ایوب 37
متن
ایلیہو کی تقریر اپنے اختتام پر آندھی کی طرح بلند ہوتی ہے۔ وہ بجلی کی چمک، بادل کی گرج، برف، موسلادھار بارش اور شمالی ہَوا کی ٹھنڈ کو گنواتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سب خدا کے منہ کی آواز ہے، جس کے سامنے انسان اپنے گھر میں بند ہو جاتا اور جنگلی جانور اپنے بھٹوں میں دبک جاتے ہیں۔ پھر وہ ایوب کی طرف مُڑ کر چیلنج کرتا ہے: کیا آپ جانتے ہیں کہ بادل کیسے منڈلاتے ہیں؟ اور آخر میں وہ ہتھیار ڈال دیتا ہے: ”ہم تو قادرِ مطلق تک نہیں پہنچ سکتے۔“
مرکزی بات
اِس باب کا دل آیت 13 میں دھڑکتا ہے: وہی بادل خدا ”لوگوں کی تربیت کرنے، اپنی زمین کو برکت دینے یا اپنی شفقت دکھانے کے لئے“ بھیجتا ہے۔ ایک ہی طوفان، تین مقصد، اور زمین پر کھڑے انسان کے پاس یہ بتانے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ آج کون سا مقصد کارفرما ہے۔ یہی ایوب کی اذیت کا مرکز ہے۔ ایلیہو موسم کو علمِ الٰہی کی مثال بناتا ہے: قدرت واضح ہے، نیت پوشیدہ۔ اور آیت 19 اِس عاجزی کو بے رحمی سے کھول دیتی ہے: ”اندھیرے کے باعث ہم اپنے خیالات کو ترتیب نہیں دے سکتے۔“ یہ محض لاعلمی نہیں، یہ خدا کے حضور الفاظ کی ناکامی ہے۔
سلسلۂ کلام
”ہم تو قادرِ مطلق تک نہیں پہنچ سکتے“ — یہ جملہ پورے عہدِ عتیق کی سب سے ایماندار شکایت ہے، اور یہی وہ خلا ہے جسے انجیل پُر کرتی ہے۔ ایلیہو ٹھیک کہتا ہے: اوپر جانے کا کوئی زینہ نہیں۔ مگر وہ نیچے آنے کے راستے کا تصور نہیں کر سکتا۔ آیت 22 میں وہ شمال سے آتی سنہری چمک دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا ”رُعب دار شان و شوکت سے گھرا ہوا آ پہنچتا ہے“۔ ایوب 38 میں واقعی خدا آندھی میں سے بولتا ہے۔ لیکن کلام کی آخری منزل یہ ہے کہ وہی آواز جو برف کو حکم دیتی ہے کہ ’زمین پر پڑ جا‘، ایک دن گلیل کی جھیل پر کشتی میں سے اُٹھ کر ہَوا کو ڈانٹتی ہے، اور شاگرد کانپ کر پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہے۔ جس تک پہنچا نہیں جا سکتا، وہ خود پہنچ آیا۔
آئینہ
ہم سب ایلیہو کی طرح موسم کو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رپورٹ آئی ہے، خون کا ٹیسٹ، نوکری کا خط، بیٹے کا فون جو نہیں آیا؛ اور فوراً دماغ حساب لگانے لگتا ہے: یہ تربیت ہے، سزا ہے، یا شفقت؟ آیت 7 کہتی ہے کہ خدا بارش بھیج کر ”ہر انسان کو اُس کے گھر میں رہنے پر مجبور کرتا ہے تاکہ سب جان لیں کہ اللہ کام میں مصروف ہے“۔ زبردستی کی خاموشی۔ ہم اُسے ضائع وقت کہتے ہیں؛ خدا اُسے کام کہتا ہے۔ آپ کا غرور اکثر تشریح کرنے کی صلاحیت میں چھپا ہوتا ہے، اور آپ کا خوف یہ ہے کہ اگر تشریح نہ ملی تو زمین کھسک جائے گی۔
آج شام تین منٹ کے لیے باہر آسمان کے نیچے کھڑے ہوں، ایک ایسی چیز کا نام بلند آواز سے لیں جس کا مطلب آپ کو سمجھ نہیں آ رہا، اور پھر آیت 14 کے الفاظ اپنے آپ سے کہیں: ”رُک کر اللہ کے عظیم کاموں پر غور کریں۔“
سوال
ایلیہو کا دعویٰ ہے: ”وہ کبھی انصاف کا خون نہیں کرتا۔“ یہ سچ ہے۔ مگر ایوب کے کانوں میں یہ جملہ کیسا لگا ہو گا، جس کے دس بچے دفن ہو چکے تھے؟ یہاں کتاب ہمیں ایک تکلیف دہ سبق دیتی ہے: ایک درست جملہ غلط وقت پر، غلط آدمی کے منہ سے، زخم پر نمک بن سکتا ہے۔ ایلیہو کی الٰہیات میں کوئی سقم نہیں، لیکن اُس میں ایوب کے لیے جگہ نہیں۔ اور جب خدا خود بولتا ہے، وہ انصاف کی وضاحت نہیں کرتا؛ وہ سوال پوچھتا ہے۔ اِس راز کو ہم بند نہیں کر سکتے۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ ایک دن خدا نے اپنے انصاف کی قیمت خود، صلیب پر، اپنی جیب سے ادا کی۔
مرکزی کردار
ایلیہو ایک نوجوان ہے جس کا دل سچ مچ کانپتا ہے: ”میرا دل لرز کر اپنی جگہ سے اُچھل پڑتا ہے۔“ یہ منافقت نہیں؛ وہ واقعی خدا کی عظمت سے مسحور ہے، اور اُس کی زبان شاعرانہ ہے۔ اُس کا روحانی نقشہ صاف ہے: خدا بڑا، انسان چھوٹا، لہٰذا انسان چپ رہے۔ لیکن اُس کی عظمت کا تصور ایک دیوار ہے، پُل نہیں۔ وہ خدا کی طاقت، علمِ کامل اور راستی بیان کر سکتا ہے، مگر اُس کی محبت کو چھو نہیں سکتا۔ اِسی لیے وہ آخر میں خوف پر رُک جاتا ہے: ”آدم زاد اُس سے ڈرتے ہیں۔“ ایلیہو ایک ناکام درمیانی ہے جو ایوب کے لیے بولنا چاہتا تھا مگر صرف خدا کے بارے میں بول سکا۔
ہم آیات
زبور 29 بالکل یہی منظر گاتا ہے: خداوند کی آواز پانیوں پر، دیوداروں کو توڑتی ہوئی؛ مگر وہ زبور اپنے لوگوں کو سلامتی کی برکت دینے پر ختم ہوتا ہے، یعنی گرج کے پیچھے ایک عہد ہے۔ ایلیہو کے پاس گرج تو ہے، عہد کی زبان نہیں۔ اور عبرانیوں 12 دو پہاڑوں کا موازنہ کرتا ہے: ایک کوہِ سینا، آگ، اندھیرا اور آندھی، جہاں سننے والوں نے التجا کی کہ یہ آواز بند ہو؛ دوسرا کوہِ صیون، جہاں نئے عہد کا درمیانی یسوع ہے۔ ایوب 37 ہمیں پہلے پہاڑ کے دامن میں کھڑا کرتا ہے، کانپتا ہوا اور بے زبان، تاکہ ہم دوسرے پہاڑ کی قدر جان لیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی کی کون سی بارش آپ کو ”گھر میں رہنے پر مجبور“ کر رہی ہے، اور کیا آپ اُس جبری خاموشی کو خدا کے کام کے طور پر قبول کر سکتے ہیں؟
ایلیہو خدا کے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا مگر ایوب کے پاس بیٹھ نہ سکا؛ آپ کی گفتگو میں درست الٰہیات کہاں ہمدردی کی جگہ لے لیتی ہے؟
Job 37 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
ایوب 37 کا کیا مطلب ہے؟
ایوب 37 کس بارے میں ہے؟
ایوب 37 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
ایوب 37 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
ایوب 37 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Job 37 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، تُو بادلوں کو حکم دیتا ہے اور وہ تیری مرضی پوری کرتے ہیں۔ کبھی تیری بارش مجھے سنبھالنے کے لیے آتی ہے، کبھی میری سوکھی زمین کو سیراب کرنے کے لیے۔ جو کچھ تُو میری زندگی میں ہونے دیتا ہے، مجھے اُس میں تیری محبت پہچاننے کی توفیق دے۔ میں تیرے ہاتھ پر بھروسا رکھتا ہوں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
