رومیوں 15:7
متن
پولس رسول ایک ہی جملے میں ساری بحث سمیٹ دیتے ہیں: "چنانچہ جس طرح مسیح نے آپ کو قبول کیا ہے اُسی طرح ایک دوسرے کو بھی قبول کریں تاکہ اللہ کو جلال ملے۔" یہ ایک حکم ہے، مگر اس کی بنیاد کوئی اصول یا قاعدہ نہیں بلکہ ایک واقعہ ہے جو پہلے ہی پیش آ چکا ہے۔ پہلے مسیح نے قبول کیا؛ اب آپ قبول کریں۔ اور اس کا مقصد صرف جماعت کا امن نہیں، بلکہ اللہ کا جلال۔ تین چھوٹے حصے: مسیح کا عمل، ہمارا ردِعمل، اور خدا کی تمجید۔ درمیان میں وہ لفظ کھڑا ہے جس پر سب کچھ ٹِکا ہے: "جس طرح"۔ یہی لفظ ہے جو اس آیت کو تسلی سے نکال کر ہمارے دروازے تک لے آتا ہے۔
اصل بات
یونانی میں "قبول کرنا" کے لیے جو لفظ ہے، پروسلامبانیستھے، اس کا مطلب محض رواداری نہیں؛ اس کا مطلب ہے کسی کو اپنے پاس لے آنا، اپنے گھر میں، اپنی میز پر، اپنے حلقے کے اندر۔ یہ فاصلے سے کی جانے والی مہربانی نہیں، یہ جگہ دینا ہے۔ اور پولس کہتے ہیں کہ مسیح نے ہمارے ساتھ یہی کیا۔ غور کیجیے: انہوں نے نہیں لکھا کہ "مسیح نے آپ کو معاف کیا" یا "بچایا"، بلکہ "قبول کیا"۔ نجات یہاں گھر کے اندر بلائے جانے کی صورت میں بیان ہوئی ہے۔ سوال جو یہ آیت خاموشی سے پوچھتی ہے وہ یہ ہے: کیا ہم نے کبھی اس قبولیت کی قیمت گِنی ہے؟ مسیح نے ہمیں اُس وقت قبول کیا جب ہم درست ہو چکے تھے، یا اُس سے پہلے؟ اور اگر پہلے، تو ہم کس چیز کے انتظار میں ہیں؟
مشترکہ دھاگا
پولس اس حکم کو ہوا میں معلق نہیں چھوڑتے۔ اگلی ہی سانس میں وہ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں: مسیح "یہودیوں کا خادم بنا تاکہ اُن وعدوں کی تصدیق کرے جو ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے کئے گئے تھے"، اور ساتھ ہی اس لیے بھی کہ "غیریہودی اللہ کو اُس رحم کے لئے جلال دیں"۔ یعنی قبولیت کوئی نیا خیال نہیں جو پولس نے روم کی جماعت کے جھگڑے سلجھانے کے لیے ایجاد کیا ہو۔ یہ وہی دھاگا ہے جو ابراہیم سے شروع ہو کر یسعیاہ کی اُس کونپل تک پہنچتا ہے جس پر "غیریہودی آس رکھیں گے"۔ خدا کی پوری کہانی ایک میز کے مسلسل چوڑا ہوتے جانے کی کہانی ہے۔ اور مسیح اس میز کے میزبان بھی ہیں اور خادم بھی۔ سوچنے کی بات یہ ہے: کیا ہماری جماعتیں اس چوڑائی کو جاری رکھتی ہیں، یا اسے کہیں سنبھال کر رکھ دیتی ہیں؟
آئینہ
ہم سب کے پاس ایک فہرست ہوتی ہے، لکھی ہوئی نہیں مگر دل میں محفوظ۔ وہ رشتہ دار جس سے شادی بیاہ پر رسمی سلام تو ہوتا ہے مگر بات نہیں؛ وہ بہن یا بھائی جماعت میں جن کی عبادت کا انداز، سیاست، یا لہجہ ہمیں کھٹکتا ہے؛ وہ ساتھی جس کے بارے میں ہم نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ "ٹھیک ہے، مگر قریب نہیں"۔ ہم اسے برداشت کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرض ادا ہو گیا۔ پولس یہ رعایت نہیں دیتے۔ برداشت فاصلہ قائم رکھتی ہے؛ قبولیت دروازہ کھولتی ہے۔ اور ہمارا اصل خوف شاید یہ ہے کہ اگر ہم نے جگہ دی تو کچھ کھو دیں گے: اپنا سکون، اپنی حق بجانبی، اپنی کرسی۔ آج ہی اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیے جسے آپ نے چپکے سے فہرست سے نکال رکھا ہے، اور اُسے چائے پر بلانے کا پیغام بھیج دیجیے۔ آج، ابھی۔
سوال
"جس طرح مسیح نے آپ کو قبول کیا" ایک خوبصورت پیمانہ ہے اور ایک خوفناک بھی، کیونکہ اس کی کوئی حد نظر نہیں آتی۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہر رویہ، ہر عقیدہ، ہر نقصان پہنچانے والا شخص بغیر سوال کے اندر آ جائے؟ ایمان داری سے کہیں تو پولس یہاں لکیر نہیں کھینچتے۔ وہ اُن لوگوں کو لکھ رہے تھے جو کھانے پینے اور دنوں کے معاملے میں الگ الگ سوچتے تھے، نہ کہ اُن کو جو ایک دوسرے کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ مگر یہ فرق انہوں نے ہمارے لیے صاف نہیں کیا، اور شاید جان بوجھ کر نہیں کیا۔ کیونکہ جیسے ہی ہمیں حد بندی کا اصول مل جائے، ہم اُسے اپنی بے رغبتی کا پردہ بنا لیں گے۔ ہمیں قاعدہ نہیں دیا گیا؛ ہمیں ایک شخص دیا گیا ہے جس کی طرف دیکھتے رہنا پڑے گا۔ یہ بے چینی ختم نہیں ہوتی، اور شاید اسے ختم نہیں ہونا چاہیے۔
پہلے سننے والے
روم کی جماعتیں چند گھروں میں بٹی ہوئی تھیں۔ کچھ سال پہلے یہودیوں کو شہر سے نکال دیا گیا تھا، اور اُن کی غیرحاضری میں غیریہودی ایمان داروں نے عبادت کا اپنا انداز، اپنی روٹین، اپنی قیادت بنا لی تھی۔ پھر یہودی لوٹے، اور گھر وہی نہ رہا جو وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ اب کس کا کھانا میز پر آئے گا؟ کس کا سبت مانا جائے گا؟ جب اُن کے کانوں میں یہ جملہ پڑا کہ "ایک دوسرے کو قبول کریں"، تو یہ کوئی نرم نصیحت نہیں تھی۔ یہ اُن سے کہہ رہا تھا کہ میز کے سرے والی کرسی چھوڑ دو۔ اور اس کے بدلے میں انہیں کوئی ذاتی فائدہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی آواز کا وعدہ ملا: "مل کر ایک ہی آواز کے ساتھ" خدا کو جلال دینا۔
پس منظر
پولس یہ خط تقریباً سن 57 عیسوی میں کُرِنتھس سے لکھ رہے ہیں۔ روم وہ کبھی نہیں گئے؛ یہ جماعت اُن کی بنائی ہوئی نہیں۔ وہ سپین جانے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور فی الحال یروشلم کی طرف جا رہے ہیں، اُس ہدیے کے ساتھ جو یونانی جماعتوں نے غریب یہودی مسیحیوں کے لیے جمع کیا ہے۔ یہ تفصیل معمولی نہیں۔ آیت 7 کا حکم پولس کے اپنے سامان میں سکّوں کی صورت میں موجود ہے: غیریہودیوں کا پیسہ یہودیوں کی روٹی بن رہا ہے۔ قبولیت اُن کے لیے ایک نظریہ نہیں، ایک سفر تھی، جس میں خطرہ بھی تھا، اسی لیے وہ دعا کی منت کرتے ہیں۔ یہ آیت ایسے آدمی کی قلم سے نکلی جو خود اس کی قیمت چکا رہا تھا۔
غور و فکر کے سوالات
اگر مسیح نے مجھے اُسی شرط پر قبول کیا ہوتا جس شرط پر میں دوسروں کو قبول کرتا ہوں، تو کیا میں آج اُن کے گھر میں ہوتا؟
وہ کون سی کرسی ہے، میری جماعت یا میرے خاندان میں، جسے چھوڑنے سے میں کتراتا ہوں، اور کیا اُس کا چھوڑنا واقعی نقصان ہے؟
Romans 15:7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
رومیوں 15:7 کا کیا مطلب ہے؟
رومیوں 15:7 کس بارے میں ہے؟
رومیوں 15:7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
رومیوں 15:7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
رومیوں 15:7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Romans 15 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس لکھتا ہے، ”چونکہ مَیں اِتنے سالوں سے آپ کے پاس آنے کا آرزومند رہا ہوں۔“ اِتنے سال! ایک نیک خواہش دل میں تھی اور پوری نہ ہوئی۔ اور جب وہ آخرکار روم پہنچا تو قیدی بن کر۔ آپ کے دل میں بھی کوئی ایسی دیرینہ آرزو ہے؟ خدا اُسے رد نہیں کرتا، وہ اُسے اپنے وقت اور اپنے طریقے سے پورا کرتا ہے۔
پولس اپنی خدمت کو امام کی خدمت کہتا ہے، مگر اُس کی قربانی جانور نہیں بلکہ لوگ ہیں: "تاکہ غیریہودی ایک ایسی قربانی بن جائیں جو اللہ کو پسند آئے۔" سوچیں، آپ خود وہ نذر ہیں جو قربان گاہ پر رکھی گئی۔ اور آپ کو پاک کرنے والا کوئی رسم نہیں، روح القدس ہے۔ کیا آپ اپنے آپ کو اِتنا قیمتی سمجھتے ہیں؟
پولس نے پرانے عہدنامے سے یہ فقرہ چُنا: ”اے غیریہودیو، اُس کی قوم کے ساتھ خوشی مناؤ۔“ غور کریں، خوشی الگ الگ نہیں بلکہ ”ساتھ“ منانی ہے۔ خدا نے آپ کو صرف نجات نہیں دی، ایک خاندان بھی دیا ہے۔ اور شاید یہی سب سے مشکل حصہ ہے۔ کیا آپ اُس بہن یا بھائی کے ساتھ بیٹھ کر خوش ہو سکتے ہیں جو آپ جیسا نہیں؟ مسیح کی میز پر دونوں کی جگہ ایک ہی ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں