لوقا 21
متن
ہیکل کے صحن میں عیسیٰ کی نظر چندے کے بکس پر ہے: امیر لوگ اپنی کثرت سے ڈال رہے ہیں، اور ایک بیوہ تانبے کے دو معمولی سِکے، یعنی اپنے گزارے کے سارے پیسے، ڈال کر چلی جاتی ہے۔ اُسی لمحے جب کچھ لوگ اُسی عمارت کے خوب صورت پتھروں کی تعریف کر رہے ہیں، خداوند اعلان فرماتے ہیں کہ ”اُس کا پتھر پر پتھر نہیں رہے گا۔“ اِس کے بعد پوری گفتگو ایک سوال کے گرد گھومتی ہے: یہ کب ہو گا؟ جواب میں عیسیٰ جنگوں، زلزلوں، ایذا رسانی، یروشلم کے محاصرے اور آخر میں ابنِ آدم کے بادل میں آنے کا ذکر کرتے ہیں، اور شاگردوں کو ایک ہی حکم دیتے ہیں: ثابت قدم رہو، چوکس رہو، دعا کرتے رہو۔
اصل بات
یہ باب تباہی کی پیش گوئی سے کہیں زیادہ ایک شخص کے بارے میں ہے۔ ہیکل گر جائے گی، آسمان و زمین بھی جاتے رہیں گے، لیکن عیسیٰ فرماتے ہیں: ”میری باتیں ہمیشہ تک قائم رہیں گی۔“ یہ دعویٰ کسی نبی کا نہیں؛ یہ وہ مقام ہے جو کلامِ مقدّس صرف خدا کے کلام کو دیتا ہے۔ یعنی جس لمحے پتھر کی سب سے مضبوط چیز ناپائیدار قرار دی جا رہی ہے، اُسی لمحے ایک آدمی اپنی آواز کو کائنات سے زیادہ پائیدار کہہ رہا ہے۔ یہی اِس باب کا دھڑکتا دل ہے۔ اِسی لیے آنے والی مصیبتیں شاگردوں کے لیے مایوسی کا نہیں بلکہ سر اُٹھانے کا موقع ہیں: ”تمہاری نجات نزدیک ہو گی۔“ خدا کی بادشاہی کسی عمارت، قوم یا نظام کے ساتھ نہیں گرتی، کیونکہ وہ ایک تخت پر بیٹھے زندہ مسیح میں قائم ہے۔
سلسلۂ نجات
غور کیجیے کہ باب کس تصویر سے شروع ہوتا ہے اور کس تصویر پر ختم۔ شروع میں ایک بیوہ ہے جو ”اپنے گزارے کے سارے پیسے“ ڈال دیتی ہے، اور آخر میں ابنِ آدم بادل میں آتا ہے۔ درمیان میں وہ آدمی کھڑا ہے جو چند دن بعد اپنی جان، اپنا پورا ”گزارا“، اُسی ہیکل کے باہر دے دے گا۔ بیوہ کوئی تمثیل نہیں، مگر وہ ایک نمونہ ضرور ہے: جو سب کچھ دیتا ہے، وہی خدا کی نظر میں سب سے زیادہ دیتا ہے۔ اور ”ابنِ آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادل میں آتے ہوئے“ دیکھنے کی بات دانی ایل باب ۷ سے اُٹھائی گئی ہے، جہاں ایک انسان جیسی ہستی کو ابدی سلطنت سونپی جاتی ہے۔ یعنی جو ہیکل کے صحن میں مصلوب ہونے جا رہا ہے، وہی تاریخ کا آخری حاکم ہے۔ یہی نجات کا سلسلہ ہے: قربانی پہلے، تخت بعد میں۔
آئینہ
یہ باب اُن چیزوں پر ہاتھ رکھتا ہے جنہیں ہم ناقابلِ شکست سمجھتے ہیں۔ وہ عمارت جس پر ہمیں فخر ہے، وہ نوکری جس سے گھر چلتا ہے، وہ صحت جس کے بھروسے پر ہم منصوبے بناتے ہیں، وہ خاندان جس کی وفاداری ہمیں یقینی لگتی ہے، حالانکہ عیسیٰ صاف کہتے ہیں کہ ”تمہارے والدین، بھائی، رشتے دار اور دوست بھی تم کو دشمن کے حوالے کر دیں گے۔“ مگر آیت ۳۴ سب سے زیادہ چبھتی ہے۔ ایمان کو ختم کرنے کے لیے ایذا رسانی ضروری نہیں؛ ”روزانہ کی فکریں“ بھی دل کو دبا دینے کے لیے کافی ہیں۔ بجلی کا بل، بچوں کے نمبر، دفتر کی سیاست: یہ چیزیں ہمیں خدا سے باغی نہیں بناتیں، بس بے حِس بنا دیتی ہیں۔
آج رات سونے سے پہلے وہ ایک فکر جو اِس وقت آپ کے سینے پر بیٹھی ہے، کاغذ پر ایک جملے میں لکھیے، پھر آیت ۲۸ کے مطابق لفظاً سیدھے کھڑے ہو کر، نظر اُٹھا کر، وہ جملہ بلند آواز میں خداوند کے سامنے پڑھ دیجیے۔
مرکزی کردار
اِس باب میں عیسیٰ کا رویہ حیران کن حد تک پُرسکون ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جمعے کو کیا ہونے والا ہے، پھر بھی اُن کی نظر چالیس سال آگے یروشلم کے محاصرے تک، اور اُس سے بھی آگے اپنی واپسی تک جاتی ہے۔ وہ ہیکل کی تباہی کا اعلان کرتے ہیں مگر طنز سے نہیں؛ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں پر ”افسوس“ کہنے والی آواز میں ایک چرواہے کا درد ہے۔ وہ شاگردوں سے دفاع کی تیاری کا بوجھ اُتار لیتے ہیں: ”مَیں تم کو ایسے الفاظ اور حکمت عطا کروں گا۔“ یہ وہ مالک ہے جو آزمائش میں ڈالتا نہیں بلکہ ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ اور آیت ۳۷ میں وہی شخص رات زیتون کے پہاڑ پر کھلے آسمان تلے سوتا ہے، بے گھر، اُس شہر کے کنارے جس کے لیے وہ مرنے والا ہے۔
ایک باریک بات
آیت ۱۶ اور ۱۸ کو ساتھ رکھیے: ”تم میں سے بعض کو قتل کیا جائے گا“ اور چند الفاظ بعد ”توبھی تمہارا ایک بال بھی بیکا نہیں ہو گا۔“ یہ تضاد اتفاقی نہیں۔ عیسیٰ سلامتی کا کوئی سستا وعدہ نہیں کر رہے کہ ایمان دار کو گولی نہیں لگے گی۔ وہ کچھ کہیں زیادہ سخت اور کہیں زیادہ مضبوط بات کہہ رہے ہیں: تمہارا جسم مارا جا سکتا ہے، مگر تمہارا کچھ بھی ضائع نہیں ہو گا۔ قیامت کے دن خدا آپ کا ایک بال تک واپس کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اِسی لیے اگلی آیت میں ”جان بچانا“ ثابت قدمی سے جوڑا گیا ہے، فرار سے نہیں۔ شہید بھی محفوظ ہے۔
پس منظر
یہ گفتگو عیسیٰ کے آخری ہفتے کے وسط میں، ہیرودیس کی تعمیر کردہ ہیکل کے صحن میں ہوتی ہے۔ چندے کے بکس عورتوں کے صحن میں رکھے تھے، کھلے عام، جہاں بڑی رقم کی کھنک سب کو سنائی دیتی تھی۔ بیوہ معاشرے کے سب سے بے سہارا طبقے سے تھی، اور ستم یہ کہ وہ اپنا آخری پیسہ ایک ایسے نظام کو دے رہی تھی جو اُسی جیسی بیواؤں کے گھر کھا رہا تھا۔ ہیکل کے پتھر واقعی حیرت انگیز تھے، بعض بیس فٹ سے زیادہ لمبے؛ اُس کی تباہی کا تصور ناقابلِ یقین لگتا تھا۔ مگر ۷۰ عیسوی میں رومی فوج نے ٹھیک وہی کیا۔ لوقا کے پہلے قارئین یہ باب اُس واقعے کی خبر کے سائے میں پڑھ رہے تھے، اور یہی اُن کے لیے ثبوت تھا کہ باقی وعدہ بھی سچ ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی کا وہ ”پتھر پر پتھر“ کون سا ہے، یعنی وہ چیز جس کے گرنے کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے، اور کیا مسیح کی باتیں واقعی اُس سے زیادہ مضبوط بنیاد ہیں؟
آیت ۳۴ میں عیاشی اور نشہ بازی کے ساتھ ”روزانہ کی فکریں“ بھی گنی گئی ہیں؛ اِس ہفتے کون سی فکر آپ کے دل کو خدا کے سامنے کھڑے ہونے سے سب سے زیادہ روک رہی ہے؟
Luke 21 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 21 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 21 کس بارے میں ہے؟
لوقا 21 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 21 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 21 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 21 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، جب چاروں طرف سے مشکلیں گھیر لیتی ہیں اور دل ڈر سے بھر جاتا ہے، تو مجھے سنبھال۔ مجھے دیکھنے والی آنکھیں دے کہ وقت کو پہچانوں اور گھبراؤں نہیں۔ شہر گر جائیں، دیواریں ٹوٹ جائیں، مگر تُو میرا سہارا رہتا ہے۔ اپنی حفاظت میں مجھے تھامے رکھ۔
اے خدا، جب تیرے نام کی وجہ سے مخالفت اور طعنے سہنے پڑیں، تو میرا دل خوف سے نہ ڈگمگائے۔ مجھے وہ حوصلہ دے جو تجھ سے آتا ہے، اور یہ یقین بھی کہ ایسے لمحوں میں بھی تُو میرے ساتھ کھڑا ہے۔ میں تیرے نام سے شرمندہ نہ ہوں۔
خداوند، شکر ہے کہ عیسیٰ روزانہ بیت المُقدّس میں تعلیم دیتا رہا اور اپنا کلام کھلے دل سے بانٹتا رہا۔ شکر کہ شام ڈھلے وہ زیتون کے پہاڑ پر رات گزارتا تھا اور یوں ہمیں سکھایا کہ خدمت اور تنہائی میں تیرے ساتھ وقت گزارنا ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
اے خدا، جب سب کچھ ہلنے لگتا ہے تو میرا دل ڈر جاتا ہے۔ مجھے سننے والا دل دے، تاکہ جب تو راستہ دکھائے تو میں دیر نہ کروں۔ جو چھوڑنا ضروری ہے، اُسے چھوڑنے کی ہمت دے، اور یہ یقین کہ تو ہر پناہ سے بڑھ کر میری پناہ ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
