لوقا 17:37
متن
شاگرد ایک بالکل عملی سوال پوچھتے ہیں۔ ابھی ابھی خداوند نے بتایا ہے کہ ایک کو ساتھ لے لیا جائے گا اور دوسرے کو پیچھے چھوڑ دیا جائے گا، اور اُن کے ذہن میں فوراً نقشہ کھلتا ہے: "خداوند، یہ کہاں ہو گا؟" وہ جگہ جاننا چاہتے ہیں، شاید اِس اُمید پر کہ اگر مقام معلوم ہو تو بندوبست کیا جا سکے۔ جواب میں خداوند کوئی پتہ نہیں دیتے، بلکہ ایک کہاوت جیسا فقرہ رکھ دیتے ہیں: "جہاں لاش پڑی ہو وہاں گِدھ جمع ہو جائیں گے۔" سوال جغرافیے کا تھا، جواب حقیقت کا ہے۔ جہاں موت ہے، وہاں پرندے خود بخود اُتر آتے ہیں؛ کسی کو اُنہیں بلانا نہیں پڑتا۔
اصل بات
یہ ایک جملہ عدالت کے بارے میں ہماری سب سے عام غلط فہمی توڑ دیتا ہے: کہ خدا کی عدالت کسی طے شدہ جگہ پر، کسی مقررہ پتے پر آتی ہے جہاں سے ہوشیار لوگ بروقت ہٹ سکتے ہیں۔ خداوند کہتے ہیں کہ ایسا نہیں۔ عدالت کسی مقام کو نہیں، ایک حالت کو ڈھونڈتی ہے۔ جہاں روحانی موت پڑی ہو، وہاں انجام اُسی قدرتی لازمیت کے ساتھ آ پہنچتا ہے جس کے ساتھ گِدھ آسمان سے اُترتے ہیں۔ ایوب کی کتاب میں خدا شکاری پرندے کی اِسی جبلت کا ذکر فرماتے ہیں، کہ وہ دور سے مقتولوں کو بھانپ لیتا ہے؛ وہ تصویر یہاں دہرائی گئی ہے، مگر اب انسانوں پر لاگو ہو کر۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ "کہاں" پوچھنا دراصل سوال سے بچنے کا طریقہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ تُو زندہ ہے یا نہیں۔
مشترکہ دھاگا
یہ تصویر آسمان سے نہیں ٹپکی؛ اِس کی جڑیں تورات میں ہیں۔ استثنا میں عہد توڑنے کی لعنتوں میں سے ایک یہ ہے کہ مقتولوں کی لاشیں بے دفن پڑی رہیں اور شکاری پرندے اُن پر اُتریں۔ اسرائیل کے کانوں میں گِدھ کا مطلب صرف ایک پرندہ نہیں تھا، بلکہ عہد کی خلاف ورزی کا آخری منظر۔ اور یہی تصویر مکاشفہ کے آخر میں پھر اُبھرتی ہے، جہاں پرندوں کو ایک خوفناک ضیافت کے لئے بلایا جاتا ہے۔ یعنی خداوند یہاں کوئی نئی بات نہیں گھڑ رہے، وہ عہد کی زبان بول رہے ہیں۔ لیکن دھاگا ایک موڑ لیتا ہے: جو شخص یہ کہہ رہا ہے وہ خود یروشلم کی طرف جا رہا ہے (آیت 11) تاکہ "بہت دُکھ اُٹھائے" (آیت 25)۔ صلیب پر وہی بدن لٹکا جس پر عدالت اُتری، اور تیسرے دن اُس جگہ گِدھوں کو کچھ نہ ملا۔ یہی وہ ایک مقام ہے جہاں موت کا قانون ٹوٹا۔
آئینہ
"کہاں ہو گا؟" ہم آج بھی یہی پوچھتے ہیں، صرف الفاظ بدل کر۔ کون سا ملک محفوظ رہے گا، کتنی بچت کافی ہو گی، کون سا محلہ، کون سی کلیسیا، کون سی ویکسین، کون سا منصوبہ۔ ہم انتظام کے ذریعے عدالت سے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈتے ہیں، کیونکہ انتظام ہمارے ہاتھ میں ہے اور توبہ نہیں۔ خداوند جواب نہیں دیتے، اور یہ اُن کی مہربانی ہے؛ وہ ہمیں اُس سوال سے واپس گھسیٹتے ہیں جو ہمیں مصروف رکھتا ہے اُس سوال کی طرف جو ہمیں زندہ کرتا ہے۔ آیت 31 اِسے بالکل ٹھوس بنا دیتی ہے: چھت پر کھڑا آدمی سامان کے لئے نیچے نہ اُترے۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیں جس کے لئے آپ "نیچے اُترتے" ہیں، اور اُسے بلند آواز سے خدا کے سامنے پڑھ کر کہیں: یہ میری جان کے برابر نہیں۔
پہلے سامع
وہ لوگ یہ بات رومی سلطنت کے سائے میں سن رہے تھے۔ رومی لشکروں کا نشان عقاب تھا، چاندی کا عقاب جو ہر فوجی دستے کے آگے اُٹھایا جاتا تھا۔ جب خداوند نے کہا کہ پرندے لاش پر جمع ہوں گے، تو بہت سے سننے والوں کے ذہن میں صرف جنگل کا منظر نہیں، بلکہ سرحد سے آتی ہوئی فوج بھی آئی ہو گی۔ اور لوقا کے قارئین، جو شاید ستّر عیسوی کے بعد یہ انجیل پڑھ رہے تھے، یروشلم کے محاصرے کو یاد کر کے کانپے ہوں گے: شہر جو اپنے آپ کو خدا کا محفوظ مقام سمجھتا تھا، وہی لاش بن گیا۔ اُن کے لئے یہ آیت دُور کے مستقبل کی پیشین گوئی نہیں تھی، بلکہ ایک تازہ زخم کی تشریح۔
ایک تفصیل
یونانی متن میں جو لفظ ہے وہ ہے "آئتوئی"، یعنی عقاب۔ مگر عام بول چال میں یہی لفظ اُن بڑے پرندوں کے لئے بھی چلتا تھا جو مُردار کھاتے ہیں، اِسی لئے اردو ترجمہ "گِدھ" کرتا ہے۔ یہ دوہرا پن اتفاق نہیں: شاہی شان اور مُردار خوری ایک ہی لفظ میں بند ہیں۔ عدالت بیک وقت باوقار بھی ہے اور گھناؤنی بھی۔ اور فعل پر غور کیجئے: "جمع ہو جائیں گے"۔ کوئی اُنہیں بلاتا نہیں، کوئی اُنہیں راستہ نہیں دکھاتا۔ وہ خود بھانپ لیتے ہیں۔ یہی اِس جملے کی ساری دہشت ہے: عدالت کو ڈھونڈنا نہیں پڑتا، وہ کشش ثقل کی طرح کام کرتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ آپ تک پہنچے گی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر اُسے کیا ملے گا۔
مرکزی کردار
خداوند یسوع یہاں ایک ایسے اُستاد کے طور پر سامنے آتے ہیں جو پوچھے گئے سوال کا جواب دینے سے انکار کرتے ہیں اور اُس سوال کا جواب دیتے ہیں جو پوچھا جانا چاہئے تھا۔ یہ اُن کا مستقل انداز ہے، اور یہ سختی نہیں بلکہ شفقت ہے؛ جو معلومات ہمیں بچا نہیں سکتیں، وہ اُنہیں دینے سے انکار کرتے ہیں۔ غور کیجئے کہ وہ یہ سب کہتے ہوئے خود کہاں جا رہے ہیں۔ وہ یروشلم کی طرف چل رہے ہیں، اُس شہر کی طرف جس کے بارے میں وہ ابھی پیشین گوئی کر چکے ہیں کہ وہ اِس نسل کے ہاتھوں رد کیا جائے گا۔ جو شخص گِدھوں کا ذکر کر رہا ہے، وہ خود رضامندی سے اُس جگہ جا رہا ہے جہاں موت منتظر ہے۔ یہی اُس کے لہجے کو بچا لیتا ہے: وہ باہر کھڑے ہو کر عدالت کا اعلان نہیں کرتے، وہ اُس کے بیچ میں اُتر رہے ہیں۔
غور و فکر
آپ کے اندر "کہاں؟" والا سوال کس شکل میں زندہ ہے؟ کون سا منصوبہ یا انتظام آپ کو اُس سوال سے بچا رہا ہے کہ آپ روحانی طور پر زندہ ہیں یا نہیں؟
اگر عدالت مقام کو نہیں بلکہ حالت کو ڈھونڈتی ہے، تو آج آپ کی زندگی کا کون سا حصہ ایسا ہے جس پر خداوند کی زندگی بخش دستگیری کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟
Luke 17:37 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 17:37 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 17:37 کس بارے میں ہے؟
لوقا 17:37 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 17:37 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 17:37 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 17 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو نے مجھے بھی واپس مُڑنے کی توفیق دی تاکہ میں اُس سامری کی طرح تیرے قدموں میں گر کر تیرا شکر کروں۔ تُو نے میرے جسم اور دل کو شفا دی، اور یہ بھی سکھایا کہ تجھے جلال دینا ہی اصل چنگائی ہے۔
خبردار رہو! اگر تیرا بھائی گناہ کرے تو اُسے ملامت کر، اور اگر وہ توبہ کرے تو اُسے معاف کر دے۔“ غور کر، یسوع نے خاموشی کا حکم نہیں دیا۔ ہم اکثر دو انتہاؤں میں جیتے ہیں، یا تو دل میں کڑواہٹ پالتے ہیں اور کچھ نہیں کہتے، یا غصے میں سب کچھ کہہ دیتے ہیں۔ یہاں تیسرا راستہ ہے: سچ بولو، مگر معافی ہاتھ میں تیار رکھو۔ کیا تُو اُس شخص سے بات کرنے کو تیار ہے جس سے تُو ناراض ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں