بائبل کی تشریح

یرمیاہ 38

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

یرمیاہ کا پیغام سادہ اور ناقابلِ برداشت تھا: جو شہر میں رہے گا وہ مرے گا، جو بابل کے حوالے ہو جائے گا وہ جیتا رہے گا۔ افسروں نے اسے غداری سمجھ کر بادشاہ سے اس کی موت کا مطالبہ کیا، اور صِدقیاہ نے ہاتھ جھاڑ کر کہا، ”وہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ مَیں آپ کو روک نہیں سکتا۔“ نبی کو رسّوں سے ایک خشک حوض میں اتار دیا گیا جہاں پانی نہیں بلکہ کیچڑ تھا۔ ایک حبشی خواجہ سرا، عبدمَلِک، نے بادشاہ سے منت کی اور پرانے چیتھڑوں کی مدد سے اسے باہر نکالا۔ پھر صِدقیاہ نے چھپ کر یرمیاہ سے وہی سوال پوچھا جس کا جواب وہ پہلے سے جانتا تھا، اور جواب سن کر بھی ہتھیار نہ ڈالے۔

مرکزی بات

غور کیجیے کہ کیچڑ کا لفظ اس باب میں دو بار آتا ہے۔ پہلے نبی کیچڑ میں دھنستا ہے، پھر بادشاہ کو بتایا جاتا ہے، ”تیرے پاؤں دلدل میں دھنس گئے ہیں۔“ یہی اس باب کا الٰہیاتی مرکز ہے: جو گڑھا آپ کسی اور کے لیے کھودتے ہیں، آخرکار آپ خود اُسی میں اترتے ہیں۔ صِدقیاہ کا المیہ بےایمانی نہیں، بزدلی ہے۔ وہ خدا کا کلام سننا چاہتا ہے مگر اُس کی قیمت نہیں دینا چاہتا؛ وہ نبی کو بچاتا ہے مگر اپنے افسروں سے ڈرتا ہے۔ خدا کی نجات یہاں ایک ہی شرط پر ملتی ہے، اور وہ شرط انسانی غیرت کے خلاف ہے: ہتھیار ڈال دو۔ نجات طاقت کے راستے نہیں، سپردگی کے راستے آتی ہے۔

سلسلۂ نجات

اس باب کو پڑھتے ہوئے انجیل کی ایک منظر کشی خود بخود ذہن میں ابھرتی ہے۔ ایک بےقصور آدمی، جس کا جرم صرف سچ بولنا ہے، مذہبی اور سیاسی قیادت کے مطالبے پر موت کے حوالے کیا جاتا ہے؛ اور حاکم، جو اُسے بچا سکتا تھا، کہتا ہے کہ ”مَیں آپ کو روک نہیں سکتا۔“ پیلاطس کے ہاتھ دھونے کی گونج یہاں صاف سنائی دیتی ہے۔ یرمیاہ رسّوں سے گڑھے میں اتارا جاتا ہے اور رسّوں ہی سے باہر کھینچا جاتا ہے: موت کی گہرائی اور اُس سے نکالے جانے کا ایک دھندلا سا خاکہ۔ مگر سب سے گہرا سایہ خود پیغام میں ہے۔ زندگی اُن کو ملتی ہے جو اپنی شہرپناہ چھوڑ کر غیر کے حوالے ہو جاتے ہیں۔ مسیح نے اسی کو یوں کہا کہ جو اپنی جان بچانا چاہے وہ اُسے کھوئے گا۔ صلیب اسی منطق کی انتہا ہے: ہار کر جیتنا۔

آئینہ

صِدقیاہ آپ سے زیادہ قریب ہے جتنا آپ ماننا چاہیں گے۔ وہ وہ آدمی ہے جو سچ جانتا ہے، تنہائی میں اُس کی تصدیق بھی کرتا ہے، مگر عوامی سطح پر اُس کی قیمت ادا نہیں کرتا۔ یہ وہ باس ہے جو جانتا ہے کہ فیصلہ غلط ہے مگر بورڈ کے سامنے خاموش رہتا ہے۔ یہ وہ باپ ہے جو جانتا ہے کہ معافی مانگنی چاہیے مگر رعب کھو جانے سے ڈرتا ہے۔ یہ وہ بزرگ ہے جو جانتا ہے کہ کلیسیا میں ایک ناانصافی ہو رہی ہے مگر ”ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں“ کہہ کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ صِدقیاہ کا خوف منطقی تھا، اور اُسی منطقی خوف نے اُس کا شہر جلا دیا۔ آج ہی وہ ایک بات، جسے آپ مہینوں سے صرف تنہائی میں مانتے آئے ہیں، کسی ایک شخص کے سامنے زبان سے کہہ دیجیے: فون اٹھائیے اور اُسے بتا دیجیے۔

بین المتون

زبور ۴۰ میں داؤد گواہی دیتا ہے کہ خداوند نے اُسے ہلاکت کے گڑھے اور دلدل میں سے نکال کر اُس کے پاؤں چٹان پر رکھے۔ یرمیاہ ۳۸ اُس زبور کا تاریخی گوشت پوست ہے: ایک حقیقی گڑھا، حقیقی کیچڑ، اور حقیقی رسّے۔ یہ تعلق اس لیے اہم ہے کہ بائبل کی نجات مجرد تصور نہیں، وہ ہمیشہ جسمانی، شرمناک اور ٹھوس حالات میں آتی ہے۔ دوسری گونج انجیل میں ہے، جہاں قیافا کہتا ہے کہ بہتر ہے ایک آدمی قوم کے لیے مرے۔ یرمیاہ کے دشمنوں کا الزام بھی یہی تھا، ”یہ آدمی قوم کی بہبودی نہیں چاہتا۔“ دونوں بار قوم کے مفاد کے نام پر سچ کو خاموش کرایا گیا، اور دونوں بار خدا نے اُسی خاموش کرائے جانے میں سے نجات نکالی۔

سوال

اگر صِدقیاہ نے ہتھیار ڈال دیے ہوتے تو کیا واقعی شہر بچ جاتا؟ آیت ۱۷ کا وعدہ مشروط ہے، اور یہ ہمیں بےچین کرتا ہے: کیا خدا کا فیصلہ اٹل تھا یا بدلا جا سکتا تھا؟ متن دونوں کو ساتھ رکھتا ہے اور ہمارے لیے یہ گرہ کھولتا نہیں۔ یروشلم کی تباہی کا اعلان ہو چکا تھا، پھر بھی ایک دروازہ کھلا تھا، اور وہ دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا نہیں۔ شاید یہی بات ماننی پڑے گی کہ خدا کی حاکمیت انسان کی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی، بلکہ اُسے اور سنگین بنا دیتی ہے۔ صِدقیاہ قسمت کا شکار نہیں تھا؛ وہ اپنے ڈر کا شکار تھا۔

سامعین کا نقشہ

جلاوطنی میں بیٹھے بابل کے یہودی پڑھنے والے جانتے تھے کہ اس کہانی کا انجام کیا ہوا: شہر جلا، بادشاہ پکڑا گیا، اور وہ خود بیگانے ملک میں تھے۔ اُن کے لیے یہ باب ایک تلخ تصدیق تھا کہ تباہی خدا کی بےوفائی نہیں بلکہ اُن کی اپنی قیادت کی بزدلی کا پھل تھی۔ مگر اسی باب میں اُنہیں ایک اور چیز بھی سنائی دی: نجات ایک حبشی غیرقوم کے ہاتھوں آئی، نہ کہ یروشلم کے شرفا کے ہاتھوں۔ عبدمَلِک، جو ہیکل کی جماعت میں پوری رکنیت بھی نہ رکھتا، وہی خدا کے نبی کے لیے پرانے چیتھڑے ڈھونڈ کر لایا تاکہ رسّے اُس کی بغلیں نہ چھیلیں۔ جلاوطنوں نے یہ پہچانا: خدا کی وفاداری سرحدوں سے باہر سے بھی آ سکتی ہے۔

غور و فکر کے سوالات

کون سا سچ آپ تنہائی میں مانتے ہیں مگر لوگوں کے سامنے ماننے سے ڈرتے ہیں، اور وہ ڈر کس چیز کی حفاظت کر رہا ہے؟

عبدمَلِک نے رسّوں کے ساتھ چیتھڑے بھی بھیجے تاکہ بچاؤ تکلیف دہ نہ ہو۔ آپ کی مدد میں وہ "چیتھڑے" کیا ہو سکتے ہیں جو کسی کی عزت بچا لیں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Jeremiah 38 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یرمیاہ 38 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ کا پیغام سادہ اور ناقابلِ برداشت تھا: جو شہر میں رہے گا وہ مرے گا، جو بابل کے حوالے ہو جائے گا وہ جیتا رہے گا۔ افسروں نے اسے غداری سمجھ کر بادشاہ سے اس کی موت کا مطالبہ کیا، اور صِدقیاہ نے ہاتھ جھاڑ کر کہا، ”وہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ مَیں آپ کو روک نہیں سکتا۔“ نبی کو رسّوں سے ایک خشک حوض میں اتار دیا گیا جہاں پانی نہیں بلکہ کیچڑ تھا۔ ایک حبشی خواجہ سرا، عبدمَلِک، نے بادشاہ سے منت کی اور پرانے چیتھڑوں کی مدد سے اسے باہر نکالا۔ پھر صِدقیاہ نے چھپ کر یرمیاہ سے وہی سوال پوچھا جس کا جواب وہ پہلے سے جانتا تھا، اور جواب سن کر بھی ہتھیار نہ ڈالے۔
یرمیاہ 38 کس بارے میں ہے؟
اس باب کو پڑھتے ہوئے انجیل کی ایک منظر کشی خود بخود ذہن میں ابھرتی ہے۔ ایک بےقصور آدمی، جس کا جرم صرف سچ بولنا ہے، مذہبی اور سیاسی قیادت کے مطالبے پر موت کے حوالے کیا جاتا ہے؛ اور حاکم، جو اُسے بچا سکتا تھا، کہتا ہے کہ ”مَیں آپ کو روک نہیں سکتا۔“ پیلاطس کے ہاتھ دھونے کی گونج یہاں صاف سنائی دیتی ہے۔ یرمیاہ رسّوں سے گڑھے میں اتارا جاتا ہے اور رسّوں ہی سے باہر کھینچا جاتا ہے: موت کی گہرائی اور اُس سے نکالے جانے کا ایک دھندلا سا خاکہ۔ مگر سب سے گہرا سایہ خود پیغام میں ہے۔ زندگی اُن کو ملتی ہے جو اپنی شہرپناہ چھوڑ کر غیر کے حوالے ہو جاتے ہیں۔ مسیح نے اسی کو یوں کہا کہ جو اپنی جان بچانا چاہے وہ اُسے کھوئے گا۔ صلیب اسی منطق کی انتہا ہے: ہار کر جیتنا۔
یرمیاہ 38 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور ۴۰ میں داؤد گواہی دیتا ہے کہ خداوند نے اُسے ہلاکت کے گڑھے اور دلدل میں سے نکال کر اُس کے پاؤں چٹان پر رکھے۔ یرمیاہ ۳۸ اُس زبور کا تاریخی گوشت پوست ہے: ایک حقیقی گڑھا، حقیقی کیچڑ، اور حقیقی رسّے۔ یہ تعلق اس لیے اہم ہے کہ بائبل کی نجات مجرد تصور نہیں، وہ ہمیشہ جسمانی، شرمناک اور ٹھوس حالات میں آتی ہے۔ دوسری گونج انجیل میں ہے، جہاں قیافا کہتا ہے کہ بہتر ہے ایک آدمی قوم کے لیے مرے۔ یرمیاہ کے دشمنوں کا الزام بھی یہی تھا، ”یہ آدمی قوم کی بہبودی نہیں چاہتا۔“ دونوں بار قوم کے مفاد کے نام پر سچ کو خاموش کرایا گیا، اور دونوں بار خدا نے اُسی خاموش کرائے جانے میں سے نجات نکالی۔
یرمیاہ 38 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
جلاوطنی میں بیٹھے بابل کے یہودی پڑھنے والے جانتے تھے کہ اس کہانی کا انجام کیا ہوا: شہر جلا، بادشاہ پکڑا گیا، اور وہ خود بیگانے ملک میں تھے۔ اُن کے لیے یہ باب ایک تلخ تصدیق تھا کہ تباہی خدا کی بےوفائی نہیں بلکہ اُن کی اپنی قیادت کی بزدلی کا پھل تھی۔ مگر اسی باب میں اُنہیں ایک اور چیز بھی سنائی دی: نجات ایک حبشی غیرقوم کے ہاتھوں آئی، نہ کہ یروشلم کے شرفا کے ہاتھوں۔ عبدمَلِک، جو ہیکل کی جماعت میں پوری رکنیت بھی نہ رکھتا، وہی خدا کے نبی کے لیے پرانے چیتھڑے ڈھونڈ کر لایا تاکہ رسّے اُس کی بغلیں نہ چھیلیں۔ جلاوطنوں نے یہ پہچانا: خدا کی وفاداری سرحدوں سے باہر سے بھی آ سکتی ہے۔
یرمیاہ 38 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
عبدمَلِک نے رسّوں کے ساتھ چیتھڑے بھی بھیجے تاکہ بچاؤ تکلیف دہ نہ ہو۔ آپ کی مدد میں وہ "چیتھڑے" کیا ہو سکتے ہیں جو کسی کی عزت بچا لیں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Jeremiah 38 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 13

خداوند، شکر ہے کہ تُو نے یرمیاہ کو کیچڑ میں نہ چھوڑا بلکہ رسّوں سے کھینچ کر حوض سے نکال دیا۔ شکریہ کہ تُو آج بھی لوگوں کے ہاتھ اور پرانے چیتھڑوں جیسی معمولی چیزیں استعمال کر کے ہمیں گہرائیوں سے باہر نکالتا ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 11

عبدمَلِک صرف رسّے لے کر نہیں آیا۔ وہ محل کے خزانے کے نیچے والے کمرے تک گیا اور وہاں سے "کچھ پرانے چیتھڑے اور گھسے پھٹے کپڑے" ڈھونڈ لائے، تاکہ رسّی یرمیاہ کی بغلوں کو زخمی نہ کرے۔ کیچڑ میں دھنسے آدمی کو بچانا ہی کافی سمجھا جا سکتا تھا، مگر اُس نے بچانے کے درد کا بھی خیال کیا۔ تُو جس کی مدد کر رہا ہے، کیا تُو اُس کی عزت اور تکلیف کا بھی اِتنا ہی خیال رکھتا ہے؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں