احبار 9
متن
مخصوصیت کے سات دن گزر چکے ہیں، اور آٹھویں دن موسیٰ ہارون، اُس کے بیٹوں اور بزرگوں کو بُلاتا ہے۔ ہارون پہلے اپنے لئے، پھر پوری قوم کے لئے گناہ کی قربانی، بھسم ہونے والی قربانی، غلہ کی نذر اور سلامتی کی قربانی چڑھاتا ہے، ہر قدم اُس حکم کے مطابق جو رب نے دیا تھا۔ آخر میں ہارون ہاتھ اُٹھا کر قوم کو برکت دیتا ہے، موسیٰ کے ساتھ خیمے میں داخل ہوتا ہے، اور جب دونوں باہر آتے ہیں تو رب کا جلال ظاہر ہوتا ہے اور آگ قربان گاہ پر اُتر آتی ہے۔
اصل بات
اِس باب کا سب سے چونکا دینے والا جملہ دو بار دہرایا گیا ہے: ”آج ہی رب تم پر ظاہر ہو گا۔“ یہ وعدہ ہے، مگر یہ خطرہ بھی ہے۔ اسرائیل نے سینا پر دیکھا تھا کہ خدا کا قریب آنا کوئی نرم بات نہیں۔ اِس لئے باب کا تقریباً پورا حصہ خون، چربی، دھونے اور جلانے کی تفصیل ہے۔ خدا خود کو دکھانا چاہتا ہے، مگر وہ اپنی قدوسیت کو کم نہیں کرتا؛ اِس کے بجائے وہ ایک راستہ مقرر کرتا ہے۔ قربانی کوئی رشوت نہیں جس سے خدا کو راضی کیا جائے، بلکہ وہ بندوبست ہے جو خدا نے خود دیا تاکہ ناپاک لوگ زندہ رہتے ہوئے اُس کے جلال کے سامنے کھڑے ہو سکیں۔ فضل یہاں پہلے سے موجود ہے، خون سے پہلے۔
سلسلۂ کلام
غور کیجئے کہ ہارون کو سب سے پہلے اپنے لئے بچھڑا ذبح کرنا پڑتا ہے۔ کاہن خود کفارے کا محتاج ہے۔ یہ ترتیب پورے عہدِ عتیق میں ایک نامکمل پن چھوڑ جاتی ہے: جو واسطہ بنتا ہے، وہ خود آلودہ ہے۔ اور بچھڑے کا انتخاب اتفاق نہیں؛ ہارون ہی وہ آدمی تھا جس نے سونے کا بچھڑا بنایا تھا۔ خدا اُس کے ماضی کو مٹاتا نہیں، اُسے قربان گاہ پر لے آتا ہے۔ عبرانیوں کا مصنف بعد میں یہی نکتہ اُٹھاتا ہے: مسیح کو پہلے اپنے گناہوں کے لئے قربانی چڑھانے کی ضرورت نہ تھی۔ لیویوں کا یہ آٹھواں دن اُس دن کی طرف اشارہ کرتا ہے جب کاہن اور قربانی ایک ہی شخص ہوں گے، اور برکت دینے والے ہاتھ زخمی ہوں گے۔
آئینہ
ہم چاہتے ہیں کہ خدا ظاہر ہو، مگر اپنی شرائط پر: جب دل تیار ہو، جب زندگی سنبھلی ہوئی ہو۔ یہ باب اُس خواہش کو الٹ دیتا ہے۔ اسرائیل کو کچھ محسوس کرنے کو نہیں کہا گیا؛ اُنہیں لانے کو کہا گیا، کھڑے ہونے کو کہا گیا، اور انتظار کرنے کو کہا گیا۔ آپ کے دفتر کی وہ صبح جب دعا خالی لگتی ہے، وہ اتوار جب آپ بےدلی سے کلیسیا میں بیٹھے ہیں، وہ رشتہ جس میں آپ نے سب کچھ آزما لیا ہے: یہاں سوال یہ نہیں کہ آپ کا جذبہ کتنا گرم ہے، بلکہ یہ کہ آپ خدا کے مقرر کردہ راستے پر کھڑے ہیں یا نہیں۔ اور دوسری طرف، اگر ہارون کو بھی اپنے لئے قربانی درکار تھی، تو آپ کا وہ خفیہ خیال کہ ”مجھے اِس کی اتنی ضرورت نہیں“ کہاں ٹھہرتا ہے؟
کلام کی گونج
سینا پر آگ پہاڑ پر اُتری تھی اور لوگ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے تھے۔ یہاں آگ قربان گاہ پر اُترتی ہے، خیمے کے صحن میں، قوم کے بیچ، اور لوگ ڈر کر بھاگتے نہیں بلکہ ”خوشی کے نعرے مارنے لگے اور منہ کے بل گر گئے“۔ یہی خدا ہے، وہی آگ ہے، مگر اب ایک قربانی درمیان میں ہے۔ اور اگلے ہی باب میں وہی آگ ناداب اور ابیہو کو بھسم کرے گی۔ ایک ہی آگ: قبولیت اور عدالت۔ یہ تضاد نہیں، یہ ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں، اور کلامِ مقدّس اِن دونوں کو ساتھ ساتھ رکھنے سے نہیں گھبراتا۔ ہمیں بھی نہیں گھبرانا چاہئے۔
ایک باریک بات
آیت 22 پر رُکیں: ”تمام قربانیاں پیش کرنے کے بعد ہارون نے اپنے ہاتھ اُٹھا کر قوم کو برکت دی۔ پھر وہ قربان گاہ سے اُتر کر…“ اور پھر آیت 23 میں وہ موسیٰ کے ساتھ خیمے میں جاتا ہے، اور دونوں باہر آ کر دوبارہ برکت دیتے ہیں۔ متن ہمیں نہیں بتاتا کہ خیمے کے اندر کیا ہوا۔ کوئی مکالمہ نہ
Leviticus 9 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
احبار 9 کا کیا مطلب ہے؟
احبار 9 کس بارے میں ہے؟
احبار 9 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
احبار 9 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
احبار 9 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Leviticus 9 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
ہارون کی خدمت کا پہلا دن تھا، سب کچھ نیا اور خاص، پھر بھی لکھا ہے کہ اُس نے غلہ کی نذر "جانوروں کی اُس قربانی کے علاوہ" جلائی "جو ہر صبح کو چڑھائی جاتی تھی۔" روزمرہ کی عبادت منسوخ نہیں ہوئی۔ اور صرف مٹھی بھر آٹا کافی تھا، کیونکہ وہ پوری نذر کی نمائندگی کرتا تھا۔ تیرا آج کا چھوٹا سا وقت بھی خدا کے سامنے پورے دل کی نمائندگی کر سکتا ہے۔
قربان گاہ پر کچھ بھی گندا نہیں چڑھ سکتا تھا۔ ہارون نے انتڑیوں اور پنڈلیوں کو بھی دھویا، یعنی وہ حصے جو کسی کو نظر نہیں آتے تھے اور وہ جن پر انسان چلتا ہے۔ اندر کے چھپے خیال اور باہر کے قدم، دونوں خدا کے سامنے آتے ہیں۔ سوچ ذرا، تُو کون سا حصہ اب تک اُس سے چھپائے بیٹھا ہے؟ وہ اُسے بھی دھو کر قبول کرنا چاہتا ہے۔
اے خدا، موسیٰ اور ہارون کی طرح ہم بھی تیرے حضور آنا چاہتے ہیں اور تیری برکت لے کر لوگوں کے پاس لوٹنا چاہتے ہیں۔ ہمارے دلوں کو کھول دے تاکہ تیرا جلال ہماری زندگیوں میں نظر آئے، اور جو ہمیں دیکھیں وہ تجھے پہچانیں۔
اے خدا، جو کچھ میرے اندر گناہ اور شرمندگی کا بوجھ ہے، اُسے تُو خیمے سے باہر لے جا کر ختم کر دے۔ مجھے یقین دلا کہ تیری قربانی کافی ہے اور مجھے اُس بوجھ کو دوبارہ اُٹھانے کی ضرورت نہیں۔ صاف دل کے ساتھ تیرے حضور کھڑا ہونا سکھا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
