موضوع

غم اور تکلیف میں بائبلی تسکین

تعارف

رات کے دو بجے ہیں۔ اسپتال کے کاریڈور کی روشنی سفید اور بےرحم ہے۔ کوئی رشتہ دار آ کر کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے اور کہتا ہے، "حوصلہ رکھو، خدا کی مرضی یہی تھی۔" آپ سر ہلا دیتے ہیں، مگر اندر کچھ ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ یہ جملہ درد کو چھوتا ہی نہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ غم میں دو چیزیں سنتے ہیں: کھوکھلی تسلیاں اور خاموشی۔ اور دونوں سے دل بھر جاتا ہے۔

سوال یہ ہے: کیا خدا کے کلام میں اِس سے بہتر کچھ ہے؟ کیا بائبل غم کو صرف "صبر کرو" کہہ کر ٹال دیتی ہے، یا وہ ماتم کرنے والے کے ساتھ زمین پر بیٹھ جاتی ہے؟

اِس صفحے پر ہم بائبل کی تسلی کو اُس کی پوری گہرائی میں دیکھیں گے: پیدائش کے پہلے آنسوؤں سے لے کر مکاشفہ کے آخری وعدے تک، اور اُس شخص تک جس نے قبر کے سامنے خود آنسو بہائے۔

اس رہنما کا زاویہ

اِس رہنما میں ہم غم کے "کیوں" کا جواب دینے کی کوشش نہیں کریں گے، کیونکہ بائبل خود بھی زیادہ تر یہ نہیں کرتی۔ بائبل غم کی وضاحت نہیں دیتی، وہ غم میں اُتر آتی ہے۔ اِس لیے ہم تسلی کو تین فعلوں کے ذریعے سمجھیں گے جو کلامِ مقدّس میں بار بار ملتے ہیں: خدا آنسو گنتا ہے، خدا آنسو بہاتا ہے، اور خدا آنسو پونچھتا ہے۔ گننا یعنی وہ آج آپ کے دکھ کو نظرانداز نہیں کرتے؛ بہانا یعنی مسیح میں وہ خود دکھ کے اندر آ گئے؛ پونچھنا یعنی ایک دن یہ سب واقعی ختم ہو جائے گا۔ یہی تین قدم اِس صفحے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

بائبل غم اور تکلیف میں تسلی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

بائبل کی تسلی کبھی معلومات کی صورت میں نہیں آتی، ہمیشہ حضوری کی صورت میں۔ اِس کا سب سے صاف ثبوت زبور 34:18 ہے: "خداوند شکستہ دلوں کے نزدیک ہے اور خستہ جانوں کو بچاتا ہے۔" غور کریں کہ داؤد یہ نہیں کہتے کہ خدا شکستہ دلوں کو فوراً جوڑ دیتا ہے، یا اُن کے حالات بدل دیتا ہے۔ وہ ایک فاصلے کی بات کرتے ہیں جو مٹ گیا۔ خدا نزدیک ہے۔ ٹوٹے ہوئے دل کا مقام خدا کی موجودگی سے خالی نہیں، بلکہ اُس سے سب سے زیادہ بھرا ہوا ہے۔ دنیا ٹوٹے ہوئے لوگوں سے کتراتی ہے؛ خدا اُن کے قریب سرکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ خداوند یسوع مسیح نے اپنے پہاڑی وعظ کی ابتدا ہی ماتم کرنے والوں کی برکت سے کی۔ متی 5:4 میں وہ فرماتے ہیں: "مبارک ہیں وہ جو غم کرتے ہیں کیونکہ وہ تسلی پائیں گے۔" یہ آیت غم کو رومانوی نہیں بناتی۔ یہ نہیں کہتی کہ رونا اچھی بات ہے۔ یہ کہتی ہے کہ رونے والا خدا کی بادشاہی سے باہر نہیں، بلکہ اُس کے دروازے پر کھڑا ہے۔ جہاں دنیا کہتی ہے "مبارک ہیں وہ جو مضبوط ہیں"، وہاں مسیح کہتے ہیں کہ برکت اُس کے لیے ہے جس نے اپنی ٹوٹن چھپانی چھوڑ دی۔ اور فعل کا زمانہ بھی دیکھیے: "تسلی پائیں گے۔" یہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ مسیح ماتم کرنے والے سے جھوٹا وعدہ نہیں کرتے کہ کل صبح تک سب ٹھیک ہو جائے گا؛ وہ ایک ایسی تسلی کا وعدہ کرتے ہیں جو یقیناً آئے گی، خواہ اِس زندگی میں پوری نہ ہو۔

پھر پولس رسول ہمیں تسلی کا سرچشمہ دکھاتے ہیں۔ 2 کرنتھیوں 1:3 میں وہ لکھتے ہیں: "مبارک ہو ہمارے خداوند یسوع مسیح کا خدا اور باپ جو رحمتوں کا باپ اور ہر طرح کی تسلی کا خدا ہے۔" یہاں تسلی خدا کی ایک عارضی حرکت نہیں، بلکہ اُس کی ذات کا نام ہے۔ جیسے وہ "نور" ہیں اور "محبت" ہیں، ویسے ہی وہ "ہر طرح کی تسلی کا خدا" ہیں۔ اور اگلی آیت میں پولس اِس کا مقصد بتاتے ہیں: تاکہ ہم بھی دوسروں کو اُسی تسلی سے تسلی دے سکیں۔ خدا کی تسلی ایک بند تالاب نہیں، بہتی ہوئی ندی ہے۔

جو تسلی خداوند دیتے ہیں، اُس کی نوعیت یوحنا 14:27 میں کھلتی ہے: "میں تمہیں اطمینان دیئے جاتا ہوں۔ اپنا اطمینان تمہیں دیتا ہوں۔ جس طرح دنیا دیتی ہے میں تمہیں اُس طرح نہیں دیتا۔ تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے۔" یاد رکھیے کہ یہ الفاظ کسی پُرسکون باغ میں نہیں، صلیب سے چند گھنٹے پہلے کہے گئے۔ مسیح ایسے وقت میں اطمینان دے رہے ہیں جب اُن کا اپنا پسینہ خون بننے کو ہے۔ دنیا کا اطمینان حالات پر منحصر ہے؛ اُن کا اطمینان اُن کی ذات پر۔ اِسی لیے وہ "اپنا اطمینان" کہتے ہیں، یعنی وہی سکون جو باپ کے ساتھ اُن کے رشتے سے نکلتا ہے۔

تسلی کوئی نسخہ نہیں، ایک شخص ہے۔

اور آخر میں بائبل غم کو ایک انجام تک لے جاتی ہے۔ مکاشفہ 21:4: "اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا اور اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ کیونکہ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔" یہ آیت اِس لیے حیران کرتی ہے کہ خدا فرشتوں کو یہ کام نہیں سونپتے۔ وہ خود جھکتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے آنسو پونچھتے ہیں۔ جو خدا آج آنسو گنتا ہے، اور جو مسیح میں آنسو بہا چکا ہے، وہی ایک دن اپنے ہاتھ سے وہ آنسو پونچھے گا۔ یہ تین فعل مل کر بائبلی تسلی کی مکمل تصویر بناتے ہیں۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

پہلا آنسو باغِ عدن سے باہر گرا۔ پیدائش کے تیسرے باب کے بعد سے کلامِ مقدّس ماتم سے خالی نہیں: ہاجرہ بیابان میں روتی ہے، ابرہام سارہ کے جنازے پر ماتم کرتا ہے، یعقوب یوسف کا خون آلود کُرتا دیکھ کر کہتا ہے کہ وہ غم ہی میں قبر میں اُتر جائے گا۔ بائبل انسان کے دکھ کو کہیں چھپاتی نہیں۔ اور مصر کی غلامی میں پہلی بار وہ فعل ظاہر ہوتا ہے جو آگے پوری کتاب پر چھا جائے گا: "اور خدا نے اُن کا کراہنا سنا۔" خدا آنسو گنتا ہے۔ نجات کی تاریخ ایک سنی گئی چیخ سے شروع ہوتی ہے۔

ایوب کی کتاب پھر وہ کرتی ہے جو کوئی مذہبی نظام کرنے کی جرأت نہیں کرتا: وہ ایک بےگناہ آدمی کو سینتیس باب تک شکایت کرنے دیتی ہے، اور اُس کے وہ دوست جو ہر دکھ کی صاف وضاحت رکھتے تھے، آخر میں خدا سے ڈانٹ پاتے ہیں۔ ایوب کو اُس کے "کیوں" کا جواب کبھی نہیں ملا۔ اُسے خدا ملے۔ اور یہی زبور کی کتاب کا مزاج ہے، جہاں تقریباً ہر تیسرا زبور نالہ ہے۔ زبور 13:1 پوچھتا ہے، "اے خداوند! تو کب تک مجھے بالکل بھول جائے گا؟" اور خدا نے یہ سوال اپنی کتاب سے نکالا نہیں، بلکہ اپنی قوم کی دعا کی کتاب میں شامل کر لیا۔ زبور 56:8 میں داؤد لکھتے ہیں: "میرے آنسو اپنے مشکیزہ میں رکھ لے۔ کیا وہ تیری کتاب میں لکھے نہیں؟" آپ کے آنسو خدا کے ہاں گنے جاتے ہیں، ضائع نہیں ہوتے۔

نبیوں کے ہاں تسلی خدا کا اعلان بن جاتی ہے۔ یسعیاہ 40:1 میں آواز آتی ہے، "میری اُمّت کو تسلی دو۔ تسلی دو۔ تمہارا خدا فرماتا ہے۔" اور یسعیاہ 66:13 میں وہ حیرت انگیز تشبیہ: "جس طرح کوئی اپنی ماں سے تسلی پاتا ہے اُسی طرح میں تمہیں تسلی دوں گا۔" مگر یسعیاہ 53 میں یہ سلسلہ اپنا رخ بدل لیتا ہے، کیونکہ وہاں تسلی دینے والا خود "مردِ غمناک اور رنج کا آشنا" بن کر آتا ہے۔ نوحہ کی کتاب راکھ میں بیٹھ کر بھی یہ کہنے کی ہمت رکھتی ہے کہ خداوند کی رحمتیں ہر صبح تازہ ہیں۔

اور پھر انجیل۔ لعزر کی قبر کے سامنے، جہاں مسیح جانتے تھے کہ وہ چند منٹ بعد اُسے زندہ کریں گے، لکھا ہے: "یسوع کے آنسو بہ نکلے۔" یہ بائبل کی سب سے مختصر آیت ہے اور سب سے گہری تسلی۔ خدا آنسو بہاتا ہے۔ گتسمنی میں وہ کہتے ہیں کہ اُن کی جان نہایت غمگین ہے، اور صلیب پر وہ زبور 22 کی زبان میں چیختے ہیں۔ عبرانیوں 4:15 اِسی کو یوں کہتی ہے کہ ہمارا سردار کاہن ایسا نہیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے۔ جی اُٹھنے کے بعد رسولوں کا غم مٹ نہیں گیا، مگر اُس کی جڑ بدل گئی: 1 تھسلنیکیوں 4:13 میں پولس کہتے ہیں کہ ہم دوسروں کی طرح ناامید ہو کر غمگین نہ ہوں۔ اور سلسلہ مکاشفہ میں پورا ہوتا ہے، جہاں وہی مذبوح برّہ تخت پر بیٹھ کر آنسو پونچھتا ہے۔ گننے سے بہانے تک، اور بہانے سے پونچھنے تک: پوری بائبل اِسی راستے پر چلتی ہے۔

عام غلط فہمیاں

پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ ایمان دار کو غم نہیں کرنا چاہیے، کہ آنسو کمزور ایمان کی علامت ہیں۔ اگر یہ سچ ہوتا تو مسیح سب سے کمزور ایمان والے ہوتے، کیونکہ وہ لعزر کی قبر پر روئے اور یروشلیم پر روئے۔ داؤد نے اپنے بیٹے کے لیے بلک کر ماتم کیا، یرمیاہ نے پوری ایک کتاب آنسوؤں میں لکھی، اور پولس نے ایپَفروِدِتُس کی بیماری کو "غم پر غم" کہا۔ 1 تھسلنیکیوں 4:13 ہمیں غم سے منع نہیں کرتی، صرف ناامیدی سے منع کرتی ہے۔ مسیحی غم ایک ایسا رونا ہے جس کے سرے پر جی اُٹھنے کا وعدہ بندھا ہوا ہے۔ اِس لیے آپ رو سکتے ہیں اور پھر بھی ایمان میں مضبوط ہو سکتے ہیں۔

دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ رومیوں 8:28 کا مطلب یہ ہے کہ ہر بُری بات دراصل اچھی ہے۔ آیت یوں ہے: "اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لئے جو اُس کے ارادہ کے موافق بلائے گئے۔" پولس یہ نہیں کہتے کہ ہر چیز اچھی ہے، بلکہ یہ کہ خدا سب چیزوں کو مل کر ایک بھلائی کی طرف موڑ دیتا ہے۔ کینسر اچھا نہیں ہے۔ بچے کی موت اچھی نہیں ہے۔ مگر خدا کا ہاتھ اُس ملبے میں بھی کام کر رہا ہے، اور اگلی ہی آیت بتاتی ہے کہ وہ "بھلائی" کیا ہے: کہ ہم اُس کے بیٹے کے ہمشکل بنیں۔ یہ آیت غم کے وقت کسی کے منہ پر مارنے کے لیے نہیں، بلکہ گھٹنوں پر تھامنے کے لیے ہے۔

تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ اگر خدا نے تسلی دی ہے تو دکھ جلد ختم ہو جانا چاہیے۔ مگر متی 5:4 کا وعدہ مستقبل کے صیغے میں ہے، اور پولس کا کانٹا اُٹھایا نہیں گیا، صرف فضل عطا ہوا۔ بائبلی تسلی درد کو ہٹانے کا نام نہیں، درد کے اندر خدا کی حضوری کا نام ہے۔ زبور 23 میں چرواہا بھیڑ کو موت کے سایے کی وادی کے گرد نہیں گھماتا، بلکہ اُس کے اندر سے ساتھ چل کر گزارتا ہے۔

چوتھی غلط فہمی سب سے تکلیف دہ ہے: یہ خیال کہ میری تکلیف کسی چھپے گناہ کی سزا ہے۔ ایوب کے دوستوں کا یہی حساب تھا اور خدا نے اُسے رد کر دیا۔ خداوند یسوع مسیح سے جب اُس نابینا آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ اِس نے یا اِس کے ماں باپ نے گناہ کیا، تو اُنہوں نے صاف انکار کیا۔ ہاں، کبھی ہمارے فیصلے ہمیں دکھ میں ڈالتے ہیں، مگر ہر آزمائش کو خدا کی ناراضی سمجھنا صلیب کا انکار ہے۔ جو سزا آپ کے حصے کی تھی، وہ مسیح نے اُٹھا لی۔ جو باقی رہ گیا، وہ سزا نہیں، تربیت اور شراکت ہے۔

آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا

سب سے پہلے، خدا کے سامنے سچ بولنا سیکھیے۔ زبور کی کتاب ہمیں دعا میں شکایت کرنے کی اجازت دیتی ہے، اور جو دعا سچی نہیں ہوتی وہ تسلی بھی نہیں لاتی۔ آج رات کاغذ لے کر اپنی حالت اُسی زبان میں لکھیے جس میں آپ واقعی محسوس کرتے ہیں، اور پھر اُسے خدا کے سامنے پڑھ دیجیے۔ زبور 13 کی طرح شکایت سے شروع کریں اور بھروسے پر ختم کرنے کی کوشش کریں، خواہ وہ بھروسہ ایک ہی ادھورے جملے میں ہو۔ خدا آنسو گنتا ہے؛ اُس کے سامنے آنسو چھپانے کی ضرورت نہیں۔

دوسری بات، اپنی تسلی کو اپنے احساسات سے نہیں، حقائق سے باندھیے۔ جس صبح دل بےجان ہو، اُس صبح یوحنا 14:27 اونچی آواز میں پڑھیے۔ مسیح یہ نہیں کہتے کہ "تم اطمینان محسوس کرو گے"، بلکہ کہتے ہیں "میں تمہیں اطمینان دیئے جاتا ہوں"۔ یہ ایک عطیہ ہے جو آپ کے مزاج پر منحصر نہیں۔ اِسی طرح جب موت کا سایہ لمبا لگے، مکاشفہ 21:4 کو زبانی یاد کر لیں، تاکہ آپ کے دل کے پاس اندھیرے میں دہرانے کے لیے کچھ ہو۔

تیسری بات، اکیلے غم نہ کریں۔ 2 کرنتھیوں 1:3 کے بعد پولس فوراً بتاتے ہیں کہ خدا ہمیں تسلی دیتا ہے تاکہ ہم دوسروں کو تسلی دے سکیں۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی اور کے ذریعے تسلی لینا روحانی کمزوری نہیں، بلکہ خدا کا مقرر کردہ طریقہ ہے۔ کلیسیا میں ایک یا دو ایسے لوگ ڈھونڈیں جن سے آپ بغیر ملمع کیے بات کر سکیں۔ اور جب آپ کسی غمزدہ کے پاس جائیں تو ایوب کے دوستوں کی پہلی سات دن کی خاموشی یاد رکھیے، جو اُن کی سب سے عقل مند خدمت تھی۔ وضاحتیں نہ دیں، ساتھ بیٹھیں، چائے بنائیں، دعا کریں، اور کہیں کہ آپ کل بھی آئیں گے۔

چوتھی بات، اپنے جسم کو نظرانداز نہ کریں۔ ایلیاہ جب موت مانگ رہا تھا تو خدا نے پہلے اُسے روٹی دی اور سونے دیا۔ نیند، خوراک، دھوپ اور کسی معالج سے مدد لینا ایمان کے خلاف نہیں۔ اور پانچویں بات، خدمت کا کوئی چھوٹا سا کام تلاش کریں۔ غم اندر کی طرف مڑتا ہے؛ محبت کا ایک عمل، خواہ کسی پڑوسی کے لیے سالن ہی ہو، دل کو باہر کی طرف کھولتا ہے۔ غم کو خدمت میں راستہ دیجیے، ورنہ وہ تنہائی بن جاتا ہے۔

آئینہ

آپ نے شاید یہ سیکھ لیا ہے کہ درد کو کیسے چھپایا جائے۔ اتوار کو کلیسیا میں آپ مسکراتے ہیں، کوئی پوچھے تو کہتے ہیں "خدا کا شکر ہے، سب ٹھیک ہے"، اور گاڑی میں بیٹھ کر ہاتھ اسٹیئرنگ پر رکھتے ہی آنکھ بہہ نکلتی ہے۔ آپ کے دفتر والے نہیں جانتے کہ رات آپ کیسے گزارتے ہیں۔ آپ کے بچے نہیں جانتے کہ باتھ روم کا نل آپ کیوں چلا دیتے ہیں۔ اور آپ نے یہ مان لیا ہے کہ ایک اچھا مسیحی وہ ہے جو محسوس نہ کرے۔

مگر یہ سوچیے: آپ کس سے چھپا رہے ہیں؟ زبور 34:18 کہتی ہے کہ خداوند شکستہ دلوں کے نزدیک ہے۔ جس چیز کو آپ اپنی سب سے بڑی شرمندگی سمجھتے ہیں، وہی وہ جگہ ہے جہاں وہ سب سے قریب کھڑے ہیں۔ آپ کی مضبوطی کے مقابلے میں آپ کی ٹوٹن اُن کے لیے زیادہ قابلِ رسائی ہے۔

اور یہ بھی پوچھیے: آپ نے کہاں جھوٹی تسلیوں پر ہاتھ رکھا ہے؟ ہو سکتا ہے وہ موبائل کی اسکرین ہو جو رات دو بجے تک آپ کو سوچنے سے بچاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کام ہو، جو ایک قبر جیسے خالی گھر میں لوٹنے سے بہتر لگتا ہے۔ ہو سکتا ہے پیسہ ہو، یا کوئی رشتہ، یا وہ غصہ جسے آپ خاندان پر نکالتے ہیں کیونکہ غم کا اظہار کرنے سے آسان ہے۔ یہ سب چیزیں تھوڑی دیر کے لیے سُن کر دیتی ہیں، مگر یوحنا 14:27 کا وہ فقرہ یاد رکھیے: "جس طرح دنیا دیتی ہے میں تمہیں اُس طرح نہیں دیتا۔" دنیا کی تسلی قرض پر ملتی ہے اور سود کے ساتھ واپس لی جاتی ہے۔

اگر آپ اِس وقت غم میں نہیں ہیں تو آئینہ آپ کے لیے دوسرا سوال رکھتا ہے: پچھلے مہینے آپ کے قریب کون رویا تھا اور آپ کو خبر بھی نہ ہوئی؟ خدا کی تسلی آپ کے ذریعے کسی تک پہنچنے کے لیے آپ کے حصے میں آئی تھی۔ ایک فون کال، ایک مختصر ملاقات، ایک نام لے کر کی گئی دعا۔ ہمدردی وقت مانگتی ہے، الفاظ نہیں۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچے موت اور غم کو بڑوں سے زیادہ سیدھا دیکھتے ہیں، اِس لیے اُن سے سیدھی بات کیجیے۔ ٹال مٹول والے جملے، جیسے "دادی سو گئی ہیں" یا "خدا کو اُن کی ضرورت تھی"، اکثر خوف اور غلط تصویریں پیدا کرتے ہیں۔ اِس کے بجائے سچ اور نرمی ساتھ رکھیے: ہاں، یہ بہت دکھ کی بات ہے؛ ہاں، رونا ٹھیک ہے؛ اور ہاں، خداوند یسوع مسیح خود قبر کے سامنے روئے تھے، اِس لیے وہ ہمارے آنسو سمجھتے ہیں۔

چھوٹے بچوں کے لیے سب سے مضبوط سہارا وہ تصویر ہے جو مکاشفہ 21:4 دیتی ہے، کہ ایک دن خدا اپنے ہاتھ سے اُن کی آنکھوں کے آنسو پونچھ دے گا۔ بچے اِس کو فوراً سمجھ جاتے ہیں، کیونکہ آنسو پونچھنا وہ سب سے پہلی محبت ہے جو اُنہوں نے ماں باپ سے دیکھی ہے۔ بڑے بچوں کے ساتھ آپ زبور 34:18 پر بات کر سکتے ہیں، کہ خدا ٹوٹے دل والوں سے دور نہیں ہٹتا بلکہ نزدیک آ جاتا ہے۔ اور نوجوانوں کے ساتھ غصے اور بےانصافی کے سوالوں سے مت بھاگیے؛ اُنہیں ایوب اور زبور دکھائیں، تاکہ وہ جان لیں کہ خدا سے شکایت کرنا بھی ایمان کا حصہ ہو سکتا ہے۔

اُن کے سوالوں کے جواب مکمل ہونا ضروری نہیں۔ اُن کے ساتھ بیٹھنا، ہاتھ تھامنا اور مل کر ایک چھوٹی سی دعا کرنا اکثر کسی لمبی وضاحت سے زیادہ کام کرتا ہے۔

فیتھ نیٹ ورک پر اِس موضوع کی الگ الگ عمر کے مطابق وضاحتیں بھی دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال)، اسکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال)، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے، تاکہ آپ اپنے بچے کی عمر اور سمجھ کے مطابق بات کر سکیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

غم میں تسلی کے لیے بائبل کی سب سے اچھی آیت کون سی ہے؟

اگر ایک ہی آیت چننی ہو تو زبور 34:18 لیجیے: "خداوند شکستہ دلوں کے نزدیک ہے اور خستہ جانوں کو بچاتا ہے۔" یہ آیت آپ سے کچھ مانگتی نہیں، صرف بتاتی ہے کہ خدا کہاں کھڑا ہے۔ اِس کے ساتھ متی 5:4 اور یوحنا 14:27 رکھیے، تاکہ آپ کو موجودہ حضوری، مستقبل کی تسلی اور مسیح کا اطمینان تینوں مل جائیں۔ سب سے مفید طریقہ یہ ہے کہ ایک آیت زبانی یاد کر لی جائے، کیونکہ غم کی رات میں کتاب کھولنا مشکل ہوتا ہے مگر یاد ہوئی آیت خودبخود دل میں چلنے لگتی ہے۔

کیا مسیحی کے لیے رونا اور ماتم کرنا گناہ ہے؟

ہرگز نہیں۔ خداوند یسوع مسیح خود لعزر کی قبر پر روئے اور یروشلیم کے لیے آنسو بہائے، اور پوری زبور کی کتاب نالوں سے بھری ہے۔ 1 تھسلنیکیوں 4:13 ہمیں غم کرنے سے منع نہیں کرتی، صرف اُس غم سے روکتی ہے جو ناامید ہو۔ آنسو کمزور ایمان کی علامت نہیں بلکہ محبت کی علامت ہیں، اور محبت اِس لیے تکلیف دیتی ہے کہ وہ سچی تھی۔ اپنے آنسوؤں کو خدا کے سامنے دبانے کی کوشش نہ کریں؛ زبور 56:8 کے مطابق وہ اُنہیں گنتا اور محفوظ رکھتا ہے۔

رومیوں 8:28 کا اصل مطلب کیا ہے؟

اِس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر واقعہ اپنے آپ میں اچھا ہے۔ پولس لکھتے ہیں کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لیے بھلائی پیدا کرتی ہیں، یعنی خدا مختلف حالات، حتیٰ کہ تکلیف دہ حالات کو بھی، ایک مقصد کی طرف بُنتا ہے۔ اگلی آیت بتاتی ہے کہ وہ مقصد کیا ہے: ہمیں اُس کے بیٹے کے ہمشکل بنانا۔ اِس لیے یہ آیت درد کو "اچھا" کہنے کی اجازت نہیں دیتی، بلکہ یہ یقین دیتی ہے کہ درد آخری لفظ نہیں کہے گا۔

کیا خدا میری تکلیف کا ذمہ دار ہے؟

بائبل خدا کو کائنات کا حاکم مانتی ہے، اِس لیے کچھ بھی اُس کے علم اور اجازت سے باہر نہیں ہوتا؛ مگر وہ برائی کا سرچشمہ نہیں ہے۔ ایوب کی کتاب یہ دونوں سچائیاں ساتھ رکھتی ہے اور ہر تفصیل کھولنے سے انکار کرتی ہے۔ صلیب سب سے واضح جواب ہے: اگر خدا ہمارے دکھ سے لاتعلق ہوتا تو وہ اُس میں خود شامل نہ ہوتا۔ اِس لیے سوال "کیوں" سے ہٹ کر "کون" کی طرف موڑیے، اور اُس شخص کے پاس جائیے جو آپ کے دکھ سے واقف ہے۔

2 کرنتھیوں 1:3 کا "ہر طرح کی تسلی کا خدا" ہونے کا مطلب کیا ہے؟

اِس کا مطلب ہے کہ تسلی خدا کا عارضی کام نہیں بلکہ اُس کی فطرت ہے۔ جیسے وہ رحمتوں کا باپ ہیں، ویسے ہی وہ ہر طرح کی تسلی کے مالک ہیں، خواہ آپ کا دکھ موت کا ہو، بیماری کا، بےروزگاری کا یا تنہائی کا۔ اور پولس فوراً بتاتے ہیں کہ یہ تسلی ہمیں تقسیم کرنے کے لیے ملتی ہے، تاکہ ہم دوسروں کو اُسی سے تسلی دیں۔ اِس لیے جس درد سے آپ گزر چکے ہیں، وہ کل کسی اور کے لیے آپ کی سب سے مؤثر خدمت بن سکتا ہے۔

متی 5:4 میں "مبارک" کیوں کہا گیا جبکہ غم تو تکلیف ہے؟

کیونکہ مسیح مبارک ہونے کو خوش گوار حالات سے نہیں، خدا کی بادشاہی سے قربت سے جوڑتے ہیں۔ ماتم کرنے والا وہ ہے جس نے اپنی ٹوٹن قبول کر لی، اور ایسا شخص خدا کی تسلی کے لیے کھلا ہوا ہوتا ہے، جبکہ خود کفیل شخص بند رہتا ہے۔ آیت میں وعدہ مستقبل میں ہے: "وہ تسلی پائیں گے۔" یعنی برکت اِس میں نہیں کہ غم اچھا ہے، بلکہ اِس میں کہ غم آپ کو خدا کی پہنچ سے دور نہیں کرتا۔

مکاشفہ 21:4 کے آنسو پونچھنے کا وعدہ کب پورا ہوگا؟

یہ وعدہ نئے آسمان اور نئی زمین کے وقت پورا ہوگا، جب مسیح واپس آ کر سب چیزیں نئی بنائیں گے۔ اِس دنیا میں تسلی جُزوی ہوتی ہے، مگر تب موت، ماتم، آہ و نالہ اور درد سب کے سب مٹا دیے جائیں گے۔ خاص بات یہ ہے کہ آنسو پونچھنے کا کام خدا کسی اور کو نہیں سونپتے بلکہ خود کرتے ہیں۔ اِس لیے آج کا غم ایک عبوری موسم ہے، انجام نہیں؛ اور یہی امید مسیحی ماتم کو دنیا کی مایوسی سے الگ کرتی ہے۔

کسی غمزدہ شخص سے کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں؟

سب سے مفید یہ ہے کہ وضاحتیں نہ دیں۔ "خدا کی یہی مرضی تھی"، "وہ بہتر جگہ چلے گئے" یا "کچھ نہ کچھ بھلائی ہوگی" جیسے جملے اکثر زخم پر نمک بن جاتے ہیں۔ ایوب کے دوست جب سات دن خاموش بیٹھے رہے تو وہ اُن کی بہترین خدمت تھی۔ کہیے کہ آپ کو افسوس ہے، پوچھیے کہ آج کیسی گزری، اور مرحوم کا نام لے کر بات کریں۔ عملی مدد دیں: کھانا، بچوں کی دیکھ بھال، ہسپتال کا چکر۔ اور جاتے وقت وعدہ کریں کہ آپ اگلے ہفتے بھی آئیں گے، اور واقعی آئیں۔

کیا میری بیماری یا نقصان میرے گناہ کی سزا ہے؟

عام طور پر نہیں۔ خداوند یسوع مسیح نے نابینا آدمی کے بارے میں صاف انکار کیا کہ یہ اُس کے یا اُس کے والدین کے گناہ کا نتیجہ تھا، اور ایوب کے دوستوں کا یہی حساب خدا نے رد کیا۔ ہمارے کچھ فیصلے قدرتی نتائج لاتے ہیں اور خدا اپنے فرزندوں کی محبت میں تربیت بھی کرتے ہیں، مگر آپ کے گناہ کی سزا صلیب پر ادا ہو چکی ہے۔ اِس لیے تکلیف میں خود کو سزا یاب نہ سمجھیں؛ اگر کوئی گناہ دل پر بوجھ ہے تو اُسے مان لیں اور معافی پر بھروسہ کریں۔

غم کے دنوں میں دعا نہ کر پانے پر کیا کریں؟

یہ عام تجربہ ہے اور ناکامی نہیں۔ جب الفاظ نہ ملیں، تو کسی اور کے الفاظ مانگ لیجیے: زبور 13، زبور 42 یا زبور 88 اونچی آواز میں پڑھ دیں اور اُنہی کو اپنی دعا بنا لیں۔ رومیوں 8 بتاتی ہے کہ روحُ القدس ہماری کمزوری میں ہماری مدد کرتا اور ہمارے لیے شفاعت کرتا ہے، اِس لیے آپ کی ادھوری آہ بھی آسمان تک پہنچتی ہے۔ اور کسی بھروسے مند مسیحی سے کہیے کہ وہ آپ کے لیے دعا کرے؛ جب آپ کے ہاتھ نہ اُٹھ سکیں تو دوسروں کے ہاتھ اُٹھتے ہیں۔

کیا ایمان دار کے لیے غم سے مکمل شفا اِس زندگی میں ممکن ہے؟

غم عموماً ختم نہیں ہوتا، بدل جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ اُس کی شدت کم ہوتی ہے اور اُس کے ساتھ جینا آنے لگتا ہے، مگر محبت کی جگہ خالی رہتی ہے، اور یہ فطری ہے۔ بائبل مکمل شفا کا وعدہ مکاشفہ 21:4 میں دیتی ہے، اِس دنیا میں نہیں۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آج تسلی نہیں؛ مسیح آج بھی اپنا اطمینان دیتے ہیں اور بار بار سنبھالتے ہیں۔ اپنے آپ سے یہ توقع نہ رکھیں کہ "اب تک تو ٹھیک ہو جانا چاہیے تھا"۔

دکھ کے وقت خدا خاموش کیوں لگتا ہے؟

بائبل اِس تجربے کو جانتی اور تسلیم کرتی ہے؛ زبور 13، زبور 22 اور زبور 88 اِسی خاموشی کی دعائیں ہیں۔ خدا کی خاموشی اُس کی غیرحاضری نہیں۔ ایوب کو جواب نہیں ملا، مگر خدا خود آئے، اور اُس نے کہا کہ اب میری آنکھ تجھے دیکھتی ہے۔ صلیب پر مسیح نے بھی خدا کے چھوڑ دیے جانے کا تجربہ کیا تاکہ آپ کو حقیقتاً کبھی نہ چھوڑا جائے۔ اِس لیے احساس کے بجائے وعدے پر ٹھہریں: خداوند شکستہ دلوں کے نزدیک ہے، خواہ آپ کو محسوس نہ ہو۔

اختتام میں

بائبلی تسلی کوئی جملہ نہیں جو مصیبت کے منہ پر چپکایا جائے۔ وہ ایک راستہ ہے جس پر خدا خود چلا ہے۔ وہ آنسو گنتا ہے، اِس لیے آپ کی رات ضائع نہیں ہوتی؛ وہ مسیح میں آنسو بہا چکا ہے، اِس لیے آپ اکیلے نہیں روتے؛ اور وہ ایک دن اپنے ہاتھ سے آنسو پونچھ دے گا، اِس لیے آپ کا غم آخری لفظ نہیں کہے گا۔ جو خدا شکستہ دلوں کے نزدیک ہے، اُسی نے یہ وعدہ کیا کہ ماتم کرنے والے تسلی پائیں گے، اور اُسی نے صلیب سے پہلے کہا: "میں تمہیں اطمینان دیئے جاتا ہوں۔"

اگر آپ اِس وقت وادی میں ہیں تو ایک قدم اُٹھائیں: آج زبور 34 پورا پڑھیں، اور کل زبور 23۔ پھر 2 کرنتھیوں کے پہلے باب میں پولس کے ساتھ بیٹھیں اور دیکھیں کہ وہ اپنی مصیبت میں کیا سیکھا۔ اور کسی ایک شخص کو بتائیں کہ آپ کہاں ہیں، تاکہ خدا اپنی تسلی انسانی ہاتھوں کے ذریعے آپ تک پہنچا سکے۔ رونا شرم نہیں؛ رونا اُس دن کی طرف دیکھنا ہے جب آنسو نہ رہیں گے۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 5.946 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

6.421
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
آج پہلے ہی 6 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو آستر 3:10

بادشاہ نے اپنی مُہر کی انگوٹھی اُتار کر ہامان کو دے دی، اور ایک بار بھی نہ پوچھا کہ اِس…

بصیرت ادارتی کو ۱-یوحنا 2:17

دنیا اور اُس کی شہوت ختم ہوتی جا رہی ہے، لیکن جو اللہ کی مرضی پوری کرتا ہے وہ ابد…

دعا ادارتی کو نحمیاہ 8:8

اے خدا، تیرا کلام کھلے تو میرا دل بھی کھلے۔ صرف الفاظ نہ سنوں بلکہ ان کا مطلب سمجھوں اور…

بصیرت ادارتی کو ۲-توارِیخ 30:26

یوں یروشلم میں بڑی خوشی منائی گئی، کیونکہ اسرائیل کے بادشاہ داؤد کے بیٹے سلیمان کے زمانے سے لے کر…

شکرگزاری ادارتی کو میکاہ 7:14

خداوند، شکر ہے کہ تُو اپنی لاٹھی سے اپنے ریوڑ کی گلہ بانی کرتا ہے اور ہمیں اپنی میراث شمار…

بصیرت ادارتی کو اِستِثنا 2:27

اسرائیل کی پوری قوم ایک چھوٹی سی سلطنت کی سرحد پر کھڑی تھی، اور اُن کا پیغام یہ تھا: ”مجھے…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟