بائبل کی تشریح

یوحنا 15:13

بائبل

متن

خداوند یسوع اپنی موت سے چند گھنٹے پہلے، شاگردوں کے ساتھ آخری رات کی گفتگو میں، محبت کا پیمانہ مقرر فرماتے ہیں: ”اِس سے بڑی محبت ہے نہیں کہ کوئی اپنے دوستوں کے لئے اپنی جان دے دے۔“ یہ جملہ ہوا میں معلّق نہیں ہے۔ اِس سے ایک آیت پہلے حکم آ چکا ہے: ”ایک دوسرے کو ویسے پیار کرو جیسے مَیں نے تم کو پیار کیا ہے۔“ یعنی آیت تیرہ کوئی رومانوی نعرہ نہیں بلکہ اُس حکم کی تشریح ہے۔ محبت کی انتہا جذبات کی شدت میں نہیں، بلکہ اپنی جان دینے میں ہے، اور بولنے والا وہی ہے جو کل صبح واقعی اپنی جان دے دے گا۔ لفظ اور عمل کے درمیان یہاں چوبیس گھنٹے سے بھی کم فاصلہ ہے۔

مرکزی بات

ہم محبت کو عموماً احساس کے پیمانے سے ناپتے ہیں: کتنا دل چاہتا ہے، کتنا اچھا لگتا ہے۔ خداوند اِسے قیمت کے پیمانے سے ناپتے ہیں: کتنا ہاتھ سے جاتا ہے۔ ”اپنی جان دے دے“ کا مطلب صرف شہادت کا لمحہ نہیں؛ یونانی محاورہ اپنی جان کو نیچے رکھ دینے کا ہے، جیسے کوئی اپنا بوجھ اُتار کر دوسرے کے قدموں میں رکھ دے۔ یہ خدا کے بارے میں ایک دعویٰ ہے: وہ ایسا خدا ہے جو لیتا نہیں، دیتا ہے، اور دینے میں خود کو خالی کر دیتا ہے۔ اور یہ ہمارے بارے میں بھی دعویٰ ہے۔ اگر صلیب محبت کی تعریف ہے، تو میری محبت کا امتحان یہ نہیں کہ مَیں کیا محسوس کرتا ہوں بلکہ یہ کہ مَیں کس چیز سے دستبردار ہونے کو تیار ہوں: وقت، پیسہ، عزت، اپنا حق۔

تسلسلِ کلام

قربانی سے محبت ناپنے کا یہ پیمانہ آسمان سے اچانک نہیں گرا۔ پرانے عہد نامے میں قربانی ہمیشہ رشتے کی زبان تھی: مینڈھا، بکرا، فسح کا برہ، ہر بار کوئی جان دوسروں کی جگہ رکھی جاتی تھی۔ مگر وہاں جان دینے والا بےزبان جانور تھا، اور دینے والا انسان۔ یہاں ترتیب الٹ جاتی ہے: خدا خود دینے والا ہے اور خود ہی دی جانے والی جان۔ یہی وجہ ہے کہ یوحنا کی انجیل میں یسوع کو شروع ہی میں ”خدا کا برہ“ کہا گیا ہے۔ نجات کی پوری کہانی اِسی سمت بہتی ہے: ایک خدا جو اپنی قوم کو بچانے کے لئے خود قیمت ادا کرتا ہے۔ اور آیت تیرہ اِس کہانی کو میرے ہاتھ میں تھما دیتی ہے، کیونکہ بارہویں آیت کا حکم ہمیں تماشائی نہیں رہنے دیتا۔

آئینہ

یہ آیت اُن جگہوں پر چبھتی ہے جہاں ہم محبت کو سستا رکھنا چاہتے ہیں۔ شادی میں معاف کرنا جذباتی نہیں، مہنگا ہوتا ہے: آپ اپنا حق چھوڑتے ہیں کہ آپ کے ساتھ انصاف ہو۔ دفتر میں کسی ساتھی کی غلطی کا بوجھ خاموشی سے اُٹھا لینا آپ کی ترقی کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔ بوڑھے والدین کی دیکھ بھال میں جان ”دی“ نہیں جاتی، ہفتہ وار گھنٹوں میں رِستی ہے۔ پیسے میں یہ آیت اُس خرچ پر سوال اُٹھاتی ہے جو صرف میرے آرام کے لئے ہے۔ ہم عموماً محبت کا اعلان کرنا پسند کرتے ہیں اور اُس کا بل کسی اور کے نام کرنا۔ یسوع نے دونوں اپنے نام کئے۔

آج ہی ایک کام کیجئے: اُس ایک شخص کا نام لکھئے جس کے لئے محبت آپ کو کچھ مہنگی پڑے گی، اور آج ہی اُسے دس منٹ دیجئے: فون کیجئے، یا وہ کام کر دیجئے جو آپ ٹالتے آئے ہیں۔ آج، کل نہیں۔

کلام کی گونج

پولس رسول اِسی سوچ کو ایک قدم آگے لے جاتے ہیں جب وہ لکھتے ہیں کہ مسیح ہمارے لئے اُس وقت مرا جب ہم ابھی گنہگار تھے؛ یعنی اگر یوحنا پندرہ میں دوستوں کے لئے جان دینے کی بات ہے، تو صلیب نے دشمنوں کو دوست بنا کر یہ دائرہ اور بھی وسیع کر دیا۔ دوسری گونج اِسی باب کے اندر ہے: اٹھارھویں آیت میں خداوند فرماتے ہیں ”اگر دنیا تم سے دشمنی رکھے تو یہ بات ذہن میں رکھو کہ اُس نے تم سے پہلے مجھ سے دشمنی رکھی ہے۔“ یعنی جان دینے والی محبت کا میدان کوئی محفوظ کمرہ نہیں؛ یہ وہیں آزمائی جاتی ہے جہاں مخالفت ہے۔ محبت اور مخالفت یہاں پڑوسی ہیں، متضاد نہیں۔

ایک باریکی

غور کیجئے کہ یسوع نے ”اپنے دوستوں کے لئے“ کہا، ”اپنے غلاموں کے لئے“ نہیں، حالانکہ اگلی ہی سانس میں وہ غلام اور دوست کا فرق کھولتے ہیں: ”غلام نہیں جانتا کہ اُس کا مالک کیا کرتا ہے۔“ قدیم دنیا میں دوستی کوئی ہلکا لفظ نہیں تھا؛ بادشاہ کے ”دوست“ وہ چند لوگ ہوتے تھے جنہیں دربار کے راز معلوم ہوتے تھے۔ یسوع اپنے شاگردوں کو اُسی مقام پر بٹھا دیتے ہیں: ”مَیں نے تم کو سب کچھ بتایا ہے جو مَیں نے اپنے باپ سے سنا ہے۔“ مگر یاد رکھئے، جن ”دوستوں“ سے وہ یہ کہہ رہے ہیں، اُن میں سے ایک بیچنے جا رہا ہے اور ایک انکار کرنے والا ہے۔ یہ دوستی ہماری وفاداری پر نہیں، اُن کے دینے پر کھڑی ہے۔

پس منظر

یہ گفتگو یروشلم میں فسح کی رات ہو رہی ہے، کھانے کے بعد، شاید شہر سے نکل کر وادیِ قدرون کی طرف جاتے ہوئے۔ باہر شہر قربانی کے بروں کے خون سے بھرا ہوا ہے اور اندر یہ آدمی اپنی موت کی بات کر رہا ہے۔ سامعین بارہ دیہاتی آدمی ہیں، جن کی دنیا میں آقا اور شاگرد کا رشتہ سخت درجہ بندی کا تھا؛ شاگرد خدمت کرتا تھا، استاد نہیں۔ کچھ دیر پہلے وہی استاد اُن کے پاؤں دھو چکا ہے۔ اِس پس منظر میں آیت تیرہ کوئی خوبصورت قول نہیں بلکہ ایک زلزلہ ہے: طاقت کا پورا ڈھانچہ اُلٹا دیا گیا ہے۔ بڑا وہ ہے جو نیچے جھکتا ہے، اور سب سے بڑی محبت وہ ہے جو خود کو خرچ کر دیتی ہے۔

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ کون سا رشتہ ہے جہاں آپ محبت کے الفاظ تو دیتے ہیں مگر قیمت دینے سے بچتے رہے ہیں؟

اگر دوستی کی بنیاد آپ کی وفاداری نہیں بلکہ مسیح کا دینا ہے، تو یہ بات آج آپ کی ناکامیوں کو کس نظر سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

John 15:13 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یوحنا 15:13 کا کیا مطلب ہے؟
خداوند یسوع اپنی موت سے چند گھنٹے پہلے، شاگردوں کے ساتھ آخری رات کی گفتگو میں، محبت کا پیمانہ مقرر فرماتے ہیں: ”اِس سے بڑی محبت ہے نہیں کہ کوئی اپنے دوستوں کے لئے اپنی جان دے دے۔“ یہ جملہ ہوا میں معلّق نہیں ہے۔ اِس سے ایک آیت پہلے حکم آ چکا ہے: ”ایک دوسرے کو ویسے پیار کرو جیسے مَیں نے تم کو پیار کیا ہے۔“ یعنی آیت تیرہ کوئی رومانوی نعرہ نہیں بلکہ اُس حکم کی تشریح ہے۔ محبت کی انتہا جذبات کی شدت میں نہیں، بلکہ اپنی جان دینے میں ہے، اور بولنے والا وہی ہے جو کل صبح واقعی اپنی جان دے دے گا۔ لفظ اور عمل کے درمیان یہاں چوبیس گھنٹے سے بھی کم فاصلہ ہے۔
یوحنا 15:13 کس بارے میں ہے؟
قربانی سے محبت ناپنے کا یہ پیمانہ آسمان سے اچانک نہیں گرا۔ پرانے عہد نامے میں قربانی ہمیشہ رشتے کی زبان تھی: مینڈھا، بکرا، فسح کا برہ، ہر بار کوئی جان دوسروں کی جگہ رکھی جاتی تھی۔ مگر وہاں جان دینے والا بےزبان جانور تھا، اور دینے والا انسان۔ یہاں ترتیب الٹ جاتی ہے: خدا خود دینے والا ہے اور خود ہی دی جانے والی جان۔ یہی وجہ ہے کہ یوحنا کی انجیل میں یسوع کو شروع ہی میں ”خدا کا برہ“ کہا گیا ہے۔ نجات کی پوری کہانی اِسی سمت بہتی ہے: ایک خدا جو اپنی قوم کو بچانے کے لئے خود قیمت ادا کرتا ہے۔ اور آیت تیرہ اِس کہانی کو میرے ہاتھ میں تھما دیتی ہے، کیونکہ بارہویں آیت کا حکم ہمیں تماشائی نہیں رہنے دیتا۔
یوحنا 15:13 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آج ہی ایک کام کیجئے: اُس ایک شخص کا نام لکھئے جس کے لئے محبت آپ کو کچھ مہنگی پڑے گی، اور آج ہی اُسے دس منٹ دیجئے: فون کیجئے، یا وہ کام کر دیجئے جو آپ ٹالتے آئے ہیں۔ آج، کل نہیں۔
یوحنا 15:13 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
غور کیجئے کہ یسوع نے ”اپنے دوستوں کے لئے“ کہا، ”اپنے غلاموں کے لئے“ نہیں، حالانکہ اگلی ہی سانس میں وہ غلام اور دوست کا فرق کھولتے ہیں: ”غلام نہیں جانتا کہ اُس کا مالک کیا کرتا ہے۔“ قدیم دنیا میں دوستی کوئی ہلکا لفظ نہیں تھا؛ بادشاہ کے ”دوست“ وہ چند لوگ ہوتے تھے جنہیں دربار کے راز معلوم ہوتے تھے۔ یسوع اپنے شاگردوں کو اُسی مقام پر بٹھا دیتے ہیں: ”مَیں نے تم کو سب کچھ بتایا ہے جو مَیں نے اپنے باپ سے سنا ہے۔“ مگر یاد رکھئے، جن ”دوستوں“ سے وہ یہ کہہ رہے ہیں، اُن میں سے ایک بیچنے جا رہا ہے اور ایک انکار کرنے والا ہے۔ یہ دوستی ہماری وفاداری پر نہیں، اُن کے دینے پر کھڑی ہے۔
یوحنا 15:13 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آپ کی زندگی میں وہ کون سا رشتہ ہے جہاں آپ محبت کے الفاظ تو دیتے ہیں مگر قیمت دینے سے بچتے رہے ہیں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی John 15 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 18

یسوع نے ابھی ابھی ایک دوسرے سے محبت رکھنے کا حکم دیا تھا، اور فوراً کہا، ”جب دنیا تم سے نفرت کرے تو یہ جان لو کہ اُس نے تم سے پہلے مجھ سے نفرت کی ہے۔“ محبت کا راستہ تالیوں تک نہیں، اکثر مخالفت تک لے جاتا ہے۔ جہاں تمہیں ٹھکرایا جا رہا ہے، شاید وہیں تمہاری اُس کے ساتھ مشابہت سب سے زیادہ ہے۔ کیا تم یہ قیمت دینے کو تیار ہو؟

دعا ادارتی کو آیت 19

اے خدا، کبھی کبھی اجنبی ہونے کا احساس تکلیف دیتا ہے، جب لوگ مجھے سمجھ نہیں پاتے یا ٹھکرا دیتے ہیں۔ پھر بھی یاد دلا کہ تُو نے مجھے خود چُنا ہے۔ تیری محبت میں وہ سکون دے جو دنیا کی منظوری کبھی نہیں دے سکتی۔ مجھے ہمت دے کہ تیرا ہو کر جیتا رہوں۔

بصیرت ادارتی کو آیت 2

کانٹ چھانٹ اُس شاخ کی نہیں ہوتی جو ناکام ہے، بلکہ اُس کی جو پھل لا رہی ہے۔ "جو شاخ پھل لاتی ہے اُس کی وہ کانٹ چھانٹ کرتا ہے تاکہ وہ زیادہ پھل لائے۔" یعنی باغبان کی چھری اکثر وہیں لگتی ہے جہاں زندگی ہے۔ شاید جو تکلیف تجھے آج سزا لگ رہی ہے، وہ دراصت اُس کے ہاتھ کی توجہ ہے۔ کیا تُو اُس پر بھروسا کرے گا جو کاٹتا ہے؟

بصیرت ادارتی کو آیت 20

یسوع نے کہا، ”اُس بات کو یاد رکھو جو مَیں نے تم کو بتائی کہ غلام اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا۔“ وہ ہمیں مخالفت سے بچانے کا وعدہ نہیں کرتا، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ مخالفت اُس سے قربت کی نشانی ہے۔ جب تیری ایمانداری کی وجہ سے لوگ تجھ سے کترانے لگیں، تو سوچ: مَیں تنہا نہیں، مَیں اپنے مالک کے نقشِ قدم پر چل رہا ہوں۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں