متی 15:8
متن
یروشلم سے آئے ہوئے عالِموں کا سوال ابھی ہوا میں معلّق ہے، ہاتھ دھونے کی بات، روٹی کی بات، روایت کی بات، اور عیسیٰ ایک لفظ سے سارا منظر پلٹ دیتے ہیں: ”ریاکارو!“ پھر وہ اُن کے چہروں پر یسعیاہ نبی کا آئینہ رکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ الفاظ تمہارے ہی بارے میں لکھے گئے تھے۔ آیت آٹھ اُس آئینے کا عکس ہے: ’یہ قوم اپنے ہونٹوں سے تو میرا احترام کرتی ہے لیکن اُس کا دل مجھ سے دُور ہے۔‘ یعنی عبادت کی آواز موجود ہے، الفاظ درست ہیں، لہجہ باادب ہے، مگر جو ہستی اِس عبادت کو سن رہی ہے وہ جانتی ہے کہ بولنے والا خود کہیں اَور کھڑا ہے۔ یہ الزام بے دینی کا نہیں، فاصلے کا ہے۔
مرکزی بات
یہاں خدا کی ایک ایسی تصویر کھلتی ہے جو تسلی بھی دیتی ہے اور بےچین بھی کرتی ہے: وہ سننے والا خدا ہے جو صرف آواز نہیں سنتا۔ ہونٹ اور دل کے درمیان جو فاصلہ ہم انسانوں سے چھپا لیتے ہیں، وہ اُس کے سامنے کھلا پڑا ہے۔ اِسی لیے اگلی ہی سانس میں عیسیٰ ایک خوفناک لفظ استعمال کرتے ہیں: ”بےفائدہ۔“ عبادت خود بخود قیمتی نہیں ہوتی؛ وہ رشتے کا اظہار ہے، اور اگر رشتہ خالی ہو تو اظہار ایک خوبصورت خول رہ جاتا ہے۔ دھیان دیجیے کہ یہ لوگ بت پرست نہیں تھے، بلکہ شریعت کے سب سے سنجیدہ قاری تھے۔ خطرہ باہر سے نہیں آیا تھا، عبادت کے اندر سے اُگا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نجات ہماری کارکردگی سے نہیں، بلکہ اُس فضل سے شروع ہوتی ہے جو دل کو ہی نیا بناتا ہے۔
مشترکہ سلسلہ
یہ شکایت نئی نہیں تھی۔ یسعیاہ نبی نے یہی الفاظ اُس یروشلم سے کہے تھے جو ہیکل کے سائے میں بیٹھا تھا، قربانیاں جاری تھیں، تیوہار وقت پر منائے جا رہے تھے، اور پھر بھی خدا نے کہا کہ اِن لوگوں کا دل کہیں اَور ہے۔ انبیا کی کتابوں میں یہ آواز بار بار گونجتی ہے: خدا کو رسم سے پہلے دل چاہیے۔ اور یہی وعدہ ہے جو نئے عہد کا مرکز بنتا ہے، کہ خدا خود نیا دل عطا فرمائے گا، کیونکہ انسان اپنے دل کو خود درست نہیں کر سکتا۔ اِسی لیے یہ آیت عیسیٰ کے منہ میں محض ملامت نہیں، اعلان بھی ہے: جو مسیح یہ فاصلہ ناپ رہے ہیں، وہی اِسے مٹانے آئے ہیں۔ صلیب پر وہ ہمارے خالی خول کو نہیں، ہمارے دل کو خریدتے ہیں۔
آئینہ
سچ کہیے، آپ کو کتنی دعائیں زبانی یاد ہیں جو آپ بغیر سوچے پڑھ لیتے ہیں؟ گانے کے بول جو آپ گاتے ہیں جبکہ ذہن دفتر کی میل یا اتوار کی دوپہر کے کھانے میں اُلجھا ہوتا ہے؟ یہ آیت ہمیں بےدینی کا مجرم نہیں ٹھہراتی، بلکہ اُس مہارت کا، جو ہم نے مذہبی زبان میں حاصل کر لی ہے۔ اور غور کیجیے کہ عیسیٰ نے فاصلے کا ثبوت کہاں سے لیا: بوڑھے والدین سے، جنہیں بیٹا پاک منت کا بہانہ بنا کر خالی ہاتھ لوٹا دیتا تھا۔ دل کی دُوری ہمیشہ کسی جیتے جاگتے انسان پر گرتی ہے؛ اکثر اُسی پر جو ہم سے سب سے قریب ہے اور سب سے زیادہ نظرانداز۔ اپنی روحانیت کے پیچھے چھپی وہ ذمہ داری تلاش کریں جسے آپ ٹال رہے ہیں۔ آج ہی، اِسی دن، اپنے والدین یا اُس بزرگ کو فون کریں جس کا حق آپ پر ہے، اور پانچ منٹ صرف سنیں۔
دیگر کلام کی روشنی
سموئیل کی پہلی کتاب میں جب داؤد کو چنا جاتا ہے، خدا صاف کہتے ہیں کہ انسان ظاہر دیکھتا ہے مگر خداوند دل کو دیکھتا ہے۔ یہ آیت وہی اصول ہے، مگر اب عبادت پر لاگو۔ اور زبور اکاون میں داؤد، اپنے سب سے بڑے گناہ کے بعد، قربانی پیش کرنے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا شکستہ دل کو حقیر نہیں جانتے۔ دونوں مقامات ایک ہی جانب اشارہ کرتے ہیں: مذہب کی سب سے بڑی آزمائش یہ نہیں کہ ہم کتنا کرتے ہیں، بلکہ یہ کہ کرنے والا کون ہے۔ اِسی پس منظر میں آیت گیارہ سمجھ میں آتی ہے، جہاں عیسیٰ پاکی کا سارا مرکز ہاتھوں سے ہٹا کر دل پر رکھ دیتے ہیں۔
پہلے سننے والے
متی کے پہلے قاری یہودی مسیحی تھے، ایسے لوگ جو ہاتھ دھونے کی روایت کا احترام کرتے ہوئے بڑے ہوئے تھے اور جن کے رشتہ دار اب اُنہیں بےدین کہنے لگے تھے۔ اُن کے لیے یہ آیت ڈھال بھی تھی اور خنجر بھی۔ ڈھال، کیونکہ عیسیٰ ثابت کرتے ہیں کہ اصل بےوفائی روایت توڑنے میں نہیں بلکہ کلام منسوخ کرنے میں ہے۔ خنجر، کیونکہ یسعیاہ کی نبوّت کسی اجنبی قوم پر نہیں، عہد کے لوگوں پر تھی، یعنی اُن پر بھی۔ فریسی اُس دور کے سب سے متقی لوگ سمجھے جاتے تھے؛ عیسیٰ کا اُن پر یہ الزام گلی میں پڑھایا جانے والا سبق نہیں، عزت و شرم کی اُس دنیا میں کھلا حملہ تھا۔ اِسی لیے شاگرد گھبرا کر کہتے ہیں کہ فریسی ناراض ہو گئے ہیں۔
ایک باریک نکتہ
اِس آیت کے دو لفظ آسانی سے نظر سے پھسل جاتے ہیں: ”یہ قوم“۔ خدا یہ نہیں فرماتے ”میری قوم“۔ عہد کی زبان میں یہ فرق معمولی نہیں۔ جو خدا اُنہیں مصر سے نکال کر لایا، جس نے اُنہیں اپنی ملکیت کہا، وہ اب ایک قدم پیچھے ہٹ کر اُن کی طرف اشارہ کرتا ہے جیسے کسی اجنبی گروہ کی طرف: یہ لوگ۔ ہونٹوں کی دُوری کا جواب یہی سرد لہجہ ہے۔ اور یہی بات اِس آیت کو محض ڈانٹ سے بڑھ کر ایک درد کا اظہار بنا دیتی ہے، کیونکہ شکایت کرنے والا کوئی ناراض حاکم نہیں بلکہ وہ ہے جو قریب ہونا چاہتا تھا اور دور رکھا گیا۔
غور و فکر کے سوال
میری عبادت میں کون سے الفاظ ہیں جو میری زبان پر رواں ہیں مگر میرے دل میں مردہ پڑے ہیں، اور مَیں اُنہیں کیوں دہراتا رہتا ہوں؟
کون ہے جو میری دینداری کی قیمت خاموشی سے ادا کر رہا ہے، یعنی جس کا حق مَیں کسی ”مقدّس“ مصروفیت کے نام پر ٹال رہا ہوں؟
Matthew 15:8 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
متی 15:8 کا کیا مطلب ہے؟
متی 15:8 کس بارے میں ہے؟
متی 15:8 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
متی 15:8 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
متی 15:8 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Matthew 15 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، مجھے ایسے دل سے بچا جو مذہبی الفاظ کے پیچھے چھپ کر اپنوں کی ضرورت سے منہ موڑ لے۔ میرے ماں باپ اور جو میرے قریب ہیں، ان کی خدمت کرنا سکھا۔ میری عبادت صرف زبان تک نہ رہے بلکہ ہاتھوں اور محبت میں بھی نظر آئے۔
وہ عورت چیختی رہی اور مسیح نے ”ایک لفظ بھی نہ کہا۔“ شاگردوں کو اُس کی آواز بوجھ لگی، مگر یسوع نے اُسے بھگایا نہیں۔ خاموشی انکار نہیں تھی، وہ اُس کے ایمان کو باہر لانے کی جگہ تھی۔ شاید تُو بھی آج کسی بند آسمان کے نیچے دعا کر رہا ہے۔ خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سن نہیں رہا۔ کیا تُو پکارتا رہے گا؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں