مرقس 3
متن
مرقس ۳ ایک سوکھے ہاتھ والے آدمی سے شروع ہوتا ہے جو سبت کے دن عبادت خانے میں کھڑا ہے، اور لوگ شفا کے منتظر نہیں بلکہ الزام لگانے کا بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ عیسیٰ اُس آدمی کو بیچ میں کھڑا کرتے ہیں، سوال پوچھتے ہیں کہ سبت پر نیکی کرنا جائز ہے یا بدی، جان بچانا یا تباہ کرنا، اور خاموشی کے جواب میں ہاتھ بحال کر دیتے ہیں۔ اُسی لمحے سے قتل کی سازش شروع ہو جاتی ہے۔ پھر ہجوم، جھیل کے کنارے شفا، پہاڑ پر بارہ رسولوں کا انتخاب، خاندان کا یہ فیصلہ کہ ”وہ ہوش میں نہیں ہے“، یروشلم کے عالِموں کا بعل زبول والا الزام، اور آخر میں یہ اعلان کہ خدا کی مرضی پوری کرنے والا ہی عیسیٰ کا بھائی، بہن اور ماں ہے۔
اصل مرکز
اِس باب کا دھڑکتا ہوا دل وہ سوال ہے جس کا کسی نے جواب نہیں دیا: نیکی کرنا یا بدی؟ جان بچانا یا تباہ کرنا؟ عیسیٰ نے مذہبی بحث کو اخلاقی دو راہے میں بدل دیا، کیونکہ خدا کی بادشاہی میں غیرجانبداری کا کوئی خانہ نہیں۔ جو موقع سامنے آئے اور آپ نیکی نہ کریں، وہ خالی جگہ خود بخود بدی سے بھر جاتی ہے۔ اِسی لیے متن کہتا ہے کہ اُن کی سخت دلی عیسیٰ کے لیے ”بڑے دُکھ کا باعث“ بنی: خدا کی ناراضی بےحسی پر ہے، اور اُس کے ساتھ غم بھی۔ اور غور کیجیے، وہی لوگ جو سبت کی حفاظت کے نام پر خاموش رہے، اُسی سبت کو باہر نکل کر قتل کا منصوبہ بناتے ہیں۔ اصول کی پاکیزگی جب رحم سے کٹ جائے تو وہ ظلم کا لباس بن جاتی ہے۔
مشترکہ دھاگا
سبت کا دن اُس تخلیق کی یادگار ہے جس میں خدا نے ہر چیز کو ”بہت اچھا“ کہا تھا، اور اُس رِہائی کی بھی جو اُس نے مصر سے دی۔ اِس لیے جب عیسیٰ ایک سوکھے ہاتھ کو بحال کرتے ہیں تو وہ سبت توڑ نہیں رہے بلکہ اُسے پورا کر رہے ہیں: یہی تو دن ہے جس میں بگڑی ہوئی چیز اپنی اصل حالت میں لوٹتی ہے۔ اور یہی دھاگا آگے چلتا ہے۔ بارہ کا انتخاب اتفاق نہیں؛ اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے، اور عیسیٰ پہاڑ پر چڑھ کر ایک نئی قوم کی بنیاد رکھتے ہیں۔ زورآور آدمی کو باندھنے کی تمثیل بتاتی ہے کہ یہ محض ہمدردی کا کام نہیں، یہ قبضہ چھڑانا ہے۔ صلیب اِسی منطق کا آخری قدم ہے: جان بچانے کے لیے اپنی جان دینا۔
آئینہ
سوچیے، سب سے آسان کام کیا تھا؟ خاموش رہنا۔ متن کہتا ہے، ”سب خاموش رہے۔“ یہ آیت آج بھی ہمیں پکڑتی ہے۔ دفتر میں جب کسی ساتھی کے بارے میں غلط بات پھیل رہی ہو اور آپ کو معلوم ہو کہ سچ کیا ہے، خاموشی سب سے محفوظ راستہ لگتی ہے۔ خاندان میں جب ایک رشتہ دار کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو اور بولنے کی قیمت عید کے کھانے کی بدمزگی ہو، ہم اصولوں کو ڈھال بنا لیتے ہیں: ”میرا معاملہ نہیں“، ”وقت مناسب نہیں“، ”پہلے دعا کروں گا“۔ عیسیٰ اِس حساب کتاب کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اُس آدمی کو ”درمیان میں“ کھڑا کیا، سب کی نظروں کے سامنے، کیونکہ رحم کو خفیہ رکھنا اُس کی توہین ہے۔ نیکی کا موقع ٹالا نہیں جاتا؛ ٹالا جائے تو وہ بدی بن جاتا ہے۔
مرکزی کردار
اِس باب میں عیسیٰ کی جو تصویر بنتی ہے وہ نرم و ملائم نہیں۔ وہ غصے سے دیکھتے ہیں اور اُسی لمحے دُکھ سے بھرے ہوئے ہیں؛ یہ دونوں ایک ساتھ صرف وہاں رہ سکتے ہیں جہاں محبت سچی ہو۔ اُنہیں کھانے کا وقت نہیں ملتا۔ اُن کے اپنے گھر والے سمجھتے ہیں کہ ”وہ ہوش میں نہیں ہے“، اور یروشلم کے عالِم اُن کے سب سے شفابخش کاموں کو شیطانی قرار دیتے ہیں۔ وہ اِس دباؤ میں نہ سخت ہوتے ہیں نہ نرم پڑتے ہیں۔ وہ کشتی تیار رکھواتے ہیں، بارہ کو چنتے ہیں، اور اُن میں اُس شخص کو بھی شامل کرتے ہیں جو بعد میں دھوکا دے گا۔ یہ آدمی جانتے بوجھتے خطرہ مول لیتا ہے، کیونکہ محبت بغیر خطرے کے ممکن نہیں۔
پس منظر
منظر گلیل ہے، رومی حکومت کے سائے میں ایک بےچین علاقہ۔ عبادت خانہ گاؤں کی سماجی عدالت بھی تھا؛ وہاں بےعزتی کا مطلب پورے قصبے میں بےعزتی تھا۔ فریسی مذہبی پاکیزگی کے محافظ تھے، اور ہیرودیس کی پارٹی سیاسی طاقت کی۔ عام حالات میں یہ دونوں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے تھے، مگر عیسیٰ کے خلاف فوراً اکٹھے ہو گئے: خطرہ محسوس کرنے والے گروہ ہمیشہ اپنے اختلافات معطل کر دیتے ہیں۔ یروشلم سے آئے ہوئے عالِم کوئی گزرتے مسافر نہیں تھے بلکہ مرکز کی طرف سے سرکاری تفتیش تھی۔ اور خاندان کا آ کر ”پکڑ کر لے جانا“ اُس معاشرے میں شرمندگی سے بچاؤ کی معمول کی کارروائی تھی؛ ایک فرد کی رسوائی پورے کنبے کی رسوائی تھی۔
سامعین کا خاکہ
مرقس کے پہلے قاری ایسے مسیحی تھے جن پر ”پاگل“، ”باغی“ اور ”بدروح زدہ“ کے لیبل لگ چکے تھے، جنہیں اپنے گھروں میں سمجھایا جاتا تھا کہ ہوش میں آؤ، اور جن کے لیے ایمان کی قیمت روزگار اور رشتے تھے۔ اُن کے کان میں آیت ۲۱ اور ۳۵ ایک ساتھ گونجتی تھیں: ہاں، تمہارا اپنا خاندان تمہیں نہ سمجھے، یہ خود خداوند کے ساتھ ہوا؛ مگر تمہیں بےگھر نہیں چھوڑا گیا، کیونکہ جو خدا کی مرضی پوری کرتا ہے وہ بھائی، بہن اور ماں ہے۔ اور بارہ کی فہرست میں یہوداہ کا نام پڑھ کر وہ جانتے تھے کہ جماعت میں غداری کوئی نئی بات نہیں، پھر بھی مسیح کا کام رُکا نہیں۔
غور و فکر
کون سا ”سوکھا ہاتھ“ آپ کے قریب ہے جسے آپ دیکھ چکے ہیں مگر اب تک کوئی معقول وجہ بنا کر خاموش رہے ہیں؟
آپ کے ایمان کی کون سی بات آپ کے گھر یا دفتر میں ”ہوش میں نہ ہونے“ جیسی لگتی ہے، اور کیا وہ واقعی مسیح کی فرمانبرداری ہے یا صرف آپ کی ضد؟
Mark 3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مرقس 3 کا کیا مطلب ہے؟
مرقس 3 کس بارے میں ہے؟
مرقس 3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مرقس 3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مرقس 3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Mark 3 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
یسوع کے اپنے رشتے دار اُسے پکڑنے آئے تھے، اور وہ باہر کھڑے رہے۔ اندر بیٹھے اجنبی لوگوں کی طرف دیکھ کر اُس نے کہا، ”جو بھی اللہ کی مرضی پوری کرے وہی میرا بھائی، میری بہن اور میری ماں ہے۔“ خون کا رشتہ نہیں، بلکہ اُس کے قدموں میں بیٹھنا ہمیں اُس کا اپنا بناتا ہے۔ آج تُو کہاں بیٹھا ہے، اندر یا باہر؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
