بائبل کی تشریح

یرمیاہ 49

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

یرمیاہ ۴۹ پانچ قوموں پر خدا کے فیصلے کا سلسلہ ہے: عمون، ادوم، دمشق، قیدار اور حصور کے بَدُو قبیلے، اور آخر میں عیلام۔ ہر ایک کے پاس اپنی اپنی حفاظت تھی، کسی کے پاس زرخیز وادی، کسی کے پاس پہاڑی چٹانیں، کسی کے پاس کمان اور تیر، کسی کے پاس ریگستان کی تنہائی۔ خداوند ایک ایک کر کے یہ سب چھین لیتا ہے۔ مگر باب کے دو مقامات پر، عمون اور عیلام کے بارے میں، ایک چھوٹا سا جملہ کھلتا ہے جو سب کچھ بدل دیتا ہے: ”بعد میں مَیں بحال کروں گا۔“

مرکزی بات

ذرا ادوم کی تصویر دیکھیے۔ وہ لوگ چٹانوں کی دراڑوں میں بستے تھے، ایسے راستوں پر جہاں ایک گھوڑا بمشکل گزرے۔ صدیوں سے کسی فوج نے اُنہیں وہاں سے نہیں نکالا تھا۔ خداوند اُن سے کہتا ہے: ”خواہ تُو اپنا گھونسلا عقاب کی سی اونچی جگہوں پر کیوں نہ بنائے توبھی مَیں تجھے وہاں سے اُتار کر خاک میں ملا دوں گا۔“ یہی اِس پورے باب کا مرکز ہے۔ انسان اپنی سلامتی جغرافیے، دولت، حکمت یا ہتھیار پر بناتا ہے، اور خدا ہر ایک بنیاد کو باری باری آزماتا ہے۔ پیچھے صرف ایک سوال رہ جاتا ہے، جو آیت ۱۹ میں گرجتا ہے: ”کون میرے برابر ہے؟ کون مجھ سے جواب طلب کر سکتا ہے؟“ یہ کوئی مذہبی نعرہ نہیں، یہ قوموں کی تاریخ کا اصل قانون ہے۔

بنیادی دھاگا

عیسَو اور یعقوب ایک ہی ماں کے پیٹ سے نکلے تھے، اور ادوم عیسَو کی اولاد ہے۔ بھائی کا یہ جھگڑا یہاں اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ مگر دھیان دیجیے: یہ باب صرف تباہی پر ختم نہیں ہوتا۔ عمون کے یتیموں اور بیواؤں سے خداوند خود کہتا ہے، ”مَیں اُن کی جان کو بچائے رکھوں گا۔ تمہاری بیوائیں بھی مجھ پر بھروسا رکھیں۔“ دشمن قوم کی بیوہ کو خدا اپنی پناہ کی دعوت دے رہا ہے۔ یہی وہ باریک دھاگا ہے جو مسیح تک جاتا ہے۔ اعمال ۲ میں جب روح القدس نازل ہوا، تو یروشلم میں کھڑی قوموں کی فہرست میں ”عیلامی“ بھی گنے گئے ہیں، وہی عیلام جس کی کمان خدا نے توڑی تھی۔ ”مَیں عیلام کو بحال کروں گا“ کی تکمیل تلوار سے نہیں، انجیل سے ہوئی۔

آئینہ

عمون کے بارے میں ایک فقرہ ایسا ہے جو میرے دل میں پھانس کی طرح چبھتا ہے: ”تُو اپنے مال و دولت پر بھروسا کر کے شیخی مارتی ہے کہ اب مجھ پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔“ یہ جملہ ہم بلند آواز میں نہیں کہتے، مگر ہم اِسے جیتے ہیں۔ جب بینک کا بیلنس ایک خاص حد سے اوپر ہو جائے، جب ملازمت مستقل ہو جائے، جب گھر اپنا ہو جائے، جب رشتے جم جائیں، تو دل کے اندر ایک خاموش سکون بیٹھ جاتا ہے جو دعا کی ضرورت کم کر دیتا ہے۔ ادوم کی طرح ہم بھی اپنی چٹان پر بیٹھ کر نیچے کی دنیا دیکھتے ہیں۔ آج ایک کام کیجیے: ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیے جس کے بارے میں آپ خاموشی سے سوچتے ہیں کہ ”یہ ہے، تو میں محفوظ ہوں“، اور پھر اُسے ہاتھ میں پکڑ کر بلند آواز میں کہیے، ”یہ مجھے نہیں بچا سکتی، خداوند، تُو میری پناہ ہے۔“

سوال

لیکن ایمانداری سے ایک بات ماننی پڑے گی۔ آیت ۱۰ کہتی ہے: ”اُس کی اولاد، بھائی اور ہم سائے ہلاک ہو جائیں گے، ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔“ اور ٹھیک اگلی آیت میں خدا اُنہی لوگوں کے یتیموں کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔ یہ دونوں جملے ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھے ہیں اور متن اُن کے درمیان کوئی پُل نہیں بناتا۔ کیا خدا کا غضب اندھا ہے؟ کیا وہ بچوں کو بھی نہیں بخشتا؟ میں اِس تناؤ کو ہموار نہیں کروں گا۔ نبوّت کی زبان مبالغہ آمیز اور کُلّی ہے، یہ سچ ہے، مگر خون اور ماتم حقیقی تھا۔ شاید اِس باب کا سب سے دیانت دار جواب یہی ہے کہ خدا کا انصاف ہماری پیمائش سے بڑا ہے، اور اُسی انصاف کے بیچ میں وہ بیواؤں کو اپنا نام دے دیتا ہے۔ اِس سے کم پر اطمینان خریدنا متن کے ساتھ بےایمانی ہوگی۔

بین المتون

آیت ۱۲ میں ایک پیالہ ہے: ”جنہیں میرے غضب کا پیالہ پینے کا فیصلہ نہیں سنایا گیا تھا اُنہیں بھی پینا پڑا۔ تو پھر تیری جان کس طرح بچے گی؟“ یہ تصویر پورے عہدِ عتیق میں پھیلی ہوئی ہے، اور گتسمنی کے باغ میں مسیح اِسی پیالے کا نام لیتے ہیں جب وہ باپ سے کہتے ہیں کہ یہ پیالہ ٹل جائے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ادوم نے وہ پیالہ اپنے گناہ کی وجہ سے پیا، اور مسیح نے بےگناہ ہوتے ہوئے پیا۔ جو جملہ ادوم کے لیے موت کا حکم تھا، وہی جملہ صلیب پر پلٹ گیا: جسے پینے کا فیصلہ نہیں سنایا گیا تھا، اُس نے بھی پیا، تاکہ ہم بچ جائیں۔

مرکزی کردار

اِس باب کا اصل کردار بولنے والا ہے، اور اُس کی آواز صرف گرج نہیں ہے۔ دمشق کے بارے میں وہ کہتا ہے: ”جس مشہور شہر سے میرا دل لطف اندوز ہوتا تھا وہ ویران و سنسان ہے۔“ رکیے اور اِس جملے کو دوبارہ پڑھیے۔ یہ اسرائیل کا نہیں، ایک بُت پرست شہر کا ذکر ہے، اور خدا کہتا ہے کہ میرا دل اِس سے خوش ہوتا تھا۔ وہ اُس کی گلیوں کو، اُس کے باغوں کو، اُس کی رونق کو جانتا تھا۔ عدالت کرنے والا بےتعلق منصف نہیں، وہ اپنی ہی پسندیدہ چیز کو ٹوٹتے دیکھ رہا ہے۔ اور باب کے دونوں سرے، عمون اور عیلام، ایک ہی لفظ پر بند ہوتے ہیں: بحالی۔ یہی اُس کا مزاج ہے، غضب میں بھی آخری لفظ رحم کا رکھتا ہے۔

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ ”چٹان کی دراڑ“ کیا ہے جس میں بیٹھ کر آپ خود کو ناقابلِ حملہ سمجھتے ہیں؟

اگر خدا دمشق کے بارے میں کہہ سکتا ہے کہ ”میرا دل لطف اندوز ہوتا تھا“، تو کیا آپ اُن لوگوں کو اِسی نظر سے دیکھ پاتے ہیں جنہیں آپ اپنے ایمان سے باہر شمار کرتے ہیں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Jeremiah 49 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یرمیاہ 49 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ ۴۹ پانچ قوموں پر خدا کے فیصلے کا سلسلہ ہے: عمون، ادوم، دمشق، قیدار اور حصور کے بَدُو قبیلے، اور آخر میں عیلام۔ ہر ایک کے پاس اپنی اپنی حفاظت تھی، کسی کے پاس زرخیز وادی، کسی کے پاس پہاڑی چٹانیں، کسی کے پاس کمان اور تیر، کسی کے پاس ریگستان کی تنہائی۔ خداوند ایک ایک کر کے یہ سب چھین لیتا ہے۔ مگر باب کے دو مقامات پر، عمون اور عیلام کے بارے میں، ایک چھوٹا سا جملہ کھلتا ہے جو سب کچھ بدل دیتا ہے: ”بعد میں مَیں بحال کروں گا۔“
یرمیاہ 49 کس بارے میں ہے؟
عیسَو اور یعقوب ایک ہی ماں کے پیٹ سے نکلے تھے، اور ادوم عیسَو کی اولاد ہے۔ بھائی کا یہ جھگڑا یہاں اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ مگر دھیان دیجیے: یہ باب صرف تباہی پر ختم نہیں ہوتا۔ عمون کے یتیموں اور بیواؤں سے خداوند خود کہتا ہے، ”مَیں اُن کی جان کو بچائے رکھوں گا۔ تمہاری بیوائیں بھی مجھ پر بھروسا رکھیں۔“ دشمن قوم کی بیوہ کو خدا اپنی پناہ کی دعوت دے رہا ہے۔ یہی وہ باریک دھاگا ہے جو مسیح تک جاتا ہے۔ اعمال ۲ میں جب روح القدس نازل ہوا، تو یروشلم میں کھڑی قوموں کی فہرست میں ”عیلامی“ بھی گنے گئے ہیں، وہی عیلام جس کی کمان خدا نے توڑی تھی۔ ”مَیں عیلام کو بحال کروں گا“ کی تکمیل تلوار سے نہیں، انجیل سے ہوئی۔
یرمیاہ 49 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لیکن ایمانداری سے ایک بات ماننی پڑے گی۔ آیت ۱۰ کہتی ہے: ”اُس کی اولاد، بھائی اور ہم سائے ہلاک ہو جائیں گے، ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔“ اور ٹھیک اگلی آیت میں خدا اُنہی لوگوں کے یتیموں کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔ یہ دونوں جملے ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھے ہیں اور متن اُن کے درمیان کوئی پُل نہیں بناتا۔ کیا خدا کا غضب اندھا ہے؟ کیا وہ بچوں کو بھی نہیں بخشتا؟ میں اِس تناؤ کو ہموار نہیں کروں گا۔ نبوّت کی زبان مبالغہ آمیز اور کُلّی ہے، یہ سچ ہے، مگر خون اور ماتم حقیقی تھا۔ شاید اِس باب کا سب سے دیانت دار جواب یہی ہے کہ خدا کا انصاف ہماری پیمائش سے بڑا ہے، اور اُسی انصاف کے بیچ میں وہ بیواؤں کو اپنا نام دے دیتا ہے۔ اِس سے کم پر اطمینان خریدنا متن کے ساتھ بےایمانی ہوگی۔
یرمیاہ 49 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِس باب کا اصل کردار بولنے والا ہے، اور اُس کی آواز صرف گرج نہیں ہے۔ دمشق کے بارے میں وہ کہتا ہے: ”جس مشہور شہر سے میرا دل لطف اندوز ہوتا تھا وہ ویران و سنسان ہے۔“ رکیے اور اِس جملے کو دوبارہ پڑھیے۔ یہ اسرائیل کا نہیں، ایک بُت پرست شہر کا ذکر ہے، اور خدا کہتا ہے کہ میرا دل اِس سے خوش ہوتا تھا۔ وہ اُس کی گلیوں کو، اُس کے باغوں کو، اُس کی رونق کو جانتا تھا۔ عدالت کرنے والا بےتعلق منصف نہیں، وہ اپنی ہی پسندیدہ چیز کو ٹوٹتے دیکھ رہا ہے۔ اور باب کے دونوں سرے، عمون اور عیلام، ایک ہی لفظ پر بند ہوتے ہیں: بحالی۔ یہی اُس کا مزاج ہے، غضب میں بھی آخری لفظ رحم کا رکھتا ہے۔
یرمیاہ 49 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر خدا دمشق کے بارے میں کہہ سکتا ہے کہ ”میرا دل لطف اندوز ہوتا تھا“، تو کیا آپ اُن لوگوں کو اِسی نظر سے دیکھ پاتے ہیں جنہیں آپ اپنے ایمان سے باہر شمار کرتے ہیں؟

Jeremiah 49 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟