بائبل کی تشریح

نحمیاہ 8

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

ساتویں مہینے کے پہلے دن یروشلم کی ساری جماعت پانی کے دروازے کے چوک میں جمع ہوتی ہے اور خود مطالبہ کرتی ہے کہ شریعت پڑھی جائے۔ عزرا لکڑی کے چبوترے پر کھڑے ہو کر صبح سے دوپہر تک تلاوت کرتے ہیں، لاوی ساتھ ساتھ تشریح کرتے ہیں، اور لوگ سمجھ کر رونے لگتے ہیں۔ رہنما اُنہیں رونے سے روک کر کھانے، پینے اور دوسروں کو شریک کرنے کا حکم دیتے ہیں؛ اگلے دن وہ شریعت میں جھونپڑیوں کی عید دریافت کرتے ہیں اور اُسے ایسے مناتے ہیں جیسے یشوع بن نون کے زمانے سے نہیں منائی گئی تھی۔

مرکزی بات

آیت ۱۷ کا جملہ کانٹے کی طرح چبھتا ہے: تقریباً ایک ہزار سال سے یہ عید اِس طرح نہیں منائی گئی تھی۔ یعنی خدا کا کلام موجود تھا، مگر دفن تھا۔ یہاں بحالی دیوار کے پتھروں سے نہیں بلکہ سنی ہوئی اور سمجھی ہوئی بات سے شروع ہوتی ہے۔ غور کریں کہ خوشی کا سبب کیا بتایا گیا ہے: ”اُن کی بڑی خوشی کا سبب یہ تھا کہ اب اُنہیں اُن باتوں کی سمجھ آئی تھی جو اُنہیں سنائی گئی تھیں۔“ سمجھ آنا ہی جشن کی بنیاد ہے۔ اور خوشی کی تعریف بھی عجیب ہے: ”رب کی خوشی آپ کی پناہ گاہ ہے۔“ عبرانی لفظ ماعوز کا مطلب قلعہ ہے، وہ گڑھ جہاں حملے کے وقت پناہ لی جاتی ہے۔ خوشی یہاں جذبہ نہیں، فصیل ہے۔

سلسلۂ نجات

سینا سے لے کر یروشلم کے اِس چوک تک ایک ہی لکیر چلتی ہے: خدا بولتے ہیں، قوم سنتی ہے، اور سننے سے قوم بنتی ہے۔ یشوع نے عیبال پہاڑ کے پاس پوری جماعت کے سامنے، عورتوں اور بچوں سمیت، شریعت پڑھی تھی؛ عزرا وہی کام ویران شہر میں دہراتے ہیں۔ پھر ناصرت کے عبادت خانے میں ایک اور شخص کھڑا ہوتا ہے، کتاب کھولتا ہے اور سب کی آنکھیں اُس پر جمی ہوتی ہیں، مگر اِس بار پڑھنے والا خود وہ کلام ہے جو پڑھا جا رہا ہے۔ جھونپڑیوں کی عید بھی آگے کی طرف اشارہ کرتی ہے: شاخوں کی عارضی چھت یاد دلاتی ہے کہ خدا بیابان میں اپنی قوم کے ساتھ ٹھہرے، اور یوحنا کے مطابق کلام مجسم ہو کر ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا۔

آئینہ

یہ متن ایک تکلیف دہ سوال پوچھتا ہے: کیا آپ کے گھر میں بائبل موجود ہے مگر دفن ہے؟ ہم میں سے اکثر عزرا کے سامعین جیسے نہیں، بلکہ اُن ہزار برسوں جیسے ہیں جن میں کتاب الماری میں پڑی رہی۔ دوسری چبھن یہ ہے کہ یہاں رونا منع کر دیا گیا۔ بہت سے سنجیدہ ایمان دار سمجھتے ہیں کہ کلام پڑھنے کا صحیح ردِعمل شرمندگی ہے، اور خوشی کو سطحی سمجھتے ہیں۔ مگر رہنما کہتے ہیں: عمدہ کھانا کھاؤ، میٹھی چیزیں پیو، اور جو خود کچھ تیار نہ کر سکیں اُنہیں شریک کرو۔ یعنی فضل کی سمجھ دسترخوان تک پہنچتی ہے اور پڑوسی کی غربت تک۔ آج ہی اپنے کھانے میں سے ایک حصہ الگ کریں اور کسی ایک ایسے شخص کو، جو اپنے لئے کچھ تیار نہیں کر سکتا، ابھی پیغام بھیج کر اپنے دسترخوان پر بلائیں۔

بین المتونی گونج

تین متون اِس باب کے ساتھ آپس میں بات کرتے ہیں۔ استثنا ۳۱ میں موسیٰ حکم دیتے ہیں کہ ہر ساتویں سال جھونپڑیوں کی عید پر پوری قوم کے سامنے شریعت پڑھی جائے، مردوں، عورتوں، بچوں اور پردیسیوں کے سامنے؛ نحمیاہ ۸ اُسی حکم کی تابعداری ہے، اِسی لئے آیت ۲ میں عورتوں اور سمجھنے کے قابل بچوں کا ذکر ہے۔ دوسرا، ۲-سلاطین ۲۲ میں یوسیاہ بادشاہ کتاب سن کر کپڑے پھاڑتا ہے اور قوم پر عدالت کا اعلان ہوتا ہے؛ یہاں وہی رونا شروع ہوتا ہے مگر روک دیا جاتا ہے، کیونکہ عدالت گزر چکی ہے اور قوم جلاوطنی سے لوٹ آئی ہے۔ تیسرا، عزرا ۹ اور ۱۰ میں خود عزرا بارش میں روتی ہوئی قوم کے سامنے ماتم کرتے ہیں۔ وہی عالِم یہاں کہتے ہیں: ”اُداس نہ ہوں اور مت روئیں!“ یہ تضاد نہیں بلکہ ترتیب ہے: توبہ کا اپنا وقت ہے اور عید کا اپنا۔

پس منظر

بات تقریباً ۴۴۵ قبلِ مسیح کی ہے، فارسی بادشاہ ارتخشستا کے دور میں، فصیل کی تعمیر مکمل ہونے کے فوراً بعد۔ یروشلم ایک چھوٹے، غریب صوبے کا مرکز ہے، آبادی کم، کھنڈر زیادہ۔ جگہ معنی خیز ہے: پانی کے دروازے کا چوک، ہیکل کا صحن نہیں۔ یعنی کلام کسی مقدّس حلقے میں بند نہیں بلکہ کھلے بازار میں سنایا جا رہا ہے، جہاں ہر کوئی آ سکتا ہے۔ نحمیاہ فارسی حکومت کے مقرر کردہ گورنر ہیں، عزرا شریعت کے عالِم اور امام۔ لوگ روزمرہ زندگی میں ارامی بولتے تھے، اِس لئے لاویوں کا ”قدم بہ قدم“ تشریح کرنا محض وعظ نہیں بلکہ ترجمہ اور وضاحت دونوں تھا، تاکہ ”لوگ اُسے اچھی طرح سمجھ سکے۔“

سامعین کا خاکہ

تصور کیجئے کہ آپ جلاوطنی سے لوٹے ہوئے کسی خاندان کے فرد ہیں۔ آپ کے دادا بابل میں دفن ہوئے۔ آپ نے بچپن سے سنا ہے کہ ہمارا شہر کیوں تباہ ہوا۔ اب جب شریعت کھل کر پڑھی جاتی ہے تو آپ پہلی بار تفصیل سے سنتے ہیں کہ خدا نے کیا مانگا تھا اور قوم نے کیا کیا۔ رونا فطری ہے۔ مگر جو بات ہماری سماعت سے اکثر نکل جاتی ہے وہ یہ ہے: اُسی کتاب میں جھونپڑیوں کی عید بھی لکھی ہے۔ بے گھری کی یادگار اب بحالی کا جشن بن جاتی ہے۔ چھتوں اور صحنوں پر شاخوں کے وہ عارضی سائبان آدھے خالی شہر میں اعلان تھے کہ یہ قوم ابھی تک خدا کی قوم ہے۔

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ کون سی سچائی ہے جو آپ جانتے تو ہیں مگر عمل میں ”یشوع کے زمانے سے“ دفن پڑی ہے؟

آپ کے کلام پڑھنے کا عام ردِعمل کیا ہے: شرمندگی، بے حسی، یا وہ خوشی جو پناہ گاہ بن جاتی ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Nehemiah 8 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

نحمیاہ 8 کا کیا مطلب ہے؟
ساتویں مہینے کے پہلے دن یروشلم کی ساری جماعت پانی کے دروازے کے چوک میں جمع ہوتی ہے اور خود مطالبہ کرتی ہے کہ شریعت پڑھی جائے۔ عزرا لکڑی کے چبوترے پر کھڑے ہو کر صبح سے دوپہر تک تلاوت کرتے ہیں، لاوی ساتھ ساتھ تشریح کرتے ہیں، اور لوگ سمجھ کر رونے لگتے ہیں۔ رہنما اُنہیں رونے سے روک کر کھانے، پینے اور دوسروں کو شریک کرنے کا حکم دیتے ہیں؛ اگلے دن وہ شریعت میں جھونپڑیوں کی عید دریافت کرتے ہیں اور اُسے ایسے مناتے ہیں جیسے یشوع بن نون کے زمانے سے نہیں منائی گئی تھی۔
نحمیاہ 8 کس بارے میں ہے؟
سینا سے لے کر یروشلم کے اِس چوک تک ایک ہی لکیر چلتی ہے: خدا بولتے ہیں، قوم سنتی ہے، اور سننے سے قوم بنتی ہے۔ یشوع نے عیبال پہاڑ کے پاس پوری جماعت کے سامنے، عورتوں اور بچوں سمیت، شریعت پڑھی تھی؛ عزرا وہی کام ویران شہر میں دہراتے ہیں۔ پھر ناصرت کے عبادت خانے میں ایک اور شخص کھڑا ہوتا ہے، کتاب کھولتا ہے اور سب کی آنکھیں اُس پر جمی ہوتی ہیں، مگر اِس بار پڑھنے والا خود وہ کلام ہے جو پڑھا جا رہا ہے۔ جھونپڑیوں کی عید بھی آگے کی طرف اشارہ کرتی ہے: شاخوں کی عارضی چھت یاد دلاتی ہے کہ خدا بیابان میں اپنی قوم کے ساتھ ٹھہرے، اور یوحنا کے مطابق کلام مجسم ہو کر ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا۔
نحمیاہ 8 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
تین متون اِس باب کے ساتھ آپس میں بات کرتے ہیں۔ استثنا ۳۱ میں موسیٰ حکم دیتے ہیں کہ ہر ساتویں سال جھونپڑیوں کی عید پر پوری قوم کے سامنے شریعت پڑھی جائے، مردوں، عورتوں، بچوں اور پردیسیوں کے سامنے؛ نحمیاہ ۸ اُسی حکم کی تابعداری ہے، اِسی لئے آیت ۲ میں عورتوں اور سمجھنے کے قابل بچوں کا ذکر ہے۔ دوسرا، ۲-سلاطین ۲۲ میں یوسیاہ بادشاہ کتاب سن کر کپڑے پھاڑتا ہے اور قوم پر عدالت کا اعلان ہوتا ہے؛ یہاں وہی رونا شروع ہوتا ہے مگر ر
نحمیاہ 8 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
تصور کیجئے کہ آپ جلاوطنی سے لوٹے ہوئے کسی خاندان کے فرد ہیں۔ آپ کے دادا بابل میں دفن ہوئے۔ آپ نے بچپن سے سنا ہے کہ ہمارا شہر کیوں تباہ ہوا۔ اب جب شریعت کھل کر پڑھی جاتی ہے تو آپ پہلی بار تفصیل سے سنتے ہیں کہ خدا نے کیا مانگا تھا اور قوم نے کیا کیا۔ رونا فطری ہے۔ مگر جو بات ہماری سماعت سے اکثر نکل جاتی ہے وہ یہ ہے: اُسی کتاب میں جھونپڑیوں کی عید بھی لکھی ہے۔ بے گھری کی یادگار اب بحالی کا جشن بن جاتی ہے۔ چھتوں اور صحنوں پر شاخوں کے وہ عارضی سائبان آدھے خالی شہر میں اعلان تھے کہ یہ قوم ابھی تک خدا کی قوم ہے۔
نحمیاہ 8 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آپ کے کلام پڑھنے کا عام ردِعمل کیا ہے: شرمندگی، بے حسی، یا وہ خوشی جو پناہ گاہ بن جاتی ہے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Nehemiah 8 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 18

خداوند، شکر ہے کہ تُو نے عزرا کے ذریعے پہلے دن سے آخری دن تک روز بروز اپنی شریعت کی کتاب کی تلاوت کرائی۔ تیرا کلام کسی ایک دن کی بات نہیں بلکہ ہر روز کی روٹی ہے۔ شکریہ کہ تُو آج بھی ہمیں اپنی باتیں سنا کر خوشی اور عید کا سا دل عطا کرتا ہے۔

دعا ادارتی کو آیت 8

اے خدا، تیرا کلام کھلے تو میرا دل بھی کھلے۔ صرف الفاظ نہ سنوں بلکہ ان کا مطلب سمجھوں اور میری زندگی میں اُتر جائے۔ جہاں میری سمجھ دھندلی ہے، وہاں تُو روشنی دے، اور جو سمجھ آئے اُس پر چلنے کی توفیق بھی عطا کر۔

دعا ادارتی کو آیت 13

اے باپ، ہمارے دل میں بھی وہی بھوک پیدا کر کہ ہم تیرے کلام کے پاس بیٹھ کر اسے سمجھنا چاہیں۔ ہمیں جلدبازی سے بچا، اور جو کچھ ہم سیکھیں وہ صرف علم نہ رہے بلکہ ہماری روز کی زندگی بن جائے۔ تو سکھانے والا ہے، ہم سیکھنے کو تیار ہیں۔

بصیرت ادارتی کو آیت 3

صبح سویرے سے دوپہر تک، گھنٹوں تک وہ لوگ کھڑے رہے اور "سب غور سے شریعت کی کتاب سنتے رہے۔" نہ کوئی جلدی، نہ بےچینی۔ جن کے باپ دادا نے یہ کتاب کھو دی تھی، اُن کے لیے ہر لفظ قیمتی تھا۔ آج کلام تیرے ہاتھ میں ہے، تیرے فون میں ہے، مگر کیا تیرے کان اب بھی ایسے ہی کھلے ہیں؟ شاید مسئلہ وقت کی کمی نہیں، بھوک کی کمی ہے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں