بائبل کی تشریح

مکاشفہ 9

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

پانچواں تُرم بجتا ہے اور ایک گرا ہوا ستارہ اتھاہ گڑھے کا دروازہ کھول دیتا ہے؛ دھوئیں کے ساتھ ٹڈیوں کا ایک لشکر نکلتا ہے جو گھاس اور درختوں کو نہیں بلکہ اُن لوگوں کو اذیت دیتا ہے جن کے ماتھوں پر اللہ کی مُہر نہیں۔ پانچ مہینے تک لوگ مرنا چاہیں گے مگر موت اُن سے دُور بھاگے گی۔ پھر چھٹا تُرم بجتا ہے، فرات کے کنارے بندھے چار فرشتے کھول دیئے جاتے ہیں، اور بیس کروڑ سواروں کی فوج آگ، دھوئیں اور گندھک سے انسانوں کا تیسرا حصہ ہلاک کر دیتی ہے۔ اور باقی ماندہ لوگ؟ وہ پھر بھی توبہ نہیں کرتے۔

مرکزی بات

باب کا اصل دھماکہ آخری دو آیات میں ہے، نہ کہ ٹڈیوں کے خوفناک نقشے میں۔ دنیا کا ایک تہائی حصہ مر چکا ہے، اور بچ جانے والے اُن بُتوں کے سامنے جھکے ہوئے ہیں جو ”نہ تو دیکھ سکتی ہیں، نہ سننے یا چلنے کے قابل ہوتی ہیں۔“ یہ جملہ زبور 115 سے سیدھا اُٹھایا گیا ہے، جہاں لکھا ہے کہ بُت بنانے والے اُن ہی کی مانند ہو جاتے ہیں۔ یہی اِس باب کی تھیالوجی ہے: گناہ کی سب سے بڑی سزا یہ نہیں کہ آسمان سے ٹڈیاں آئیں، بلکہ یہ کہ انسان اندھے، بہرے اور مفلوج بُتوں کی صورت اختیار کر لے۔ عذاب یہاں انصاف سے زیادہ ایک پکار ہے، اور یہ پکار اَن سنی رہ جاتی ہے۔

سلسلۂ کلام

جو قاری تورات سے واقف ہے وہ یہاں مصر کی بُو سُونگھ لیتا ہے۔ ٹڈیوں کی بَلا، سورج کی تاریکی، آگ اور گندھک: یہ خروج کی آفات کی گونج ہے، اور فرعون کا وہی سخت دل یہاں پوری انسانیت کا دل بن گیا ہے۔ لیکن یوایل نبی کی بازگشت اِس سے بھی گہری ہے؛ اُس نے ٹڈیوں کو ”جنگ کے لئے تیار گھوڑوں“ کی مانند بیان کیا تھا اور پھر توبہ کی دعوت دی تھی۔ یوحنا وہی نقشہ اُٹھاتا ہے مگر اُلٹے نتیجے کے ساتھ۔ اور ماتھوں پر مُہر؟ وہ مصر کے دروازوں پر لگا برّے کا خون ہے، جو اب مصلوب اور زندہ برّے کی ملکیت کا نشان بن چکا ہے۔ نجات کا طریقہ نہیں بدلا، صرف برّہ ظاہر ہو گیا ہے۔

آئینہ

ہم اِس باب کو عموماً مستقبل کی طرف دھکیل دیتے ہیں، حالانکہ اِس کا کانٹا آج کی زندگی میں چبھتا ہے۔ آیت 20 ”ہاتھوں کے کاموں“ کی بات کرتی ہے: وہ چیزیں جو ہم نے خود بنائیں اور پھر جن کے سامنے جھک گئے۔ وہ کاروبار جس کے لئے آپ اتوار کی صبح بیچ دیتے ہیں۔ وہ موبائل جو رات کو آخری اور صبح کو پہلی چیز ہے۔ وہ عزت جو آپ کے خاندان میں سچ بولنے سے زیادہ قیمتی ہے۔ غور کیجئے: کیا مصیبتوں نے آپ کو بدلا، یا صرف تھکا دیا؟ بہتوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے کہ بیماری یا نقصان کے بعد وہ زیادہ سخت ہو جاتے ہیں، نرم نہیں۔ آج ہی کاغذ پر ایک چیز لکھئے جس پر آپ خدا سے زیادہ بھروسا کرتے ہیں، اور وہ کاغذ ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہئے: ”یہ نہ دیکھ سکتی ہے، نہ سن سکتی ہے۔“

سوال

سب سے بےچین کرنے والی آیت پانچویں ہے: اذیت دینے کا اختیار دیا گیا، مار ڈالنے کا نہیں۔ کون دیتا ہے؟ متن غیرفعال فعل استعمال کرتا ہے، اور ہر یہودی قاری جانتا تھا کہ اِس کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہے۔ یعنی اتھاہ گڑھے کی چابی بھی اُسی کے اختیار میں ہے۔ یہ بات آسانی سے ہضم نہیں ہوتی۔ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ ابدون، یعنی ”ہلاکو“، خودمختار ہے؛ مگر مکاشفہ اُسے زنجیر میں دکھاتا ہے، ایک مقررہ ”مہینے کے اِسی دن کے اِسی گھنٹے“ تک محدود۔ تسلی اور دہشت ایک ساتھ ہیں: بُرائی بےلگام نہیں، لیکن اُس کی لگام خدا کے ہاتھ میں ہے، اور وہ کبھی کبھی ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ یوحنا اِس کی وضاحت نہیں کرتا۔ ہمیں بھی نہ کرنی چاہئے۔

پس منظر

ایشیائے کوچک کی اُن چھوٹی کلیسیاؤں کو سوچئے جن کے لئے یہ لکھا گیا: مٹھی بھر لوگ، رومی معبدوں کے سائے میں، جہاں ہر گلی میں سونے، چاندی اور پتھر کے بُت کھڑے تھے۔ اُن کے لئے ”فرات“ کوئی جغرافیائی تفصیل نہیں تھی؛ وہ وہی سرحد تھی جہاں سے اشور اور بابل اسرائیل پر ٹوٹ پڑے تھے، اور جہاں سے اب پارتھی گھڑسوار روم کے لئے خطرہ تھے۔ بیس کروڑ سواروں کا ذکر سن کر اُن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔ مگر اصل خبر یہ تھی کہ یہ لشکر سونے کی قربان گاہ سے آنے والی آواز کے حکم پر نکلتا ہے، یعنی وہیں سے جہاں شہیدوں کی دعائیں جمع تھیں۔ اُن کی آہیں ضائع نہیں ہوئی تھیں۔

مرکزی کردار

اِس باب کا اصل کردار خدا ہے، مگر ایسے روپ میں جو ہمیں بےچین کرتا ہے: وہ خدا جو چابی دیتا ہے، حد مقرر کرتا ہے، اور انتظار کرتا ہے۔ پانچ مہینے کی مدت اتفاقی نہیں؛ یہ ٹڈی کی زندگی کا موسم ہے، اور اِس میں ایک عجیب رحم چھپا ہے۔ وہ مار ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ اپنی مُہر والوں کو الگ کرتا ہے۔ وہ اُن لوگوں کو جو موت ڈھونڈتے ہیں، موت نہیں دیتا بلکہ مہلت دیتا ہے۔ یہ صبر ہی مکاشفہ کا سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا پہلو ہے: ایک ایسا خدا جس کا غضب بھی توبہ کی دعوت ہے، اور جس کی سب سے بڑی مایوسی تب ہوتی ہے جب انسان پھر بھی ”باز نہ آئے۔“

غور و فکر

میری زندگی میں وہ کون سی مصیبت تھی جس نے مجھے نرم کرنے کے بجائے سخت کر دیا، اور میں نے اُس وقت خدا سے کیا کہا تھا؟

اگر بُت بنانے والا اپنے بُت کی مانند ہو جاتا ہے، تو میں جس چیز کی سب سے زیادہ خدمت کرتا ہوں، وہ مجھے کس طرح اندھا یا بہرا بنا رہی ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Revelation 9 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

مکاشفہ 9 کا کیا مطلب ہے؟
پانچواں تُرم بجتا ہے اور ایک گرا ہوا ستارہ اتھاہ گڑھے کا دروازہ کھول دیتا ہے؛ دھوئیں کے ساتھ ٹڈیوں کا ایک لشکر نکلتا ہے جو گھاس اور درختوں کو نہیں بلکہ اُن لوگوں کو اذیت دیتا ہے جن کے ماتھوں پر اللہ کی مُہر نہیں۔ پانچ مہینے تک لوگ مرنا چاہیں گے مگر موت اُن سے دُور بھاگے گی۔ پھر چھٹا تُرم بجتا ہے، فرات کے کنارے بندھے چار فرشتے کھول دیئے جاتے ہیں، اور بیس کروڑ سواروں کی فوج آگ، دھوئیں اور گندھک سے انسانوں کا تیسرا حصہ ہلاک کر دیتی ہے۔ اور باقی ماندہ لوگ؟ وہ پھر بھی توبہ نہیں کرتے۔
مکاشفہ 9 کس بارے میں ہے؟
جو قاری تورات سے واقف ہے وہ یہاں مصر کی بُو سُونگھ لیتا ہے۔ ٹڈیوں کی بَلا، سورج کی تاریکی، آگ اور گندھک: یہ خروج کی آفات کی گونج ہے، اور فرعون کا وہی سخت دل یہاں پوری انسانیت کا دل بن گیا ہے۔ لیکن یوایل نبی کی بازگشت اِس سے بھی گہری ہے؛ اُس نے ٹڈیوں کو ”جنگ کے لئے تیار گھوڑوں“ کی مانند بیان کیا تھا اور پھر توبہ کی دعوت دی تھی۔ یوحنا وہی نقشہ اُٹھاتا ہے مگر اُلٹے نتیجے کے ساتھ۔ اور ماتھوں پر مُہر؟ وہ مصر کے دروازوں پر لگا برّے کا خون ہے، جو اب مصلوب اور زندہ برّے کی ملکیت کا نشان بن چکا ہے۔ نجات کا طریقہ نہیں بدلا، صرف برّہ ظاہر ہو گیا ہے۔
مکاشفہ 9 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
سب سے بےچین کرنے والی آیت پانچویں ہے: اذیت دینے کا اختیار دیا گیا، مار ڈالنے کا نہیں۔ کون دیتا ہے؟ متن غیرفعال فعل استعمال کرتا ہے، اور ہر یہودی قاری جانتا تھا کہ اِس کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہے۔ یعنی اتھاہ گڑھے کی چابی بھی اُسی کے اختیار میں ہے۔ یہ بات آسانی سے ہضم نہیں ہوتی۔ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ ابدون، یعنی ”ہلاکو“، خودمختار ہے؛ مگر مکاشفہ اُسے زنجیر میں دکھاتا ہے، ایک مقررہ ”مہینے کے اِسی دن کے اِسی گھنٹے“ تک محدود۔ تسلی اور دہشت ایک ساتھ ہیں: بُرائی بےلگام نہیں، لیکن اُس کی لگام خدا کے ہاتھ میں ہے، اور وہ کبھی کبھی ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ یوحنا اِس کی وضاحت نہیں کرتا۔ ہمیں بھی نہ کرنی چاہئے۔
مکاشفہ 9 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِس باب کا اصل کردار خدا ہے، مگر ایسے روپ میں جو ہمیں بےچین کرتا ہے: وہ خدا جو چابی دیتا ہے، حد مقرر کرتا ہے، اور انتظار کرتا ہے۔ پانچ مہینے کی مدت اتفاقی نہیں؛ یہ ٹڈی کی زندگی کا موسم ہے، اور اِس میں ایک عجیب رحم چھپا ہے۔ وہ مار ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ اپنی مُہر والوں کو الگ کرتا ہے۔ وہ اُن لوگوں کو جو موت ڈھونڈتے ہیں، موت نہیں دیتا بلکہ مہلت دیتا ہے۔ یہ صبر ہی مکاشفہ کا سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا پہلو ہے: ایک ایسا خدا جس کا غضب بھی توبہ کی دعوت ہے، اور جس کی سب سے بڑی مایوسی تب ہوتی ہے جب انسان پھر بھی ”باز نہ آئے۔“
مکاشفہ 9 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر بُت بنانے والا اپنے بُت کی مانند ہو جاتا ہے، تو میں جس چیز کی سب سے زیادہ خدمت کرتا ہوں، وہ مجھے کس طرح اندھا یا بہرا بنا رہی ہے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Revelation 9 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 3

ٹڈیاں دھوئیں میں سے نکلیں، مگر غور کریں: "اُنہیں زمین کے بچھوؤں کا سا اختیار دیا گیا۔" دیا گیا، یعنی اُنہوں نے خود چھینا نہیں۔ جو اندھیری طاقت آپ کو ڈراتی ہے، اُس کا دائرہ کسی اَور کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کے دُکھ کی بھی ایک حد مقرر ہے، اور وہ حد آپ کے باپ نے کھینچی ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 9

ٹڈیوں کی فوج کا سب سے خوفناک ہتھیار اُن کا ڈنک نہیں، اُن کا شور تھا۔ "اُن کے پَروں کی آواز جنگ میں دوڑتے ہوئے گھوڑوں اور رتھوں کے شور کی مانند تھی۔" سننے والا لڑنے سے پہلے ہی ہار مان لیتا ہے۔ آج بھی بہت سے خوف تجھے چھوتے نہیں، بس گرجتے ہیں۔ یاد رکھ، اِن کو بھی وقت اور حد خدا ہی نے مقرر کی ہے۔

دعا ادارتی کو آیت 6

اے خدا، کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جب دل تھک کر سب کچھ ختم کر دینا چاہتا ہے۔ ان لمحوں میں مجھے تھام لے۔ جہاں امید ختم ہو جاتی ہے، وہاں تو موجود ہے۔ مجھے یاد دلا کہ اندھیرا آخری لفظ نہیں، تیری محبت ہے۔ جو لوگ آج ٹوٹے ہوئے ہیں، ان پر بھی رحم کر۔

دعا ادارتی کو آیت 8

اے خدا، جب اندھیرے کی طاقتیں شیر کے دانتوں کی طرح خوفناک دکھائی دیں، تو مجھے یاد دلا کہ تُو ان سب سے بڑا ہے۔ میرا دل خوف سے نہ گھبرائے بلکہ تیری پناہ میں چین پائے۔ مجھے تھامے رکھ، کیونکہ میری حفاظت تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں