یرمیاہ نبی کی زندگی اور اُس کا پیغام
تعارف
یروشلیم کے آخری دنوں میں ایک بوڑھا آدمی شہر کے ایک حوض میں لٹکا دیا جاتا ہے۔ پانی نہیں تھا، مگر کیچڑ تھا، اور وہ کیچڑ میں دھنس گیا۔ اوپر شہر بھوک سے مر رہا تھا، بادشاہ ڈر کے مارے فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا، اور درباری کہہ رہے تھے کہ اس شخص کی باتوں سے لوگوں کے ہاتھ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ اس آدمی کا جرم یہ تھا کہ اُس نے چالیس سال تک وہی بات دہرائی جو خدا نے اُس سے کہی تھی، اور کسی نے اُسے نہ مانا۔ اُس کا نام یرمیاہ تھا۔
یہ صفحہ آپ کو صرف تاریخی معلومات نہیں دے گا۔ آپ یہاں ایک ایسے نبی سے ملیں گے جو اپنے ہی پیغام تلے ٹوٹا، جس نے خدا سے شکایت کی اور پھر بھی بولتا رہا، اور جس کے ذریعے خدا نے وہ وعدہ کھولا جو صدیوں بعد ایک بالاخانے میں پیالہ اُٹھا کر پورا ہوا۔
اس رہنما کا زاویہ
یرمیاہ کی کتاب کو عام طور پر "عدالت اور رونے" کی کتاب کہا جاتا ہے۔ ہم اسے ایک اور نگاہ سے پڑھیں گے: یرمیاہ نبی دراصل دل کا معالج ہے۔ اُس کی پوری خدمت دو آیتوں کے درمیان کھڑی ہے۔ ایک طرف یرمیاہ 17:9 ہے، جہاں انسان کے دل کی تشخیص ہوتی ہے، اور دوسری طرف یرمیاہ 31:31 ہے، جہاں خدا ایک نیا عہد باندھنے کا اعلان کرتا ہے جو شریعت کو پتھر پر نہیں بلکہ دل پر لکھے گا۔ یرمیاہ کی ذاتی زندگی اسی سچائی کا زندہ نمونہ ہے: ایک ٹوٹا ہوا دل جس میں خدا کا کلام آگ بن کر جلتا رہا۔ اسی زاویے سے ہم اُس کی زندگی کے ہر موڑ کو دیکھیں گے، کیونکہ یہی زاویہ ہمیں سیدھا مسیح تک لے جاتا ہے۔
بائبل یرمیاہ نبی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
یرمیاہ یروشلیم سے چند کلومیٹر شمال میں عناتوت نامی گاؤں کا رہنے والا تھا، حلقیاہ کاہن کا بیٹا، یعنی ایک کاہن خاندان کا فرزند جسے ہیکل کی خدمت وراثت میں ملنی چاہیے تھی۔ مگر خدا نے اُسے قربان گاہ کی بجائے منبر پر کھڑا کیا، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب قوم کا زوال آخری مرحلے میں تھا۔ یہوداہ کے بادشاہ یوسیاہ کی سلطنت کے تیرھویں سال میں، تقریباً 627 قبلِ مسیح، خداوند کا کلام اُس پر نازل ہوا۔ یہ بلاہٹ کسی مذہبی تجربے سے شروع نہیں ہوئی، بلکہ ایک اعلان سے:
"میں نے تجھے پیٹ میں خلق کرنے سے پہلے تجھے جان لیا اور تیرے رحم سے نکلنے سے پہلے تجھے مقدس کیا اور قوموں کے لئے نبی ٹھہرایا۔" (یرمیاہ 1:5)
یہ آیت یرمیاہ کی پوری زندگی کی بنیاد ہے۔ اُس کی خدمت اُس کی قابلیت، عمر یا مرضی پر نہیں بلکہ خدا کے پہلے سے کیے ہوئے فیصلے پر قائم تھی۔ یرمیاہ کا پہلا ردِعمل انکار تھا: میں بولنا نہیں جانتا، میں تو لڑکا ہوں۔ خدا نے اُس کی معذرت قبول نہ کی، بلکہ اُس کے منہ کو چھو کر اپنا کلام اُس میں رکھ دیا۔ بلاہٹ خدا کا فیصلہ ہے، ہماری صلاحیت کا انعام نہیں۔
یرمیاہ نے پانچ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا۔ یوسیاہ کے دنوں میں اصلاحات ہوئیں، ہیکل کی صفائی ہوئی، شریعت کی کتاب دوبارہ پڑھی گئی۔ مگر یرمیاہ نے دیکھ لیا کہ یہ اصلاح زیادہ تر بیرونی تھی۔ قوم کی رسمیں بدل گئیں، دل نہ بدلا۔ یہی اُس کی مرکزی تشخیص بن گئی:
"دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہ باز اور لاعلاج ہے۔ اُس کا حال کون جان سکتا ہے؟" (یرمیاہ 17:9)
یہ جملہ یرمیاہ کی کتاب کا دھڑکتا مرکز ہے۔ قوم کا مسئلہ سیاسی نہیں تھا، معاشی نہیں تھا، حتیٰ کہ محض بت پرستی بھی نہیں تھا۔ مسئلہ دل تھا، جو اپنے آپ کو بھی دھوکا دے سکتا ہے اور جسے انسان خود مرمت نہیں کر سکتا۔ یرمیاہ نے اسے کھلے زخم سے تشبیہ دی جس پر لوگ جھوٹی مرہم لگا رہے تھے اور کہہ رہے تھے، سلامتی ہے، سلامتی ہے، جب کہ سلامتی نہ تھی۔
یوسیاہ 609 قبلِ مسیح میں مجدو کی لڑائی میں مارا گیا اور اُس کے بعد ملک تیزی سے نیچے گرا۔ یہوآخز، یہویقیم، یہویاکین اور صدقیاہ کے دنوں میں یرمیاہ نے ہیکل کے دروازے پر کھڑے ہو کر وہ خطبہ دیا جس نے اُسے قوم کا دشمن بنا دیا: یہ مت کہو کہ "خداوند کی ہیکل" ہمارے پاس ہے، اس لیے ہم محفوظ ہیں۔ اُس نے ہیکل کو "ڈاکوؤں کی کھوہ" بنتے دیکھا اور صاف کہا کہ عمارت کسی کو نہیں بچائے گی۔ اُس پر مقدمہ ہوا، اُسے مارا گیا، کاٹھ میں ڈالا گیا، اُس کا طومار بادشاہ نے چاقو سے کاٹ کر آگ میں جھونک دیا، اُسے قید کیا گیا، اور آخر میں حوض کے کیچڑ میں لٹکا دیا گیا۔ اُس کے اپنے گاؤں والوں نے اُس کے خلاف سازش کی۔ خدا نے اُسے شادی سے بھی منع کر دیا، تاکہ اُس کی تنہائی خود ایک پیغام بن جائے۔
اور پھر بھی وہ چپ نہ رہ سکا۔ اُس کی سب سے ایمان دار گواہی یہ ہے:
"اور اگر میں کہوں کہ میں اُس کا ذکر نہ کروں گا نہ پھر کبھی اُس کا نام لے کر کچھ کہوں گا تو اُس کا کلام میرے دل میں آتشِ سوزاں کی طرح ہو جاتا ہے جو میری ہڈیوں میں پوشیدہ ہے اور میں ضبط کرتے کرتے تھک گیا اور مجھ سے رہا نہیں جاتا۔" (یرمیاہ 20:9)
غور کیجیے کہ یہ آیت کہاں آتی ہے۔ ٹھیک اُس جگہ جہاں یرمیاہ خدا سے لڑ رہا ہے، جہاں وہ اپنی پیدائش کے دن پر لعنت کرتا ہے۔ اُس کا ایمان مضبوط اعصاب کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اُس کے اندر جلتی ہوئی آگ کا۔ جس دل کو وہ "لاعلاج" کہتا ہے، اُسی دل میں خدا کا کلام بیٹھ کر اُسے چلاتا رہا۔ یہی یرمیاہ کا سب سے بڑا سبق ہے: انسان اپنے دل کا مالک نہیں، مگر خدا اُس دل تک پہنچ سکتا ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
یرمیاہ اچانک آسمان سے نہیں ٹپکا۔ وہ اُس سلسلے کی ایک کڑی ہے جو موسیٰ سے شروع ہوتا ہے۔ استثنا 18 میں خدا نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی قوم کے لیے نبی اُٹھائے گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالے گا؛ یرمیاہ 1:9 میں یہی زبان لفظ بلفظ دہرائی جاتی ہے۔ موسیٰ کی طرح یرمیاہ بھی بلاہٹ سے گھبرایا اور بولنے سے انکار کیا۔ موسیٰ کی طرح وہ بھی قوم کے لیے شفاعت کرتا رہا، اور موسیٰ کی طرح اُس نے بھی ایک عہد کے ٹوٹنے کا دُکھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ فرق یہ ہے کہ موسیٰ نے عہد باندھتے دیکھا اور یرمیاہ نے عہد ٹوٹتے دیکھا، اور اسی ملبے پر خدا نے اُس سے ایک نئے عہد کا اعلان کرایا۔
پرانے عہد نامے میں یرمیاہ کا سایہ دور تک جاتا ہے۔ 2 تواریخ 35:25 بتاتی ہے کہ اُس نے یوسیاہ بادشاہ کے لیے نوحہ کہا۔ 2 تواریخ 36:21 اور دانی ایل 9:2 میں اُس کی ستر سالہ اسیری کی پیشین گوئی کا حوالہ آتا ہے، اور دانی ایل اُسی آیت کو پڑھ کر دعا میں جھکتا ہے۔ عزرا 1:1 میں خورس کے فرمان کو یرمیاہ کے کلام کا پورا ہونا کہا گیا ہے۔ یعنی اسیری کے بعد کی پوری نسل نے اپنی واپسی کو یرمیاہ کے وعدے کی روشنی میں سمجھا۔
نئے عہد نامے میں یہ سلسلہ مسیح پر جا کر مکمل ہوتا ہے۔ متی 2:17-18 میں بیت لحم کے بچوں کے قتل پر یرمیاہ کا وہ فقرہ نقل ہوتا ہے جس میں راخل اپنے بچوں پر روتی ہے۔ متی 16:14 میں لوگ خداوند یسوع کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ اُسے یرمیاہ سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ بھی ہیکل کے صحن میں کھڑے ہو کر قوم کی مذہبی خوش فہمی توڑ رہے تھے۔ اور جب خداوند یسوع نے ہیکل صاف کی تو اُنہوں نے یرمیاہ 7:11 ہی کے الفاظ استعمال کیے: تم نے اسے ڈاکوؤں کی کھوہ بنا دیا ہے۔
مگر اصل کڑی اُس رات جُڑتی ہے جب خداوند یسوع نے پیالہ اُٹھا کر کہا کہ یہ پیالہ میرے خون میں نیا عہد ہے۔ وہ کسی نئے خیال کا اعلان نہیں کر رہے تھے؛ وہ یرمیاہ 31:31 کا حوالہ دے رہے تھے:
"دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے جب میں اسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے کے ساتھ ایک نیا عہد باندھوں گا۔" (یرمیاہ 31:31)
عبرانیوں کا خطاب لکھنے والا اسی پیشین گوئی کو پورا نقل کرتا ہے تاکہ ثابت کرے کہ مسیح کی خدمت پرانے نظام سے بہتر ہے:
"پس خداوند فرماتا ہے کہ جو عہد میں اسرائیل کے گھرانے سے اُن دنوں کے بعد باندھوں گا وہ یہ ہے کہ میں اپنے قوانین اُن کے دلوں پر نقش کروں گا اور اُنہیں اُن کے ذہن میں ڈالوں گا اور میں اُن کا خدا ہوں گا اور وہ میری اُمت ہوں گے۔" (عبرانیوں 8:10)
یہی ہمارا زاویہ ہے۔ یرمیاہ نے بیماری پہچانی، اور یرمیاہ ہی کے ذریعے خدا نے علاج کا نسخہ لکھوایا۔ حیلہ باز اور لاعلاج دل کا جواب بہتر قانون یا سخت اصلاح نہیں، بلکہ وہ دل ہے جس پر خدا خود اپنی شریعت لکھ دے۔ صلیب پر بہا ہوا خون اُس قلم کی سیاہی ہے۔
ان کی زندگی کا مرکز
یرمیاہ کی چالیس سالہ خدمت میں تین لمحے ایسے ہیں جن کے بغیر اُسے سمجھا نہیں جا سکتا۔
پہلا لمحہ عناتوت میں اُس کی بلاہٹ ہے۔ ایک نوجوان، غالباً بیس سال سے کم عمر، جسے بتایا جاتا ہے کہ اُس کا نام پیدا ہونے سے پہلے لکھا جا چکا ہے۔ یرمیاہ 1:5 کی گہرائی یہ ہے کہ یہاں تین فعل ہیں: جاننا، مقدس کرنا، ٹھہرانا۔ خدا نے پہلے تعلق قائم کیا، پھر الگ کیا، پھر کام سونپا۔ یہ ترتیب ہر ایمان دار کے لیے راحت ہے، کیونکہ ہماری خدمت ہماری شناخت سے پیدا ہوتی ہے، شناخت خدمت سے نہیں بنتی۔ اسی موقع پر خدا نے اُسے دو رویا دکھائیں: بادام کی شاخ، اس نشان کے طور پر کہ خدا اپنے کلام کو پورا کرنے کے لیے جاگ رہا ہے، اور شمال کی طرف سے اُبلتی ہوئی دیگ، جو بابل کی آمد تھی۔ اُسی دن یرمیاہ کو بتا دیا گیا کہ اُس کی خدمت میں اکھاڑنا اور توڑنا بھی شامل ہے اور بنانا اور لگانا بھی۔ اُس نے چالیس سال اکھاڑا، اور بنانے کا حصہ زیادہ تر وعدوں کی صورت میں دیا۔
دوسرا لمحہ وہ ہے جب اُس کا لکھا ہوا کلام آگ میں ڈالا گیا۔ یرمیاہ 36 باب کا منظر بھلایا نہیں جا سکتا۔ خدا نے حکم دیا کہ اب تک کے تمام پیغامات لکھے جائیں۔ باروک نے لکھے، ہیکل میں پڑھے، پھر درباریوں کے سامنے پڑھے، اور آخر میں یہویقیم بادشاہ کے سامنے۔ بادشاہ آتش دان کے سامنے بیٹھا تھا۔ جتنا پڑھا جاتا، وہ اُتنا حصہ چاقو سے کاٹ کر آگ میں پھینکتا جاتا۔ کوئی ڈرا نہیں، کسی نے کپڑے نہ چاک کیے۔ یہ اُس دل کی سب سے صاف تصویر ہے جسے یرمیاہ 17:9 "لاعلاج" کہتی ہے: کلام سنائی دیتا ہے، سمجھ میں بھی آتا ہے، اور پھر جلا دیا جاتا ہے۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ خدا نے یرمیاہ سے دوسرا طومار لکھوایا، اور اُس میں مزید باتیں شامل ہوئیں۔ بادشاہ کاغذ جلا سکتا ہے، خدا کا کلام نہیں۔
تیسرا لمحہ سب سے عجیب ہے۔ 587 قبلِ مسیح کے قریب، جب بابل کی فوج شہر کو گھیر چکی تھی اور یرمیاہ خود شاہی محل کے قید خانے میں تھا، اُس کے چچا کا بیٹا آیا اور اُس سے عناتوت کی ایک زمین خریدنے کو کہا۔ اُس زمین پر دشمن کے خیمے گڑے تھے۔ کوئی عقل مند آدمی ایسی زمین نہ خریدتا۔ مگر خدا نے حکم دیا، اور یرمیاہ نے سترہ مثقال چاندی دے کر بیعنامہ لکھوایا، گواہ بلائے، اور دستاویز مٹی کے برتن میں محفوظ رکھوا دی، تاکہ بہت دنوں تک قائم رہے۔ پھر اُس نے اعلان کیا کہ اس ملک میں پھر کھیت اور تاکستان خریدے جائیں گے۔ یہی آدمی جو ساری عمر تباہی کی خبر دیتا رہا، اُس نے اپنی جمع پونجی خدا کے وعدے پر لگا دی۔ اُس کی امید جذباتی نہیں تھی، وہ دستخط شدہ اور گواہوں کے سامنے تھی۔ اسی پس منظر میں یرمیاہ 29:11 کے وہ الفاظ سمجھ آتے ہیں جو اُس نے اسیروں کو خط میں لکھے تھے۔
یرمیاہ نبی سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق یہ ہے کہ وفاداری کا پیمانہ نتیجہ نہیں ہے۔ یرمیاہ کے پاس دکھانے کے لیے کوئی بحالی، کوئی بیداری، کوئی بڑھتی ہوئی جماعت نہ تھی۔ چالیس سال کی خدمت کے اختتام پر اُس کا شہر جل چکا تھا، ہیکل ملبہ تھی، اور وہ اُن لوگوں کے ساتھ زبردستی مصر لے جایا گیا جنہوں نے اُس کی بات ماننے سے انکار کیا تھا۔ اگر خدا کے نزدیک کامیابی کا پیمانہ اعداد و شمار ہوتا تو یرمیاہ ناکام ترین نبی تھا۔ مگر بائبل اُس کی کتاب کو کلامِ مقدس میں شامل کرتی ہے اور اُس کے پیغام کو دانی ایل، عزرا، متی اور عبرانیوں تک گونجتا ہوا دکھاتی ہے۔ آپ کی گواہی کا پھل آپ کی زندگی میں نظر آنا ضروری نہیں۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ خدا کے ساتھ دیانت دار شکایت جائز ہے۔ یرمیاہ کی "اعترافات" کہلانے والی دعائیں (باب 11 سے 20) بائبل کی سب سے کھلی گفتگوئیں ہیں۔ وہ خدا سے کہتا ہے کہ تُو نے مجھے فریب دیا، وہ پوچھتا ہے کہ بدکاروں کی راہ کیوں کامیاب ہے، وہ اپنے دشمنوں پر عدالت مانگتا ہے، اور ایک جگہ اپنی پیدائش کے دن پر لعنت کرتا ہے۔ یہ کمزوری کے لمحات ہیں اور بائبل انہیں چھپاتی نہیں۔ مگر غور کیجیے: یرمیاہ نے یہ باتیں خدا سے کہیں، خدا کے بارے میں لوگوں سے نہیں۔ اُس کا غم دعا بن گیا۔ اور دعا کے اندر ہی اُسے وہ آگ دوبارہ ملی جس کا ذکر یرمیاہ 20:9 میں ہے۔ جو آدمی خدا سے لڑ سکتا ہے، وہی خدا کے ساتھ ٹھہر سکتا ہے۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ امید خدا کے کردار پر کھڑی ہوتی ہے، حالات پر نہیں۔ یرمیاہ کے نام سے جُڑی نوحہ کی کتاب میں، تباہ شدہ شہر کی راکھ کے بیچ، یہ جملہ آتا ہے:
"یہ خداوند کی شفقت ہے کہ ہم فنا نہیں ہوئے کیونکہ اُس کی رحمتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔" (نوحہ 3:22)
یہ آیت اُس آدمی کی ہے جس نے لاشیں گلیوں میں دیکھیں۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ حالات اچھے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ہم ابھی مٹ نہیں گئے، اور اس کی واحد وجہ خدا کی شفقت ہے۔ امید کی بنیاد یہ نہیں کہ کل بہتر ہو گا، بلکہ یہ کہ خدا کی رحمت ہر صبح نئی ہے۔ اسی لیے وہ گھرا ہوا شہر چھوڑے بغیر زمین خرید سکا۔
آئینہ
آپ کا دل آپ کو جھوٹ بول سکتا ہے، اور اکثر بولتا ہے۔ یہی یرمیاہ 17:9 کی وہ چوٹ ہے جو ہم میں سے کوئی سننا نہیں چاہتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا اصل مسئلہ باہر ہے: تنخواہ، رشتے، ساس، باس، ملک کے حالات، صحت۔ یرمیاہ آپ کو ٹھہر کر پوچھنے پر مجبور کرتا ہے: اگر یہ سب ٹھیک ہو جائے تو کیا آپ کا دل ٹھیک ہو جائے گا؟
سوچیے کہ آپ نے پچھلے ہفتے کتنی بار اپنے آپ کو قائل کیا کہ وہ بات جھوٹ نہیں بس "احتیاط" تھی، وہ خرچ فضول نہیں "ضرورت" تھا، وہ نظر گناہ نہیں "اتفاق" تھی، وہ غصہ بے صبری نہیں "حق" تھا۔ یہی حیلہ بازی ہے۔ ہم گناہ کو نام بدل کر رکھ لیتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ دعا میں مزہ نہیں آتا۔ یہوداہ کے لوگ بھی ہیکل جاتے رہے، قربانیاں دیتے رہے، اور کہتے رہے کہ سلامتی ہے۔ آپ بھی کلیسیا جا سکتے ہیں، گیت گا سکتے ہیں، روزے رکھ سکتے ہیں، اور اندر سے بدلے بغیر رہ سکتے ہیں۔
مگر یرمیاہ صرف تشخیص نہیں دیتا۔ وہی نبی آپ سے یرمیاہ 31:31 کا وعدہ بھی کہتا ہے۔ اگر آپ کا مسئلہ دل ہے تو آپ کا حل بہتر ارادے نہیں بلکہ ایک نیا عہد ہے جسے مسیح نے اپنے خون سے قائم کیا۔ آپ کو اپنے دل کی مرمت خود نہیں کرنی؛ آپ کو اُس کے سامنے اُسے کھولنا ہے۔
اور اگر آپ اس وقت یرمیاہ جیسی جگہ پر ہیں، جہاں وفاداری کا کوئی انعام نظر نہیں آتا، جہاں گھر میں تنہائی ہے، جہاں دفتر میں ایمان داری کی قیمت آپ ادا کر رہے ہیں، جہاں جسم تھک چکا ہے اور وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے، تو یہ جان لیجیے: خدا نے یرمیاہ کو کیچڑ سے نکالا، مگر اُس سے پہلے اُس نے اُس کے اندر آگ رکھی تھی۔ آپ کے حالات بدلنے سے پہلے آپ کے اندر کلام کام کرنا شروع کر سکتا ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو یرمیاہ نبی کی کہانی سنانا آسان بھی ہے اور نازک بھی۔ آسان اس لیے کہ اِس میں تصویریں بہت ہیں: ایک لڑکا جو کہتا ہے "میں تو چھوٹا ہوں"، ایک کمہار کا چاک، ایک ٹوٹا ہوا گھڑا، ایک بادشاہ جو کتاب کاٹ کر آگ میں پھینکتا ہے، ایک آدمی جو کیچڑ والے کنویں سے رسیوں اور پرانے کپڑوں کی مدد سے باہر نکالا جاتا ہے۔ نازک اس لیے کہ اس میں جنگ، قید اور شہر کی تباہی بھی ہے، اور یہ سب ہر عمر کے بچے کے لیے ایک ہی انداز میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
سب سے سادہ سطح پر بچوں سے یہ کہیے: خدا نے یرمیاہ کو اُس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی جانتا تھا اور اُس سے محبت کرتا تھا۔ یرمیاہ ڈر گیا تھا، مگر خدا نے کہا کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ یرمیاہ نے لوگوں سے سچ کہا، چاہے لوگ ناراض ہو گئے۔ اور جب سب کچھ ٹوٹ گیا، تو خدا نے وعدہ کیا کہ وہ لوگوں کو نیا دل دے گا۔ یہ وعدہ خداوند یسوع مسیح میں پورا ہوا۔ چھوٹے بچوں کے لیے یہی کافی ہے: خدا مجھے جانتا ہے، خدا میرے ساتھ ہے، خدا وعدہ توڑتا نہیں۔
فیتھ نیٹ ورک پر یرمیاہ نبی کی مخصوص وضاحتیں مختلف عمروں کے لیے دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے ایک سادہ اور پُرسکون کہانی، اسکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے کمہار کے چاک اور بلاہٹ پر مبنی سبق، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے یرمیاہ کی شکایتوں، تنہائی اور ہمت پر گہری گفتگو، کیونکہ یہی وہ عمر ہے جہاں "میں یہ نہیں کر سکتا" کا احساس سب سے شدید ہوتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
یرمیاہ نبی کون تھے اور وہ کب زندہ رہے؟
یرمیاہ عناتوت کے ایک کاہن حلقیاہ کا بیٹا تھا اور یہوداہ کی سلطنت کے آخری دور کا نبی تھا۔ اُس کی بلاہٹ یوسیاہ بادشاہ کے تیرھویں سال، تقریباً 627 قبلِ مسیح میں ہوئی، اور اُس کی خدمت یروشلیم کی تباہی (586 قبلِ مسیح) کے بعد تک جاری رہی۔ اس طرح اُس نے پانچ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا اور تقریباً چالیس سال سے زیادہ نبوت کی۔ وہ حزقی ایل اور دانی ایل کا ہم عصر تھا، مگر اُن کے برعکس اسیری میں نہیں گیا بلکہ اُسے مصر لے جایا گیا۔
یرمیاہ کو "روتا ہوا نبی" کیوں کہا جاتا ہے؟
کیونکہ اُس کی کتاب میں آنسو ایک برابر بہتی دھار ہیں۔ وہ اپنی قوم کے گناہ پر رویا، اُن کی آنے والی سزا پر رویا، اور تباہی کے بعد کھنڈرات پر رویا۔ وہ خود کہتا ہے کہ اُس کا سر پانی اور اُس کی آنکھیں آنسوؤں کا چشمہ ہوتیں تو وہ رات دن روتا رہتا۔ اہم بات یہ ہے کہ اُس کے آنسو خدا کے دل کی عکاسی تھے، کیونکہ خدا اپنی قوم کو سزا دینے میں بھی بے دل نہ تھا۔ یرمیاہ کا رونا عدالت کے پیغام کو سخت ہونے سے بچاتا ہے۔
کیا نوحہ کی کتاب یرمیاہ نے لکھی؟
روایتی طور پر، یہودی اور مسیحی دونوں روایات نوحہ کی کتاب کو یرمیاہ سے منسوب کرتی ہیں، اور کتاب کا لہجہ، موضوع اور زمانہ اس سے خوب میل کھاتے ہیں۔ کتاب خود مصنف کا نام نہیں دیتی، اس لیے کچھ عالِم احتیاط برتتے ہیں۔ تاہم اس سے کتاب کے پیغام پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نوحہ 3:22 جیسی آیت اُسی روح سے نکلی ہے جو یرمیاہ کی کتاب میں کارفرما ہے: سب کچھ تباہ ہو گیا، مگر خداوند کی رحمتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔
یرمیاہ 29:11 کا اصل مطلب کیا ہے؟
یہ آیت خدا کے اُن اسیروں کے لیے لکھے گئے خط کا حصہ ہے جو بابل پہنچ چکے تھے۔ خدا فرماتا ہے کہ اُس کے خیالات اُن کے حق میں سلامتی کے ہیں، برائی کے نہیں، تاکہ اُنہیں آخرکار امید نصیب ہو۔ سیاق یہ ہے کہ اُنہیں ستر سال وہیں رہنا تھا، گھر بنانے اور شادیاں کرنے تھیں، یعنی یہ وعدہ فوری آسانی کا نہیں بلکہ خدا کے لمبے، وفادار منصوبے کا اعلان تھا۔ اسے ذاتی خواہشات کی ضمانت بنانا اس کی گہرائی کم کر دیتا ہے؛ یہ اسیری میں بھی خدا کی نیک نیتی کی یقین دہانی ہے۔
یرمیاہ نے شادی کیوں نہیں کی؟
یرمیاہ 16 باب میں خدا نے اُسے صاف حکم دیا کہ وہ بیوی نہ کرے اور اُس کے بیٹے بیٹیاں نہ ہوں، کیونکہ اُس جگہ پیدا ہونے والے بچوں پر سخت دن آنے والے تھے۔ یرمیاہ کی تنہائی خود ایک نبوت تھی: اُس کا خالی گھر قوم کو بتاتا تھا کہ معمول کی زندگی رُکنے والی ہے۔ یہ اُس کی قیمتوں میں سے ایک بھاری قیمت تھی، کیونکہ اُس کے زمانے میں اولاد برکت اور تحفظ کی علامت تھی۔ اُس نے خدمت کے لیے وہ چیز چھوڑی جو ہر اسرائیلی کی خواہش تھی۔
یرمیاہ اور جھوٹے نبی حننیاہ کے درمیان کیا ہوا؟
یرمیاہ 28 باب میں حننیاہ نے ہیکل میں اعلان کیا کہ دو سال کے اندر بابل کا جوا ٹوٹ جائے گا اور اسیر لوٹ آئیں گے۔ یہ بات لوگوں کو بہت پسند آئی، کیونکہ یہی وہ سننا چاہتے تھے۔ حننیاہ نے یرمیاہ کی گردن سے لکڑی کا جوا اُتار کر توڑ دیا، مگر خدا نے یرمیاہ کے ذریعے جواب دیا کہ اب لوہے کا جوا ہو گا۔ یرمیاہ نے اعلان کیا کہ حننیاہ اُسی سال مر جائے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ سچی نبوت آرام دہ ہونے سے نہیں، پورا ہونے سے پہچانی جاتی ہے۔
یرمیاہ 17:9 کا مطلب کیا ہے کہ دل لاعلاج ہے؟
اس آیت میں دل صرف جذبات نہیں بلکہ انسان کی پوری باطنی شخصیت ہے: ارادہ، سوچ اور جھکاؤ۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ دل دھوکے باز ہے، یعنی دوسروں کو بھی اور خود کو بھی فریب دیتا ہے، اور انسانی کوشش سے اس کی اصلاح ناممکن ہے۔ اگلی آیت بتاتی ہے کہ صرف خداوند دلوں کو جانچتا ہے۔ یہ مایوسی پیدا کرنے کے لیے نہیں کہا گیا، بلکہ ہمیں اپنی اصلاح سے ہٹا کر خدا کے وعدے کی طرف موڑنے کے لیے، کیونکہ وہی نیا دل دینے والا ہے۔
"نیا عہد" کیا ہے اور یرمیاہ نے اس کے بارے میں کیا کہا؟
یرمیاہ 31:31 سے 34 میں خدا وعدہ کرتا ہے کہ وہ ایک نیا عہد باندھے گا، جو پرانے کی طرح نہیں ہو گا۔ اس عہد کی تین خاصیتیں ہیں: شریعت پتھر پر نہیں بلکہ دل میں لکھی جائے گی، سب لوگ خداوند کو ذاتی طور پر جانیں گے، اور خدا اُن کی بدی معاف کر کے اُن کا گناہ یاد نہ کرے گا۔ خداوند یسوع مسیح نے آخری فسح کی رات پیالہ اُٹھا کر اسی عہد کا اعلان کیا، اور عبرانیوں 8:10 میں یہ پیشین گوئی مسیح کی خدمت پر لاگو کی گئی ہے۔
یرمیاہ نبی کی موت کیسے ہوئی؟
بائبل اُس کی موت کا بیان نہیں دیتی۔ آخری بار ہم اُسے یرمیاہ 43 اور 44 باب میں مصر میں دیکھتے ہیں، جہاں جدلیاہ کے قتل کے بعد بچی ہوئی جماعت اُسے زبردستی لے گئی تھی، اور وہ وہاں بھی بتوں کی پرستش کے خلاف بولتا رہا۔ بعد کی یہودی روایت کہتی ہے کہ مصر میں اُسی کے ہم وطنوں نے اُسے سنگسار کر دیا، مگر یہ کلامِ مقدس میں درج نہیں۔ جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ وہ آخری سانس تک اپنی بلاہٹ پر قائم رہا۔
کیا یرمیاہ کا خدا سے شکایت کرنا گناہ نہیں تھا؟
یرمیاہ کی دعاؤں میں سخت الفاظ ہیں، حتیٰ کہ ایک جگہ وہ کہتا ہے کہ خدا نے اُسے قائل کر لیا اور وہ قائل ہو گیا، اور پھر اپنی پیدائش کے دن پر لعنت کرتا ہے۔ بائبل ان لمحات کو چھپاتی نہیں اور نہ اُن کی تعریف کرتی ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ یرمیاہ نے اپنا دُکھ خدا سے چھپایا نہیں بلکہ خدا کے سامنے رکھا، اور خدا نے اُسے رد نہیں کیا۔ ایمان دار شکایت بے ایمانی نہیں؛ خدا سے منہ موڑ لینا بے ایمانی ہے۔
باروک کون تھا اور یرمیاہ کی کتاب کیسے لکھی گئی؟
باروک بن نیریاہ یرمیاہ کا کاتب اور وفادار ساتھی تھا۔ اُس نے یرمیاہ کے پیغامات لکھے، ہیکل میں پڑھ کر سنائے، اور جب یہویقیم بادشاہ نے طومار جلا دیا تو دوسرا طومار دوبارہ لکھا۔ یرمیاہ 45 باب میں خدا باروک سے خاص طور پر کلام کرتا ہے، کیونکہ وہ بھی تھک گیا تھا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا کے کام میں پردے کے پیچھے کھڑے لوگ بھی خدا کی نظر میں ہیں۔ آج جو کتاب ہمارے پاس ہے، وہ اسی محنت کا پھل ہے۔
یرمیاہ اور خداوند یسوع مسیح میں کیا مشابہت ہے؟
دونوں نے ہیکل کے صحن میں کھڑے ہو کر مذہبی خوش فہمی توڑی، دونوں نے یروشلیم کی تباہی کی خبر دی، دونوں اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں رد کیے گئے، اور دونوں شہر پر روئے۔ خداوند یسوع نے ہیکل صاف کرتے وقت یرمیاہ 7:11 کے الفاظ استعمال کیے، اور لوگ اُنہیں دیکھ کر یرمیاہ ہی کا نام لیتے تھے۔ مگر فرق بنیادی ہے: یرمیاہ نے نئے عہد کا اعلان کیا، اور مسیح نے اپنے خون سے اُسے قائم کیا۔ نبی نسخہ لایا، نجات دہندہ نے علاج مکمل کیا۔
کیا ستر سال کی اسیری کی پیشین گوئی پوری ہوئی؟
جی ہاں۔ یرمیاہ نے کہا تھا کہ قوم ستر سال بابل کی خدمت کرے گی اور پھر خدا اُنہیں واپس لائے گا۔ 2 تواریخ 36:21 اس مدت کو یرمیاہ کے کلام کے پورا ہونے سے جوڑتی ہے، دانی ایل 9:2 میں دانی ایل اسی گنتی کو پڑھ کر توبہ کی دعا کرتا ہے، اور عزرا 1:1 خورس کے فرمان کو یرمیاہ کے وعدے کی تکمیل کہتی ہے۔ اسیر لوٹے، ہیکل دوبارہ بنی، اور یہ سب اُس آدمی کے کلام کی تصدیق بن گیا جسے اُس کے زمانے میں کوئی نہ مانتا تھا۔
اختتام میں
یرمیاہ نبی کی زندگی ہمیں ایک بے آرام سچائی کے سامنے کھڑی کرتی ہے: ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہمارے حالات نہیں، ہمارا دل ہے۔ اُس نے چالیس سال یہ بات کہی اور اس کی بھاری قیمت ادا کی؛ مار، قید، تنہائی، کیچڑ، جلایا ہوا طومار، اور آخر میں جلاوطنی۔ مگر اُسی زبان سے خدا نے وہ وعدہ بھی بولا جو پوری بائبل کا رُخ موڑ دیتا ہے: ایک نیا عہد، جس میں شریعت دل پر لکھی جائے گی اور گناہ یاد نہ کیا جائے گا۔ یرمیاہ نے صرف تشخیص نہیں کی، اُس نے علاج کی طرف اشارہ کیا، اور وہ علاج ایک نام رکھتا ہے: خداوند یسوع مسیح۔
اگر آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو یرمیاہ 31 باب پورا پڑھیے، پھر عبرانیوں 8 باب، اور دیکھیے کہ ایک ہی وعدہ چھ سو سال کے فاصلے سے کیسے گونجتا ہے۔ پھر نوحہ 3 باب کھول کر اُن آیات پر ٹھہریے جو راکھ میں سے امید کہتی ہیں۔ اور آخر میں ایک سادہ دعا کیجیے جو یرمیاہ کے پورے پیغام کا خلاصہ ہے: اے خداوند، تُو میرا دل جانتا ہے؛ تُو ہی اُسے نیا کر۔
