احبار 25
متن
خداوند سینا پہاڑ پر موسیٰ کو زمین کے بارے میں ایک عجیب قانون دیتے ہیں: ہر ساتویں سال کھیت خالی رہیں، نہ بیج، نہ کٹائی، اور جو خود بخود اُگے وہ مالک، غلام، مزدور، پردیسی، مویشی اور جنگلی جانور سب کے لیے کھلا ہو۔ اور ہر پچاسویں سال، کفارہ کے دن، نرسنگا بجے اور پورے ملک میں اعلان ہو کہ ہر قرض دار غلام آزاد اور ہر بِکی ہوئی موروثی زمین اپنے پہلے مالک کو واپس۔ اِس کے ساتھ خرید و فروخت، سود، قرض اور غلامی کے بارے میں تفصیلی ہدایات آتی ہیں، اور سب کے نیچے ایک ہی بنیاد ہے: ”ملک کی تمام زمین میری ہی ہے“ (آیت 23)۔
مرکزی نکتہ
یہ باب معیشت کے بارے میں ہے، مگر اُس کی جڑ توحید میں ہے۔ اسرائیل کا سب سے قیمتی سرمایہ، زمین، دراصل اُن کا نہیں تھا۔ ”تم میرے حضور صرف پردیسی اور غیرشہری ہو۔“ اِس ایک فقرے سے ملکیت کا پورا تصور بدل جاتا ہے: انسان مالک نہیں، مختار ہے۔ اِسی لیے غریب بھائی سے سود لینا، اُس پر سختی سے حکمرانی کرنا یا اُس کی زمین ہمیشہ کے لیے ہڑپ کر لینا محض بدتمیزی نہیں، خدا کی ملکیت پر ڈاکہ ہے۔ اور دوسری جڑ نجات ہے: ”مَیں تمہیں اِس لئے مصر سے نکال لایا۔“ جسے خود چھڑایا گیا ہو وہ دوسروں کو غلام نہیں بنا سکتا۔ فضل اخلاقیات کو جنم دیتا ہے، نہ کہ اخلاقیات فضل کو۔
سنہری تار
غور کریں کہ آزادی کا نرسنگا کب بجتا ہے: ”ساتویں مہینے کے دسویں دن یعنی کفارہ کے دن“۔ قرض معاف ہونے کا اعلان اُس دن ہوتا ہے جب خون سے گناہ کا کفارہ دیا جاتا ہے۔ یہی انجیل کی ترتیب ہے: پہلے کفارہ، پھر رہائی۔ دوسرا دھاگا وہ لفظ ہے جو آیت 25 میں چھپا ہے، عبرانی میں ”گوئیل“، یعنی وہ قریبی رشتے دار جو قیمت ادا کر کے اپنے کنگال بھائی کی میراث واپس خرید لے۔ یہ محض قانونی اصطلاح نہیں رہی؛ یہی لفظ آگے چل کر اسرائیل کے خدا کا لقب بنا، اور اِسی نمونے میں مسیح آئے: ہمارا رشتے دار بن کر، ہمارا گوشت پوست لے کر، اور قیمت خود ادا کر کے۔ ناصرت کے عبادت خانے میں یسوع نے یسعیاہ کی وہ آیت پڑھی جو اِسی سالِ بحالی کی زبان میں لکھی گئی تھی، اور کہا: آج یہ پوری ہوئی۔
آئینہ
یہ باب اُس خوف پر ہاتھ رکھتا ہے جو آیت 20 میں صاف لکھا ہے: ”ہم ساتویں سال میں کیا کھائیں گے؟“ یہ آپ کا سوال بھی ہے۔ نوکری کا معاہدہ، بچوں کی فیس، بڑھاپے کی بچت، وہ رقم جو کسی نے لوٹا دی نہیں۔ اور یہ باب اُس فخر کو بھی بےنقاب کرتا ہے جو کہتا ہے: میں نے کمایا، میری محنت، میرا حق۔ خدا کہتے ہیں: زمین میری ہے، تم مہمان ہو۔ سب سے تکلیف دہ آیت 36 ہے، جہاں غریب بھائی سے نفع کمانے کو خدا کے خوف کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ ہم قانونی جواز ڈھونڈ لیتے ہیں، خدا رشتہ دیکھتے ہیں۔ آج ہی کریں: اُس ایک شخص کا نام لکھیں جس سے آپ کو کچھ لینا ہے، پیسہ یا معافی، اور اُس کے نام کے سامنے لکھ دیں کہ آپ اُس کا مطالبہ چھوڑ رہے ہیں۔
مرکزی کردار
اِس باب میں اصل کردار خداوند خود ہیں، اور وہ یہاں ایک زمیندار کے روپ میں سامنے آتے ہیں جو اپنی زمین کرائے پر نہیں، امانت میں دیتے ہیں۔ اُن کی فکر حیرت انگیز حد تک جسمانی ہے: مزدور کی روٹی، پردیسی کا پیٹ، مویشیوں اور جنگلی جانوروں کا چارہ، تھکی ہوئی مٹی کا آرام۔ وہ ایسے خدا ہیں جو انسان کی یاد داشت کمزور جان کر بار بار کہتے ہیں: ”مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔ مَیں تمہیں اِس لئے مصر سے نکال لایا۔“ اور وہ ایسے خدا ہیں جو انسانی معاشرے کو ہمیشہ کے لیے دولت اور غربت کے سانچوں میں جمنے نہیں دیتے۔ ہر پچاس سال میں وہ پانسہ پلٹ دیتے ہیں، کیونکہ اُن کے نزدیک کوئی بھی خاندان مستقل طور پر بےمیراث نہ رہے۔
پہلے سننے والے
یہ حکم اُن لوگوں نے سنا جن کے پاس ابھی زمین کا ایک گز بھی نہ تھا۔ وہ ریگستان میں تھے، خیموں میں، اور خدا اُن سے کھیتوں، انگور کے باغوں اور فصیل دار شہروں کے گھروں کی بات کر رہے تھے۔ ہر جملہ ایمان کی دعوت تھا۔ اُنہوں نے مصر دیکھا تھا، جہاں زمین فرعون کی تھی اور آدمی اینٹ گننے کی مشین تھا۔ اب اُنہیں ایسا ملک دیا جا رہا تھا جہاں قرض آدمی کو ہمیشہ کے لیے نگل نہیں سکتا۔ قدیم مشرق میں بادشاہ کبھی کبھار قرض معاف کرنے کا فرمان جاری کرتے تھے، اپنی مہربانی جتانے کے لیے۔ یہاں یہ بادشاہ کا موڈ نہیں، کیلنڈر کا حصہ ہے: خدا کی رحمت وقت میں گڑھی ہوئی ہے۔
سوال
پھر آیت 44 سے 46 کا کیا کریں؟ اسرائیلی بھائی آزاد، مگر پڑوسی ممالک کے لوگ ”ہمیشہ تمہارے غلام“۔ یہ آیات ہمیں چبھتی ہیں، اور چبھنی چاہیے۔ یہ نوشتہ گرے ہوئے انسانی معاشرے کو وہیں سے پکڑتا ہے جہاں وہ کھڑا تھا، اور اُس میں سے ایک قوم تراشتا ہے جو رحم سیکھے؛ مگر یہ حتمی لفظ نہیں۔ خود لاویوں کا یہ باب اپنی تکمیل کے لیے کسی اَور کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب گوئیل خود آیا تو اُس نے دائرہ توڑ دیا: قیمت ایک قوم کے لیے نہیں، ہر قبیلے اور زبان کے لیے ادا ہوئی۔ اِس سے آیت 46 خوبصورت نہیں ہو جاتی۔ مگر یہ بتاتی ہے کہ نجات کی کہانی ابھی مکمل نہیں تھی، اور یہ کہ خدا اپنے لوگوں کے ساتھ وہیں سے چلنا شروع کرتے ہیں جہاں وہ ہوتے ہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی چیز ہے جسے آپ ”میری“ کہتے ہیں، اور اگر آپ آیت 23 کو سچ مان لیں تو اُس کے ساتھ آپ کا سلوک کل سے کیسے مختلف ہوگا؟
کفارہ کے دن نرسنگا بجتا تھا: آپ نے مسیح میں ملی معافی کو آخری بار کب اپنے قرض داروں کے ساتھ اپنے سلوک میں بدلا؟
Leviticus 25 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
احبار 25 کا کیا مطلب ہے؟
احبار 25 کس بارے میں ہے؟
احبار 25 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
احبار 25 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
احبار 25 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Leviticus 25 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
