یوحنا 5:30
متن
عیسیٰ اپنے مخالفوں کے سامنے ایک ایسا جملہ رکھتے ہیں جو کسی بھی دعویدار کے منہ سے عجیب لگتا ہے: ”مَیں اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا۔“ جو شخص ابھی ابھی کہہ چکا ہے کہ مُردے اُس کی آواز سن کر زندہ ہوں گے اور عدالت کا سارا اختیار اُسی کے سپرد ہے، وہی اب اپنی بےبسی کا اعلان کرتا ہے، مگر یہ بےبسی کمزوری نہیں بلکہ کان لگا کر سننے کا رشتہ ہے: ”جو کچھ باپ سے سنتا ہوں اُس کے مطابق عدالت کرتا ہوں۔“ اور اِسی سننے میں اُس کے فیصلے کی صداقت کی ضمانت ہے، کیونکہ وہ اپنی مرضی نہیں بلکہ بھیجنے والے کی مرضی پوری کرنے آیا ہے۔
مرکزی نکتہ
یہاں خدا کے بارے میں ایک بات کھلتی ہے جو ہمارے اختیار کے تصور کو اُلٹ دیتی ہے: انصاف کی بنیاد طاقت نہیں، بلکہ اطاعت ہے۔ دنیا کا منصف اِس لئے قابلِ بھروسا ہے کہ اُس کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں؛ ”میری عدالت راست ہے کیونکہ مَیں اپنی مرضی کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔“ یسعیاہ نبی نے آنے والے بادشاہ کے بارے میں یہی کہا تھا کہ وہ محض آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی پر فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ راستی سے، اور موسیٰ نے اُس نبی کا وعدہ کیا تھا جو صرف وہی کہے گا جو خدا اُس کے منہ میں ڈالے گا۔ یسوع اِن دونوں دھاگوں کو اپنی ذات میں باندھ دیتے ہیں۔ یعنی جب وہ ہماری عدالت کریں گے تو کوئی جانبداری، کوئی موڈ، کوئی سیاست درمیان میں نہ ہو گی، صرف باپ کی سنی ہوئی بات۔ یہی خوف کا سبب ہے، اور یہی سب سے بڑی تسلی۔
مشترکہ دھاگا
یہ ایک جملہ پوری بائبل کی کہانی کو اُلٹی سمت میں دوڑاتا ہے۔ باغِ عدن میں انسان کی پہلی بغاوت یہی تھی کہ اُس نے خدا کی سنی ہوئی بات کے بجائے اپنی مرضی کو فیصلہ کن مانا؛ اسرائیل کی پوری تاریخ اِسی ایک زخم کے گرد گھومتی ہے، بیابان سے لے کر جلاوطنی تک۔ اور اب ایک آدمی یروشلم میں کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ اُس کے اندر وہ ضد ہے ہی نہیں۔ گتسمنی کے باغ میں یہی جملہ لہو میں ڈوب کر دہرایا جائے گا: میری نہیں، تیری مرضی پوری ہو۔ یوحنا کی انجیل میں یہ کوئی وقتی فیصلہ نہیں بلکہ ابنِ خدا کی مستقل عادت ہے، صلیب تک پہنچنے والی ایک سیدھی لکیر۔ نجات ہمیں محض اُس کی قربانی سے نہیں ملتی، بلکہ اُس زندگی بھر کی سماعت سے جو قربانی تک لے گئی۔
آئینہ
ہم اپنی مرضی کو خودمختاری کہتے ہیں اور اُسے بالغ ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔ دفتر میں ہم فیصلہ پہلے کر لیتے ہیں اور دلیل بعد میں تلاش کرتے ہیں۔ گھر میں ہم بچوں سے بحث جیتنا چاہتے ہیں، نہ کہ اُنہیں سمجھنا۔ رشتوں میں ہم سب سے پہلے اپنا مقدمہ لڑتے ہیں؛ ہم اپنے ہی کیس کے وکیل، گواہ اور جج بن جاتے ہیں، اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ ہمارے فیصلے اِتنے ٹیڑھے کیوں نکلتے ہیں۔ یسوع کہتے ہیں کہ راستی کی شرط ذہانت نہیں، بلکہ ذاتی مفاد سے خالی ہونا ہے۔ یہ بات چبھتی ہے، کیونکہ ہمارے زیادہ تر فیصلوں میں ہم خود کہیں نہ کہیں فائدے میں ہوتے ہیں۔ آج جو ایک فیصلہ آپ کے سامنے ہے، اُسے کاغذ پر ایک جملے میں لکھیے، اور اُس کے نیچے یہ سوال لکھ کر پانچ منٹ خاموش بیٹھیے: ”اِس میں میری مرضی کیا ہے، اور کیا مَیں نے باپ سے کچھ سنا ہے؟“
پس منظر
یہ جملہ خلا میں نہیں بولا گیا۔ یسوع بیت حسدا کے حوض پر اڑتیس سال کے معذور کو سبت کے دن بحال کر چکے ہیں، اور مذہبی قیادت اُنہیں ستانے لگی ہے۔ آگ اُس وقت بھڑکی جب اُنہوں نے کہا، ”میرا باپ آج تک کام کرتا آیا ہے، اور مَیں بھی ایسا کرتا ہوں۔“ یوحنا صاف بتاتا ہے کہ سننے والوں نے اِسے کیا سمجھا: خدا کے برابری کا دعویٰ، یعنی موت کی سزا کے لائق جرم۔ اِس لئے باب کا بقیہ حصہ عدالت کے کمرے کی زبان میں چلتا ہے: گواہی، گواہ، الزام، وکیل۔ یہودی قانون کے مطابق کوئی اپنی گواہی خود نہیں دے سکتا تھا، اور یسوع خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایسی گواہی ”معتبر نہ ہوتی“۔ آیت 30 اِسی مقدمے کا مرکزی نکتہ ہے: ملزم اپنی صفائی میں کہتا ہے کہ وہ خودمختار نہیں، بھیجا ہوا ہے۔
سوال
پھر وہی پرانا کانٹا: اگر یسوع ”اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا“، تو کیا وہ باپ سے کمتر ہے؟ آیت 18 میں مخالفوں نے اُنہیں برابری کا دعویدار سمجھا، اور آیت 30 میں وہ خود کو مکمل طور پر تابع کہتے ہیں۔ یوحنا اِن دونوں باتوں کو ایک ہی سانس میں رکھتا ہے اور اُنہیں حل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ سستا جواب یہ ہو گا کہ ہم ایک پہلو کو دبا دیں: یا تو اُسے صرف ایک اطاعت گزار انسان بنا دیں، یا اُس کی تابعداری کو محض دکھاوا کہہ دیں۔ متن دونوں راستے بند کرتا ہے۔ جو باقی بچتا ہے وہ یہ ہے: اُس کی برابری اُس کی خودمختاری میں نہیں، اُس کی سماعت میں ظاہر ہوتی ہے۔ خدا کے اندر کا رشتہ حکم اور فرمانبرداری سے نہیں، محبت سے چلتا ہے، ”کیونکہ باپ فرزند کو پیار کرتا ہے“۔ اِس سے آگے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں، جان نہیں سکتے۔
مرکزی کردار
جو شخص یہاں بولتا ہے، وہ دباؤ میں ہے۔ لوگ اُسے قتل کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں، اور جسے اُس نے شفا دی تھی وہی اُس کی مخبری کر چکا ہے۔ ایسے لمحے میں انسان اپنا دفاع کرتا ہے، اپنی کامیابیاں گنواتا ہے، حمایتی جمع کرتا ہے۔ یسوع اِس کے برعکس اپنی خالی جیب دکھاتے ہیں: نہ اپنی مرضی، نہ اپنی گواہی، نہ انسانوں سے عزت کی طلب، ”مَیں انسانوں سے عزت نہیں چاہتا۔“ یہ غیرمعمولی آزادی ہے۔ جو آدمی کسی سے کچھ نہیں چاہتا، اُسے کوئی خرید نہیں سکتا اور کوئی ڈرا نہیں سکتا۔ اور یہی وہ آدمی ہے جس کے ہاتھ میں ہماری عدالت ہے۔ اُس کے چہرے پر کوئی سختی نہیں، کوئی بدلہ نہیں؛ صرف ایک جھکا ہوا کان اور ایک کھلا ہاتھ۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی کا کون سا فیصلہ ایسا ہے جس میں آپ نے پہلے مرضی کر لی اور بعد میں دعا کو مہر کے طور پر استعمال کیا؟
اگر آپ کا منصف وہی ہے جو اپنی مرضی نہیں چلاتا، تو آپ کے دل میں سب سے پہلے خوف جاگتا ہے یا اطمینان، اور کیوں؟
John 5:30 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 5:30 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 5:30 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 5:30 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 5:30 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 5:30 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
John 5 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں