امثال 15:1
متن
شہر کے پھاٹک پر دو آدمی آمنے سامنے ہیں، آواز اونچی ہو رہی ہے، اور آس پاس بیٹھے بزرگ سر اٹھا کر دیکھنے لگے ہیں۔ ٹھیک اسی لمحے کے بارے میں یہ کہاوت ہے۔ امثال ۱۵ باب اپنی پہلی ہی سطر میں دو راستے سامنے رکھتا ہے: "نرم جواب غصہ ٹھنڈا کرتا، لیکن تُرش بات طیش دلاتی ہے۔" بات یہ نہیں کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا، بلکہ یہ کہ جواب کس لہجے میں دیا جاتا ہے۔ ایک نرم جواب بھڑکتی آگ پر پانی کی طرح گرتا ہے؛ ایک چبھتا ہوا لفظ اُسی آگ میں تیل ڈال دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں بولنے والا محض ردِعمل نہیں دے رہا، وہ فیصلہ کر رہا ہے کہ اگلے پانچ منٹ میں کیا ہوگا۔
مرکزی بات
قدیم اسرائیل میں لفظ کو ہوا کا جھونکا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لفظ کچھ کرتا تھا۔ خدا نے کہا اور روشنی ہو گئی؛ باپ نے برکت دی اور بیٹے کی زندگی بدل گئی۔ اسی دنیا میں یہ کہاوت لکھی گئی، اور اسی لیے یہ صرف اخلاقی مشورہ نہیں بلکہ الٰہیات ہے۔ زبان تخلیقی طاقت رکھتی ہے، خیر کی بھی اور تباہی کی بھی۔ اسی باب میں آگے لکھا ہے: "نرم زبان زندگی کا درخت ہے" (آیت ۴)۔ یہ باغِ عدن کی زبان ہے، یعنی نرمی سے بولنے والا انسان اُس زندگی کا ذائقہ لوٹا رہا ہے جو گناہ نے چھین لی۔ اور یہ اتفاق نہیں کہ خدا خود اپنے آپ کو "قہر کرنے میں دھیما" کہلواتا ہے۔ نرم جواب دینے والا شخص محض شائستہ نہیں، وہ اپنے خالق کے مزاج کی نقل کر رہا ہے۔
بڑی کہانی سے تعلق
اسرائیل کی تاریخ میں ایک نرم جواب نے ایک بار خون بہنے سے روک دیا تھا اور ایک تُرش جواب نے ایک سلطنت کو دو ٹکڑے کر دیا تھا۔ ابیجیل داؤد کے راستے میں گھٹنے ٹیک کر بولی اور تلوار میان میں رہ گئی؛ رحبعام نے بزرگوں کا مشورہ ٹھکرا کر بھاری لہجہ اختیار کیا اور دس قبیلے ہاتھ سے نکل گئے۔ یہ کہاوت اُنہی واقعات کا نچوڑ ہے۔ اور یہی دھاگا صلیب تک جاتا ہے: پیلاطُس کے سامنے، کوڑوں کے نیچے، مسیح نے گالی کے بدلے گالی نہ دی۔ وہاں نرم جواب کمزوری نہیں بلکہ خدا کی سب سے مضبوط چال تھی، کیونکہ اُسی خاموشی سے وہ صلح ہوئی جو ہزار دلیلیں نہ کروا سکتی تھیں۔ مسیح صرف اس کہاوت پر عمل نہیں کرتا؛ وہ خود خدا کا نرم جواب ہے، ہماری بغاوت کے شور کے جواب میں۔
آئینہ
ہم اپنی تُرشی کو عموماً کوئی اور نام دیتے ہیں: صاف گوئی، اصول پسندی، حق بات۔ دفتر کے واٹس ایپ گروپ میں وہ جملہ جو تین منٹ سوچ کر لکھا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ چبھے؛ رات کے کھانے پر بیوی یا شوہر کو دیا گیا وہ طنزیہ جواب جس کے بعد کمرہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے؛ اپنے نوجوان بیٹے کو کہا گیا وہ فقرہ جو آپ کو یاد بھی نہیں مگر اُسے بیس سال یاد رہے گا۔ یہ کہاوت پوچھتی ہے کہ آپ اُس لمحے میں دراصل کیا چاہتے ہیں: مسئلہ حل کرنا، یا جیتنا۔ آج ہی یہ کریں: جس بات چیت میں آپ اِس وقت اُلجھے ہوئے ہیں، اُس میں جو جملہ آپ کہنے کا ارادہ رکھتے ہیں اُسے کاغذ پر لکھیں، پھر اُس کا سب سے چبھتا ہوا لفظ کاٹ دیں، اور باقی جملہ بلند آواز میں پڑھ کر دیکھیں کہ اب بھی سچ کہہ رہے ہیں یا نہیں۔
بین المتن
اسی باب میں یہ فکر دو بار اور لوٹتی ہے۔ آیت ۱۸ اسی سکّے کا دوسرا رخ دکھاتی ہے: "غصیلا آدمی جھگڑے چھیڑتا رہتا جبکہ تحمل کرنے والا لوگوں کے غصے کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔" یعنی نرم جواب کوئی جادوئی تکنیک نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ مزاج کا پھل ہے۔ اور آیت ۲۸ بتاتی ہے کہ یہ مزاج کہاں بنتا ہے: "راست باز کا دل سوچ سمجھ کر جواب دیتا ہے، لیکن بےدین کا منہ زور سے اُبلنے والا چشمہ ہے۔" فرق زبان میں نہیں، دل میں ہے۔ منہ صرف اُس چشمے کا دہانہ ہے۔ جو دل جواب سے پہلے ایک لمحہ ٹھہر سکتا ہے، وہی زبان کو نرم رکھ سکتا ہے۔
ایک تفصیل
عبرانی میں "تُرش بات" کے لیے جو لفظ ہے وہ عِصِب (עֶצֶב) ہے، جس کے معنی ہیں درد، اذیت، وہ محنت جو تھکا دے۔ یعنی سخت لفظ محض بدتمیزی نہیں، وہ ایک ایسا لفظ ہے جو دوسرے کے جسم میں درد پیدا کرتا ہے۔ یہی لفظ پیدائش میں اُس دُکھ کے لیے استعمال ہوا ہے جو گناہ کے بعد انسان کے حصے میں آیا۔ کہاوت کہہ رہی ہے: جب آپ زہر میں بجھا ہوا جملہ بولتے ہیں تو آپ عدن کے باہر والی دنیا کو تھوڑا اور بڑھا دیتے ہیں۔ اور جب آپ نرم جواب دیتے ہیں تو آپ آیت ۴ کے مطابق "زندگی کا درخت" اُس کمرے میں لگا دیتے ہیں۔
پہلے سننے والے
یہ کہاوتیں سب سے پہلے اُن نوجوانوں کے کانوں میں پڑیں جو دربار اور شہر کے پھاٹک کی خدمت کے لیے تیار کیے جا رہے تھے۔ ایسے ماحول میں جہاں عزت سب سے قیمتی سرمایہ تھی اور کھلے عام تحقیر موت کے برابر محسوس ہوتی تھی، نرم جواب دینا فطری نہیں بلکہ خطرناک لگتا تھا۔ لوگ کہتے: یہ لڑکا دب گیا۔ استاد جواب دیتا: نہیں، اِس لڑکے نے کمرے کا درجۂ حرارت اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور جہاں بادشاہ کا غصہ موت کا پیغام ہو سکتا تھا، وہاں نرم جواب دینے کا ہنر محض شائستگی نہیں، بقا کا فن تھا۔ ہمارے ہاں جھگڑا اکثر پیغام کے ذریعے ہوتا ہے، مگر داؤ آج بھی اتنا ہی اونچا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
پچھلے ہفتے آپ نے جو سب سے سخت جملہ کہا، وہ آپ کے کس خوف یا کس زخم سے نکلا تھا؟
آپ کے حلقے میں وہ کون ہے جس کی موجودگی میں لوگ ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں، اور آپ اُس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
Proverbs 15:1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
امثال 15:1 کا کیا مطلب ہے؟
امثال 15:1 کس بارے میں ہے؟
امثال 15:1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
امثال 15:1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
امثال 15:1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Proverbs 15 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے باپ، مجھے لالچ سے بچا۔ کبھی کبھی جلدی فائدہ اٹھانے کا راستہ بہت آسان لگتا ہے، مگر اس کی قیمت میرا اپنا گھر چکاتا ہے۔ مجھے ایمان داری سے کمانے کی ہمت دے اور اُس پر مطمئن رہنا سکھا جو تُو دیتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں