یوحنا 15:7
متن
"اگر تم مجھ میں قائم رہو اور مَیں تم میں تو جو جی چاہے مانگو، وہ تم کو دیا جائے گا۔" بیل اور شاخوں کی تصویر یکایک دعا کی طرف مڑ جاتی ہے۔ خداوند یسوع پہلے ایک دوہری شرط رکھتے ہیں، شاگرد کا اُن میں قائم رہنا اور اُن کا شاگرد میں قائم رہنا، اور اِس کے فوراً بعد ایک ایسی کشادہ پیشکش دیتے ہیں جو تقریباً بےاحتیاط لگتی ہے: مانگو، جو بھی دل چاہے، اور مل جائے گا۔ یہ آیت الگ سے کوئی وعدہ نہیں، بلکہ اُسی زندہ رشتے کا پھل ہے جس کا ذکر پچھلی آیتوں میں ہے، جہاں کٹی ہوئی شاخ سوکھ جاتی ہے اور جُڑی ہوئی شاخ بہت سا پھل لاتی ہے۔ دعا یہاں بیل میں سے شاخ تک بہنے والے رس کی طرح پیش کی گئی ہے۔
اصل بات
ہم عموماً اِس آیت کو اُلٹا پڑھتے ہیں، جیسے دعا ایک چابی ہو اور "قائم رہنا" وہ قیمت جو ہمیں چابی کے لیے ادا کرنی ہے۔ لیکن متن اِس کے برعکس چلتا ہے۔ پہلے مسیح ہیں، پھر ہم، پھر مانگنا۔ جو شخص مسیح میں قائم رہتا ہے اُس کی خواہشیں خود بدلنے لگتی ہیں، کیونکہ آیت 3 کے مطابق وہی کلام جو اُنہوں نے سنایا ہے اُسے پاک صاف کر چکا ہے۔ اِس لیے "جو جی چاہے" کوئی لاپروا اجازت نامہ نہیں، بلکہ اُس دل کی خواہش ہے جسے مسیح کے کلام نے تراش دیا ہے، جیسے مالی شاخ کی کانٹ چھانٹ کرتا ہے۔ خدا یہاں ہماری مرضی پوری کرنے والا نہیں، بلکہ ہماری مرضی کو اپنے بیٹے کی مرضی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے والا باپ ہے۔ اور یہی نجات کا اصل تحفہ ہے: خدا صرف چیزیں نہیں دیتا، وہ اپنے آپ کو دیتا ہے، اور ہمیں اپنے بیٹے میں پیوند کر دیتا ہے تاکہ ہمارا مانگنا بھی اُسی رشتے کی آواز بن جائے۔
مشترک دھاگا
انگور کی بیل اسرائیل کی پرانی تصویر ہے۔ یسعیاہ 5 میں خدا اپنے لوگوں کے لیے ایک باغ لگاتے ہیں، اُس کی گوڑائی کرتے ہیں، اُس سے میٹھے انگوروں کی توقع رکھتے ہیں، اور کھٹے جنگلی پھل پاتے ہیں۔ اُس پس منظر میں خداوند یسوع کا یہ فرمانا کہ "مَیں انگور کی حقیقی بیل ہوں" ایک دعویٰ ہے: جو اسرائیل نہ ہو سکا، وہ مَیں ہوں۔ سچا فرزند، وہ بیل جو واقعی پھل لاتی ہے۔ اِس لیے آیت 7 کی دعا کسی مذہبی تکنیک کا نتیجہ نہیں بلکہ نجات کے منصوبے کا حصہ ہے۔ خدا نے ایک ایسا فرزند دیا جس میں لوگ پیوند ہو کر خود پھل دار بن جاتے ہیں۔ آیت 16 اِسی بات کو مزید صاف کر دیتی ہے: "پھر باپ تم کو وہ کچھ دے گا جو تم میرے نام میں مانگو گے۔" دعا مسیح کے راستے سے باپ تک پہنچتی ہے، کیونکہ نجات ہی مسیح کے راستے سے ہم تک پہنچی ہے۔
آئینہ
یہ آیت ہماری اُس چپکی ہوئی امید کو بےنقاب کرتی ہے کہ اگر ایمان کا درست فارمولا مل جائے تو نتیجہ یقینی ہو جائے گا۔ بیمار والد کے لیے مہینوں کی دعا، وہ نوکری جو ہاتھ سے نکل گئی، وہ بیٹا جو گھر چھوڑ گیا، وہ قرض جو ہر مہینے گلا دباتا ہے۔ ہم مانگتے ہیں اور جب خاموشی ملتی ہے تو دو میں سے ایک نتیجہ نکالتے ہیں: یا خدا بےپروا ہے، یا مَیں کافی روحانی نہیں۔ متن دونوں راستے بند کر دیتا ہے اور سوال بدل دیتا ہے: تم کہاں کھڑے ہو، بیل کے ساتھ جُڑے ہوئے یا الگ؟ کیونکہ الگ ہو کر مانگنا محض خواہش ہے، جُڑ کر مانگنا رشتے کی بات ہے۔
آج ایک کاغذ لیں اور وہ ایک دعا لکھیں جو آپ مہینوں سے دہرا رہے ہیں۔ اُس کے نیچے ایک جملے میں لکھیں کہ اگر یہ دعا پوری ہو جائے تو اُس سے مسیح میں کیا پھل پیدا ہوگا۔ پھر وہی دعا اُس جملے کے ساتھ بلند آواز میں کریں۔
ایک باریک نکتہ
"قائم رہو" کے پیچھے یونانی لفظ ہے مینو، یعنی ٹھہرنا، رہائش رکھنا، وہیں بس جانا۔ یہ کسی روحانی کوشش کا لفظ نہیں بلکہ پتے کا لفظ ہے، جہاں کوئی رہتا ہے۔ اور غور کریں کہ یہ ٹھہرنا دو طرفہ ہے: "تم مجھ میں… مَیں تم میں۔" ہمارا حصہ محض چمٹے رہنا ہے؛ رس کا بہاؤ اُن کا کام ہے۔ مسیح ہم میں کیسے ٹھہرتے ہیں؟ آیت 3 جواب دیتی ہے: "اُس کلام کے ذریعے جو مَیں نے تم کو سنایا ہے تم تو پاک صاف ہو چکے ہو۔" یعنی جہاں اُن کے الفاظ کسی زندگی میں مستقل مہمان بن جاتے ہیں، وہاں وہ خود موجود ہوتے ہیں۔ اِس لیے قائم رہنے کا سب سے عام، غیر ڈرامائی طریقہ یہی ہے: اُن کا کلام روز سننا، جب تک وہ ہماری خواہشوں کی زبان بولنے لگے۔
مشکل سوال
پھر بھی سوال باقی رہتا ہے: کیا وہ لوگ جن کی دعا قبول نہ ہوئی، مسیح میں قائم نہیں تھے؟ ایمان دار ماں باپ اپنے بچے کی شفا کے لیے گڑگڑاتے ہیں اور بچہ چلا جاتا ہے۔ اِسے شرط کی خلاف ورزی کہہ کر ٹال دینا ظلم ہوگا۔ متن خود ہمیں ایک اشارہ دیتا ہے: آیت 2 کے مطابق باپ پھل دار شاخ کی بھی کانٹ چھانٹ کرتا ہے۔ بعض اوقات خدا کا جواب چھری کی صورت میں آتا ہے، اور یہ جواب دینے سے انکار نہیں۔ لیکن مَیں یہ کہہ کر بات ختم نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ اِس سے درد چھوٹا نہیں ہوتا۔ جس رات یسوع نے یہ الفاظ کہے، اُسی رات اُنہوں نے خود باغ میں مانگا کہ یہ پیالہ ہٹ جائے، اور نہ ہٹا۔ قائم رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آسمان ہمیشہ "ہاں" کہے گا؛ اِس کا مطلب ہے کہ خاموشی میں بھی ہم اُسی بیل سے جُڑے ہیں جس نے وہ خاموشی خود جھیلی۔
پہلے سننے والے
یہ باتیں سننے والے گیارہ آدمی ہیں، رات کے وقت، فسح کے کھانے کے بعد، ایسے استاد کے ساتھ جو بار بار کہہ رہا ہے کہ مَیں جا رہا ہوں۔ اُن کے لیے سب سے بڑا خوف روحانی نہیں تھا بلکہ عملی: اب کس سے پوچھیں گے؟ تین سال سے ہر سوال کا جواب آواز دینے سے مل جاتا تھا۔ اِس آیت میں یسوع اُس رسائی کو ختم نہیں کرتے بلکہ بدل دیتے ہیں: میرا جسمانی ساتھ جائے گا، مگر مانگنا اور ملنا باقی رہے گا۔ اور یہ اُن لوگوں سے کہا جا رہا ہے جنہیں آگے چل کر دنیا کی دشمنی کا سامنا کرنا تھا (آیت 18)۔ ایسے جھنڈ کے لیے "جو جی چاہے مانگو" کوئی آسائش کا وعدہ نہیں تھا بلکہ زندہ رہنے کا سہارا: تم اکیلے نہیں، بیل تمہارے ساتھ ہے۔
غور و فکر
آپ کی وہ کون سی مستقل دعا ہے جو مسیح کے کلام کے ساتھ رہتے ہوئے پچھلے چند سالوں میں بدل گئی، اور یہ تبدیلی کیا بتاتی ہے؟
اگر مسیح میں قائم رہنا کوشش سے زیادہ رہائش کا معاملہ ہے، تو آپ کے ہفتے میں وہ کون سی جگہ ہے جہاں اُن کا کلام واقعی "بستا" ہے، نہ کہ صرف مہمان کی طرح آتا ہے؟
John 15:7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 15:7 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 15:7 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 15:7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 15:7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 15:7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی John 15 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اگر تم میرے احکام کے مطابق زندگی گزارو تو تم میری محبت میں قائم رہو گے۔“ غور کرو، یسوع یہ نہیں کہتا کہ فرمانبرداری سے تم اُس کی محبت کما لو گے۔ محبت پہلے سے موجود ہے، فرمانبرداری تو اُس میں ٹھہرے رہنے کا راستہ ہے۔ اور وہ خود اِس راہ پر چل چکا ہے۔ آج جس بات میں تُو ہچکچا رہا ہے، شاید وہی تیرے لیے اُس کی محبت میں گہرے اُترنے کا دروازہ ہو۔
اُنہوں نے بےسبب مجھ سے دشمنی رکھی۔“ یسوع کو نفرت کی کوئی وجہ نہیں دی گئی، اُس نے صرف شفا دی، معاف کیا، سچ بولا۔ اگر بےقصور ہونے کے باوجود اُسے ٹھکرایا گیا، تو تیری بھلائی بھی ہر دل کو نہیں جیت پائے گی۔ کبھی کبھی لوگوں کی ناراضی تیرے کسی گناہ کا ثبوت نہیں، بلکہ اِس بات کا کہ تُو کس کے پیچھے چل رہا ہے۔
اے باپ، جب تیرے نام کی وجہ سے لوگ مجھ سے کترائیں یا مذاق اڑائیں، تو میرا دل تلخ نہ ہو۔ مجھے یاد رہے کہ وہ تجھے جانتے ہی نہیں، اور یہی میری دعا کی وجہ بنے۔ مجھے حوصلہ دے کہ میں تیرا ہوکر جیوں اور محبت سے پیچھے نہ ہٹوں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں