احبار 7
متن
لاویوں کی کتاب کا ساتواں باب قربانیوں کی ہدایات کا آخری حصہ ہے: قصور کی قربانی کہاں ذبح ہو، اُس کی چربی کیسے جلائی جائے، اور اُس کا گوشت کون کھائے؛ پھر اماموں کا حق، یعنی کھال، پکی ہوئی نذریں، ہلانے والا سینہ اور اُٹھانے والی ران۔ اِس کے بیچ میں سلامتی کی قربانی کے بارے میں وہ عجیب اصول آتا ہے کہ شکرگزاری کا گوشت اُسی دن کھایا جائے، "اگلی صبح تک کچھ نہیں بچنا چاہئے"، اور آخر میں چربی اور خون کھانے کی سخت ممانعت، جس کی خلاف ورزی پر آدمی کو اُس کی قوم سے مٹا دیا جاتا ہے۔
مرکزی بات
یہ باب خدا کے بارے میں ایک بات بہت واضح کرتا ہے: وہ صرف قربانی لینے والا نہیں، کھلانے والا بھی ہے۔ قربان گاہ پر جو چڑھتا ہے، اُس کا ایک بڑا حصہ خدا واپس انسان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ اماموں کے پاس زمین نہیں تھی، آمدنی نہیں تھی؛ اُن کی روٹی قربان گاہ سے آتی تھی۔ اور سلامتی کی قربانی میں تو قربانی دینے والا خود خدا کے سامنے بیٹھ کر کھاتا ہے۔ کفارہ اور دعوت ایک ہی جگہ ہوتے ہیں۔ یہی انجیل کا ڈھانچہ ہے: خدا کے ساتھ صلح کھانے کی میز پر ختم ہوتی ہے، خالی ہاتھ لوٹنے پر نہیں۔ مگر ساتھ ہی یہ باب کہتا ہے کہ اِس میز پر لاپروائی سے نہیں بیٹھا جا سکتا۔
تسلسل
عبرانی میں سلامتی کی قربانی کو "شلامیم" کہا جاتا ہے، وہی جڑ جس سے "شالوم" نکلتا ہے: بحال شدہ تعلق۔ خون چھڑکا جاتا ہے، چربی جلائی جاتی ہے، اور پھر گوشت کھایا جاتا ہے۔ یہ ترتیب پورے کلامِ مقدّس میں چلتی ہے اور آخرکار اُس رات میں آ کر کھلتی ہے جب خداوند یسوع مسیح نے روٹی توڑ کر فرمایا کہ یہ میرا بدن ہے۔ عشائے ربانی ہوا میں نہیں آیا؛ وہ اِس باب کی زبان بولتا ہے۔ پولس رسول پہلے کرنتھیوں ۱۱ میں جب خبردار کرتا ہے کہ ناسمجھی سے کھانے والا اپنے اوپر سزا لاتا ہے، تو وہ اِسی لاویوں ۷ کی سنجیدگی کو کلیسیا کی میز پر منتقل کر رہا ہے۔
آئینہ
غور کریں کہ شکرگزاری کا گوشت اگلی صبح تک نہیں بچنا چاہئے۔ ایک پورا جانور، ایک ہی دن میں۔ ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ ایک خاندان اکیلا کھا لے؛ اِس کا مطلب تھا پڑوسیوں کو بلاؤ، رشتہ داروں کو بلاؤ، غریبوں کو بلاؤ۔ خدا نے شکرگزاری کو جان بوجھ کر ایسا بنایا کہ اُسے ذخیرہ نہ کیا جا سکے، صرف بانٹا جا سکے۔ اور یہیں ہم پکڑے جاتے ہیں۔ ہم برکت کو ریفریجریٹر میں رکھنے والے لوگ ہیں: تنخواہ بڑھی تو خرچ بڑھا لیا، وقت ملا تو اپنے لیے رکھ لیا، معافی ملی تو اُسے اپنی ذاتی تسلی بنا لیا۔ خدا کہتا ہے کہ ایسی شکرگزاری تیسرے دن ناپاک ہو جاتی ہے، "اُس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا"۔ آج ہی اپنے فون پر ایک شخص کو، جسے آپ عام طور پر دعوت نہیں دیتے، یہ پیغام بھیجیں: "اِس ہفتے میرے گھر کھانے پر آئیں"، اور تاریخ بھی لکھ دیں۔
ایک تفصیل
چربی پر بار بار اصرار ہوتا ہے: دُم، انتڑیوں کی چربی، گُردوں کے گرد کی چربی، جوڑ کلیجی۔ قدیم مشرق میں چربی گوشت کا لذیذ ترین اور قیمتی ترین حصہ تھی، خوشحالی کی علامت۔ اور بالکل یہی حصہ جلا دیا جاتا ہے، کسی کے پیٹ میں نہیں جاتا: "گائےبَیل اور بھیڑبکریوں کی چربی کھانا تمہارے لئے منع ہے"۔ خدا کو بچا ہوا نہیں ملتا، بہترین ملتا ہے، اور وہ بہترین کسی اَور کے ساتھ شیئر نہیں ہوتا۔ یہ بات آج کے بجٹ اور کیلنڈر پر سیدھی لگتی ہے: ہم اکثر خدا کو اپنی تھکن کے آخری منٹ اور آمدنی کا بچا ہوا سکہ پیش کرتے ہیں۔ لاویوں ۷ پوچھتا ہے: چربی کہاں گئی؟
سوال
اور وہ سخت جملہ؟ ایک آدمی ناپاک حالت میں سلامتی کی قربانی کا گوشت کھا لے، اور "اُسے اُس کی قوم میں سے مٹا ڈالنا ہے"۔ ہمیں یہ بےتُکا لگتا ہے: کھانے کے ایک لقمے پر اتنی بڑی سزا۔ میں اِسے نرم نہیں کروں گا۔ اِس کا جواب یہ نہیں کہ خدا چڑچڑا ہے، بلکہ یہ کہ وہ میز اسرائیل کی زندگی کا مرکز تھی، اور وہاں بےپروائی کا مطلب تھا یہ اعلان کرنا کہ خدا کی موجودگی کوئی خاص بات نہیں۔ پھر بھی ایک کھٹک باقی رہتی ہے، اور رہنی چاہئے: ہم ایک ایسے خدا کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو واقعی مقدّس ہے، نہ صرف مہربان۔ فضل اِس سنجیدگی کو منسوخ نہیں کرتا؛ وہ اُسے مسیح کے بدن پر اٹھا لیتا ہے۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار خدا ہے، اور اُس کا چہرہ یہاں ایک میزبان کا ہے جو اپنے خادموں کا پیٹ اپنے ہی مال سے بھرتا ہے: "مَیں نے ہلانے والا سینہ اور اُٹھانے والی ران اماموں کو دی ہے"۔ وہ لینے والا نہیں جو خالی کرتا جائے؛ وہ دینے والا ہے جو حساب رکھتا ہے کہ کس کو کتنا ملے، اور خشک نذریں تک "برابر برابر" تقسیم کرواتا ہے، تاکہ کوئی امام نظرانداز نہ ہو۔ یہی خدا پولس کے ذریعے کہلواتا ہے کہ قربان گاہ کی خدمت کرنے والے قربان گاہ سے کھائیں (پہلا کرنتھیوں ۹)۔ اِس کا عملی مطلب آج بھی ہے: اپنے پادری، مبلغ یا خادم کی روزی کو احسان نہ سمجھیں، خدا کا مقرر کردہ حق سمجھیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ "چربی" کیا ہے جو آپ خدا کے لیے الگ کرنے سے گریز کرتے ہیں: وقت، پیسہ، یا توانائی کا بہترین حصہ؟
آپ کی شکرگزاری آخری بار کب کسی اَور کی میز پر پہنچی، اور اگر دیر ہو گئی ہے تو اُسے روکنے والی چیز کیا ہے؟
Leviticus 7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
احبار 7 کا کیا مطلب ہے؟
احبار 7 کس بارے میں ہے؟
احبار 7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
احبار 7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
احبار 7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Leviticus 7 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
سلامتی کی قربانی خوشی کا کھانا تھی، رب کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنے کا موقع۔ اِسی لئے حکم آیا: ”لیکن جو ناپاک ہوتے ہوئے رب کی سلامتی کی قربانی کا گوشت کھائے اُسے اُس کی قوم میں سے مٹایا جائے۔“ مسئلہ کھانا نہیں تھا بلکہ لاپروائی سے آنا۔ آج بھی تُو مالک کی میز تک آتا ہے۔ کیا تُو پہلے رُک کر اپنا دل اُس کے سامنے کھولتا ہے؟ وہ تجھے دُور نہیں کرنا چاہتا، پاک کرنا چاہتا ہے۔
اے خدا، تُو نے اپنے لوگوں سے کہا کہ بہترین حصہ تیرا ہے۔ میرے دل میں بھی وہ گوشے ہیں جو میں اپنے لیے رکھ لیتا ہوں۔ مجھے سکھا کہ جو سب سے قیمتی ہے وہ خوشی سے تیرے حوالے کروں، اور تیری بات سننے کے لیے ہمیشہ تیار رہوں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
