مرقس 5
متن
یسوع جھیل کے پار غیریہودی علاقے میں اُترتے ہیں، جہاں قبروں میں رہنے والا ایک آدمی زنجیریں توڑ کر چیختا پھرتا ہے۔ ایک ہی حکم سے وہ لشکر نکل جاتا ہے، سؤر جھیل میں ڈوب مرتے ہیں، اور لوگ اِس آزادی سے اِتنے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ یسوع کو چلے جانے کی منت کرتے ہیں۔ واپس دوسرے کنارے پر یائیر اپنی مرتی ہوئی بیٹی کے لئے پاؤں میں گرتا ہے، راستے میں بارہ سال سے خون بہنے والی عورت چپکے سے یسوع کے لباس کو چھوتی ہے، اور آخر میں ایک مُردہ لڑکی اُٹھ کر چلنے لگتی ہے۔
اصل بات
یہ باب تین ایسے لوگوں کو دکھاتا ہے جن سے مذہبی معاشرہ فاصلہ رکھتا تھا: بدروح گرفتہ غیریہودی، ناپاک عورت، اور ایک لاش۔ تینوں معاملوں میں یسوع آگے بڑھ کر خود ناپاکی کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں، اور ہر بار ناپاکی اُن پر اثر نہیں کرتی بلکہ اُن کی طہارت اور زندگی دوسرے پر منتقل ہو جاتی ہے۔ یہی نجات کا اصل رُخ ہے: خدا آپ کے صاف ہونے کا انتظار نہیں کرتے، وہ آپ کی گندگی میں اُترتے ہیں۔ اور دھیان دیں کہ یسوع کسی کو "ٹھیک" نہیں بناتے بلکہ بحال کرتے ہیں، آدمی کپڑے پہن کر ہوش میں بیٹھا ہے، لڑکی کو کھانا دیا جاتا ہے۔ نجات جسم اور روزمرہ زندگی کو واپس دیتی ہے۔
سنہری تار
مرقس کی ترتیب اتفاقی نہیں۔ پچھلے باب میں یسوع نے سمندر کو ڈانٹا تھا، اب وہ سمندر کے پار جا کر اُس طاقت کو ڈانٹتے ہیں جو ایک آدمی کے اندر بیٹھی تھی۔ بائبل میں سمندر اور گہرائی ہمیشہ اُس بےقابو طاقت کی علامت ہے جسے صرف خالق قابو کر سکتا ہے، اور بدروحیں بالآخر اُسی گہرائی میں غرق ہوتی ہیں۔ یہ صلیب کی پیشین گوئی ہے: پولس رسول کلسیوں کو لکھتے ہیں کہ مسیح نے صلیب پر حکومتوں اور اختیارات کو بےدست و پا کر کے اُن پر فتح کا جلوس نکالا۔ گراسا میں وہ فتح پہلے سے دکھائی جا رہی ہے، اور اُس کا اعلان کرنے والا پہلا مبشر کوئی رسول نہیں بلکہ ایک آزاد کیا گیا غیریہودی ہے، جسے دکپلس بھیجا جاتا ہے۔ غیرقوموں تک انجیل کا سفر یہیں شروع ہوتا ہے۔
آئینہ
ہم عموماً یہ سوچتے ہیں کہ یسوع کا انکار صرف بےدین لوگ کرتے ہیں۔ لیکن یہاں علاقے کے شریف، محنتی، کاروباری لوگ اُس سے چلے جانے کی درخواست کرتے ہیں، کیونکہ ایک آدمی کی بحالی نے اُن کی معیشت ہلا دی۔ ذرا اپنے آپ سے پوچھیں: آپ کی زندگی میں وہ کون سا حساب ہے جو مسیح کے پورے اختیار کو خطرناک بنا دیتا ہے؟ وہ نوکری، وہ آمدنی، وہ خاندانی توقع، وہ عزت جو آپ نے برسوں میں بنائی ہے؟ اور دوسری طرف وہ عورت ہے جو بارہ سال سے پیسے اور اُمید دونوں لٹا چکی ہے، اور جسے یسوع بھیڑ کے بیچ میں رُک کر نام اور رشتہ دیتے ہیں۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیں جسے آپ خداوند کے اختیار سے بچا کر رکھتے ہیں، اور اُسے بلند آواز میں پڑھ کر کہیں: "خداوند، یہ بھی آپ کی ہے۔"
ایک باریک نکتہ
بند کمرے میں یسوع لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر ارامی زبان میں بولتے ہیں، "طلتھا قُوم!" مرقس یونانی میں لکھ رہا ہے، پھر بھی اِس فقرے کو اصل زبان میں رہنے دیتا ہے، جیسے کوئی گواہ آواز کو بھول نہ سکا ہو۔ یہ مذہبی فارمولا نہیں، گھر کی زبان ہے، وہی لہجہ جس میں ماں صبح کو بچی کو جگاتی ہے۔ موت کے سامنے خدا کا بیٹا نہ منتر پڑھتا ہے نہ للکارتا ہے؛ وہ ایک بچی کو نیند سے جگانے والے لہجے میں بولتا ہے۔ اِسی لئے وہ کہہ سکتے ہیں، "لڑکی مر نہیں گئی بلکہ سو رہی ہے۔" یہ موت کی حقیقت کا انکار نہیں بلکہ اُس کی حیثیت کا اعلان ہے: جس کی آواز قبر تک پہنچتی ہے، اُس کے لئے موت آخری لفظ نہیں۔
مرکزی کردار
اِس باب میں یسوع کا کردار عجیب طرح سے متوازن ہے۔ ایک طرف وہ اِتنے طاقتور ہیں کہ ایک لشکر اُن کے سامنے منت کرتا ہے؛ دوسری طرف وہ اِتنے فارغ ہیں کہ ایک مرتی ہوئی بچی کے راستے میں رُک کر ایک گمنام عورت کی پوری کہانی سنتے ہیں، حالانکہ اُسی تاخیر میں لڑکی دم توڑ دیتی ہے۔ خدا کی طاقت جلدباز نہیں ہوتی۔ اور وہ خود کو ہر بار کمزور بھی کرتے ہیں: توانائی اُن میں سے نکلتی ہے، ناپاک ہاتھ اُنہیں چھوتا ہے، مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ جو مسیح یہاں شفا دینے کی قیمت اپنے جسم میں محسوس کرتا ہے، وہی آگے چل کر پورا جسم صلیب پر دے دے گا۔ اختیار اور قربانی اُس میں الگ الگ نہیں۔
پسِ منظر
گراسا کا علاقہ دکپلس میں تھا، یونانی رومی شہروں کا سلسلہ، جہاں سؤر پالنا معمول تھا اور یہودی طہارت کے قوانین بےمعنی۔ "لشکر" رومی فوج کا نام تھا، ہزاروں سپاہیوں کا دستہ؛ اُس آدمی کا جواب صرف تعداد نہیں بتاتا، وہ قبضے کی زبان ہے۔ جھیل کے دوسرے کنارے پر منظر بالکل بدل جاتا ہے: وہاں عبادت خانے کا راہنما ہے، مذہبی اور سماجی درجے کا آدمی، جو ہجوم کے سامنے ایک گھومنے پھرنے والے اُستاد کے پاؤں میں گرتا ہے۔ اُسی ہجوم میں وہ عورت ہے جو احکام کے مطابق مستقل ناپاک شمار ہوتی تھی (احبار ۱۵)، یعنی بارہ سال سے عبادت، رشتوں اور چھونے سے کٹی ہوئی۔ یسوع ایک ہی دن میں معاشرے کے سب سے اوپر اور سب سے نیچے والے کو ایک ہی رحم دیتے ہیں۔
غور و فکر
گراسا کے لوگ ایک آدمی کی بحالی سے اِس لئے ڈرے کہ اُس کی قیمت اُنہیں ادا کرنی پڑی؛ آپ کے حلقے میں کسی کی بحالی آپ سے کیا قیمت مانگ رہی ہے؟
یسوع نے آزاد کئے گئے آدمی کو ساتھ نہیں لیا بلکہ اپنے عزیزوں کے پاس واپس بھیجا؛ آپ کے گھر میں کون ہے جسے ابھی تک نہیں معلوم کہ خدا نے آپ پر کتنا رحم کیا ہے؟
Mark 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مرقس 5 کا کیا مطلب ہے؟
مرقس 5 کس بارے میں ہے؟
مرقس 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مرقس 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مرقس 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Mark 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
یائیر نے منت کی، اور مسیح نے کوئی لمبی بحث نہیں کی۔ لکھا ہے، "چنانچہ عیسیٰ اُس کے ساتھ چل پڑا۔" وہ فاصلے سے حکم دے سکتا تھا، مگر وہ ساتھ ساتھ چلا۔ ہجوم چاروں طرف سے دبا رہا تھا، قدم سست ہو رہے تھے، اور باپ کا دل جل رہا تھا کہ بیٹی مر نہ جائے۔ کیا تُو بھی آج ایسے ہی راستے پر ہے؟ یاد رکھ، وہ تیرے ساتھ چل رہا ہے، چاہے رفتار تیری مرضی کی نہ ہو۔
اے خدا، جب لوگ کہتے ہیں کہ اب بہت دیر ہو چکی، اب کچھ نہیں ہو سکتا، تو میرا دل بیٹھ جاتا ہے۔ مگر تُو ایسی خبروں سے نہیں ڈرتا۔ میری اُمید تھام لے اور مجھے سکھا کہ تیرے پاس آنا کبھی بےکار نہیں ہوتا۔
جو آدمی کچھ دیر پہلے قبروں میں چیختا اور اپنے آپ کو پتھروں سے زخمی کرتا تھا، وہ اب دس شہروں میں گواہ بن گیا۔ اُس نے کوئی مقدّس تعلیم نہیں دی، صرف یہ بتایا کہ "عیسیٰ نے میرے لئے کیا کچھ کیا ہے۔" وہ یسوع کے ساتھ رہنا چاہتا تھا، لیکن یسوع نے اُسے اپنے لوگوں کے پاس واپس بھیج دیا۔ شاید تیری خدمت کی جگہ بھی وہی گھر ہے جہاں لوگ تیرا پرانا حال جانتے ہیں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں