بائبل کی تشریح

لوقا 17

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

باب کا آغاز تیز ہے: ٹھوکر کا آنا ناگزیر ہے، مگر جس کے ذریعے آئے اُس کے لیے چکّی کا پاٹ اور سمندر بہتر ہے؛ اور اِسی سانس میں حکم آتا ہے کہ دن میں سات بار توبہ کرنے والے بھائی کو سات بار معاف کرو۔ رسول گھبرا کر ایمان میں اضافے کی درخواست کرتے ہیں، اور خداوند رائی کے دانے اور نالائق نوکر کی مثال سے جواب دیتے ہیں۔ پھر سامریہ اور گلیل کی سرحد پر دس کوڑھی چنگے ہوتے ہیں مگر صرف ایک، وہ بھی اجنبی، شکر ادا کرنے لوٹتا ہے۔ آخر میں فریسیوں کے سوال پر خداوند فرماتے ہیں کہ بادشاہی ظاہری نشانوں سے نہیں پہچانی جائے گی، اور شاگردوں کو ابنِ آدم کے اُس دن کے لیے تیار کرتے ہیں جو بجلی کی طرح اچانک ہو گا۔

اصل بات

یہ باب بکھرا ہوا لگتا ہے، مگر اِس میں ایک ہی دھاگا ہے: خدا کی بادشاہی کسی تحریک یا جگہ میں نہیں، ایک شخص میں آ چکی ہے، اور وہ شخص اُن کے سامنے کھڑا ہے۔ ”اللہ کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے“ کوئی رُوحانی استعارہ نہیں بلکہ ایک دعویٰ ہے جو بولنے والے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اِسی لیے یہاں ایمان کی مقدار نہیں بلکہ اُس کا رُخ اہم ہے؛ رائی کا دانہ کافی ہے کیونکہ طاقت دانے میں نہیں، اُس میں ہے جس پر بھروسا کیا جاتا ہے۔ اور اِسی لیے نالائق نوکر کی مثال ظالم نہیں بلکہ آزاد کرنے والی ہے: جہاں نجات مسیح کی ذات سے آتی ہے، وہاں ہماری خدمت حساب کتاب نہیں، شکرگزاری بن جاتی ہے، جیسے اُس سامری کی۔

مرکزی دھاگا

آیت ۲۵ اِس پورے باب کی کُنجی ہے: ”لیکن پہلے لازم ہے کہ وہ بہت دُکھ اُٹھائے اور اِس نسل کے ہاتھوں رد کیا جائے۔“ بجلی کی چمک سے پہلے صلیب کی تاریکی ہے۔ یہی خدا کی نجات کا وہ نمونہ ہے جو پوری کتابِ مقدّس میں چلتا ہے: جلال پہلے نہیں، بعد میں آتا ہے؛ تخت سے پہلے دُکھ۔ نوح اور لوط کا ذکر اتفاقی نہیں۔ دونوں قصوں میں عدالت آئی، مگر دونوں میں خدا نے پہلے سے ایک راستہ کھولا، ایک کشتی، ایک ہاتھ جو شہر سے باہر کھینچ لے گیا۔ مسیح خود وہ کشتی ہیں، اور ساتھ ہی وہ نوح جو طوفان کے باہر نہیں بلکہ اُس کے اندر سے گزرتے ہیں۔ جو ”اپنی جان کھو دے گا وہی اُسے بچائے رکھے گا“ وہ پہلے خود اُن کی زندگی ہے جنہوں نے یہ راستہ اپنایا۔

آئینہ

یہ باب آپ کے اُس حصے کو چھوتا ہے جو خدمت کا بل بناتا رہتا ہے۔ آپ نے سالوں سے گروپ چلایا، اتوار کو جلدی پہنچے، مشکل رشتہ دار کو بار بار معاف کیا، اور کہیں اندر ایک رجسٹر کھلا ہے جس میں آپ اندراج کرتے جا رہے ہیں۔ ”ہم نالائق نوکر ہیں“ اُس رجسٹر کو پھاڑ دیتا ہے، اور یہ تکلیف دہ بھی ہے اور راحت بھی۔ اور وہ نو کوڑھی؟ وہ بدمعاش نہیں تھے، وہ صرف آگے بڑھ گئے۔ شفا ملی، زندگی بحال ہوئی، کام شروع ہو گیا۔ ہم بھی یہی کرتے ہیں: تشخیص صاف آئی، نوکری بچ گئی، بچہ سنبھل گیا، اور ہم اگلے مسئلے کی طرف دوڑ پڑے۔ آج ایک کام کریں: وہ ایک چیز بلند آواز سے نام لے کر خدا کے سامنے کہیں جس کے لیے آپ نے کبھی باقاعدہ شکر ادا نہیں کیا، چاہے وہ دس سال پرانی ہو۔ پلٹ کر آنے میں ہی ایمان ہے۔

سیاق و سباق

لوقا نے باب ۹ میں لکھا تھا کہ عیسیٰ نے یروشلم جانے کا رُخ باندھا، اور یہ باب اُسی لمبے سفر کا حصہ ہے؛ آیت ۱۱ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ منزل صلیب ہے۔ سامریہ اور گلیل کی سرحد ایک درمیانی علاقہ تھی، جہاں یہودی اور سامری دونوں رہتے تھے اور ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے۔ کوڑھی اِس سرحد پر اکٹھے کھڑے ہیں کیونکہ بیماری نے اُن کی قومی تقسیم مٹا دی تھی: نجاست سب کو برابر کر دیتی ہے۔ شریعت کے مطابق وہ آبادی سے باہر رہتے، فاصلے پر کھڑے ہوتے، اور صرف امام ہی اُنہیں پاک قرار دے سکتا تھا۔ اِس لیے ”جاؤ، اپنے آپ کو اماموں کو دکھاؤ“ کوئی رسمی بات نہیں تھی: یہ سماج میں واپسی کا پروانہ تھا، اور فریسیوں کے سوال کا پس منظر بھی یہی سیاسی بے چینی تھی کہ بادشاہی کب اور کیسے آئے گی۔

باریکی

آیت ۱۹ پر رُکیے۔ دسوں ”پاک صاف ہو گئے“، مگر سامری سے خداوند فرماتے ہیں: ”تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا ہے۔“ یہ دوسرا لفظ پہلے سے بڑا ہے۔ یونانی میں یہاں وہ فعل ہے جو نجات کے لیے استعمال ہوتا ہے، سوزو، یعنی بچانا، سالم کرنا۔ نو آدمیوں کو جسم واپس ملا؛ ایک کو خداوند مل گیا۔ وہ فرق جو باب کے آخری حصے میں ”ایک کو ساتھ لے لیا جائے گا جبکہ دوسرے کو پیچھے چھوڑ دیا جائے گا“ کے الفاظ میں آتا ہے، یہاں پہلے سے دکھائی دے رہا ہے: دو آدمی ایک ہی سڑک پر چل رہے ہیں، ایک ہی برکت پا چکے ہیں، مگر ایک پلٹتا ہے۔ اور غور کریں کہ وہ خدا کی تمجید کرتے ہوئے عیسیٰ کے قدموں میں گرتا ہے۔ لوقا دو حرکتوں کو ایک کر دیتا ہے، اور یہی اُس کا مسیح کے بارے میں خاموش اعلان ہے۔

سوال

سب سے کھٹکنے والی بات یہ ہے کہ عدالت کی تصویر میں کوئی ظاہری فرق نظر نہیں آتا۔ دو لوگ ایک بستر میں، دو عورتیں ایک چکّی پر؛ وہی کام، وہی جگہ، اور پھر جدائی۔ یہ ہمیں بے چین کرتا ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ فرق باہر سے دکھائی دے، کہ ہم گن سکیں، ناپ سکیں، تسلی پا سکیں۔ مگر خداوند نے ابھی کہا ہے کہ بادشاہی ”ظاہری نشانوں سے“ نہیں پہچانی جاتی۔ گِدھوں والا جواب اور بھی کھردرا ہے: ”یہ کہاں ہو گا؟“ کے سوال پر وہ جگہ نہیں بتاتے، صرف یہ کہ جہاں حقیقت ہو گی وہاں انجام خود ظاہر ہو جائے گا۔ میں اِسے نرم نہیں کروں گا۔ مگر دھیان رکھیں: یہ سب اُس کے منہ سے نکلا ہے جو اِسی سفر پر خود رد کیے جانے جا رہا ہے۔ عدالت کا منصف وہی ہے جس نے پہلے اپنی جان کھوئی۔

غور و فکر

اگر آپ کی خدمت کا رجسٹر آج پھاڑ دیا جائے، تو کیا آپ پھر بھی وہی کام اُسی دل سے کریں گے؟

آپ کی زندگی میں وہ کون سی شفا ہے جس کے بعد آپ آگے تو بڑھ گئے مگر کبھی پلٹ کر نہیں آئے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Luke 17 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

لوقا 17 کا کیا مطلب ہے؟
باب کا آغاز تیز ہے: ٹھوکر کا آنا ناگزیر ہے، مگر جس کے ذریعے آئے اُس کے لیے چکّی کا پاٹ اور سمندر بہتر ہے؛ اور اِسی سانس میں حکم آتا ہے کہ دن میں سات بار توبہ کرنے والے بھائی کو سات بار معاف کرو۔ رسول گھبرا کر ایمان میں اضافے کی درخواست کرتے ہیں، اور خداوند رائی کے دانے اور نالائق نوکر کی مثال سے جواب دیتے ہیں۔ پھر سامریہ اور گلیل کی سرحد پر دس کوڑھی چنگے ہوتے ہیں مگر صرف ایک، وہ بھی اجنبی، شکر ادا کرنے لوٹتا ہے۔ آخر میں فریسیوں کے سوال پر خداوند فرماتے ہیں کہ بادشاہی ظاہری نشانوں سے نہیں پہچانی جائے گی، اور شاگردوں کو ابنِ آدم کے اُس دن کے لیے تیار کرتے ہیں جو بجلی کی طرح اچانک ہو گا۔
لوقا 17 کس بارے میں ہے؟
آیت ۲۵ اِس پورے باب کی کُنجی ہے: ”لیکن پہلے لازم ہے کہ وہ بہت دُکھ اُٹھائے اور اِس نسل کے ہاتھوں رد کیا جائے۔“ بجلی کی چمک سے پہلے صلیب کی تاریکی ہے۔ یہی خدا کی نجات کا وہ نمونہ ہے جو پوری کتابِ مقدّس میں چلتا ہے: جلال پہلے نہیں، بعد میں آتا ہے؛ تخت سے پہلے دُکھ۔ نوح اور لوط کا ذکر اتفاقی نہیں۔ دونوں قصوں میں عدالت آئی، مگر دونوں میں خدا نے پہلے سے ایک راستہ کھولا، ایک کشتی، ایک ہاتھ جو شہر سے باہر کھینچ لے گیا۔ مسیح خود وہ کشتی ہیں، اور ساتھ ہی وہ نوح جو طوفان کے باہر نہیں بلکہ اُس کے اندر سے گزرتے ہیں۔ جو ”اپنی جان کھو دے گا وہی اُسے بچائے رکھے گا“ وہ پہلے خود اُن کی زندگی ہے جنہوں نے یہ راستہ اپنایا۔
لوقا 17 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا نے باب ۹ میں لکھا تھا کہ عیسیٰ نے یروشلم جانے کا رُخ باندھا، اور یہ باب اُسی لمبے سفر کا حصہ ہے؛ آیت ۱۱ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ منزل صلیب ہے۔ سامریہ اور گلیل کی سرحد ایک درمیانی علاقہ تھی، جہاں یہودی اور سامری دونوں رہتے تھے اور ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے۔ کوڑھی اِس سرحد پر اکٹھے کھڑے ہیں کیونکہ بیماری نے اُن کی قومی تقسیم مٹا دی تھی: نجاست سب کو برابر کر دیتی ہے۔ شریعت کے مطابق وہ آبادی سے باہر رہتے، فاصلے پر کھڑے ہوتے، اور صرف امام ہی اُنہیں پاک قرار دے سکتا تھا۔ اِس لیے ”جاؤ، اپنے آپ کو اماموں کو دکھاؤ“ کوئی رسمی بات نہیں تھی: یہ سماج میں واپسی کا پروانہ تھا، اور فریسیوں کے سوال کا پس منظر بھی یہی سیاسی بے چینی تھی کہ بادشاہی کب اور کیسے آئے گی۔
لوقا 17 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
سب سے کھٹکنے والی بات یہ ہے کہ عدالت کی تصویر میں کوئی ظاہری فرق نظر نہیں آتا۔ دو لوگ ایک بستر میں، دو عورتیں ایک چکّی پر؛ وہی کام، وہی جگہ، اور پھر جدائی۔ یہ ہمیں بے چین کرتا ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ فرق باہر سے دکھائی دے، کہ ہم گن سکیں، ناپ سکیں، تسلی پا سکیں۔ مگر خداوند نے ابھی کہا ہے کہ بادشاہی ”ظاہری نشانوں سے“ نہیں پہچانی جاتی۔ گِدھوں والا جواب اور بھی کھردرا ہے: ”یہ کہاں ہو گا؟“ کے سوال پر وہ جگہ نہیں بتاتے، صرف یہ کہ جہاں حقیقت ہو گی وہاں انجام خود ظاہر ہو جائے گا۔ میں اِسے نرم نہیں کروں گا۔ مگر دھیان رکھیں: یہ سب اُس کے منہ سے نکلا ہے جو اِسی سفر پر خود رد کیے جانے جا رہا ہے۔ عدالت کا منصف وہی ہے جس نے پہلے اپنی جان کھوئی۔
لوقا 17 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آپ کی زندگی میں وہ کون سی شفا ہے جس کے بعد آپ آگے تو بڑھ گئے مگر کبھی پلٹ کر نہیں آئے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Luke 17 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 18

خداوند، شکر ہے کہ تُو نے مجھے بھی واپس مُڑنے کی توفیق دی تاکہ میں اُس سامری کی طرح تیرے قدموں میں گر کر تیرا شکر کروں۔ تُو نے میرے جسم اور دل کو شفا دی، اور یہ بھی سکھایا کہ تجھے جلال دینا ہی اصل چنگائی ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 3

خبردار رہو! اگر تیرا بھائی گناہ کرے تو اُسے ملامت کر، اور اگر وہ توبہ کرے تو اُسے معاف کر دے۔“ غور کر، یسوع نے خاموشی کا حکم نہیں دیا۔ ہم اکثر دو انتہاؤں میں جیتے ہیں، یا تو دل میں کڑواہٹ پالتے ہیں اور کچھ نہیں کہتے، یا غصے میں سب کچھ کہہ دیتے ہیں۔ یہاں تیسرا راستہ ہے: سچ بولو، مگر معافی ہاتھ میں تیار رکھو۔ کیا تُو اُس شخص سے بات کرنے کو تیار ہے جس سے تُو ناراض ہے؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟