مرقس 14
متن
عید سے دو دن پہلے مذہبی راہنما چالاکی سے قتل کی سازش کر رہے ہیں، اور اُسی وقت بیت عنیاہ کے ایک گھر میں ایک عورت عطردان توڑ کر عیسیٰ کے سر پر نہایت قیمتی عطر اُنڈیل دیتی ہے۔ اِس کے بعد باب تیزی سے آگے بڑھتا ہے: بالاخانے میں فسح کا کھانا اور روٹی و پیالے کے وہ الفاظ جن سے نیا عہد قائم ہوتا ہے، پھر گتسمنی کی زمین پر گرا ہوا بیٹا، پھر بوسے کے ذریعے گرفتاری، سب شاگردوں کا بھاگ جانا، عدالت میں جھوٹی گواہیاں اور آخر میں آگ تاپتے پطرس کا تین بار انکار اور مرغ کی بانگ۔
دل کی بات
یہ باب خدا کی قدرت کو کمزوری کی صورت میں دکھاتا ہے، اور ہمیں اِس تضاد کے سامنے خاموش کھڑا کر دیتا ہے۔ جو شخص گلیل میں طوفان کو ڈانٹ سکتا تھا، وہ یہاں زمین پر گرا ہوا کہہ رہا ہے، ”دُکھ کا یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے۔ لیکن میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو۔“ نجات کسی طاقتور مداخلت سے نہیں آتی بلکہ ایک انسان کی مکمل سپردگی سے۔ اور یہ سپردگی آسان نہیں تھی؛ مرقس اُس گھبراہٹ کو چھپاتا نہیں۔ یہاں ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ خدا کی مرضی کے سامنے جھکنا بےحسی نہیں، بلکہ اُس دُکھ کے بیچ سے گزرنا ہے جس سے ہم بچنا چاہتے ہیں۔
نجات کا سلسلہ
فسح کی رات وہ رات تھی جب اسرائیل مصر سے نکلا تھا، جب لیلے کا خون دروازوں پر لگایا گیا اور موت گزر گئی۔ اُسی رات عیسیٰ روٹی توڑ کر کہتے ہیں، ”یہ میرا خون ہے، نئے عہد کا وہ خون جو بہتوں کے لئے بہایا جاتا ہے۔“ وہ خود کو پرانی کہانی کے مرکز میں رکھ دیتے ہیں: قربانی اب مندر کے صحن میں نہیں، بلکہ میز پر بیٹھے اُس شخص میں ہے جو کل صلیب پر ہو گا۔ صدیوں کے سائے یہاں جسم اختیار کرتے ہیں۔ اور پیالے کے ساتھ ایک وعدہ بھی آتا ہے، اُس دن کا جب وہ اللہ کی بادشاہی میں نئے سرے سے پیئیں گے۔
آئینہ
پطرس جھوٹا نہیں تھا جب اُس نے کہا، ”ہرگز نہیں!“ وہ سچ مچ مرنے کو تیار تھا، اُس لمحے۔ ہم بھی ایسے ہی ہیں: عبادت میں دل جلتا ہے، مگر دفتر میں جب کوئی مذاق اُڑاتا ہے تو ہم موضوع بدل دیتے ہیں؛ رشتہ داروں کے سامنے ایمان کو ہلکا کر کے بیان کرتے ہیں تاکہ عجیب نہ لگیں۔ ”روح تو تیار ہے، لیکن جسم کمزور۔“ یہ جملہ ملامت سے زیادہ تشخیص ہے۔ اور شاگردوں کا سو جانا بھی غداری نہیں، محض تھکن تھی؛ مگر تھکن نے بھی اُنہیں غیرحاضر کر دیا۔ آج دس منٹ کے لئے فون ایک طرف رکھ کر خاموش بیٹھیں، اور اُس ایک بات کا نام لے کر جو آپ خدا کے حوالے نہیں کرنا چاہتے، بلند آواز سے کہیں: ”میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو۔“
کلام کی گونج
زیتون کے پہاڑ پر عیسیٰ زکریا نبی کا فقرہ اُٹھاتے ہیں: ”مَیں چرواہے کو مار ڈالوں گا اور بھیڑیں تتر بتر ہو جائیں گی۔“ غور کیجئے کہ چرواہے کو مارنے والا کون ہے؛ یہاں ہاتھ خدا کا ہے۔ شاگردوں کا بھاگنا حادثہ نہیں، پیشین گوئی کی تکمیل ہے، اور پھر بھی اُن کا قصور ختم نہیں ہوتا۔ دوسری گونج عدالت میں سنائی دیتی ہے، جب عیسیٰ دانیال نبی کے اُس منظر کا حوالہ دیتے ہیں جس میں ابنِ آدم بادلوں پر آتا ہے: ”آئندہ تم ابنِ آدم کو قادرِ مطلق کے دہنے ہاتھ بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے ہوئے دیکھو گے۔“ زنجیروں میں جکڑا ملزم اپنے منصفوں کو بتا رہا ہے کہ اصل عدالت ابھی باقی ہے۔
مرکزی کردار
اِس پورے باب میں عیسیٰ زیادہ تر خاموش ہیں۔ وہ عورت کے دفاع میں بولتے ہیں، شاگردوں کو خبردار کرتے ہیں، باپ سے فریاد کرتے ہیں، اور پھر جب جھوٹے گواہ ایک دوسرے کی تردید کر رہے ہوتے ہیں تو ”عیسیٰ خاموش رہا۔ اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔“ یہ خاموشی کمزوری نہیں؛ وہ اپنی صفائی پیش کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ صرف ایک سوال پر وہ زبان کھولتے ہیں، اور وہ اُن کی شناخت کا سوال ہے: ”جی، مَیں ہوں۔“ یہی جواب اُن کی موت کا پروانہ بن جاتا ہے۔ ایک آدمی جو اپنی جان بچانے کے لئے ایک لفظ نہیں بولتا، مگر اپنے باپ کے بارے میں سچ چھپانے کے لئے بھی تیار نہیں۔
ایک باریک بات
گرفتاری کے بعد ایک عجیب سی جھلک آتی ہے: ایک نوجوان جو صرف چادر اوڑھے پیچھے چلتا رہا، پکڑے جانے پر ”چادر چھوڑ کر ننگی حالت میں بھاگ گیا۔“ مرقس نہ اُس کا نام بتاتا ہے نہ مقصد۔ کہانی کے بہاؤ میں یہ بےمعنی سا ٹکڑا کیوں؟ شاید اِس لئے کہ یہ اُس رات کی مکمل تصویر ہے: ہر کوئی جو کچھ چھوڑ سکتا تھا چھوڑ کر بھاگا، اور آخر میں صرف ایک آدمی رہ گیا جسے چھوڑا نہیں جا سکتا تھا، کیونکہ وہ خود پکڑا جا چکا تھا۔ برہنگی شرمندگی کی زبان ہے۔ اُس رات ہماری برہنگی ننگی ہوئی، تاکہ صبح ہمیں پہنایا جا سکے۔
غور و فکر کے سوالات
جب آپ دس منٹ خاموش بیٹھتے ہیں تو کیا سب سے پہلے سطح پر آتا ہے: تھکن، خوف، یا وہ ایک چیز جسے آپ خدا کے حوالے کرنا نہیں چاہتے؟
پطرس مرغ کی بانگ سن کر رو پڑا۔ آپ کی زندگی میں وہ آواز کون سی ہے جو آپ کو یاد دلاتی ہے کہ آپ نے کیا کہا تھا اور کیا کیا؟
Mark 14 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مرقس 14 کا کیا مطلب ہے؟
مرقس 14 کس بارے میں ہے؟
مرقس 14 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مرقس 14 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مرقس 14 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Mark 14 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، تُو آگے جا کر سب کچھ تیار کر دیتا ہے، چاہے مجھے راستہ صاف نظر نہ آئے۔ مجھے وہ بھروسا دے کہ میں تیرے چھوٹے چھوٹے اشاروں کے پیچھے چلوں اور بغیر پورا نقشہ دیکھے قدم اٹھاؤں۔ میرا دل تیری رہنمائی کے لیے کھلا رکھ۔
عدالت پہلے فیصلہ کر چکی تھی، اب صرف ثبوت کی تلاش باقی تھی۔ ”لیکن کوئی نہ ملی۔“ سوچیں، اُس کے دشمنوں نے پوری رات اُس کی زندگی کھنگالی اور ایک بھی داغ نہ ملا۔ جس بےقصور کو ہم پر الزام لگانے کا پورا حق تھا، وہ خاموش کھڑا رہا تاکہ آپ کے قصور کی سزا خود اُٹھا لے۔
ایک لمحہ پہلے ایک عورت نے قیمتی عطر انڈیل کر سب کچھ لُٹا دیا تھا، اور اب یہوداہ سودا کر رہا ہے: ”یہ سن کر وہ خوش ہوئے اور اُسے پیسے دینے کا وعدہ کیا۔ چنانچہ یہوداہ اُسے پکڑوانے کا موقع ڈھونڈنے لگا۔“ غور کر، وہ فوراً نہیں، بلکہ موقع ڈھونڈتا رہا۔ گناہ اکثر جلدباز نہیں، صبر سے منصوبہ بناتا ہے۔ تُو آج کس چیز کا موقع ڈھونڈ رہا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں