یوحنا 10:3
متن
صبح کی پہلی روشنی ہے، پتھروں سے بنے باڑے کے باہر چرواہا کھڑا ہے، اور اندر درجنوں بھیڑیں کئی گلوں کی ملی جلی بھیڑ بنی ہوئی ہیں۔ چوکیدار بھاری دروازہ کھولتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ آدمی چور نہیں، مالک ہے۔ خداوند یسوع فرماتے ہیں: ”چوکیدار اُس کے لئے دروازہ کھول دیتا ہے اور بھیڑیں اُس کی آواز سنتی ہیں۔ وہ اپنی ہر ایک بھیڑ کا نام لے کر اُنہیں بُلاتا اور باہر لے جاتا ہے۔“ تین حرکتیں ایک ہی سانس میں: دروازہ کھلتا ہے، آواز گونجتی ہے، اور نام لے کر پکاری گئی بھیڑیں بھیڑ میں سے الگ ہو کر باہر نکل آتی ہیں۔ یہ منظر ہی پوری تمثیل کی جڑ ہے۔
مرکزی حقیقت
غور کیجئے کہ اِس آیت میں بھیڑوں کی طرف سے کوئی کارنامہ سرزد نہیں ہوتا۔ وہ دروازہ نہیں کھولتیں، راستہ نہیں چنتیں، چرواہے کو ڈھونڈنے نہیں نکلتیں۔ وہ صرف پہچانتی ہیں، اور پہچان بھی اِس لئے ممکن ہے کہ پہلے کسی نے اُن کا نام لے کر پکارا۔ یہی فضل کی ترتیب ہے: بلاہٹ پہلے، جواب بعد میں۔ اور یہ بلاہٹ ہجوم کو نہیں، فرد کو ہے۔ خدا کا گلہ کوئی بےچہرہ ریوڑ نہیں جس کی گنتی کی جاتی ہو؛ یہاں ہر ایک جانور کا اپنا نام ہے، اپنی آواز ہے، اپنا زخم ہے۔ اور آخری فعل سب سے حیران کن ہے: وہ ”باہر لے جاتا ہے“۔ نجات محض باڑے میں محفوظ بند رہنا نہیں، بلکہ محفوظ ہاتھوں میں کھلے میدان کی طرف نکالا جانا ہے۔
بڑی کہانی کا سلسلہ
یہ تمثیل خلا میں نہیں بولی گئی۔ کچھ ہی دیر پہلے فریسیوں نے اُس جنم کے اندھے آدمی کو، جس کی آنکھیں کھلی تھیں، عبادت خانے سے نکال باہر کیا تھا (یوحنا ۹)۔ وہ آدمی بےنام، بےٹھکانہ، گلے سے کٹا ہوا کھڑا تھا، اور خداوند یسوع نے اُسے ڈھونڈ نکالا۔ اِس پس منظر میں باب ۱۰ ایک الزام ہے: جو خود کو اسرائیل کا نگہبان کہتے ہیں، وہ بھیڑوں کو نکال باہر کرتے ہیں؛ اصل چرواہا اُنہیں نام لے کر باہر لے جاتا ہے، چراگاہ کی طرف۔ حزقی ایل ۳۴ میں خدا اسرائیل کے چرواہوں پر یہی فردِ جرم لگاتے ہیں کہ وہ اپنا پیٹ بھرتے ہیں اور گلہ منتشر ہو جاتا ہے، اور پھر فرماتے ہیں: مَیں خود اپنی بھیڑوں کو ڈھونڈوں گا۔ یوحنا ۱۰:۳ اُس وعدے کی تکمیل کا منظر ہے، اور بولنے والا وہی ہے جو وعدہ کرنے والا تھا۔
آئینہ
ہم ایسی دنیا میں جیتے ہیں جہاں آپ کا نام کم اور نمبر زیادہ اہم ہے: ملازمت کا نمبر، شناختی کارڈ، ہسپتال کی فائل، کلاس میں حاضری کی فہرست۔ گھر میں بھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ آپ کی قدر صرف اُس کام کی حد تک ہے جو آپ کرتے ہیں، نہ کہ اُس شخص کی جو آپ ہیں۔ اور دن بھر آوازیں پکارتی رہتی ہیں: اشتہار، باس، قرض دینے والا، وہ اندرونی آواز جو آپ کی ناکامیاں گنواتی ہے۔ وہ سب آپ کو کسی ہجوم کے حصے کے طور پر بلاتی ہیں۔ مسیح کی آواز اِس لئے پہچانی جاتی ہے کہ وہ ہجوم کو نہیں، آپ کو بلاتی ہے، اور آپ کے اُس نام سے بلاتی ہے جو آپ کی شرمندگی بھی جانتا ہے۔ آج ہی ایک کاغذ پر اپنا نام لکھئے، اُس کے نیچے یہ جملہ لکھئے: ”خداوند یسوع مجھے اِسی نام سے جانتے اور بلاتے ہیں،“ اور پھر اُسے بلند آواز میں ایک بار پڑھ لیجئے۔
مرکزی کردار
اِس منظر کا چرواہا چیختا نہیں۔ وہ ڈنڈا لہرا کر بھیڑوں کو ہانکتا نہیں، کیونکہ اُسے اپنی آواز پر بھروسا ہے۔ یہی اُس کا سب سے نمایاں وصف ہے: پُرسکون اختیار۔ وہ دروازے سے آتا ہے، دیوار نہیں پھلانگتا؛ اُس کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں۔ اور وہ مزدور نہیں بلکہ مالک ہے، اِسی لئے بعد میں کہتا ہے کہ ”اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہے۔“ یہاں ہمیں خدا کی ایک جھلک ملتی ہے جو ہماری عام تصویروں سے مختلف ہے: نہ دور بیٹھا ہوا حاکم، نہ جذباتی دوست، بلکہ وہ مالک جو صبح سویرے خود آتا ہے، ہر جانور کو انفرادی طور پر جانتا ہے، اور اُن کے آگے آگے چل کر خطرہ پہلے خود جھیلتا ہے۔ جاننا اور جان دینا، اُس کے لئے یہ دو الگ باتیں نہیں۔
ایک تفصیل
چوکیدار پر رُکئے۔ وہ ایک ہی جملے میں آتا ہے اور پھر غائب ہو جاتا ہے؛ خداوند یسوع ہمیں نہیں بتاتے کہ وہ کون ہے، اور جہاں متن خاموش ہے وہاں ہمیں خانہ پُری نہیں کرنی چاہئے۔ لیکن اُس کا کام صاف ہے: وہ گواہی دیتا ہے کہ یہ آدمی جائز ہے۔ دیہاتی باڑوں کا ایک ہی دروازہ ہوتا تھا اور رات بھر کوئی اُس پر پہرہ دیتا تھا؛ وہی فیصلہ کرتا تھا کہ کس کے لئے کنڈی کھلے گی۔ چور کو پہچان کی ضرورت نہیں، اُسے صرف اندھیرا اور دیوار چاہئے۔ چرواہے کے لئے دروازہ خود کھل جاتا ہے۔ گویا متن ہمیں بتاتا ہے کہ مسیح کا دعویٰ تنہا نہیں؛ باپ، کلامِ مُقدّس اور وہ کام جو وہ کرتے ہیں، سب اُن کے لئے دروازہ کھول دیتے ہیں۔
پس منظر
جگہ یروشلم ہے، ہیکل کا احاطہ، اور سننے والے وہی مذہبی رہنما ہیں جنہوں نے ابھی ابھی ایک شفایاب آدمی کو برادری سے خارج کیا ہے۔ اُن کے ہاتھ میں اصل طاقت یہی تھی: یہ طے کرنا کہ کون اندر ہے اور کون باہر۔ خداوند یسوع ایک ایسی تصویر اُٹھاتے ہیں جو ہر سننے والے کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھی۔ گاؤں کے مشترکہ باڑے میں کئی گلے رات گزارتے تھے، پتھر کی دیوار، اوپر کانٹے دار جھاڑیاں، ایک تنگ دروازہ۔ صبح کو گلے الگ کرنے کا کوئی رجسٹر نہیں ہوتا تھا، صرف آواز۔ ہر چرواہے کی اپنی پکار، اور ہر جانور کا اپنا نام، اکثر اُس کی کسی خاص نشانی یا عادت پر رکھا ہوا۔ جو لوگ ہیکل کے صحن میں کھڑے یہ سن رہے تھے، وہ جانتے تھے کہ یہ منظر کتنا سچا ہے؛ وہ صرف یہ سمجھنے سے انکاری تھے کہ اِس کہانی میں وہ خود کون ہیں۔
غور و فکر کے سوالات
دن بھر جو آوازیں آپ کو بلاتی ہیں، اُن میں سے کس آواز کو آپ سب سے جلدی پہچان لیتے ہیں، اور یہ آپ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
کیا آپ کسی ایسے باڑے میں بیٹھے ہیں جسے آپ تحفظ سمجھتے ہیں، جبکہ چرواہا آپ کو باہر، کھلی چراگاہ کی طرف بلا رہا ہے؟
John 10:3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 10:3 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 10:3 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 10:3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 10:3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 10:3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی John 10 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے میرے چرواہے، اِس دنیا میں بہت سی آوازیں مجھے بلاتی ہیں اور وعدے کرتی ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔ مجھے پہچان دے کہ میں تیری آواز کو سب سے الگ سن سکوں اور اُنہی کے پیچھے نہ چل پڑوں جو صرف لینے آتے ہیں۔ تُو ہی میری حفاظت اور میرا سہارا ہے۔
اے میرے چرواہے، اتنی آوازیں مجھے بلاتی ہیں کہ کبھی کبھی میں الجھ جاتا ہوں۔ میرے کان اتنے مانوس کر دے کہ تیری آواز فوراً پہچان لوں اور جو تیری نہیں، اُس سے بےخوف ہو کر دور ہٹ جاؤں۔ مجھے اپنے پیچھے پیچھے چلنا سکھا۔
اے میرے چرواہے، میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو خطرے کے وقت چھوڑ کر چلے گئے، اور مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تُو بھی ایسا ہی ہو۔ مگر تُو بھاڑے کا نہیں، تُو میرا ہے۔ جب بھیڑیا قریب آئے، مجھے یاد دلا کہ تُو ٹھہرا رہتا ہے۔
اے خدا، تیرے بارے میں لوگوں کی رائے بٹی ہوئی ہے، اور کبھی میرا دل بھی الجھ جاتا ہے۔ شور کے درمیان مجھے اپنی آواز پہچاننے کی توفیق دے۔ جہاں سمجھ کم پڑ جائے، وہاں بھروسہ بڑھا دے، اور مجھے تیرے پیچھے چلتے رہنے کا حوصلہ دے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں