بائبل کی تشریح

متی 18:10

بائبل

متن

یسوع ایک تنبیہ دیتے ہیں جو حکم کی صورت میں آتی ہے: خبردار، اِن چھوٹوں میں سے کسی کو بھی حقیر نہ جاننا۔ اور پھر وہ اِس حکم کے نیچے ایک ایسی دلیل رکھتے ہیں جو زمین سے نہیں، آسمان سے آتی ہے: اِن کے فرشتے ہر وقت آسمان پر باپ کے چہرے کو دیکھتے رہتے ہیں۔ یعنی جس شخص کو تم اپنی جماعت میں، اپنے گھر میں یا اپنے حلقے میں نظرانداز کرنے کے قابل سمجھتے ہو، اُس کا معاملہ پہلے ہی شاہی دربار کے عین مرکز میں پیش ہو چکا ہے۔ تحقیر کرنے والے کی نظر اور خدا کی نظر یہاں آمنے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں، اور یسوع صاف بتا دیتے ہیں کہ کون سی نظر فیصلہ کن ہے۔

مرکزی بات

قدیم دنیا میں بادشاہ کا چہرہ دیکھنا ایک قانونی اور سیاسی حیثیت تھی، نہ کہ محض ایک خوبصورت منظر۔ صرف وہی درباری بادشاہ کے روبرو کھڑے ہو سکتے تھے جنہیں براہِ راست عرض کرنے کا حق حاصل تھا۔ یسوع یہی تصویر اُٹھاتے ہیں: اِن "چھوٹوں" کا مقدمہ کسی نچلی عدالت میں نہیں، بلکہ باپ کے حضور، بغیر کسی وقفے کے، "ہر وقت" زیرِ سماعت ہے۔ یہ آیت اِس لیے صرف نرمی کی دعوت نہیں بلکہ قدر کی ایک نئی پیمائش ہے۔ انسان قدر کو پیداواریت، اثر و رسوخ اور آواز کی بلندی سے ناپتا ہے؛ خدا اُسے اپنی توجہ سے ناپتا ہے۔ اور چونکہ یہ آیت اُس باب میں آتی ہے جہاں بڑائی کا سوال پوچھا گیا تھا، اِس کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہی میں رُتبہ اوپر چڑھنے سے نہیں، بلکہ نیچے دیکھنے سے طے ہوتا ہے، اور وہاں بھائی یا بہن کو حقیر نہ جاننے سے۔

مشترکہ دھاگا

غور کیجیے کہ یسوع یہ دلیل کس اختیار سے دیتے ہیں: "مَیں تم کو بتاتا ہوں کہ آسمان پر اِن کے فرشتے ہر وقت میرے باپ کے چہرے کو دیکھتے رہتے ہیں۔" یہ کسی رِوایت کا حوالہ نہیں، بلکہ اُس کی گواہی ہے جو خود اُس دربار سے آیا ہے۔ وہی باپ کے چہرے کا اصل گواہ ہے، اور اِسی لیے وہ بتا سکتا ہے کہ وہاں کس کی فکر کی جاتی ہے۔ اور یہ محض اطلاع نہیں، یہ اُس کے اپنے سفر کا نقشہ ہے: جو باپ کے روبرو تھا، وہ نیچے اُترا، چھوٹا بنا، اور اُن کے درمیان کھڑا ہوا جنہیں دنیا نے حقیر جانا۔ اگلی ہی سانس میں وہ کہتا ہے کہ "ابنِ آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے"۔ یعنی چھوٹوں کی عزت کوئی اخلاقی اصول نہیں، یہ نجات کے منصوبے کی شکل ہے۔ صلیب اُسی نظر کا انتہائی اظہار ہے جس نے پہلے بھٹکے ہوئے کو قیمتی سمجھا۔

آئینہ

ہم کسی کو کھلے عام حقیر نہیں کہتے؛ ہم اُسے صرف شمار نہیں کرتے۔ وہ بزرگ خاتون جو ہر اتوار کو وہی بات دہراتی ہیں اور ہم مسکرا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ وہ نیا ملازم جس کی رائے میٹنگ میں خاموشی سے گزر جاتی ہے۔ وہ بچہ جو تیسری بار سوال پوچھتا ہے جب ہم تھکے ہوئے ہیں۔ وہ رشتہ دار جس کا پیغام ہم جان بوجھ کر تین دن دبائے رکھتے ہیں کیونکہ اُس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں۔ تحقیر عموماً نفرت کی شکل میں نہیں، وقت کی تقسیم کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ ہم اپنا وقت اُنہیں دیتے ہیں جو ہماری حیثیت بڑھاتے ہیں۔ یسوع یہاں ہمارے دل کو نہیں، ہماری ترجیحات کی فہرست کو چھوتے ہیں۔ آج ہی، ایک کاغذ پر اُس ایک شخص کا نام لکھیے جسے آپ عادتاً نظرانداز کرتے ہیں، اور اُس نام کے ساتھ بلند آواز میں دعا کیجیے: "خداوند، اِس کا معاملہ تیرے حضور ہے؛ مجھے اِسے تیری نظر سے دیکھنا سکھا۔"

سوال

یہ فرشتے ہیں کون، اور اگر وہ باپ کے چہرے کے سامنے کھڑے ہیں تو پھر چھوٹے کیوں ٹھوکر کھاتے ہیں؟ متن یہ نہیں بتاتا کہ ہر فرد کا ایک مخصوص محافظ فرشتہ ہے؛ یہ بھی نہیں کہتا کہ یہ قربت تکلیف سے بچا لیتی ہے۔ اور یہی اِس آیت کی کھردری سچائی ہے: آسمانی توجہ کا مطلب زمینی تحفظ کی ضمانت نہیں۔ بچے پھر بھی ٹھوکر کھاتے ہیں، اِسی لیے تو چھٹی آیت میں چکّی کے پاٹ کی اتنی ہولناک تصویر آتی ہے۔ جو بات یسوع یقینی بناتے ہیں وہ یہ ہے کہ کوئی بھی چوٹ غیرمعلوم نہیں رہتی۔ ہم مظلومیت کے جواب میں فوری مداخلت چاہتے ہیں، اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مقدمہ درج ہے، عدالت جاگ رہی ہے۔ یہ تسلی ہے، مگر ایسی تسلی جس میں صبر کرنا پڑتا ہے۔

بین المتون

اِسی باب میں یسوع خود اِس آیت کی تفسیر کر دیتے ہیں: "بالکل اِسی طرح آسمان پر تمہارا باپ نہیں چاہتا کہ اِن چھوٹوں میں سے ایک بھی ہلاک ہو جائے۔" یعنی فرشتوں کا باپ کے چہرے کو دیکھنا اور چرواہے کا ننانوے کو چھوڑ کر ایک کے پیچھے جانا، دونوں ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں۔ دوسری گونج متی ۲۵ میں آتی ہے، جہاں بادشاہ کہتا ہے کہ جو کچھ سب سے چھوٹے بھائی کے ساتھ کیا گیا، وہ اُسی کے ساتھ کیا گیا۔ وہاں عدالت اِسی اصول پر لگائی جاتی ہے جو یہاں تنبیہ کے طور پر دیا گیا ہے: مسیح نے اپنے آپ کو چھوٹوں کے ساتھ اِس حد تک جوڑ لیا ہے کہ اُن کے ساتھ ہمارا سلوک اُس کے ساتھ ہمارا سلوک بن جاتا ہے۔

پس منظر

یہ گفتگو گلیل میں، صلیب کی طرف سفر کے آخری حصے کے قریب ہوتی ہے، اور اِس کا آغاز شاگردوں کے اُس سوال سے ہوا تھا کہ بادشاہی میں سب سے بڑا کون ہے۔ وہ ایک ایسے معاشرے میں جی رہے تھے جہاں عزت ایک محدود شے سمجھی جاتی تھی: کسی کی عزت بڑھتی تو کسی اَور کی گھٹتی۔ بچہ اُس نظام میں کوئی معصومیت کا استعارہ نہیں تھا بلکہ بے اختیاری کی علامت: نہ قانونی حیثیت، نہ آواز، نہ کمائی۔ اور "چھوٹے" سے یسوع صرف بچوں کو نہیں بلکہ جماعت کے اُن کمزور ایمان والوں کو بھی مراد لیتے ہیں جن کا نام کسی فہرست میں نہیں آتا۔ شاگرد درجہ بندی کی سیڑھی پر چڑھنے کی بات کر رہے تھے؛ یسوع اُنہیں سیڑھی کے سب سے نیچے والے زینے پر لے جا کر کہتے ہیں کہ بادشاہی کا دروازہ یہیں ہے۔

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ کون ہے جس کے بارے میں آپ نے خاموشی سے یہ طے کر لیا ہے کہ اُس پر وقت لگانے کا کوئی فائدہ نہیں؟

اگر مسیح نے باپ کے چہرے کو چھوڑ کر چھوٹوں کے درمیان کھڑا ہونا چُنا، تو آپ کی ہفتہ وار ترجیحات میں کون سی ایک چیز اِس کے مطابق بدلنی چاہیے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Matthew 18:10 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

متی 18:10 کا کیا مطلب ہے؟
یسوع ایک تنبیہ دیتے ہیں جو حکم کی صورت میں آتی ہے: خبردار، اِن چھوٹوں میں سے کسی کو بھی حقیر نہ جاننا۔ اور پھر وہ اِس حکم کے نیچے ایک ایسی دلیل رکھتے ہیں جو زمین سے نہیں، آسمان سے آتی ہے: اِن کے فرشتے ہر وقت آسمان پر باپ کے چہرے کو دیکھتے رہتے ہیں۔ یعنی جس شخص کو تم اپنی جماعت میں، اپنے گھر میں یا اپنے حلقے میں نظرانداز کرنے کے قابل سمجھتے ہو، اُس کا معاملہ پہلے ہی شاہی دربار کے عین مرکز میں پیش ہو چکا ہے۔ تحقیر کرنے والے کی نظر اور خدا کی نظر یہاں آمنے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں، اور یسوع صاف بتا دیتے ہیں کہ کون سی نظر فیصلہ کن ہے۔
متی 18:10 کس بارے میں ہے؟
غور کیجیے کہ یسوع یہ دلیل کس اختیار سے دیتے ہیں: "مَیں تم کو بتاتا ہوں کہ آسمان پر اِن کے فرشتے ہر وقت میرے باپ کے چہرے کو دیکھتے رہتے ہیں۔" یہ کسی رِوایت کا حوالہ نہیں، بلکہ اُس کی گواہی ہے جو خود اُس دربار سے آیا ہے۔ وہی باپ کے چہرے کا اصل گواہ ہے، اور اِسی لیے وہ بتا سکتا ہے کہ وہاں کس کی فکر کی جاتی ہے۔ اور یہ محض اطلاع نہیں، یہ اُس کے اپنے سفر کا نقشہ ہے: جو باپ کے روبرو تھا، وہ نیچے اُترا، چھوٹا بنا، اور اُن کے درمیان کھڑا ہوا جنہیں دنیا نے حقیر جانا۔ اگلی ہی سانس میں وہ کہتا ہے کہ "ابنِ آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے"۔ یعنی چھوٹوں کی عزت کوئی اخلاقی اصول نہیں، یہ نجات کے منصوبے کی شکل ہے۔ صلیب اُسی نظر کا انتہائی اظہار ہے جس نے پہلے بھٹکے ہوئے کو قیمتی سمجھا۔
متی 18:10 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یہ فرشتے ہیں کون، اور اگر وہ باپ کے چہرے کے سامنے کھڑے ہیں تو پھر چھوٹے کیوں ٹھوکر کھاتے ہیں؟ متن یہ نہیں بتاتا کہ ہر فرد کا ایک مخصوص محافظ فرشتہ ہے؛ یہ بھی نہیں کہتا کہ یہ قربت تکلیف سے بچا لیتی ہے۔ اور یہی اِس آیت کی کھردری سچائی ہے: آسمانی توجہ کا مطلب زمینی تحفظ کی ضمانت نہیں۔ بچے پھر بھی ٹھوکر کھاتے ہیں، اِسی لیے تو چھٹی آیت میں چکّی کے پاٹ کی اتنی ہولناک تصویر آتی ہے۔ جو بات یسوع یقینی بناتے ہیں وہ یہ ہے کہ کوئی بھی چوٹ غیرمعلوم نہیں رہتی۔ ہم مظلومیت کے جواب میں فوری مداخلت چاہتے ہیں، اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مقدمہ درج ہے، عدالت جاگ رہی ہے۔ یہ تسلی ہے، مگر ایسی تسلی جس میں صبر کرنا پڑتا ہے۔
متی 18:10 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ گفتگو گلیل میں، صلیب کی طرف سفر کے آخری حصے کے قریب ہوتی ہے، اور اِس کا آغاز شاگردوں کے اُس سوال سے ہوا تھا کہ بادشاہی میں سب سے بڑا کون ہے۔ وہ ایک ایسے معاشرے میں جی رہے تھے جہاں عزت ایک محدود شے سمجھی جاتی تھی: کسی کی عزت بڑھتی تو کسی اَور کی گھٹتی۔ بچہ اُس نظام میں کوئی معصومیت کا استعارہ نہیں تھا بلکہ بے اختیاری کی علامت: نہ قانونی حیثیت، نہ آواز، نہ کمائی۔ اور "چھوٹے" سے یسوع صرف بچوں کو نہیں بلکہ جماعت کے اُن کمزور ایمان والوں کو بھی مراد لیتے ہیں جن کا نام کسی فہرست میں نہیں آتا۔ شاگرد درجہ بندی کی سیڑھی پر چڑھنے کی بات کر رہے تھے؛ یسوع اُنہیں سیڑھی کے سب سے نیچے والے زینے پر لے جا کر کہتے ہیں کہ بادشاہی کا دروازہ یہیں ہے۔
متی 18:10 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر مسیح نے باپ کے چہرے کو چھوڑ کر چھوٹوں کے درمیان کھڑا ہونا چُنا، تو آپ کی ہفتہ وار ترجیحات میں کون سی ایک چیز اِس کے مطابق بدلنی چاہیے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Matthew 18 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 11

اے خدا، تُو نے مجھے تب ڈھونڈا جب میں خود کو کھویا ہوا سمجھتا تھا۔ شکر ہے کہ تُو نے منہ نہیں موڑا بلکہ میری تلاش میں نکلا۔ جب میں پھر بھٹک جاؤں، مجھے یاد دلا کہ تیری محبت مجھے چھوڑنے والی نہیں۔ مجھے اپنے پاس تھامے رکھ۔

بصیرت ادارتی کو آیت 7

گو ایسی چیزوں کا آنا لازم ہے جو لوگوں کو گناہ کرنے پر اُکسائیں، لیکن اُس شخص پر افسوس جس کی معرفت وہ آئیں۔“ غور کریں کہ یسوع غصے سے نہیں، افسوس سے بول رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ٹھوکریں آئیں گی، مگر اُن کا دل اُس انسان کے لئے دُکھتا ہے جو اُن کا ذریعہ بنتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون مجھے ٹھوکر دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ میری باتوں، میرے مذاق، میری بےپروائی سے کس کا ایمان کمزور ہوا؟

بصیرت ادارتی کو آیت 19

یہ وعدہ خواہشات پوری کرنے کا فارمولا نہیں ہے۔ اِس سے پہلے یسوع بھٹکی ہوئی بھیڑ اور گناہ میں گرے ہوئے بھائی کی بات کر رہے تھے۔ یعنی وہ دو لوگ جو "کسی بات پر متفق ہو کر دعا" کرتے ہیں، کسی کی بحالی کے لئے مل کر جھکتے ہیں۔ سوچ ذرا، کیا تیری دعاؤں میں کوئی ایسا نام ہے جس کے لئے تُو کسی کے ساتھ مل کر مانگتا ہے؟ اکیلے ٹھنڈی پڑی دعا کو کسی کا ساتھ چاہیے۔

دعا ادارتی کو آیت 14

اے آسمانی باپ، تیرا دل کبھی نہیں چاہتا کہ ہم میں سے کوئی ایک بھی کھو جائے۔ جب میں خود کو بھولا ہوا اور بےقیمت محسوس کروں، مجھے یاد دلا کہ تو مجھے ڈھونڈ رہا ہے۔ اور جو میرے آس پاس بھٹک گئے ہیں، ان کے لیے میرے دل میں بھی وہی فکر جگا دے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں