناہ دیتا ہے۔
ایک باریک تفصیل
”چونکہ نواں مہینہ تھا اِس لئے بادشاہ محل کے اُس حصے میں بیٹھا تھا جو سردیوں کے موسم کے لئے بنایا گیا تھا۔“ راوی یہ تفصیل بےکار نہیں دیتا۔ باہر روزہ ہے، لوگ سردی میں ہیکل کے صحن میں کھڑے ہیں، اور بادشاہ گرم کمرے میں آرام سے بیٹھا ہے۔ آگ، جو اُس کے سکون کا ذریعہ ہے، اُسی کے ہاتھ میں کلام کو مٹانے کا ہتھیار بن جاتی ہے۔ اور جملہ ”یہودی پڑھتا اور بادشاہ کاٹتا گیا“ ایک خوفناک تال پیدا کرتا ہے: سننا اور کاٹنا، سننا اور کاٹنا، جیسے کوئی اپنی ہی نجات کو ٹکڑوں میں تقسیم کر رہا ہو۔ راحت میں بیٹھنا خود گناہ نہیں، مگر گرم کمرے میں سچ سننا مشکل ترین ہوتا ہے۔
ایک کٹھن سوال
اگر خدا نے کہا ”شاید وہ باز آئیں“، تو کیا خدا کو معلوم نہ تھا کہ یہویقیم طومار جلا دے گا؟ اور اگر معلوم تھا، تو یہ سارا عمل کیا تھا؟ متن یہ گرہ نہیں کھولتا۔ وہ صرف دو باتیں ساتھ رکھ دیتا ہے: خدا کی دعوت سچی ہے، اور انسان کا انکار بھی حقیقی ہے، اور دونوں کے نتائج بھی حقیقی ہیں۔ آسان جواب یہ ہوگا کہ کہا جائے سب پہلے سے مقرر تھا، تو یہویقیم بےقصور ٹھہرے۔ یا یہ کہ خدا بےخبر تھے، تو وہ خدا نہ رہیں۔ بائبل دونوں سے انکار کرتی ہے اور ہمیں اِس بےچینی میں چھوڑ دیتی ہے۔ مگر یہ بےچینی بےفائدہ نہیں: جب تک آج کا دن ہے، خدا کا ”شاید“ آپ پر بھی لاگو ہے، اور یہ کافی ہے۔
غور و فکر کے سوالات
کلامِ مقدس کا کون سا حصہ ہے جسے میں سنتا ہوں مگر چپکے سے کاٹ دیتا ہوں، اور میں نے اُسے کاٹنے کے لئے کون سا شریف بہانہ گھڑا ہے؟
یوسیاہ نے کپڑے پھاڑے، یہویقیم نے نہ گھبرایا: آخری بار کب خدا کے کلام نے مجھے واقعی ہلا دیا تھا، اور اگر بہت عرصہ ہو گیا ہے تو کیا میرا دل سخت ہو رہا ہے یا صرف مصروف؟
Jeremiah 36 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یرمیاہ 36 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ 36 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ 36 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یرمیاہ 36 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یرمیاہ 36 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Jeremiah 36 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
