متی 27:52
متن
مسیح کے دم توڑتے ہی جو کچھ ہوا، متی اُسے ایک سانس میں گنواتا ہے: بیت المُقدّس کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ گیا، زمین لرز اُٹھی، چٹانیں شق ہو گئیں، ”اور قبریں کھل گئیں۔ کئی مرحوم مُقدّسین کے جسموں کو زندہ کر دیا گیا۔“ یعنی وہ قبریں جو صدیوں سے بند پڑی تھیں، جن پر پتھر رکھ کر لوگ روتے ہوئے واپس گھر لوٹ گئے تھے، اُن کے منہ کھل گئے۔ اور جو اندر پڑے تھے، وہ محض ہلائے نہیں گئے بلکہ زندہ کر دیئے گئے۔ اگلی آیت وضاحت کرتی ہے کہ وہ باہر تب نکلے جب مسیح خود جی اُٹھا، اور مُقدّس شہر میں جا کر بہتوں کو نظر آئے۔ گویا صلیب پر ایک موت ہوئی، اور قبرستان میں ہلچل مچ گئی۔
مرکزی نکتہ
ہم عادتاً سوچتے ہیں کہ موت پر فتح ایتوار کی صبح شروع ہوئی۔ متی اِس سے اختلاف کرتا ہے: قبریں جمعہ کی سہ پہر کھلیں، اُسی لمحے جب یسوع نے دم چھوڑا۔ اُس کی موت کوئی شکست نہیں تھی جس کی تلافی بعد میں ہوئی؛ وہ خود وہ ضرب تھی جس سے موت کی دیوار میں دراڑ پڑ گئی۔ اِسی ایک لمحے میں دو پردے ہٹے: خدا اور انسان کے درمیان کا پردہ، اور زندوں اور مُردوں کے درمیان کی مہربند حد۔ نجات کا مطلب صرف گناہ کی معافی نہیں، بلکہ اُس آخری دشمن کا خاتمہ ہے جو ہر قبر کے سرہانے کھڑا ہمارا مذاق اُڑاتا ہے۔ خدا نے موت کے علاقے میں گھس کر اپنے لوگ واپس لے لیے، اور یہ کام اُس نے مرتے ہوئے کیا۔
مشترکہ دھاگا
حزقی ایل نبی کو ایک وادی دکھائی گئی تھی جو خشک ہڈیوں سے بھری تھی، اور خدا نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے لوگوں کی قبریں کھول کر اُنہیں اُن کے ملک میں واپس لائے گا۔ صدیوں تک یہ اسرائیل کے لیے ایک تصویر رہی، ایک اُمید جس کی تعبیر مستقبل میں کہیں دور تھی۔ متی کہتا ہے: وہ دن آ گیا، اور وہ گلگتا پر آیا۔ نبیوں کی زبان جسم اختیار کر کے یروشلم کے قبرستانوں میں چل پھر رہی ہے۔ اور دھیان دیں کہ متی اِن لوگوں کو مسیح سے پہلے شہر میں داخل نہیں ہونے دیتا: ”وہ عیسیٰ کے جی اُٹھنے کے بعد قبروں میں سے نکل کر مُقدّس شہر میں داخل ہوئے۔“ ترتیب مقدّس ہے۔ وہ پہلوٹھا ہے، باقی سب اُس کے پیچھے۔ پولس رسول اِسی کو ”پہلا پھل“ کہتا ہے: ایک فصل کٹ گئی تو باقی کھیت کا فیصلہ ہو چکا۔
آئینہ
آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں مٹی ڈالی ہے۔ کس قبر پر آپ نے آخری بار ہاتھ رکھا تھا، کس دن آپ گھر لوٹے تو دروازہ پہلے سے زیادہ خالی تھا۔ اور آپ کے اندر ایک خاموش عقیدہ بیٹھ گیا ہے، جسے آپ اتوار کو نہیں بولتے: کہ وہ باب بند ہو چکا ہے۔ آپ ایمان تو رکھتے ہیں، مگر مستقبل کے کسی مبہم دن کے بارے میں؛ آپ کے جسم کی ڈھلتی طاقت، وہ رپورٹ جو آپ نے ابھی کھولی نہیں، بوڑھے والدین کی کھانسی، یہ سب آپ کے دل میں قیامت سے زیادہ حقیقی ہیں۔ یہ آیت آپ کے اُس چپکے سے پالے ہوئے مایوس یقین پر ہاتھ رکھتی ہے۔ قبریں کھلی ہوئی چیزیں ہیں۔ مہر بند صرف وہ دل ہے جو ابھی تک یقین رکھتا ہے کہ موت کا آخری لفظ ہے۔
آج ایک کاغذ پر اُس شخص کا نام لکھیں جس کی قبر آپ کے دل پر سب سے بھاری ہے، اور اُس نام کے نیچے بلند آواز میں یہ الفاظ پڑھیں: ”اور قبریں کھل گئیں۔“ پھر وہ کاغذ اپنی بائبل میں رکھ دیں۔
سوال
متی کے سوا کوئی اِس واقعے کا ذکر نہیں کرتا۔ کوئی رومی مؤرخ، کوئی دوسرا انجیل نویس، کوئی چشم دید بیان نہیں۔ اور خود متی بھی ہمیں تقریباً کچھ نہیں بتاتا: یہ لوگ کون تھے، وہ کس سے ملے، آخر اُن کا کیا بنا؟ کیا وہ دوبارہ مر گئے؟ متن خاموش ہے، اور یہ خاموشی تکلیف دیتی ہے، کیونکہ ہم تفصیل چاہتے ہیں تاکہ یقین کر سکیں۔ مگر شاید یہی بات معنی خیز ہے۔ متی رپورٹ نہیں لکھ رہا، وہ گواہی دے رہا ہے کہ اُس دوپہر ایک دراڑ پڑی جس کا حساب ہماری زمرہ بندیوں میں نہیں آتا۔ ہم اِسے سمجھا نہیں سکتے۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ گواہ نے اُسے چھپایا بھی نہیں، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ لوگ ہنسیں گے۔
مرکزی کردار
اِس آیت میں کوئی فاعل نہیں ہے۔ قبریں ”کھل گئیں“، جسموں کو ”زندہ کر دیا گیا“۔ کس نے کھولیں؟ کس نے زندہ کیا؟ نام نہیں لیا جاتا، اور یہ اتفاق نہیں: بائبل میں یہ خدا کے کام کی چھپی ہوئی زبان ہے، جب لکھنے والا احترام سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیتا ہے۔ اور غور کریں کہ یہ کس لمحے ہوتا ہے۔ چند سطریں پہلے بیٹا چلّایا تھا، ”اے میرے خدا، اے میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں ترک کر دیا ہے؟“ آسمان خاموش رہا۔ کوئی فرشتہ نہیں آیا، کوئی صفائی نہیں دی گئی۔ مگر اُسی خاموشی کے اندر باپ کام کر رہا تھا، صلیب کے قریب نہیں بلکہ قبرستان میں، جہاں کسی کی نظر نہیں تھی۔ خدا کی غیرحاضری اور خدا کی کارروائی ایک ہی گھڑی میں۔ یہ اُن سب کے لیے ہے جو اِس وقت جواب نہ پانے کی جگہ پر کھڑے ہیں۔
بین المتون
آیت 46 اور آیت 52 کو ساتھ رکھ کر پڑھیں: ایک طرف ترک کیے جانے کی چیخ، دوسری طرف کھلتی قبریں۔ انجیل ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ درد جھوٹا تھا، بلکہ یہ کہ اُس درد کے ذریعے کچھ ٹوٹ گیا۔ اور حزقی ایل باب 37 کی خشک ہڈیوں والی وادی، جہاں خدا وعدہ کرتا ہے کہ وہ اپنی قوم کی قبریں کھولے گا، یہاں پہلی بار زمین پر اُترتی ہے۔ متی جان بوجھ کر لفظ ”مُقدّسین“ استعمال کرتا ہے: یہ اجنبی نہیں، عہد کے لوگ ہیں، وہ جو ایمان میں مرے اور وعدے کا پورا ہونا نہ دیکھ سکے۔ اُن کے لیے صلیب دیر سے نہیں آئی۔
غور و فکر
آپ کے دل میں کون سی قبر ابھی تک مہربند ہے، یعنی کون سا نقصان جس کے بارے میں آپ نے چپکے سے مان لیا ہے کہ اُس پر خدا کا آخری لفظ نہیں آئے گا؟
اگر موت پر فتح جمعہ کی سہ پہر شروع ہوئی، تو آپ کے آج کے خوف میں سے کون سا خوف پہلے ہی اپنی بنیاد کھو چکا ہے؟
Matthew 27:52 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
متی 27:52 کا کیا مطلب ہے؟
متی 27:52 کس بارے میں ہے؟
متی 27:52 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
متی 27:52 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
متی 27:52 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Matthew 27 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، جو قیمت خیانت کی گئی، تُو نے اُس سے بھی اجنبیوں کے لیے جگہ بنا دی۔ میری زندگی کے ٹوٹے ہوئے سودے اور ضائع لمحے بھی تیرے ہاتھ میں بیکار نہیں۔ جہاں مجھے صرف نقصان دکھائی دیتا ہے، وہاں مجھے اپنا مقصد دیکھنے کی نظر دے۔ تجھ پر بھروسا رکھنا سکھا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں