زبور 94
متن
یہ زبور ایک پکار سے شروع ہوتا ہے جو تقریباً بےادب لگتی ہے: "اے رب، اے انتقام لینے والے خدا! … اپنا نور چمکا۔" شاعر دیکھتا ہے کہ بےدین فتح کے نعرے لگا رہے ہیں، بیواؤں، اجنبیوں اور یتیموں کو قتل کر رہے ہیں، اور ساتھ ہی ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ خدا دھیان ہی نہیں دیتا۔ پھر زبور دو موڑ لیتا ہے: پہلے عقل کی دلیل (جس نے کان بنایا، کیا وہ نہیں سنتا؟) اور پھر ذاتی گواہی (رب نہ ہوتا تو میری جان خاموشی کے ملک میں جا بستی)، اور آخر میں یہ اعلان کہ ظلم کی حکومت خدا کے ساتھ کبھی متحد نہیں ہو سکتی۔
مرکزی بات
یہ زبور اُس خدا کے بارے میں ہے جو بیک وقت منصف بھی ہے اور سہارا بھی۔ ہم اکثر انصاف اور شفقت کو ایک دوسرے کا مخالف سمجھتے ہیں، گویا خدا کو کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو۔ مگر یہاں دونوں ایک ہی سانس میں ہیں: آیت 2 میں وہ "دنیا کا منصف" ہے، آیت 18 میں اُسی کی "شفقت" ڈگمگاتے پاؤں کو سنبھالتی ہے۔ عہد کی زبان اِسے جوڑتی ہے: مظلوم لوگ خدا کی "موروثی ملکیت" ہیں، اُس کی اپنی جائیداد۔ جو اُن پر ہاتھ اٹھاتا ہے وہ خدا کی ملکیت پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔ اِسی لئے انصاف کوئی ٹھنڈی عدالتی کارروائی نہیں بلکہ محبت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جو خدا اپنوں سے محبت رکھتا ہے وہ اُنہیں کچلے جانے پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
سلسلۂ کلام
شاعر کا سوال "کب تک؟" پوری بائبل میں گونجتا ہے، اور اُس کا جواب صلیب پر ملتا ہے، مگر اُس طرح نہیں جس طرح ہم توقع کرتے۔ آیت 21 کہتی ہے کہ بدکار "راست باز کی جان لینے کے لئے آپس میں مل جاتے اور بےقصوروں کو قاتل ٹھہراتے ہیں۔" یہ جملہ گویا گتسمنی اور پیلاطس کی عدالت کا پیشگی نقشہ ہے: ایک بےقصور جسے قانونی فرمان کے ذریعے مجرم ٹھہرایا گیا۔ خداوند یسوع مسیح نے اُس "تباہی کی حکومت" کو باہر سے نہیں، اندر سے بھگتا۔ اور وہیں انتقام کا خدا اپنے وعدے سے پھرا نہیں بلکہ اُسے پورا کیا: ناانصافی واقعی اپنے کرنے والوں پر واپس آئی، مگر پہلے وہ خدا کے اپنے بیٹے پر آئی تاکہ توبہ کرنے والے بدکاروں کے لئے بھی پناہ کی چٹان کھل جائے۔
آئینہ
یہ زبور اُس جھوٹ کو بےنقاب کرتا ہے جسے ہم کبھی زبان پر نہیں لاتے مگر دل میں پالتے ہیں: "خدا دھیان ہی نہیں دیتا۔" وہ جھوٹ ظالم کی زبان پر ڈھٹائی بن کر آتا ہے اور مظلوم کے دل میں تھکن بن کر۔ جب دفتر میں وہی شخص ترقی پا جاتا ہے جس نے جھوٹ بولا، جب رشتے دار نے وراثت میں بےایمانی کی اور کچھ نہ ہوا، جب بیماری میں دعا کا کوئی جواب نہ آیا، تو یہی خیال آتا ہے۔ زبور اِس کا جواب جذباتی تسلی سے نہیں، تخلیق کی دلیل سے دیتا ہے: جس نے کان بنایا، کیا وہ نہیں سنتا؟ آپ کے سننے کی صلاحیت خود اِس بات کی گواہ ہے کہ سننے والا خدا موجود ہے۔ آج ہی ایک کام کریں: اُس شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جس کی ناانصافی آپ کو بےچین کرتی ہے، اور اُس نام کے نیچے آیت 2 اپنے ہاتھ سے لکھ کر اونچی آواز میں پڑھیں، یعنی فیصلہ خدا کے ہاتھ میں سونپ دیں۔
سامعین کا خاکہ
یہ گیت اُن لوگوں نے گایا جن کے ہاں ریاست خود ظالم بن چکی تھی۔ آیت 20 کوئی ذاتی دشمنی کی بات نہیں کرتی بلکہ ایسی حکومت کی جو "اپنے فرمانوں سے ظلم کرتی ہے": ظلم جو قانون کی شکل میں آتا ہے، مہر لگا ہوا، باقاعدہ۔ شریعت نے بیواؤں، یتیموں اور اجنبیوں کو خاص طور پر خدا کی حفاظت میں رکھا تھا، کیونکہ اُن کا معاشرے میں کوئی وکیل نہ تھا۔ جب اُنہی تین گروہوں کو قتل کیا جا رہا ہو تو یہ صرف جرم نہیں، عہد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پہلے سامعین نے آیت 14 کو کسی نرم تسلی کے طور پر نہیں بلکہ ڈوبتے ہوئے آدمی کے ہاتھ میں رسی کے طور پر سنا: رب اپنی موروثی ملکیت کو ترک نہیں کرے گا۔
ایک باریکی
آیت 12 پر رکیں: "مبارک ہے وہ جسے تُو تربیت دیتا ہے۔" یہ جملہ عجیب جگہ پر آیا ہے، قتل اور کفر کی باتوں کے فوراً بعد۔ عبرانی لفظ یہاں یَسَّر ہے، جس میں باپ کی اصلاح اور استاد کی تعلیم دونوں شامل ہیں۔ شاعر یہ نہیں کہتا کہ مصیبت خود برکت ہے؛ وہ کہتا ہے کہ مبارک وہ ہے جسے خدا مصیبت کے دوران تعلیم دیتا ہے، اور اِسی لئے اگلی آیت کہتی ہے کہ ایسا شخص "مصیبت کے دنوں سے آرام پائے" حالانکہ مصیبت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یعنی سکون حالات کے بدلنے سے نہیں بلکہ شریعت کی تعلیم سے آتا ہے۔ جو جانتا ہے کہ گڑھا تیار ہو رہا ہے، وہ انتظار کی گھڑیوں میں بھی سانس لے سکتا ہے۔
بین المتون
پولس رسول رومیوں 12 میں بالکل یہی منطق استعمال کرتے ہیں: انتقام نہ لو، کیونکہ انتقام خدا کا کام ہے۔ اِس زبور کی روشنی میں وہ حکم بزدلی نہیں بلکہ ایمان ہے؛ آپ بدلہ اِسی لئے چھوڑ سکتے ہیں کہ وہ کسی اور کی میز پر رکھا جا چکا ہے۔ اور خداوند یسوع نے لوقا 18 میں اُس بیوہ کی تمثیل سنائی جو بےانصاف منصف کے پیچھے پڑی رہی، تاکہ اُس کے شاگرد "کب تک؟" پکارتے ہوئے ہمت نہ ہاریں۔ زبور 94 اُس تمثیل کا پرانا عہد والا جڑواں بھائی ہے: وہی بیوہ، وہی ظلم، وہی ضد، اور آخر میں وہی اعلان کہ خدا اپنے چنے ہوؤں کی فریاد پر خاموش نہیں رہے گا۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی ناانصافی ہے جس کے بارے میں آپ نے چپکے سے یہ مان لیا ہے کہ "یہ رب کو نظر نہیں آتا"؟
آیت 19 کہتی ہے کہ خدا کی تسلیوں نے بےچین خیالات کے درمیان جان کو تازہ دم کیا۔ آپ کے لئے وہ تسلی ٹھوس طور پر کس شکل میں آئی ہے، اور آپ اُسے کتنی بار یاد کرتے ہیں؟
Psalms 94 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 94 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 94 کس بارے میں ہے؟
زبور 94 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 94 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 94 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Psalms 94 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
زبور ۹۴ کا آخری جملہ کوئی نیا عذاب ایجاد نہیں کرتا۔ ”وہ اُن کی بدی اُن پر لوٹائے گا۔“ ظالم کا اپنا کیا ہوا ہی اُس کے پاس واپس آتا ہے۔ سوچ، جو تجھے دُکھ دے رہا ہے اُس کا حساب چکانے کے لئے تجھے اپنا دل زہر سے بھرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کام تیرے ہاتھ میں نہیں، اور جس کے ہاتھ میں ہے وہ آیت کے آخر میں ”رب ہمارا خدا“ کہلاتا ہے۔ تیرا اپنا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
