بائبل کی تشریح

مرقس 4

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

جھیل کے کنارے بھیڑ اِتنی بڑھ گئی کہ خداوند یسوع کشتی میں بیٹھ کر کنارے پر کھڑے لوگوں کو تمثیلوں میں تعلیم دینے لگے: بیج بونے والا کسان، چراغ جو برتن کے نیچے نہیں رکھا جاتا، وہ فصل جو کسان کی نیند میں بھی بڑھتی رہتی ہے، اور رائی کا ننھا دانہ جو سب سے بڑا پودا بن جاتا ہے۔ اُسی دن شام کو وہ شاگردوں کے ساتھ پار جانے کے لئے نکلے، آندھی آئی، کشتی پانی سے بھرنے لگی، اور وہ پچھلے حصے میں گدی پر سر رکھے سو رہے تھے۔ جگائے جانے پر اُنہوں نے آندھی کو ڈانٹا، اور شاگردوں کے دل میں ایک سوال رہ گیا: ”آخر یہ کون ہے؟“

مرکزی بات

”اُسے معلوم نہیں کہ یہ کیونکر ہوتا ہے۔“ یہ ایک جملہ اِس پورے باب کی چابی ہے۔ اللہ کی بادشاہی ایسی چیز نہیں جسے ہم منظم کر سکیں، ناپ سکیں یا اپنی کوشش سے تیز کر سکیں۔ کسان بوتا ہے اور سو جاتا ہے؛ زمین خود بخود کام کرتی ہے۔ یہاں کلام ہمیں ایک خدا دکھاتا ہے جو خاموشی میں، زمین کے اندھیرے میں، ہماری نگرانی سے باہر کام کرتا ہے۔ اِسی لئے یسوع کا زور کرنے پر نہیں بلکہ سننے پر ہے: ”جو سن سکتا ہے وہ سن لے!“ بادشاہی سب سے پہلے ایک آواز ہے جو ہمارے اندر گرتی ہے، اور اُس کا اثر ہمارے قابو سے باہر ہے۔ یہ بات تسلی بھی ہے اور ہمارے اختیار کے وہم کا خاتمہ بھی۔

سلسلۂ نجات

اسرائیل کے نبیوں نے بار بار پوچھا تھا کہ خدا کا کلام کیوں بےاثر لگتا ہے، کیوں قوم سنتی ہے مگر سمجھتی نہیں۔ یسعیاہ کی بلاہٹ ہی اِسی سختی کے ساتھ شروع ہوئی تھی، اور یسوع اُسے آیت 12 میں اپنے اوپر لے لیتے ہیں۔ گویا مسیح اُس پرانی کہانی کے آخری باب میں کھڑے ہیں: بونے والا خود آ گیا ہے۔ جو کلام پہلے نبیوں کے ذریعے آیا تھا، اب جسم بن کر کشتی میں بیٹھا ہے۔ اور رائی کے دانے کی تمثیل میں وہ پرانا نبوّتی خواب گونجتا ہے کہ ایک دن ایک درخت اُگے گا جس کی شاخوں میں قومیں پناہ لیں گی۔ سب سے چھوٹے سے شروع، صلیب پر بظاہر ختم، مگر پھل تیس، ساٹھ، سَو گُنا۔

آئینہ

”روزمرہ کی پریشانیاں، دولت کا فریب اور دیگر چیزوں کا لالچ“۔ یہ فہرست اِتنی مہذب ہے کہ ڈراتی ہے۔ یہاں بغاوت یا کفر کا ذکر نہیں، صرف وہ چیزیں جن سے ہمارے دن بھرے ہوئے ہیں: بجلی کا بل، بچوں کے امتحان، رشتےداروں کی باتیں، ترقی کی خواہش۔ کانٹے دار پودے بیج کو اُکھاڑتے نہیں، صرف جگہ نہیں دیتے۔ ذرا ٹھہر کر پوچھیں: پچھلے ہفتے جو آیت آپ نے پڑھی، وہ کہاں گئی؟ اُسے دبا کس نے دیا؟ اور پتھریلی زمین والوں پر بھی جلدی فیصلہ نہ کریں؛ خوشی سے قبول کرنا آسان ہے، جڑ پکڑنا وقت مانگتا ہے، اور جڑیں اندھیرے میں بنتی ہیں، جہاں کوئی تعریف نہیں کرتا۔

ایک باریک بات

پرندے دو بار آتے ہیں۔ پہلی بار وہ لٹیرے ہیں: ”پرندوں نے آ کر اُنہیں چگ لیا“، اور یسوع اِس کی تفسیر ابلیس سے کرتے ہیں جو کلام چھین لیتا ہے۔ آخری تمثیل میں وہی پرندے مہمان بن جاتے ہیں: ”پرندے اُس کے سائے میں اپنے گھونسلے بنا سکتے ہیں۔“ ایک ہی باب میں وہی مخلوق پہلے دشمن، پھر پناہ گزین۔ کیا یہ اتفاق ہے؟ شاید نہیں۔ بادشاہی اُس دنیا میں اُگتی ہے جہاں سے چوری ہوتی ہے، اور بڑھتے بڑھتے وہ اُنہی کے لئے جگہ بن جاتی ہے جو ایک وقت میں اُس کے خلاف تھے۔ یہ ایک خاموش اشارہ ہے کہ خدا اپنے دشمنوں کو بھی سایہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کلام کی گونج

آیت 12 کا حوالہ یسعیاہ 6 سے ہے، جہاں نبی کو ایسی قوم کے پاس بھیجا جاتا ہے جو سنے گی مگر نہ سمجھے گی۔ یسوع اِس سختی کو نرم نہیں کرتے، اور ہمیں بھی اِسے نرم نہیں کرنا چاہئے: تمثیل روشنی بھی ہے اور پردہ بھی، اِس بات پر منحصر کہ سننے والا قریب آتا ہے یا نہیں۔ دوسری گونج زبور 107 سے ہے، جہاں سمندر پر سفر کرنے والے طوفان میں پکارتے ہیں اور خداوند لہروں کو تھما دیتا ہے۔ وہاں یہ کام صرف خدا کا ہے۔ اِسی لئے شاگردوں کا سوال ”آخر یہ کون ہے؟“ صرف حیرانی نہیں، ایک لرزتی ہوئی پہچان ہے۔

مرکزی کردار

سوئے ہوئے یسوع کی تصویر باب کے شروع سے جُڑی ہوئی ہے: جیسے کسان بو کر سو جاتا ہے اور زمین کام کرتی رہتی ہے، ویسے ہی وہ طوفان میں گدی پر سر رکھے سو رہے ہیں۔ یہ لاپروائی نہیں، بےخوف بھروسا ہے۔ شاگردوں کا الزام ”کیا آپ کو پروا نہیں؟“ ہمارا بھی مانوس فقرہ ہے۔ جواب میں وہ لہروں سے کہتے ہیں ”خاموش! چپ کر!“ یونانی میں دوسرا لفظ ایسا ہے جیسے کسی جانور کے منہ پر لگام باندھ دی جائے۔ پھر وہ شاگردوں سے پوچھتے ہیں، ”تم کیوں گھبراتے ہو؟“ اور جو خوف اُن پر آتا ہے وہ طوفان کا نہیں، اُس ہستی کا ہے جو کشتی میں اُن کے ساتھ بیٹھی تھی۔ کبھی کبھی خدا کا قریب ہونا طوفان سے زیادہ ہلا دیتا ہے۔

غور و فکر کے سوالات

آپ کی زندگی میں وہ ”کانٹےدار پودے“ کیا ہیں جو کلام کو اُکھاڑتے نہیں مگر پھلنے پھولنے کی جگہ نہیں دیتے؟ اُن کے نام لے کر لکھیں۔

جب خدا خاموش لگتا ہے یا ”سویا ہوا“ محسوس ہوتا ہے، تو کیا آپ اُس سے شکایت کرتے ہیں یا اُس سے دُور ہٹ جاتے ہیں؟ اِس باب کے مطابق کون سا راستہ ایمان کے قریب ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Mark 4 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

مرقس 4 کا کیا مطلب ہے؟
جھیل کے کنارے بھیڑ اِتنی بڑھ گئی کہ خداوند یسوع کشتی میں بیٹھ کر کنارے پر کھڑے لوگوں کو تمثیلوں میں تعلیم دینے لگے: بیج بونے والا کسان، چراغ جو برتن کے نیچے نہیں رکھا جاتا، وہ فصل جو کسان کی نیند میں بھی بڑھتی رہتی ہے، اور رائی کا ننھا دانہ جو سب سے بڑا پودا بن جاتا ہے۔ اُسی دن شام کو وہ شاگردوں کے ساتھ پار جانے کے لئے نکلے، آندھی آئی، کشتی پانی سے بھرنے لگی، اور وہ پچھلے حصے میں گدی پر سر رکھے سو رہے تھے۔ جگائے جانے پر اُنہوں نے آندھی کو ڈانٹا، اور شاگردوں کے دل میں ایک سوال رہ گیا: ”آخر یہ کون ہے؟“
مرقس 4 کس بارے میں ہے؟
اسرائیل کے نبیوں نے بار بار پوچھا تھا کہ خدا کا کلام کیوں بےاثر لگتا ہے، کیوں قوم سنتی ہے مگر سمجھتی نہیں۔ یسعیاہ کی بلاہٹ ہی اِسی سختی کے ساتھ شروع ہوئی تھی، اور یسوع اُسے آیت 12 میں اپنے اوپر لے لیتے ہیں۔ گویا مسیح اُس پرانی کہانی کے آخری باب میں کھڑے ہیں: بونے والا خود آ گیا ہے۔ جو کلام پہلے نبیوں کے ذریعے آیا تھا، اب جسم بن کر کشتی میں بیٹھا ہے۔ اور رائی کے دانے کی تمثیل میں وہ پرانا نبوّتی خواب گونجتا ہے کہ ایک دن ایک درخت اُگے گا جس کی شاخوں میں قومیں پناہ لیں گی۔ سب سے چھوٹے سے شروع، صلیب پر بظاہر ختم، مگر پھل تیس، ساٹھ، سَو گُنا۔
مرقس 4 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پرندے دو بار آتے ہیں۔ پہلی بار وہ لٹیرے ہیں: ”پرندوں نے آ کر اُنہیں چگ لیا“، اور یسوع اِس کی تفسیر ابلیس سے کرتے ہیں جو کلام چھین لیتا ہے۔ آخری تمثیل میں وہی پرندے مہمان بن جاتے ہیں: ”پرندے اُس کے سائے میں اپنے گھونسلے بنا سکتے ہیں۔“ ایک ہی باب میں وہی مخلوق پہلے دشمن، پھر پناہ گزین۔ کیا یہ اتفاق ہے؟ شاید نہیں۔ بادشاہی اُس دنیا میں اُگتی ہے جہاں سے چوری ہوتی ہے، اور بڑھتے بڑھتے وہ اُنہی کے لئے جگہ بن جاتی ہے جو ایک وقت میں اُس کے خلاف تھے۔ یہ ایک خاموش اشارہ ہے کہ خدا اپنے دشمنوں کو بھی سایہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
مرقس 4 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
سوئے ہوئے یسوع کی تصویر باب کے شروع سے جُڑی ہوئی ہے: جیسے کسان بو کر سو جاتا ہے اور زمین کام کرتی رہتی ہے، ویسے ہی وہ طوفان میں گدی پر سر رکھے سو رہے ہیں۔ یہ لاپروائی نہیں، بےخوف بھروسا ہے۔ شاگردوں کا الزام ”کیا آپ کو پروا نہیں؟“ ہمارا بھی مانوس فقرہ ہے۔ جواب میں وہ لہروں سے کہتے ہیں ”خاموش!
مرقس 4 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
جب خدا خاموش لگتا ہے یا ”سویا ہوا“ محسوس ہوتا ہے، تو کیا آپ اُس سے شکایت کرتے ہیں یا اُس سے دُور ہٹ جاتے ہیں؟ اِس باب کے مطابق کون سا راستہ ایمان کے قریب ہے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Mark 4 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 12

یسوع کے اِس سخت جملے سے پہلے ایک چھوٹی سی بات لکھی ہے: شاگرد اُس کے پاس آئے اور تمثیل کا مطلب پوچھا۔ باقی لوگ سن کر چلے گئے۔ فرق ذہانت کا نہیں تھا، فرق یہ تھا کہ کون ٹھہرا اور پوچھتا رہا۔ کلام آج بھی ایسا ہی ہے۔ جو سطح پر سنتا ہے وہ کہتا ہے، "کچھ سمجھ نہیں آیا"، اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ کیا تُو ٹھہر کر پوچھے گا؟

دعا ادارتی کو آیت 32

اے خدا، میرا ایمان بہت چھوٹا لگتا ہے، بیج کے ایک دانے جیسا۔ پھر بھی تُو اُسے بڑھاتا ہے، ایسی شاخیں دیتا ہے جن میں دوسروں کو پناہ ملے۔ آج جو تھوڑا سا میرے پاس ہے، وہ تیرے ہاتھ میں رکھتا ہوں۔ تُو ہی اُگا، تُو ہی بڑھا۔

بصیرت ادارتی کو آیت 27

کسان بیج بو کر اپنے کام سے فارغ ہو جاتا ہے، "رات کو وہ سو جاتا اور دن کو جاگتا ہے، اور اِس دوران بیج اُگتا اور بڑھتا رہتا ہے، گو کسان نہیں جانتا کہ یہ کس طرح ہوتا ہے۔" سب سے بڑا کام اُس وقت ہوتا ہے جب وہ سو رہا ہوتا ہے۔ تُو نے دعا کی، بات کی، محبت دکھائی۔ اب سو جا۔ خدا زمین کے اندھیرے میں کام کر رہا ہے، تیری بےخبری اُس کو نہیں روکتی۔

دعا ادارتی کو آیت 31

اے خدا، میرے پاس جو کچھ ہے وہ رائی کے دانے سے بھی چھوٹا لگتا ہے۔ میرا ایمان، میری کوشش، میری دعا۔ پھر بھی تُو اِسی کو اپنے ہاتھ میں لے کر بڑھاتا ہے۔ مجھے صبر دے کہ میں چھوٹی شروعات کو حقیر نہ جانوں اور تیرے وقت پر بھروسا رکھوں۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟