بائبل کی تشریح

ایوب 13

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

ایوب اپنے تین دوستوں سے تنگ آ چکا ہے۔ وہ صاف کہتا ہے کہ اُن کی حکمت مٹی کے الفاظ ہیں اور اُن کی دلائل جھوٹے پلستر ہیں۔ اب وہ اُن سے منہ موڑ کر براہِ راست اللہ سے مباحثہ کرنا چاہتا ہے، چاہے اِس کوشش میں اُس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ آخری آیات میں وہ خدا سے دو درخواستیں کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ آپ اپنا چہرہ مجھ سے چھپائے کیوں رکھتے ہیں۔

مرکزی نکتہ

اِس باب کا دل آیت 15 میں دھڑکتا ہے: "شاید وہ مجھے مار ڈالے۔ کوئی بات نہیں، کیونکہ میری اُمید جاتی رہی ہے۔ جو کچھ بھی ہو مَیں اُسی کے سامنے اپنی راہوں کا دفاع کروں گا۔" یہاں ایک عجیب ایمان ظاہر ہوتا ہے، جو اُمید کھو چکا ہے مگر پھر بھی خدا ہی کی طرف بھاگتا ہے۔ ایوب یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے دکھ کا حل نہ دوستوں کی الہٰیات میں ہے، نہ خاموش صبر میں، بلکہ خدا کے ساتھ آمنے سامنے کی گفتگو میں۔ یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کبھی کبھی احتجاج کی شکل اختیار کرتا ہے، اور خدا اِس احتجاج سے ناراض نہیں ہوتا، جیسا کہ کتاب کا اختتام دکھاتا ہے۔

مشترکہ دھاگا

ایوب کی یہ خواہش کہ "مجھے بُلا تاکہ مَیں جواب دوں، یا مجھے پہلے بولنے دے اور تُو ہی اِس کا جواب دے" (آیت 22) ایک درمیانی شخص کی پکار ہے، ایسی عدالت جہاں انسان اور خدا برابر بیٹھ سکیں۔ یہی تڑپ آگے چل کر ایوب 9:33 میں کھل کر سامنے آتی ہے، اور اِس کا جواب صرف مسیح میں ہے۔ پولس رسول 1 تیمتھیس 2:5 میں لکھتا ہے کہ خدا اور انسانوں کے درمیان ایک ہی درمیانی ہے، مسیح یسوع۔ ایوب کی چیخ اُس خالی جگہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے صرف صلیب پُر کرتی ہے۔ اور آیت 16 میں "بےدین اُس کے حضور آنے کی جرأت نہیں کرتا" وہ سچائی ہے جو عبرانیوں 4:16 میں پلٹ جاتی ہے: اب ہم دلیری سے فضل کے تخت کے پاس آ سکتے ہیں۔

آئینہ

ایوب کے دوست ایک بات کرتے ہیں جو ہم بھی اکثر کرتے ہیں: وہ خدا کے دفاع میں جھوٹ بولتے ہیں۔ ایوب اُن سے پوچھتا ہے، "کیا تم اللہ کی خاطر کج رَو باتیں پیش کرتے ہو، کیا اُسی کی خاطر جھوٹ بولتے ہو؟" (آیت 7)۔ جب کوئی دوست کینسر میں مبتلا ہو، یا کسی کا بچہ مر جائے، تو ہم فوراً کوئی الہٰیاتی جملہ نکال دیتے ہیں تاکہ خدا کی عزت بچ جائے۔ مگر اکثر ہم اپنی بےچینی کو خدا کی عزت کا لبادہ پہنا دیتے ہیں۔ آیت 5 کاٹتی ہے: "کاش تم سراسر خاموش رہتے! ایسا کرنے سے تمہاری حکمت کہیں زیادہ ظاہر ہوتی۔" کبھی کبھی سب سے وفادار خدمت زبان بند رکھنا ہے۔

سوال

ایک سوال جو یہ باب کھلا چھوڑ دیتا ہے: کیا ایوب کا خدا پر یہ الزام لگانا کہ "تُو میرے پاؤں کو کاٹھ میں ٹھونک کر میری تمام راہوں کی پہرا داری کرتا ہے" (آیت 27) صحیح ہے یا غلط؟ ہم پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اصل میں شیطان کو اجازت دی گئی تھی، مگر ایوب نہیں جانتا۔ کیا خدا اُس کے غلط تجزیے کو برداشت کرتا ہے؟ کتاب کا آخر ہمیں بتاتا ہے کہ خدا ایوب کی الہٰیات پوری طرح درست نہیں کہتا، مگر پھر بھی اُس کے بارے میں فرماتا ہے کہ "میرے بندے ایوب نے میرے بارے میں درست بات کی" (42:7)۔ یہ راز ہے: بے لاگ سچائی سے کی گئی شکایت خاموش جھوٹ سے کہیں زیادہ خدا کو پسند ہے۔

مرکزی کردار

ایوب اِس باب میں ایک وکیل بن جاتا ہے جو اپنا مقدمہ خود تیار کر رہا ہے۔ "مَیں نے احتیاط اور ترتیب سے اپنا معاملہ تیار کیا ہے" (آیت 18)۔ اُس کا کاغذی مقدمہ منظم ہے، مگر اُس کا دل ٹوٹا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ کہتا ہے میں حق پر ہوں، دوسری طرف کانپتا ہے کہ خدا کا رُعب اُسے چکنا چور کر دے گا۔ اِس لئے وہ درخواست کرتا ہے: "اپنا ہاتھ مجھ سے دُور کر تاکہ تیرا خوف مجھے دہشت زدہ نہ کرے" (آیت 21)۔ یہ اُس شخص کی تصویر ہے جو خدا سے ڈرتا بھی ہے اور اُسی سے چمٹا بھی ہوا ہے۔ وہ اپنے آپ کو "ہَوا کے جھونکوں کے اُڑائے ہوئے پتے" اور "مَے کی گھسی پھٹی مشک" کہتا ہے، یعنی جانتا ہے کہ وہ کچھ نہیں، مگر پھر بھی بولنے پر بضد ہے۔

اصل سامعین

ایوب کی کتاب کے ابتدائی سامعین ایک ایسے معاشرے میں رہتے تھے جہاں دُکھ کو سیدھا گناہ سے جوڑا جاتا تھا۔ اگر تم بیمار ہو، تو ضرور کوئی چھپا ہوا گناہ ہوگا۔ اِس ثقافت

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Job 13 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

ایوب 13 کا کیا مطلب ہے؟
ایوب اپنے تین دوستوں سے تنگ آ چکا ہے۔ وہ صاف کہتا ہے کہ اُن کی حکمت مٹی کے الفاظ ہیں اور اُن کی دلائل جھوٹے پلستر ہیں۔ اب وہ اُن سے منہ موڑ کر براہِ راست اللہ سے مباحثہ کرنا چاہتا ہے، چاہے اِس کوشش میں اُس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ آخری آیات میں وہ خدا سے دو درخواستیں کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ آپ اپنا چہرہ مجھ سے چھپائے کیوں رکھتے ہیں۔
ایوب 13 کس بارے میں ہے؟
اِس باب کا دل آیت 15 میں دھڑکتا ہے: "شاید وہ مجھے مار ڈالے۔ کوئی بات نہیں، کیونکہ میری اُمید جاتی رہی ہے۔ جو کچھ بھی ہو مَیں اُسی کے سامنے اپنی راہوں کا دفاع کروں گا۔" یہاں ایک عجیب ایمان ظاہر ہوتا ہے، جو اُمید کھو چکا ہے مگر پھر بھی خدا ہی کی طرف بھاگتا ہے۔ ایوب یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے دکھ کا حل نہ دوستوں کی الہٰیات میں ہے، نہ خاموش صبر میں، بلکہ خدا کے ساتھ آمنے سامنے کی گفتگو میں۔ یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کبھی کبھی احتجاج کی شکل اختیار کرتا ہے، اور خدا اِس احتجاج سے ناراض نہیں ہوتا، جیسا کہ کتاب کا اختتام دکھاتا ہے۔
ایوب 13 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
ایوب کی یہ خواہش کہ "مجھے بُلا تاکہ مَیں جواب دوں، یا مجھے پہلے بولنے دے اور تُو ہی اِس کا جواب دے" (آیت 22) ایک درمیانی شخص کی پکار ہے، ایسی عدالت جہاں انسان اور خدا برابر بیٹھ سکیں۔ یہی تڑپ آگے چل کر ایوب 9:33 میں کھل کر سامنے آتی ہے، اور اِس کا جواب صرف مسیح میں ہے۔ پولس رسول 1 تیمتھیس 2:5 میں لکھتا ہے کہ خدا اور انسانوں کے درمیان ایک ہی درمیانی ہے، مسیح یسوع۔ ایوب کی چیخ اُس خالی جگہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے صرف صلیب پُر کرتی ہے۔ اور آیت 16 میں "بےدین اُس کے حضور آنے کی جرأت نہیں کرتا" وہ سچائی ہے جو عبرانیوں 4:16 میں پلٹ جاتی ہے: اب ہم دلیری سے فضل کے تخت کے پاس آ سکتے ہیں۔
ایوب 13 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
ایوب کے دوست ایک بات کرتے ہیں جو ہم بھی اکثر کرتے ہیں: وہ خدا کے دفاع میں جھوٹ بولتے ہیں۔ ایوب اُن سے پوچھتا ہے، "کیا تم اللہ کی خاطر کج رَو باتیں پیش کرتے ہو، کیا اُسی کی خاطر جھوٹ بولتے ہو؟" (آیت 7)۔ جب کوئی دوست کینسر میں مبتلا ہو، یا کسی کا بچہ مر جائے، تو ہم فوراً کوئی الہٰیاتی جملہ نکال دیتے ہیں تاکہ خدا کی عزت بچ جائے۔ مگر اکثر ہم اپنی بےچینی کو خدا کی عزت کا لبادہ پہنا دیتے ہیں۔ آیت 5 کاٹتی ہے: &quo
ایوب 13 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
ایک سوال جو یہ باب کھلا چھوڑ دیتا ہے: کیا ایوب کا خدا پر یہ الزام لگانا کہ "تُو میرے پاؤں کو کاٹھ میں ٹھونک کر میری تمام راہوں کی پہرا داری کرتا ہے" (آیت 27) صحیح ہے یا غلط؟ ہم پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اصل میں شیطان کو اجازت دی گئی تھی، مگر ایوب نہیں جانتا۔ کیا خدا اُس کے غلط تجزیے کو برداشت کرتا ہے؟ کتاب کا آخر ہمیں بتاتا ہے کہ خدا ایوب کی الہٰیات پوری طرح درست نہیں کہتا، مگر پھر بھی اُس کے بارے میں فرماتا ہے کہ "میرے بندے ایوب نے میرے بارے میں درست بات کی" (42:7)۔ یہ راز ہے: بے لاگ سچائی سے کی گئی شکایت خاموش جھوٹ سے کہیں زیادہ خدا کو پسند ہے۔
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Job 13 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی

At his lowest point Job says: though He slay me, yet will I hope in Him. That is not optimism. That is faith that has passed through the darkness. I always thought faith was something that makes things lighter, but with Job it is something that holds you when everything goes dark.

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟